مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیلی قبضے سے متعلق بیان پر اسلامی ممالک کی مذمت: سازشی نظریات پاکستانی اور ترک سوشل میڈیا سے پھیلائے گئے، امریکی سفیر

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی کی جانب سے اسرائیل کے مشرقِ وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قبضے کے بیان پر اسلامی ممالک کی جانب سے سخت ردِ عمل آیا ہے جس کے بعد انھوں نے اس سارے معاملے کو سازشی نظریات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان اور 13 دیگر اسلامی ممالک نے امریکی سفیر کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے سمیت دیگر عرب ریاستوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر قبضہ کر لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
لیکن یہ معاملہ ہے کیا اور امریکی سفیر نے ایسا بیان کیوں دیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مائیک ہکابی کا بیان جو اسلامی ممالک میں تشویش کی وجہ بنا
مائیک ہکابی نے سنیچر کے روز دائیں بازو کے سیاسی کارکن اور مبصر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے پر کنٹرول کا حق اسے الہامی کتابوں میں دیا گیا ہے۔ ‘
ٹکر کارلسن نے ہکابی سے گفتگو کے دوران پوچھا کہ انھوں نے مسیحیوں کے مقدس عہدنامہ قدیم کے بک آف جینیسس کا حوالہ کیوں دیا اور کیا وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ پر اسرائیل کا حق ہے؟
ہکابی نے جواب دیا کہ ’اگر وہ سب کچھ لے لیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘
ٹکر کارلسن کا کہنا تھا کہ ہکابی نے عہدنامہ قدیم کے جینیسس 15 کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ خدا نے ابراہیم سء وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد دریائے فرات (جو موجودہ عراق اور شام سے گزرتی ہے) سے دریائے نیل (مصر میں) تک زمین کی وارث ہوگی۔
کارلسن نے ہکابی سے پوچھا، ’آپ جینیسس 15 کا حوالہ دیتے ہیں، جس میں نیل سے لے کر فرات تک کی زمین کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں موجودہ اسرائیل، اردن، شام، لبنان، اور یہاں تک کہ سعودی عرب اور عراق کے حصے بھی آتے ہیں۔ تو کیا آپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل کو اس سارے علاقے پر اختیار دیا گیا ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر، ہکابی نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس میں یہ تمام علاقے شامل ہیں لیکن یہ بہت بڑا علاقہ ہے۔
اس پر کارلسن نےسوال کیا، ’تو کیا خدا نے وہ زمین یہودیوں کو دی تھی یا نہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس نے ایسا کیا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا ان کا اس [زمین] پر حق ہے؟‘
ہکابی نے جواب دیا کہ ’اگر وہ سب کچھ لے لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں‘۔
خیال رہے کہ ہکابی ایک انجیلی مسیحی ہیں اور انھیں اسرائیل کا ایک کٹر حامی سمجھا جاتا ہے۔
’فلسطین یا کسی اور مقبوضہ عرب سرزمین پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
امریکی سفیر کے بیان پر سخت ردِ عمل دیتے ہوئے اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے کی سلامتی اور امن کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت 14 اسلامی ممالک، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت کی ہے اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تمام ممالک ایسے کسی بھی خطرناک اور اشتعال انگیز بیانات کو واضح طور پر مسترد کرتے جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔‘
اسلامی ممالک کا کہنا ہے کہ ’ایسے بیانات غزہ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے سے متصادم ہیں جس کے تحت فلسطینی عوام کے لیے ایک خود مختار ریاست کا قیام یقینی بنایا جائے گا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے ’مقبوضہ فلسطین یا کسی اور مقبوضہ عرب سرزمین پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسلامی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے اپنے ساتھ الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش، مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں توسیع اور عرب ریاستوں کی خودمختاری کے لیے کسی بھی خطرے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘
امریکی سفیر کی وضاحت
اسلامی ممالک کی جانب سے شدید ردِ عمل کے بعد مائیک ہکابی ایک ایکس پر ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے انھیں توقع نہیں تھی کہ ٹکر کارلسن ان سے اتنے لمبے لمبے سوالات پوچھیں گے جس میں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے نظر آئے کہ ’آج کے زمانے کے یہودی واقعی بائبل کے یہودیوں سے مختلف ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اشکنازی یہودی خاندان صدیوں سے یورپ میں رہتے آئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اسرائیل کی یہودی آبادی کا ایک اقلیتی حصہ ہیں سیفاردی اور میزراہی بہت زیادہ ہیں۔
مائیک ہکابی کا مزید کہنا تھا کہ ٹکر کارلسن ایک سازشی نظریے کو فروغ دے رہے ہیں جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر شروع ہوا تھا۔ امریکی سفیر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اس نظریے کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔
امریکی سفیر نے کہا کہ اس ’سازشی نظریے‘ کو سوشل میڈیا پر بظاہر ایسے اسلامی اکاؤنٹس کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے جو ’پاکستان اور ترکی جیسے ممالک سے چلائے جاتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نظریہ کو یہودیوں کو غیر قانونی قرار دینے اور ان کی تاریخ چھیننے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
’میں نہیں جانتا کہ ٹکر اس موضوع پر اس قدر توجہ کیوں دے رہے تھے، اور میں دعویٰ بالکل بھی نہیں کر رہا کہ وہ اس سازشی نظریے کی شروعات کے متعلق آگاہ ہیں۔ نہ میں جانتا ہوں کہ ان کے دل میں کیا تھا یا وہ کیا سوچ رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہIsraelArabic
دریائے نیل سے نہرِ فرات تک پھیلے 'گریٹر اسرائیل' کا تصور
صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہرزل کے مطابق 'پرومسڈ لینڈ' یا گریٹر اسرائیل کے نقشے میں مصر میں دریائے نیل سے لے کر عراق میں نہرِ فرات تک کے علاقے شامل ہیں یعنی فلسطین، لبنان، اردن، عراق، ایران، شام، مصر، ترکی اور سعودی عرب بھی گریٹر اسرائیل کا حصہ ہوں گے۔
سنہ 1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو الگ الگ یہودی اور عرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی اور بیت المقدس کو ایک بین الاقوامی شہر قرار دیا گیا۔
اس کے بعد اسرائیلی سیاستدان اور سابق وزیراعظم مینیچم بیگن نے کہا تھا کہ ’فلسطین کی تقسیم غیر قانونی ہے۔ یروشلم ہمارا دارالحکومت تھا اور ہمیشہ رہے گا اور ایرٹز اسرائیل کی سرحدوں کو ہمیشہ کے لیے بحال کیا جائے گا۔‘
اخبار ٹائمز آف اسرائیل میں ’زایونزم 2.0: تھیمز اینڈ پروپوزلز آف ریشیپنگ ورلڈ سیویلائزیشن‘ کے مصنف ایڈرئن سٹائن لکھتے ہیں کہ گریٹر اسرائیل کا مطلب مختلف گروہوں کے لیے مختلف ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل میں اور ملک سے باہر رہنے والے یہودیوں کے لیے گریٹر اسرائیل کی اصطلاح کا مطلب مغربی کنارے (دریائے اردن) تک اسرائیل کی خودمختاری قائم کرنا ہے۔ اس میں بائبل میں درج یہودیہ، سامرہ اور ممکنہ طور پر وہ علاقے شامل ہیں جن پر 1948 کی جنگ کے بعد قبضہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس میں سینائی، شمالی اسرائیل اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔
ماضی میں بی بی سی کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والی اور واشنگٹن میں مقیم پالیسی تجزیہ کار تقیٰ نصيرات نے بتایا تھا کہ ’گریٹر اسرائیل کا تصور اسرائیلی معاشرے میں رچا بسا ہے اور حکومت سے لے کر فوج تک اسرائیلی معاشرے کے بہت سے عناصر اس کے علمبردار ہیں۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تقیٰ نصيرات کا کہنا ہے کہ اسرائیلوں کا ماننا ہے کہ اسرائیل بائبل میں درج حوالوں اور تاریخ اعتبار سے ان زمینوں کا حقدار ہے جو نہ صرف 'دریا سے سمندر تک' بلکہ 'دریا سے دریا تک' پھیلی ہوئی ہیں۔ یعنی دریائے فرات سے دریائے نیل تک اور ان کے درمیان تمام علاقے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اگرچہ گریٹر اسرائیل کے تصور کے پیچھے اصل خیال یہی ہو سکتا ہے مگر آج کے اسرائیل میں ایک زیادہ حقیقت پسندانہ سوچ یہ ہے کہ اس میں اسرائیل کی سرحدوں سے باہر کے وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے طویل عرصے سے قبضہ کر رکھا ہے یعنی مغربی کنارے کے علاقے، غزہ اور گولان کی پہاڑیاں۔‘
تاہم برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور 'کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز' سے منسلک ایسوسی ایٹ فیلو عمر کریم گریٹر اسرائیل کو 'محض ایک افسانوی تصور' مانتے ہیں۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے عمر کریم نے بتایا کہ یہودی مذہب کے مطابق گریٹر اسرائیل سے مراد مشرقِ وسطی میں وہ تمام قدیمی علاقے ہیں جو سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھے اور جہاں یہودی آباد تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ 'جب بنی اسرائیل مصر سے نکل کر آئے تھے تو اس وقت ان کا مرکز فلسطین تھا جہاں آ کر وہ آباد ہوئے' اسرائیلی حکومت اسے آج بھی جودیہ صوبے کا حصہ مانتی ہے اور اس کے علاوہ گریٹر اسرائیل میں وہ تمام علاقے شامل ہیں جہاں جہاں یہودی آباد تھے۔
عمر کا ماننا ہے کہ گریٹر اسرائیل ایک ایسی فینٹیسی ہے جو پریکٹیکل نہیں 'مگر یہودیوں سے زیادہ صیہونی سیاست میں اس کا بہت ذکر ملتا ہے' وہ کہتے ہیں کہ 'عملی طور پر' اسرائیلی، فلسطین کے تمام مقبوضہ علاقوں سمیت مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کو اپنا حصہ مانتے ہیں لیکن اگر صرف 'فینٹیسی' کی بات کی جائے تو گریٹر اسرائیل میں جزیرہ نما عرب یعنی آج کے سعودی عرب، عراق، اردن، مصر کے کچھ علاقے اس میں شامل ہیں۔
'دا پرومسڈ لینڈ' کے متعلق عمر کریم بتاتے ہیں کہ جب حضرت یوسف کے دور میں یہودی مصر میں آباد ہوئے تب ان کی حکمرانی فلسطین سے لے کر بلادِ شام (آج کا شام) اور فرات کے کچھ علاقوں تک تھی اور عرب ریاستیں نہ ہونے کے باعث ان کا اثرورسوخ کئی علاقوں تک تھا اور گریٹر اسرائیل کا تصور یہیں سے آیا ہے کہ 'بنی اسرائیل کی اولاد جہاں جہاں پلی بڑھی ہے وہ سب علاقے ہمارے ملک کا حصہ ہوں۔'
تاہم وہ کہتے ہیں کہ عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہے اور اب گریٹر اسرائیل کا مطلب صرف مقبوضہ علاقے ہیں جن میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سمیت مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ شامل ہیں۔













