’اہداف کے حصول تک کارروائی جاری رہے گی‘: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کا اختتامی کھیل کیا ہو گا؟

22 فروری 2026 کے پاکستانی حملے کے بعد افغان شہری ایک تباہ شدہ گاڑی کے پاس کھڑے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی ذرائع ابلاغ کے پردے سے اوجھل ہو جانے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاحال جھڑپیں جاری ہیں۔ اب تک کی کارروائیوں میں پاکستان نے افغان طالبان کے پانچ سو سے زائد جنگجو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی اپ ڈیٹ کے مطابق پاکستان نے اب تک کی جانے والی کارروائیوں میں افغانستان طالبان کی 230 چیک پوسٹس اور 200 ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے عہدیداروں کی طرف سے بھی جوابی دعوے کیے گئے ہیں۔ انھوں نے پاکستان کی طرف سے ہر حملے کے جواب میں پاکستان کے بڑی تعداد میں فوجی مارنے کا دعوی کیا ہے۔ دونوں اطراف کے ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

جمعے کے روز پاکستان کے سرحدی علاقے کرم پر افغانستان کی طرف سے گولہ باری کی گئی جس میں ایک بچے سمیت کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے سنیچر کے روز ایک انٹرویو میں افغانستان کے مقامی ٹی وی چینل طلوع نیوز سے بات چیت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر کابل پر حملہ ہو گا تو اس کے جواب میں اسلام آباد پر بھی حملہ ہو گا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان لڑائی نہیں چاہتا ’لیکن اگر وہ جنگ کو دس سال تک بھی طول دینا چاہتے ہیں تو ہم دس سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں، ہمیں کوئی خوف نہیں۔‘

افغان وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کی بنیادی وجوہات کا محور ڈیورینڈ لائن پر تنازعات ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے پاکستان کے مطالبات پر بات کرتے ہوئے ملا یعقوب مجاہد نے کہا کہ ’پاکستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا تخیلاتی اور غیر حقیقی ہے اور ان کے مطالبات بے بنیاد ہیں۔‘

افغان وزیر دفاع کا بیان اس وقت آیا ہے جب حال ہی میں پاکستان کے حکام کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ ’اپنے اہداف حاصل ہونے تک پاکستان افغانستان کے اندر کارروائیاں جاری رکھے گا۔‘

ایسے میں سوال یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کا اختتام کہاں ہو گا۔ جو اہداف پاکستان حاصل کرنا چاہتا ہے وہ کس حد تک ممکن ہیں اور کیا یہ کشیدگی طول پکڑتی دکھائی دے رہی ہے؟

وہ کیا اہداف ہیں جو پاکستان حاصل کرنا چاہتا ہے؟

پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے افغان طالبان پر یہ واضح کر دیا ہے کہ انھیں پاکستان یا دہشت گرد تنظیموں کے درمیان ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔

’انتہائی واضح، نمایاں اور قابل تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان طالبان کو یہ انتخاب کرنا ہو گا۔‘

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان بارہا افغان طالبان سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ پاکستان میں کارروائیاں کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کرے اور ان کے خلاف عملی اقدامات کرے جو نظر بھی آئیں اور قابل تصدیق بھی ہوں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا پاکستان کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت کے مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور افغان سر زمین پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی کارروائیوں میں استعمال ہو چکی ہے جن میں بے شمار عام افراد اور سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے دوست ممالک کے ثالثوں کے ساتھ مل کر ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مسائل کا حل نکالا جائے تاہم اس کا فائدہ نہیں ہوا۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا افغانستان یا افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے ’اور افغانستان کے اندر ہمارے اہداف دہشت گردوں کی تنصیبات اور ان کے سپورٹ سسٹمز ہیں جو انتہائی واضح انٹیلیجنس کی بنیاد پر چنے گئے ہیں۔‘

پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ افغانستان کے خلاف جاری کارروائیاں اس ہی کوشش کی ایک کڑی ہیں جن کا مقصد اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔

حالیہ کارروائیوں میں پاکستان کیا اہداف حاصل کر پایا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ابتدائی فضائی حملوں کے بعد پاکستان کی طرف سے کی جانے والی زیادہ تر کارروائیوں کا محور افغانستان کے سرحدی علاقے ہیں جہاں وہ ان کی فوجی پوسٹس کو نشانہ بنا رہا ہے۔

حال ہی میں پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بگرام ایئر بیس پر افغان طالبان کے اسلحے اور گولہ بارود کے ڈپو کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ حالیہ کشیدگی کی ابتدا میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم ان کارروائیوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کسی بڑے کمانڈر کی ہلاکت کی کوئی خبر سامنے آئی ہے نہ ہی افغان طالبان قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تو پاکستان ان فوجی کارروائیوں سے کیا حاصل کر رہا ہے؟

عبداللہ خان اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) نامی تھنک ٹینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں پر نظر رکھتا اور ان کا جائزہ لیتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبداللہ خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں سرحد کے قریب علاقوں میں ان فوجی تنصیبات کو تباہ کر رہا ہے یا کر چکا ہے جہاں سے ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کو لانچ کیا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا: ’ساتھ ہی پاکستان ان سرحدی چوکیوں کو بھی تباہ کر رہا ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف افغانستان کی طرف سے ہر بار فوجی کارروائی کی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی ان چوکیوں سے پاکستان پر حملے کیے گئے۔‘

عبداللہ خان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں سے پاکستان کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ ’ان علاقوں میں افغان طالبان کو اس پوزیشن میں لایا جائے کہ وہ مستقبل میں اس کے لیے سکیورٹی چیلنج نہ بنیں۔‘

ان کے مطابق بظاہر ایسا نظر آ رہا ہے کہ پاکستان نے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ نپے تلے انداز میں اپنی فوجی کارروائیاں کی ہیں اور اس کے اہداف بہت واضح ہیں۔

چمن میں پاک افغان سرحد پر کھڑا پاکستانی فوجی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

امریکی اسلحے کی تباہی

عبدالباسط سنگاپور میں ایس رجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان طالبان کے پاس موجود اسلحے کے اس ذخیرے کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جو امریکی افواج نے افغانستان سے انخلا کے وقت پیچھے چھوڑا تھا۔

عبدالباسط کے مطابق اس امریکی اسلحے تک رسائی ان دہشت گرد تنظیموں کو بھی مل گئی تھی جو پاکستان کے اندر کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ’امریکی اسلحے کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں زیادہ شدت آ چکی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس اسلحے میں کواڈ کاپٹرز، رات کے اندھیرے میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے اور لیزر گائیڈڈ ہتھیار وغیرہ شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے بگرام ایئر بیس پر حالیہ کارروائی میں کواڈ کاپٹرز یا ڈرونز کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

پی سی آئی ایس ایس کے ایم ڈی عبداللہ خان نے بتایا کہ امریکی فوج کی طرف سے چھوڑے گئے اسلحے کا کچھ حصہ پہلے ہی پاکستان میں سرگرم کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔

عبداللہ خان کا کہنا تھا کہ ’جو اسلحہ پہلے ہی ان کے پاس جا چکا ہے اس کو روکنا تو مشکل ہے تاہم پاکستان افغان طالبان کے پاس موجود اسلحے کے ذخیرے اور اس کے نیٹ ورک سسٹم کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘

عبداللہ خان سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی کارروائیوں میں مکمل طور پر اس اسلحے کو ختم کرنا تو ممکن نہیں ہے تاہم اس کو نقصان ضرور پہنچایا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں رجیم چینج یا حکومت کی تبدیلی؟

سنگاپور میں ایس رجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو عبدالباسط سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر نہیں لیکن افغانستان میں رجیم چینج یا حکومت کی تبدیلی کا آپشن پاکستان کے میز پر آ ضرور گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’فوری طور پر تو ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہے اور ہوتا نظر بھی نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اب تک افغان طالبان کی قیادت میں سے کسی کو نشانہ بھی نہیں بنایا ہے۔ تاہم آگے چل کر ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے کارروائی کرے۔‘

پی سی آئی ایس ایس کے ایم ڈی عبداللہ خان بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ فوری طور پر افغانستان میں رجیم چینج کی پالیسی پر نہیں جایا جا سکتا تاہم آگے چل کر اس کے ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ایک لمبی گوریلا جنگ لڑنے کی صلاحیت ابھی بھی رکھتے ہیں۔

عبداللہ خان کے مطابق: ’انھوں نے اپنی ڈیڑھ لاکھ کے قریب فوج کھڑی کر رکھی ہے جس کے پاس سات ارب ڈالر مالیت کا وہ اسلحہ موجود ہے جو امریکہ پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ وہ نئی آنے والی کسی بھی حکومت کے خلاف لمبی گوریلا جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘

عبداللہ خان سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بشمول چین، کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گا۔ اس لیے پاکستان فوری طور پر ایسا نہیں کرنا چاہے گا۔

ان کے مطابق پاکستان چاہے گا کہ کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان کو اس پوزیشن پر لایا جائے جہاں وہ پاکستان کی بات ماننے پر آمادہ ہو جائیں۔

افغانستان میں فوجی اہلکار اینٹی ایئر کرافٹ گن کے ساتھ فضا پر نظر رکھے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

پاکستانی کارروائی کی بڑی وجہ ٹی ٹی پی یا امریکی اسلحہ؟

پی سی آئی ایس ایس کے ایم ڈی عبداللہ خان کہتے ہیں کہ پاکستان کا بڑا مسئلہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی وہ قیادت ہے جو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ اور یہی پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کے خلاف کارروائیوں کی بڑی اور بنیادی وجہ ہے۔

ان کے خیال میں اگر افغان طالبان ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو ان تنظیموں کے پاس موجود امریکی اسلحے کو پاکستان کے اندر سے پاکستان آہستہ آہستہ ختم کر سکتا ہے۔

عبداللہ خان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اور گل بہادر گروپ جیسی تنظیموں کی قیادت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور ایک حالیہ سکیورٹی سروے کے مطابق انھوں نے لگ بھگ آٹھ ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک فورس بھی کھڑی کر رکھی ہے جو افغانستان کے اندر ہی موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ابتدائی کارروائیوں میں ان دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ٹھکانے جو شمال کی جانب موجود ہیں، ان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عبداللہ خان کہتے ہیں کہ تاحال پاکستانی کارروائیوں میں کسی بڑے دہشت گرد کمانڈر کے نہ مرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر چھپے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان حالیہ کارروائیوں میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا نظر آ رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اس کشیدگی کی اختتامی حد کیا ہو سکتی ہے؟

عبدالباسط کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ پاکستان کارروائیوں کے آپشن کو کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے یہ اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ افغان طالبان سے اپنی بات منوا نہیں لیتا۔

انھوں نے کہا: ’پاکستان کی طرف سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو میں تمہارے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔‘

تاہم عبدالباسط کہتے ہیں کہ دونوں ممالک مکمل جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے اور اسی لیے کسی طرف سے سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے بھی تاحال افغان طالبان کی قیادت میں سے کسی کو نشانہ نہیں بنایا کیونکہ ایسا کرنا کشیدگی کو مکمل جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں طرف کی قیادت کی باڈی لینگویج سے ایسا نظر نہیں آ رہا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ اس لیے عبدالباسط سمجھتے ہیں کہ ’یہ کشیدگی طویل ہو گی جو کہ پاکستان کے لیے ایک منظم انتشار کی شکل رہے گی، یعنی ایسی کشیدگی جو کنٹرول کی جا سکے۔‘

عبداللہ خان کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اس مرتبہ پاکستان اپنی کارروائیاں ختم کرنے سے پہلے کچھ قابل یقین گارنٹی چاہتا ہے۔

’یعنی اگر افغان طالبان کی طرف سے کوئی قابل تصدیق اقدامات نظر آتے ہیں تو معاملہ کشیدگی کم ہونے کی طرف جا سکتا ہے اور کارروائیاں ختم ہو جائیں گی لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘