قیمت میں استحکام مگر لیوی میں اضافے سے پٹرول مزید مہنگا: ’آخر عام آدمی جائے تو کہاں جائے؟‘

Pakistan Petrol Prices

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

وفاقی حکومت نے گذشتہ رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

تاہم حکومتی نوٹیفکیشن میں صرف قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس اضافے کی اصل وجہ پٹرول اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ ہے۔ لیوی میں اضافے کے نتیجے میں دونوں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں قیمت کے لحاظ سے پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمت کتنی بنی؟

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے، کیونکہ ملک اپنی مجموعی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔

حکومتی قیمتوں کے تعین سے متعلق دستاویزات کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت کے حساب سے پاکستان میں گذشتہ رات تک اس کی قیمت 268 روپے فی لیٹر بنتی تھی، جو ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہی۔ اس کے باوجود حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔

اسی طرح دستاویز کے مطابق عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث پاکستان میں گذشتہ رات تک ڈیزل کی قیمت 342 روپے فی لیٹر بنتی تھی، جو گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں 7 روپے 51 پیسے فی لیٹر زیادہ ہے۔ تاہم حکومت نے صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی کیا وجہ بنی؟

Pol prices in Pakistan

،تصویر کا ذریعہEPA

حکومتی قیمتوں کے تعین کے فارمولے سے متعلق دستاویزات کے مطابق عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس کے باوجود حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ دستاویز کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں تقریباً 14 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہے۔

گذشتہ ہفتے پٹرول پر پٹرولیم لیوی 103 روپے 50 پیسے فی لیٹر تھی، جسے حکومت نے گذشتہ رات بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دیا۔ لیوی میں اس اضافے کے باعث پٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت کے حساب سے اس کی قیمت میں تقریباً 7 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافہ بنتا تھا، تاہم حکومت نے صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت میں دوگنا اضافہ کرتے ہوئے اسے 15 روپے فی لیٹر بڑھا دیا۔ اس اضافے کی وجہ ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ ہے، جو 28 روپے 69 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔

پٹرول اور ڈیزل پر لیوی بڑھانے کی کیا وجہ ہے اور اس کا کیا اثر ہو گا؟

Pol Prices

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں اضافے کے نتیجے میں صارفین کے لیے پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے توانائی کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر عافیہ ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے دونوں مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو سبسڈی کے خاتمے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے، اسی لیے ریونیو شارٹ فال کو کم کرنے کے لیے لیوی بڑھائی جا رہی ہے۔ تاہم ڈاکٹر عافیہ ملک کے مطابق حکومت نے آمدن میں کمی پوری کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی کو ایک آسان راستے کے طور پر اختیار کر رکھا ہے، جبکہ دیگر شعبوں سے ٹیکس وصولی جیسے مشکل مگر ضروری فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا۔

ان کے مطابق آئی ایم ایف مسلسل مالی نظم و ضبط پر زور دے رہا ہے، جس کے لیے ملکی آمدن میں اضافہ ناگزیر ہے، لیکن ریٹیل اور زرعی شعبوں سے ٹیکس وصولی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت بار بار پٹرولیم لیوی بڑھانے کا سہارا لے رہی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ ملک نے خبردار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف عوام پر اضافی معاشی بوجھ پڑتا ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر معیشت کے لیے بھی انتہائی منفی ثابت ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھے گی اور عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی۔ جب لوگ کم خریداری کریں گے تو پیداوار میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں ملکی معاشی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ جائے گی۔

دوسری جانب مالیاتی امور کے ماہر فرحان محمود نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اس ریونیو خسارے کو پورا کر رہی ہے جو ایران اور امریکہ کی جنگ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں سبسڈی کی صورت میں برداشت کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے ایک موقع پر قیمتیں بڑھانے کے بعد انہیں کم کیا تھا، جس کے لیے 100 سے 125 ارب روپے تک کی سبسڈی دی گئی۔ اگرچہ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ سبسڈی ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر دی جائے گی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو سکا۔ فرحان محمود کے مطابق اب حکومت پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اسی ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے تنقید سامنے آ رہی ہے۔

سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب صرف اعداد و شمار نہیں رہا، یہ غریب، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی زندگی کا سب سے بڑا عذاب بن چکا ہے۔

ان کی رائے میں 'غریب عوام دو وقت کی روٹی، بچوں کی فیس اور علاج کے لیے پریشان ہیں۔ متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی کھا رہا ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقہ ہر ماہ مزید قرض میں ڈوب رہا ہے۔'

وہ یہ سوال پوچھتی ہیں کہ 'آخر اس ملک کا عام آدمی جائے تو کہاں جائے؟'

سینیٹر زرقا کے مطابق 'ہر چیز داؤ پر لگ چکی ہے۔ روزگار، سکون، عزتِ نفس، حتیٰ کہ جینے کی امید بھی۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'اگر یہی حالات رہے تو عوام زندہ نہیں، صرف زندہ رہنے کی کوشش کرتے رہ جائیں گے۔'

میاں داؤد نامی صارف نے ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’انتہائی خوشی کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ پیٹرول 15 روپے، ڈیزل 15 روپے مہنگا۔۔۔‘

Pakistan

،تصویر کا ذریعہ@zaghumnaqvi09

خالد حسین ملک نامی صارف نے اس اضافے پر لکھا کہ ’جب قیمت کم کرنی ہوتی ھے تو جناب شہباز شریف خود تشریف لاتے ہیں اور عوام کے ہمدرد بن کر اعلان فرماتے ہین مگر اس قسم کی ۔۔۔ (تبدیلی میں) میں صرف ایک نوٹیفکیشن۔‘

ان کی رائے میں ’ہمارا خزانہ کنٹرول کرنے والے اعلیٰ قسم کے تیل نکالنے والے ہیں انھیں سمندر سے تیل نکالنے پر لگایا جائے۔ ہم تو صبر کر رہے ہیں۔‘

ضیغم نقوی نے اضافے پر لکھا کہ ’حکومت کو شاید بہترین بہانہ مل گیا ہے کہ ’جنگ ہے۔۔۔ جنگ ہے۔۔ ایف بی آر کی نااہلی چھپانے کے لیے پہلے سے پسی عوام کو مزید مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔

صحافی انصار عباسی نے لکھا کہ ’مہنگے پٹرول پر ٹیکس پر چھوٹ لینے کی بجائے اس ٹیکس میں مزید اضافہ کرنا عوام پر ظلم ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے اُس بیان کی نفی بھی جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ مزید بوجھ عوام پر نہیں منتقل کیا جائے گا۔ انھوں نے تجویز دی کہ ’آئی ایم ایف سے بات کر کے لیوی کو کم سے کم ترین سطح پرلایا جائے۔‘