چمکتی سکرین کے پیچھے چھپی حقیقت: پاکستان میں اداکاری کا خواب، جدوجہد، کمائی اور کامیابی کی کہانی

،تصویر کا ذریعہgettyimages
- مصنف, عمیر علوی
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
لائٹس، کیمرا، ایکشن، جب ان تینوں کا ملاپ ہوتا ہے تو ایک نئی تخلیق سامنے آتی ہے اور ایک ہی لمحے میں ایک عام سا چہرہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
پاکستان میں اداکار بننے کا خواب بھی کچھ ایسا ہی ہے، چمکتی سکرین، مقبولیت کا جادو اور تالیوں کی گونج، لیکن اس چمک دمک کے پیچھے ایک ایسی دنیا بھی ہے جس کا حصہ بننے کے لیے کئی افراد زندگی بھر جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔
جہاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے کلپس اور راتوں رات شہرت پانے کی کہانیاں نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، وہیں ایک ایسا سوال بھی ہے جو لوگوں کو پریشان کرتا ہے، اور وہ یہ کہ کیا یہ پرکشش دنیا واقعی اتنی ہی منافع بخش ہے جتنی نظر آتی ہے؟
کیا ایک بار اداکار بننے کے بعد اداکاروں کو ہر طرف سے آفرز آنے لگتی ہیں؟ اس فیلڈ میں کامیابی کے لیے کیا قیمت چکانا پڑتی ہے؟
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کامیابی کی داستانیں بھی ہیں اور خاموش جدوجہد کی کہانیاں بھی۔ کچھ لوگ باقاعدہ تربیت کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھنے کے باوجود آج بھی جدوجہد کر رہے ہیں تو کئی ایسے بھی ہیں جو صرف اپنے خواب اور حوصلے کے سہارے آگے بڑھتے ہیں۔
مرکزی کرداروں میں جگمگاتے ستاروں اور پس منظر میں کام کرنے والے فنکاروں کے درمیان مواقع اور آمدنی کا فرق بھی ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیا پاکستان میں اداکاری سیکھنے کے ادارے موجود ہیں؟
پاکستان میں اداکاری کی تربیت کے لیے چند ادارے موجود ہیں جن میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس اور آرٹس کونسل جب کہ لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی قابل ذکر ہیں۔ ان اداروں میں صرف اداکاری ہی نہیں پڑھائی جاتی بلکہ آرٹس کے ہر پہلو پر ماہرین کی زیرِ نگرانی طالبعلموں کی تربیت کی جاتی ہے۔
اس وقت ٹی وی اور فلموں میں نظر آنے والے کئی افراد ایسے ہی اداروں سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں جنھیں ان افراد نے پڑھایا جو خود بیرونِ ملک سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے، جیسے لیجنڈ اداکار ضیا محی الدین اور طلعت حسین۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ضیا محی الدین ہی کی ایک سٹوڈنٹ جرنلسٹ سے اداکارہ بننے والی ہانی طحہٰ ہیں جو اس وقت ٹی وی ڈراموں ’دیکھ ذرا پیار سے‘ اور ’میری زندگی ہے تو‘ میں سپورٹنگ کردار ادا کررہی ہیں اور جو اپنے مینٹور کی طرح برطانیہ کے معروف ادارے رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹ ’راڈا‘ سے تربیت حاصل کرکے واپس پاکستان آئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHani Taha Instagram
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اداکارہ ہانی طحہٰ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں فنون لطیفہ کے شعبوں میں باقاعدہ تعلیم کو اب بھی اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی دیگر پیشوں میں دی جاتی ہے، جب وہ بیرونِ ملک صحافت سے وابستہ تھیں تو انھیں احساس ہوا کہ پاکستان کے بارے میں دنیا میں ایک ’پرسیپشن پرابلم‘ موجود ہے۔‘
’مجھے لگا کہ فکشن اور انٹرٹینمنٹ کی زبان زیادہ لوگ سمجھتے ہیں، اس لیے میں اس میدان میں آنا چاہتی تھی تاکہ کہانیوں کے ذریعے پاکستان کا ایک مختلف پہلو دکھایا جا سکے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ راڈا میں تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔
’میں نے یہ تعلیم کسی کو متاثر کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے حاصل کی۔ جب آپ کسی چیز کی باقاعدہ تربیت لیتے ہیں تو لوگ آپ کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘
ان کے مطابق پاکستان میں اداکاری کے شعبے میں آنے والے بہت سے افراد باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کرتے۔
’جب پورا شعبہ ہی تربیت یافتہ نہ ہو تو پھر آپ دوسروں سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ اس تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں گے۔‘
ہانی طحہٰ کا کہنا ہے کہ اداکاری سمیت کسی بھی پیشے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے تعلیم اور تربیت اہم ہے۔
’اگر آپ کسی کام کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو اس کے بارے میں پڑھنا چاہیے۔ تربیت دراصل آپ کے لیے ایک شارٹ کٹ ہے جس سے لوگ آپ کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں اور آپ کے کام کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق تربیت یافتہ اداکار اکثر سکرین پر مختلف انداز سے نظر آتے ہیں۔
’ٹرینڈ ایکٹر کہیں بھی کھڑا ہو، اس کی باڈی لینگویج اور پرفارمنس میں فرق نظر آتا ہے۔ جیسے ایک اچھے کھانے یا موسیقی میں فرق محسوس ہوتا ہے، ویسے ہی اچھی اداکاری بھی پہچانی جا سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیرونِ ملک اداکاری کی تعلیم کا تجربہ
حال ہی میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم ٹیپ میڈ کی سپورٹس سیریز شمشیر میں ہاکی کھلاڑی کا کردار نبھانے والے نوجوان اداکار میکال دیوان بھی امریکہ کے لی سٹرزبرگ تھیٹر اینڈ فلم انسٹیٹیوٹ سے اداکاری کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میکال کا کہنا تھا کہ انھیں بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا، جس کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے تھیٹر اورکمرشلز میں کام کیا۔ ان کے بقول ’جب کسی چیز کا شوق ہوتا ہے تو آپ اسے مزید بہتر انداز میں سیکھنا چاہتے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے پسندیدہ اداکاروں مارلن برانڈو اور ایل پچینو کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ بہت سے معروف اداکار اسی ادارے سے تعلیم یافتہ ہیں، جس کی وجہ سے انھوں نے بھی وہیں جانے کا فیصلہ کیا۔
میکال دیوان کے مطابق بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہاں مختلف ممالک کے فنکاروں اور اساتذہ سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
’آپ کو مختلف ممالک کے تھیٹر، فلم اور ٹی وی کے بارے میں ایک وسیع تناظر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ صرف اداکاری نہیں بلکہ ڈائریکشن، پروڈکشن اور سکرین رائٹنگ کے بارے میں بھی سیکھتے ہیں۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان واپس آنے کے بعد انھیں کچھ کلچرل شاک بھی لگا۔‘
’یہاں کام کا طریقہ کافی غیر رسمی ہے اور بہت سی چیزیں وقت پر نہیں ہوتیں۔ مجھے کچھ وقت لگا کہ میں ایک مڈل گراؤنڈ تلاش کر سکوں۔‘
ان کے مطابق پاکستان میں بعض اوقات اداکاروں کے انتخاب میں سوشل میڈیا کی مقبولیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن طویل مدت تک کامیاب رہنے کے لیے اداکار کے پاس مہارت ہونا ضروری ہے۔
’سوشل میڈیا کی وجہ سے آپ کو ابتدائی موقع تو مل سکتا ہے، لیکن اگر آپ کے پاس صلاحیت نہیں ہے تو طویل کیریئر بنانا مشکل ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہLee Strasberg Theatre & Film Institute
کیا اداکاری بطور کریئر اختیار کی جا سکتی ہے؟
ہدایت کار محسن طلعت کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب پاکستان میں اداکاری کو ایک باقاعدہ پیشے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
’آج سے بیس سال پہلے شاید لوگ سمجھتے تھے کہ ڈرامہ کوئی باقاعدہ انڈسٹری نہیں ہے، لیکن اب یہ ایک مکمل صنعت بن چکی ہے۔ جیسے بچے ڈاکٹر اور انجینئر بنتے ہیں ویسے ہی اب اداکار بھی بنتے ہیں۔‘
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اداکار کے انتخاب میں بنیادی چیز اداکاری کی صلاحیت ہوتی ہے۔
’اگر کوئی شخص صرف انفلوئنسر ہے لیکن اچھا اداکار نہیں ہے تو وہ زیادہ عرصہ نہیں چل پاتا۔ اصل چیز اداکاری کی مہارت ہے۔‘
ادھر اداکار و ہدایت کار سیف حسن کا کہنا ہے کہ اداکاری کے شعبے میں آنے کے لیے تربیت ضروری نہیں، لیکن یہ فائدہ مند ضرور ہو سکتی ہے۔
’دنیا میں بہت سے بڑے اداکار ایسے ہیں جنھوں نے کہیں سے اداکاری نہیں سیکھی، لیکن ان کے اندر فطری صلاحیت تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں بھی تھیٹر سے آنے والے بہت سے اداکار کامیاب ہوئے ہیں۔‘
’بہت سے لوگ تھیٹر سے تربیت حاصل کرکے آئے ہیں جبکہ کچھ لوگ بغیر تربیت کے بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ انڈسٹری میں دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں۔‘
تاہم ان کے مطابق اس شعبے میں کامیابی آسان نہیں ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہMohsin Talat Instagram
پاکستان میں اداکاروں کی کمائی کتنی ہوتی ہے؟
سیف حسن بطور اداکار و ہدایتکار گذشتہ بیس سال سے ٹی وی انڈسٹری سے وابستہ ہیں، سرکاری ٹی وی کی بالا دستی سے لے کر نجی ٹی وی چینلز کی حکمرانی تک انھوں نے سب کچھ دیکھا ہے، پاکستان میں اداکاروں کے معاوضوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جتنا کامیاب اداکار ہوتا ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی فیس ہوتی ہے۔
’بعض معروف اداکار ایک ڈرامے کے لیے تیس سے چالیس لاکھ روپے تک معاوضہ لیتے ہیں۔‘
ان کے مطابق معاون کردار ادا کرنے والے فنکاروں کی کمائی اس سے کم ہوتی ہے۔
’لیڈ سپورٹنگ کرداروں کو عموماً پندرہ سے بیس لاکھ روپے تک مل جاتے ہیں جبکہ چھوٹے کردار کرنے والوں کو اس سے کم معاوضہ ملتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’آج کل سوشل میڈیا بھی اداکاروں کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔‘
’کچھ اداکار سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سے پانچ سے دس لاکھ روپے تک کما لیتے ہیں۔‘
معاون کردار ادا کرنے والے فنکاروں کے مسائل

،تصویر کا ذریعہShah Saleem Instagram
اے آر وائی ڈیجیٹل کے ہٹ ڈرامے شیر سمیت کئی پروڈکشننز کا حصہ رہنے والے اداکار شاہ سلیم کا کہنا ہے کہ معاون کردار ادا کرنے والے فنکاروں کے لیے صرف اداکاری کے ذریعے گزارہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
’میرا خیال ہے کہ سپورٹنگ ایکٹرز کو جتنا معاوضہ ملنا چاہیے اتنا نہیں ملتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ دیگر ممالک میں فنکاروں کو رائلٹی اور دیگر سہولتیں بھی دی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں ان چیزوں کی کمی ہے، جب یہ سہولیات معاون اداکاروں کو ملیں گی تب ہی ان کے حالات بہتر ہوں گے۔
ان کے مطابق اس شعبے میں آنے والوں کے لیے سب سے اہم چیز لگن اور محنت ہے۔
’اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے اندر اس کام کا شوق اور صلاحیت ہے تو بلا جھجھک اس میدان میں آئیں۔ محنت کریں تو ایک دن موقع ضرور ملتا ہے۔‘
کامیاب اور جدوجہد کرنے والے اداکار میں کیا فرق ہوتا ہے؟
اداکار میکال دیوان کے مطابق ابتدائی مواقع تو بہت سے لوگوں کو مل جاتے ہیں، لیکن کامیابی برقرار رکھنے کے لیے مہارت ضروری ہے۔
’کچھ لوگ اچانک اس انڈسٹری میں آ جاتے ہیں اور چند ڈراموں کے بعد غائب ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ طویل عرصے تک کام کرتے رہتے ہیں، اصل فرق مہارت اور مستقل مزاجی کا ہوتا ہے۔‘
ہدایت کار سیف حسن کے مطابق ناظرین بھی اچھے اداکار کو پہچان لیتے ہیں۔
’پاکستانی ناظرین اچھی اداکاری کو سمجھتے ہیں، خاص طور پر نئی نسل۔ اگر آپ اچھا کام کریں گے تو آپ کو مواقع ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘

کیا نئے لوگوں کو اس شعبے میں آنا چاہیے؟
اس سوال کے جواب میں شاہ سلیم کہتے ہیں کہ اگر کسی کے اندر جذبہ اور مقصد ہے تو اسے ضرور کوشش کرنی چاہیے۔
’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس میدان میں کچھ اچھا کر سکتے ہیں اور لوگوں تک مثبت پیغام پہنچا سکتے ہیں تو ضرور آئیں۔‘
ان کے مطابق اداکاری ایک مشکل مگر دلچسپ پیشہ ہے جس میں کامیابی کے لیے صبر اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔


























