اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکے سے 32 ہلاکتیں: ’پہلی رکعت پڑھ کر نمازی سجدے میں گئے تو زوردار دھماکہ ہوا‘

اسلام آباد دھماکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, شہزاد ملک، محمد زبیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’نمازی پہلی رکعت پڑھ کر سجدے میں گئے تو دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہر طرف چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا۔‘

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے زاہد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ امام بارگاہ میں نماز ایک بجے شروع ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں آخری صفوں میں کونے پر کھڑا تھا۔ میں بے ہوش ہو گیا تھا اور اب مجھے ہوش آیا۔‘

زاہد علی کو خوش قسمتی سے شدید چوٹیں نہیں آئی ہیں۔

زاہد علی کے ساتھ موجود ان کے ایک کزن جواد خان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں اکھٹے نماز پڑھنے گئے تھے جبکہ اُنھیں وضو کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی۔

’میں جب وضو کر کے آیا تو اس وقت نمازی سجدے میں چلے گئے تھے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ خود کش بمبار نے گیٹ پر موجود گارڈ پر فائرنگ کی اور وہ اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

جواد خان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر مزید فائرنگ بھی ہوئی تھی۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں اب تک 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 168 زخمی ہیں۔

دھماکے کے فوری بعد اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ پمز، پولی کلینک اور دیگر ہسپتالوں میں زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔

پولیس حکام اور عینی شاہدین کے مطابق اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کلاں میں یہ خودکش حملہ تھا۔

’جوابی فائرنگ میں ایک حملہ آور فرار ہو گیا‘

اسلام آباد دھماکہ

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس خود کش حملے کے ایک اور عینی شاہد حیدر عباس رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جمعے کی نماز کی ادائیگی کے لیے امام بارہ گاہ میں واقع مسجد کی طرف جا رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ دو افراد جن کے پاس جدید اسلحہ موجود تھا، نے امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر سکیورٹی پر مامور افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔

انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور دو افراد گولیاں لگنے کی وجہ سے نیچے گر گئے جبکہ تیسرے نے جوابی فائرنگ کی۔

انھوں نے کہا کہ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک حملہ آور وہاں سے فرار ہو کر گلیوں میں چھپ گیا جبکہ دوسرے خودکش حملہ آور نے فائرنگ جاری رکھی۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور کی فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور تیسرا شخص بھی زخمی ہو کر نیچے گر گیا تاہم اس کے باوجود اس نے فائرنگ جاری رکھی۔

انھوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا جبکہ جو شخص نیچے گرا ہوا تھا اس کی فائرنگ کے نتیجے میں کچھ گولیاں خودکش حملہ آور کو بھی لگیں جس کے بعد وہ نیچے گرا اور ایک زبردست دھماکہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ امام بارگاہ کے مرکزی دروازے کے اندر جا کر جس جگہ پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا وہاں پر کافی سارے لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ امام بارگاہ کے اندر واقع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر خودکش حملہ آور اس مسجد میں پہنچ جاتا تو اس سے بھی زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ تھا۔

ایک اور عینی شاہد رضا جعفر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر بالخصوص نماز کے اوقات میں چھ افراد سکیورٹی کے لیے موجود ہوتے ہیں جن میں سے تین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر شخص کو امام بارگاہ میں داخل ہونے سے پہلے چیک کرتے ہیں جبکہ تین افراد کے پاس اسلحہ موجود ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چند سال قبل بھی اس امام بارگاہ کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن بروقت کارروائی کی وجہ سے حملہ آور اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

’لوتھڑے چھت اور دیواروں پر چپکے ہوئے تھے‘

حیدر عباس رضوی نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ دھماکے کی آواز سن کر بہت سارے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جہاں پر درجنوں لوگوں کی لاشیں اور ان کے اعضا پڑے ہوئے تھے جبکہ اس کے علاوہ گوشت کے لوتھڑے چھت اور دیواروں پر چپکے ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔

اسلام آباد دھماکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

امام بارگاہ دھماکے میں زخمی ہونے والے ظہیر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پہلی رکعت میں تھے کہ انھوں نے دو گولیوں کی آواز سنی۔

’اس کے بعد ہم لوگ رکوع میں گئے اور پھر سجدے میں گئے تو ایک دم دھماکہ ہو گیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ہر طرف زخمی پڑے ہوئے تھے۔ میں اس وقت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں پر پولیس اور ریسکیو اہلکار پہنچ گئے جنھوں نے مجھے باہر نکالا اور ہسپتال پہنچایا۔‘

ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا کہ اس کی آواز کا اب تک مجھ پر اثر ہے۔

یہ دھماکہ کہاں ہوا؟

اسلام آباد دھماکہ

امام بارگاہ خدیجتہ الکبری جس جگہ پر واقع ہے وہاں سے کومسیٹ یونیورسٹی سمیت دیگر دو یونیورسٹیاں زیادہ دور نہیں جبکہ یہ علاقہ ریڈ زون سے صرف بارہ سے پندرہ کلیومیٹر کی دوری پر ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ فرنزاک ٹیم نے جائے حادثہ سے نمونے حاصل کر لیے ہیں۔

رینجرز اور فوج کے اہلکار بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور انھوں نے پولیس اہلکاروں کو وہاں پر موجود لوگوں کو ہٹانے کی ذمہ داری سونپی۔

اس واقعہ کے عینی شاہدین کے بقول دو خود کش حملہ آوروں میں سے ایک کے فراد ہونے کے باوجود جائے وقوعہ پر لوگ بے خوف و خطر کھڑے ہوئے تھے جبکہ پولیس کی جانب سے انھیں بارہا جگہ خالی کرنے کی درخواست کی جاتی رہی۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دوسرے مبینہ خودکش حملہ آور کی تلاش کے لیے شہر کے محتلف علاقوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔