’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے زیرِ انتظام وزارتِ دفاع نے ملک کے مشرقی صوبوں میں پاکستانی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اِن حملوں کا ’مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘
طالبان کی وزارت دفاع نے 22 فروری کو ’ایکس‘ پر جاری بیان میں پاکستانی فضائی حملوں کو ’مجرمانہ اقدام‘ اور ’افغانستان کی خودمختاری اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزارتِ قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو قومی اور دینی فریضہ سمجھتی ہے اور وعدہ کرتی ہے کہ اس اقدام کا مناسب اور بروقت جواب دیا جائے گا۔‘
خیال رہے پاکستان میں عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں میں تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا، جس میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ افراد مارے گئے ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ شدت پسند عناصر، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں اور اگر ملک میں دہشت گرد کارروائیاں جاری رہیں تو ذمہ دار بچ نہیں پائیں گے۔
اگست 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے اب تک پاکستان نے کابل اور دیگر علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں اور ان کے نتیجے میں سرحدی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
حکومتِ پاکستان تسلسل سے یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے، جبکہ افغان طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے ملک کی سکیورٹی بہتر کرے۔
اس حالیہ کشیدگی نے گذشتہ برس دونوں ممالک میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں اور اس کے بعد قطر و ترکی کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلے سے تناؤ کے شکار تعلقات کو ایک بار پھر تلخ کر دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی حملوں اور افغان طالبان کی ’مناسب وقت پر بھرپور جواب کی دھمکی‘ کے بعد، سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا؟ افغان طالبان کی عسکری صلاحیتیں کیا ہیں اور مناسب وقت پر بھرپور جواب سے اُن کی کیا مراد ہے اور آنے والے دنوں میں کیا ہو سکتا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کسی روایتی جنگ کا امکان بظاہر موجود نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
افغان امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور خراسان ڈائری سے منسلک سینیئر صحافی افتخار فردوس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی روایتی جنگ کا کوئی امکان بظاہر موجود نہیں ہے۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک عجیب، مایوس کُن اور بار بار دہرایا جانے والا سلسلہ ہے جس میں پاکستان حملہ کرے گا، افغان طالبان جوابی کارروائی کریں گے، سرحد پر کشیدگی ہو گی اور سفارتی مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ یہ ایک بار بار دہرایا جانے والا سلسلہ ہے کیونکہ کسی ملک پر فضائی حملہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔‘
افتخار فردوس کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ روایتی جنگ کریں کیونکہ اس کے لیے فوجی صلاحیتوں، فضائی اثاثوں، مسلسل سپلائی اور تربیت یافتہ جوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
’افغانستان کی معاشی صورتحال اور موجودہ فوجی وسائل کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ممکنہ جوابی کارروائی محض خلل ڈالنے والی سرگرمیوں سے زیادہ نہیں ہو گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مستقبل قریب میں طالبان جواب ضرور دیں گے کیونکہ یہ اُن کی غیرت کا معاملہ ہے، لیکن مکمل جنگ کا امکان نہیں ہے۔‘
ڈاکٹر خرم اقبال قائدِاعظم یونیورسٹی، اسلام آباد میں انٹیلیجنس اور سکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر آمادہ کرنے کے لیے تمام پُرامن ذرائع استعمال کر لیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو متعدد بین الاقوامی اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے، جن میں اقوامِ متحدہ بھی شامل ہے۔
’ایک بار نہیں بلکہ 2023 سے شروع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی مسلسل تین رپورٹس میں اس بات کی توثیق کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں محفوظ ٹھکانے رکھتی ہے۔ ان تمام پُرامن ذرائع کے استعمال کے بعد پاکستان کو طاقت کے استعمال پر مجبور ہونا پڑا۔‘
ڈاکٹر خرم اقبال نے مزید کہا کہ ’افغانستان کے اندر ہمیں طرزِ حکمرانی، معیشت اور معاشرتی سطح پر سنگین مسائل نظر آ رہے ہیں۔ متعدد بین الاقوامی سرویز کے مطابق دس میں سے آٹھ افغان خاندان گزر اوقات کے لیے اپنا گھریلو سامان تک فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ جب افغان طالبان داخلی مسائل سنبھالنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ توجہ بیرونی محاذ کی طرف موڑ دیتے ہیں، یعنی اپنے مسائل کو بیرونی رخ دیتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ کشیدگی انھیں داخلی اتحاد مضبوط کرنے اور مسائل سے توجہ ہٹانے میں مدد دیتی ہے، اسی لیے وہ کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ دوسری وجہ کچھ عملی نوعیت کی بھی ہے۔ ’اگر وہ (افغان طالبان) ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو خدشہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو داعش کا رُخ کر سکتے ہیں اور ماضی میں ایسا ہو بھی چکا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
ممکنہ جوابی کارروائی کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے؟
افتخار فردوس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان صورتحال میں اگرچہ ’کچھ نیا نہیں ہے‘ تاہم طالبان کے پاس ٹی ٹی پی جیسے وسائل تو بہرحال ہیں اور وہ ان دستیاب وسائل (ٹی ٹی پی) کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے شہری علاقوں کو ہدف بنا سکتے ہیں۔
طالبان کی صلاحیت اور ممکنہ ردِعمل کے متعلق ڈاکٹر خرم اقبال بھی افتخار فردوس سے اتفاق کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ روایتی جنگ میں افغان طالبان پاکستان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے وہ ماضی کی طرح غیر روایتی طریقہ اختیار کریں گے۔
’پاکستان کے بڑے شہروں میں شدت پسندوں کے حملوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور ملک کے شہری علاقوں میں تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر خرم اقبال کے مطابق طالبان اس لیے بھی پاکستان کے ساتھ مکمل یا روایتی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ انھیں شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان، افغانستان سرحد پر محدود نوعیت کی جھڑپیں ہو سکتی ہیں، بعض نمائشی حملے کیے جا سکتے ہیں اور مزید سخت بیانات، دعوؤں اور الزامات کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔
’ماضی میں بھی جب کشیدگی بڑھی تو اسی نوعیت کی کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان نے اپنی مقامی ابادی کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی بدلہ لے لیا ہے۔ وہ سرحد پر توپخانے کا محدود استعمال کر سکتے ہیں۔‘
افغانستان کی عسکری قوت کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان حکومت کی فوج کے پاس جو ہتھیار موجود ہیں وہ زیادہ تر تین ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں: سابقہ افغان فوج کا اسلحہ اور ساز و سامان، وہ ہتھیار جو امریکہ سمیت غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں رہ گئے تھے اور وہ نئے ہتھیار جو طالبان نے مختلف ذرائع سے حاصل کیے، جیسا کہ بلیک مارکیٹ۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان گذشتہ سرحدی جھڑپوں کی مبینہ ویڈیوز سے پتا چلتا ہے کہ طالبان فورسز نے پاکستان کے خلاف زیادہ تر ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جس میں بھاری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی بہت کم نشانیاں ہیں۔
افغانستان میں 20 برسوں کے دوران امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل برائے تعمیر نو اور ملک کی وزارت دفاع کی رپورٹوں کے مطابق سابق حکومت کو 16 لاکھ سے زیادہ ہلکے و بھاری ہتھیار اور مختلف فوجی ساز و سامان فراہم کیے گئے جن میں سے تقریباً 70 فیصد یا 10 لاکھ سے زیادہ ہتھیار افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے۔
اس وقت طالبان حکومت کی فوج کے ہاتھ میں جو ہلکے ہتھیار ہیں ان میں زیادہ تر کلاشنکوفیں، امریکن ایم 16، ایم فور، ایم 29 لائٹ مشین گنیں شامل ہیں۔
ان میں پیکا ایم ٹو اور ایم 240 جیسی ہیوی مشین گنیں، گرینیڈ لانچرز جبکہ آر پی جی سیون اور اے ٹی فور جیسے راکٹ لانچر اور اینٹی ٹینک میزائل بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے افغانستان سے انخلا کے بعد جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق بھاری بکتر بند گاڑیاں، طیارے اور دیگر بھاری فوجی ساز و سامان جو امریکہ نے سابق افغان حکومت کی فوج کو فراہم کیا تھا، یہ بھی طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔
ان بھاری ہتھیاروں میں 122 ایم ایم کی ہووٹزر بندوقیں ہیں جنھیں ڈی 30 کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان میں سے 100 سے 120 بندوقیں اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً 155 ملی میٹر کے ہووٹزر مارٹر اور بہت سے روسی ہتھیار جیسا کہ زی ٹی 2-23 بھی طالبان کے پاس ہیں۔
طالبان حکومت نے 2024 میں ایک فوجی پریڈ کے دوران بگرام ایئر بیس پر بھاری ہتھیاروں کی نمائش کی تھی۔ ان میں سکڈ میزائل آر 17 اور البروس آر 300 شامل تھے، جن کی رینج تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔
لونا میزائل جسے فراگ سیون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گریڈ راکٹ لانچر، ملان اینٹی ٹینک میزائل اور آرگن میزائلوں کے ساتھ تقریباً 6 میل تک مار کرنے والے ہتھیار اور لانچنگ سسٹم ہیں۔ یہ تقریباً 35 کلومیٹر تک فائر کر سکتا ہے۔
یہ ہتھیار کم از کم تین دہائیوں سے افغانستان میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ کچھ وزارت دفاع کی سٹوریج میں اور کچھ پہاڑی علاقوں جیسا کہ پنجشیر میں موجود ہیں۔
طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ان میں سے کچھ ہتھیاروں کو دوبارہ فعال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن ان کی تکنیکی حالت اور وہ کس حد تک لڑائی میں عملی استعمال کے لیے تیار ہیں، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔
افغانستان میں عبوری حکومت پر پاکستان کی برتری کا ایک پہلو ملکی (پاکستانی) فضائیہ اور جدید لڑاکا طیارے ہیں جبکہ طالبان حکومت کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائیہ نہیں ہے۔
طالبان کی حکومت نے سابقہ وزارت دفاع کے متعدد ہیلی کاپٹروں کی مرمت کر کے انھیں فعال کیا ہے اور متعدد پائلٹوں کو تربیت بھی دی ہے۔
بسم اللہ تبان کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں اپنی موجودگی کے آخری برسوں میں افغان فضائیہ کو مکمل طور پر لیس نہیں کیا تھا اور اس کے کئی فضائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا تھا۔
’یہی وجہ ہے کہ طالبان کو فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔‘
امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے جن طیاروں کو قبضے میں لیا ان میں سی 280 طیارے، ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹر، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، اے 29 طیارے، ایم آئی 17 ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر، آیم آئی 24 لڑاکا ہیلی کاپٹر، ایم ڈی 500 لائٹ اٹیک ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
طالبان حکومت کی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس تقریباً 60 طیارے اور ہیلی کاپٹر ہیں۔
’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی، نیٹو اور سابق افغان حکومتی افواج کے خلاف تقریباً دو دہائیوں تک لڑنے کے بعد طالبان نے گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ حاصل کیا ہے اور ماہرین کے مطابق یہی تجربہ آج بھی اُن کی فوجی حکمت عملی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2025 میں پاکستان اور افغانستان کے بیچ سرحدی جھڑپوں کے بعد افغانستان کی سکیورٹی امور کے ماہر بسم اللہ تبان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حالیہ جھڑپوں کی ویڈیوز اور مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اب بھی ایک باقاعدہ فوج کے طور پر نہیں بلکہ ہلکے ہتھیاروں سے لیس گوریلا گروپ کے طور پر لڑ رہے ہیں۔
اس حکمت عملی میں گھات لگا کر ’سرپرائز‘ حملے کیے جاتے ہیں۔
ایک طالبان کمانڈر، جنھوں نے پاکستان کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا، نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ طالبان کی افواج نے 'زیادہ تر گوریلا حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی جس میں ہمارے پاس کافی تجربہ ہے۔ حالانکہ ضرورت پڑنے پر باقاعدہ فوجی یونٹوں کو بھی کبھی کبھار استعمال کیا جاتا تھا۔'
انھوں نے بتایا تھا کہ ’بنیادی مقصد اپنے علاقوں اور چوکیوں پر قبضہ برقرار رکھنا تھا۔ مرکز سے احکامات جاری کیے جاتے ہیں لیکن مقامی سرحدی کمانڈروں کو زمینی حالات کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا تھا۔‘
اس حوالے سے سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ طالبان ابھی تک گوریلا گروپ کو معیاری فوج میں تبدیل نہیں کر سکے اور اس لیے وہ آج بھی پرانے گوریلا حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ایک معیاری فوج ہے، جو انڈیا جیسی بڑی طاقت سے لڑنے کے لیے بنائی گئی ہے۔











