تیل کا بطور ہتھیار استعمال، تاریخ کا سبق اور ایران جنگ: کیا یہ ٹرمپ کا سویز بحران ہے؟

،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images
- مصنف, نک ایرکسن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ایک ماہ قبل ایران کے خلاف شروع کی جانے والی امریکی اور اسرائیلی جنگ میں اِس وقت صرف ایک ہی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے اور وہ ہے اس کی غیر یقینی کیفیت۔
شاید یہ بات بھی اب حیران کُن نہیں رہی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے والے بیانات اِس بحران کو مزید گہرا کرتے ہوئے عالمی منڈیوں کو مسلسل جھٹکے دے رہے ہیں۔
لیکن اس جنگ کی سمت طے کرنے میں صرف ٹرمپ کے بیانات کا ہی نہیں، بلکہ تاریخ کا بھی ایک کردار نظر آ رہا ہے۔
اس تنازع کے آغاز کے بعد سے ماہرین ماضی پر نظریں دوڑا رہے ہیں تاکہ حالیہ کشیدگی کو بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کر سکیں اور یہ جان سکیں کہ آگے کیا ہو سکتا ہے۔ اس کوشش میں کم از کم تین تاریخی واقعات اہم لگتے ہیں۔
سویز بحران

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے جمعہ کے دن اسرائیل پر کیے گئے پہلے میزائل حملوں کے بعد، ایران جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا گیا ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروہ کی اس جنگ میں باقاعدہ شمولیت کے بعد عالمی معیشت کے مزید متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ حوثی باغی بحیرہ احمر میں، خصوصاً نہر سویز میں شپنگ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ گروہ اِس اہم سمندری راستے کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن یہ سویز تک رسائی کو محدود کر دینے کی صلاحیت ضرور رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سویز کینال سے 30 فیصد عالمی کنٹینر ٹریفک اور تیل اور گیس کی عالمی رسد کا تقریبا 15 فیصد گزرتا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ اگر سویز تک رسائی بھی متاثر ہوتی ہے تو عالمی معیشت پر بہت بڑا اثر ہو گا۔
اس تمام پیش رفت کے بیچ 70 سال قبل سویز بحران کی جانب توجہ مبذول کروائی جا رہی ہے جب مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے سنہ 1956 میں سویز کو قومیاتے ہوئے دنیا میں تیل کی رسد کے اس اہم راستے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس کے جواب میں فرانس، برطانیہ اور اسرائیل نے اس کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ٹرمپ اور اُن کے اسرائیلی اتحادی وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے اس تاریخ میں چند اہم سبق موجود ہیں۔
بی بی سی کے مدیر برائے بین الاقوامی اُمور جیریمی بوؤن کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی چیز سے زیادہ اِس وقت برطانیہ کی ایک عالمی طاقت کی حیثیت ختم ہو گئی تھی جو پہلی عالمی جنگ کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا حامل تھا۔ لیکن یہ واقعہ اس طاقت کے اختتام کا آغاز تھا۔‘
تہران اور حوثی باغیوں کی جانب سے تیل و گیس کی عالمی رسد کے راستوں تک رسائی کو ختم یا محدود کرنے کی جو حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، یہ 70 سال قبل مصر کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام جیسی ہے۔
امریکی مؤرخ الفریڈ مکوئے کہتے ہیں کہ ’برطانوی اور فرانسیسی فوجیں جب تک سویز کے شمالی کنارے تک پہنچیں تو مصری فوج درجنوں بحری جہاز ڈبو چکی تھی، نہر بند کر چکی تھی اور یورپ تک تیل کی رسائی ختم ہو چکی تھی۔‘
اُس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور کو خدشہ تھا کہ کہیں سرد جنگ کے بیچ سوویت یونین کے ساتھ نیا محاذ نہ کُھل جائے چنانچہ انھوں نے برطانیہ اور فرانس کو نہر سویز کے معاملے پر پسپا ہونے پر مجبور کیا۔
الفریڈ کے مطابق ’اس وقت تک برطانیہ پر اقوام متحدہ میں پابندیاں لگ چکی تھیں اور اس کی کرنسی کمزور ہو چکی تھی جبکہ برطانیہ کا ایک عالمی طاقت کا تاثر بھی ختم ہو چکا تھا۔‘
جیریمی بوؤن کے مطابق اُس وقت کا موازنہ آج درپیش حالات کے ساتھ مکمل طور پر نہیں ہو سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آج کے امریکہ کی طاقت کا موازنہ اُس وقت کی برطانوی طاقت کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا، لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہر طاقت اونچ نیچ کا شکار ہوتی ہے۔ اور چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے اگر مستقبل میں لوگوں نے امریکی زوال کے بارے میں لکھا تو شاید یہ جنگ ایک موقع کے طور پر دیکھی جائے جس میں نتائج کے بارے میں زیادہ سوچے سمجھے بغیر امریکہ داخل ہوا۔‘
ممکنہ نتائج کو سمجھنے کے لیے بھی 70 سال قبل کی تاریخ ہماری مدد کر سکتی ہے۔
1973 میں تیل کا جھٹکا

،تصویر کا ذریعہSmith Collection/Gado/Getty Images
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں اہم معاشی شاہ رگ (آبنائے ہرمز) کی بندش کے ذریعے عالمی معیشت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کا حربہ استعمال ہونے کا اندیشہ موجود تھا۔
اس کی ایک مثال 1973 میں سامنے آئی تھی جب جیریمی بوؤن کے مطابق اسرائیل کی شام اور مصر کے خلاف جنگ کے دوران امریکی مدد کے بعد عرب دنیا نے جوابی ردعمل میں تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اس کی قیمت میں اضافے سے مغربی یورپ کو بہت نقصان پہنچایا۔
اس وقت کے سعودی وزیر تیل شیخ احمد زکی نے واضح طور پر کہا تھا کہ تیل کو کس طرح اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے عرب دنیا کی تیل پر اجارہ داری کو ایک ’ہتھیار‘ قرار دیا تھا جو ’عالمی معیشت کو تیزی سے گرا سکتا ہے۔‘
پانچ ماہ تک جاری رہنے والی اس حکمت عملی کے اثرات ماہرین کے مطابق ایک دہائی تک محسوس کیے جاتے رہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کو مہنگائی نے متاثر کیا اور افراط زر میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ تیل آج کی دنیا میں کھپت میں کمی سمیت دیگر وسائل کی وجہ سے اتنا زیادہ اہم نہیں رہا لیکن اب بھی یہ توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
امریکہ آج اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کرتا ہے لیکن اب بھی خام تیل بڑی مقدار میں درآمد کرتا ہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ سے امریکی صارفین کو بھی فرق پڑے گا۔ اس کے علاوہ اگر امریکی تجارتی شراکت دار ایشیا میں متاثر ہوں گے تو اس کا اثر بھی امریکی منڈی میں محسوس کیا جائے گا۔
جیریمی بوؤن کا کہنا ہے کہ ’اب یہ ہو رہا ہے کہ سعودی اور اماراتی یہ تو نہیں کہہ رہے کہ وہ یورپ کو اپنا تیل نہیں بیچیں گے لیکن ایران اور حوثی باغی تیل کی رسد کو مشکل بنا رہے ہیں اور اس کی وجہ سے بہت مسائل ہوں گے۔‘
ایران، عراق جنگ

،تصویر کا ذریعہBarry Iverson/Getty Images
مؤرخین کا کہنا ہے کہ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ صدر ٹرمپ کو سب سے اہم مثال پیش کرتی ہے کہ واشنگٹن کے مخالفین کیسے ایم معاشی راستوں کو بند کر سکتے ہیں۔
اس جنگ کے اختتامی مراحل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری مال بردار جہازوں کو ایران اور عراق دونوں نے ہی نشانہ بنایا تھا جس کا مقصد ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کو تنازع میں شامل ہونے پر مجبور کرنا تھا۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کویت نے اس راستے سے اپنے جہازوں کی آمدورفت کے لیے بین الاقوامی مدد مانگی۔ امریکہ نے اس لیے حامی بھر لی کیوں کہ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ موقع سوویت یونین نہ لے اڑے۔
آپریشن ارنیسٹ ول کے تحت جولائی 1987 میں آئل ٹینکرز کے ساتھ امریکی جہاز حفاظت کی غرض سے چلنے لگے لیکن اس وقت امریکہ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ’برجٹن‘ نامی امریکی جہاز کو ایرانی بارودی سرنگ نے نشانہ بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے سے علم ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے خلاف امریکی اہلیت کتنی ناکافی تھی۔
اب آج کے تنازع میں بھی صدر ٹرمپ دوسرے ملکوں سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد مانگتے دکھائی دیے۔ لیکن آج واشنگٹن کے لیے مسئلہ زیادہ بڑا ہے کیونکہ جنگی صلاحیت میں ڈرون شامل ہو چکے ہیں اور ایران اس وقت عراق کے ساتھ جنگ میں مصروف بھی نہیں ہے۔
تاریخ آج مشرق وسطی کے تنازع میں شریک قوتوں کو بہت سے سبق فراہم کرتی ہے۔ لیکن یہ قوتیں اس تاریخ کو کیسے دیکھتی ہیں، اس سے یہ طے ہو گا کہ اس تنازع کا رُخ اور طوالت کیا ہو گی۔



























