باہمی مفادات یا حکمت عملی: امریکہ ہر معاملے میں اسرائیل کی حمایت اور مدد کیوں کرتا ہے؟

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ماریانا سانچیز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل، واشنگٹن

*اس متن میں بی بی سی کی ادارتی پالیسی کے مطابق ترامیم کی گئی ہیں۔

’اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات بہت گہرے ہیں۔‘، ’امریکی اسرائیلیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں‘ یا پھر یہ کہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے امریکہ کی حمایت ’ٹھوس اور غیرمتزلزل ہے‘۔

سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے امریکی صدر جو بائیڈن ایسے کئی بیانات دیے ہیں جن میں وہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا اظہار کرتے نظر آئے۔

نہ تو بائیڈن کے الفاظ اور نہ ہی اپنے اس اتحادی کی جسے وہ ’بنیادی شراکت دار‘ کہتے ہیں، عسکری حمایت کرنے کے لیے ان کا فوری اقدام، امریکہ کے سیاسی منظرنامے کے لیے نئے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اسرائیل سب سے زیادہ امریکی وسائل حاصل کرنے والا ملک ہے۔ رواں سال مارچ میں شائع ہونے والی امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1946 سے سنہ 2023 تک امریکہ نے اسرائیل کو 260 ارب ڈالر کی امداد دی جس میں سے نصف عسکری امداد تھی۔

اسرائیل کے لیے امریکی حمایت صرف دو طرفہ امور تک محدود نہیں رہی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر امریکہ نے بارہا اسرائیل کے حق میں اپنی ویٹو طاقت کا استعمال کیا ہے اور فلسطینی علاقے کے کچھ حصوں پر اس قبضے کی وجہ سے لگنے والی پابندیوں سے بچایا ہے جسے اقوامِ متحدہ غیرقانونی قرار دیتی ہے۔

سان فرانسسکو یونیورسٹی کے سینٹر آف مڈل ایسٹ سٹڈیز کے بانی پروفیسر سٹیفن زونز کا کہنا ہے کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تاریخ میں امریکہ نے 80 سے زیادہ بار ویٹو کا حق استعمال کیا جن میں سے نصف اسرائیل کو بچانے کے لیے تھے۔ کئی بار امریکہ وہ واحد ملک تھا جس نے اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا۔‘

کئی دہائیوں سے اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے امریکی پوزیشن پر نظر رکھنے والے پروفیسر زونز کا کہنا ہے کہ ’تاریخی اعتبار سے زیادہ تر ممالک اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر بھی تنقید کرتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عام شہریوں کو بمباری سے ہلاک کرنا غلط ہے۔ لیکن دوسری جانب امریکہ اسرائیل کا نام نہیں لیتا، صرف فلسطینیوں پر تنقید کرتا ہے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن حکومت (2017-2021) کے دوران، امریکہ دو ریاستوں (فلسطین اور اسرائیل) کے لیے تاریخی عہد سے ہٹ گیا اور ان کے جانشین ڈیموکریٹ جو بائیڈن نے اس سلسلے میں مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی نہیں کی۔ اس کے بعکس، بائیڈن نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے میں مدد کرنے کی کوشش کی ہے، جو فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے عشروں سے جمود کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے مسئلہ فلسطین ایک طرف رہ گیا ہے۔

تازہ ترین مذاکرات سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کا معاہدہ ہے، جس کا مستقبل اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان نئے تنازع کے پیش نظر غیر یقینی ہے۔

حماس کے حملوں کے بعد سے اپنے بیانات میں، بائیڈن نے اسرائیل کی جوابی کارروائی میں ان ممکنہ زیادتیوں پر براہ راست تنقید کرنے سے گریز کیا ہے، جن کی نشاندہی اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے کی ہے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو پانی، بجلی، ایندھن اور خوراک کی فراہمی منقطع کر دی ہے۔ یہ انتہائی گنجان آباد علاقہ شدید بمباری کی زد میں ہے۔ جو بائیڈن نے منگل کو کہا ’امریکہ اور اسرائیل جمہوریت ہیں اور جمہوریتیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ قانون کی پیروی کرتی ہیں۔‘

آخر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بائیڈن کے بیان کردہ ان ’گہرے تعلقات‘ کی بنیاد کیا ہے جو اس تنازع پر امریکی موقف کی وضاحت کرتے ہیں؟

تاریخی جڑیں

ہولوکاسٹ کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ملک کے قیام کے مطالبے کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی جو یہودیوں کا 50 سالہ پرانا مطالبہ تھا۔ تاہم یہ ملک ایک ایسے خطے میں قائم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جہاں فلسطینی عرب صدیوں سے آباد تھے۔

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر امریکہ اور سوویت یونین دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے طور پر اُبھرے تھے جو عالمی اثرورسوخ کے لیے کوشاں تھے۔ اس وقت جنگ کی تباہ حالی کے باعث یورپی طاقتیں کمزور پڑ چکی تھیں۔

ایسے میں اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا تو دنیا میں یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی والے ملک کے طور پر امریکہ نے فورا اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔

اس وقت سوویت یونین نے بھی اسرائیل کی حمایت کی تھی۔ تقریبا دو دہائیوں تک امریکہ اور سوویت یونین کی جانب سے اسرائیل کی حمایت ایک پیمانے پر ہی ہوتی رہی حتی کہ جب اسرائیل نے 1956 میں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ سوئز بحران کے دوران مصر پر حملہ کیا تو امریکہ اور سوویت یونین دونوں نے ہی اس حملے کی مذمت کی۔

تاہم ایک دہائی بعد امریکی پوزیشن میں سرد جنگ کے عروج کے دوران تبدیلی واقع ہوئی جب یہ واضح ہوا کہ خطے میں سوویت یونین کے مفادات کو شکست دینے میں اسرائیل فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

جب اسرائیل نے چھ روزہ جنگ میں سوویت یونین کے حمایت یافتہ عرب اتحاد، جس میں مصر، اردن اور شام شامل تھے، کو شکست دی تو اس کے بعد سے اسرائیل کے لیے امریکہ سفارتی اور معاشی امداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ آنے والی دہائیوں میں اسرائیلی اور امریکی یہودی برادریوں میں تعاون بھی کافی اہم رہا۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دہشت گردی کے خلاف ’جنگ‘

زونز کے مطابق، جب حمایت کی بات آتی ہے تو ہمدردی کا عنصر بھی یقینی طور پر کام کرتا ہے ۔ جب نتن یاہو حماس کے حملے کا موازنہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے کرتے ہیں تو اسرائیلی وزیر اعظم امریکیوں میں ان طاقتور جذبات کو متحرک کرتے ہیں، جو کہ نائن الیون حملوں کے بعد پیدا ہوائے ۔

ان کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں معاملات میں کارروائیوں کے مرتکب اسلامی بنیاد پرست گروہ تھے یوں امریکی معاشرے کے لیے اسرائیلیوں کی پریشانیوں کو پہچاننا آسان ہو جاتا ہے۔

نائن الیون حملوں کے جواب میں، امریکہ نے نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ شروع کی، جسے افغانستان اور عراق پر حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ دونوں ممالک میں، مقامی حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا تاہم اس کے بعد وہاں نئی حکومتوں کے قیام اور علاقے میں استحکام کو یقینی بنانے میں امریکہ کو بہت زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حکمت عملی کو بہت سے امریکیوں کی طرف سے خامی سمجھا جانے لگا۔

ایسے لوگ ہیں جو جب اسرائیل کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہیں اور غزہ میں ممکنہ زمینی دراندازی کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ اسے امریکی قیادت میں 20 سال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک چھوٹے پیمانے پر اعادہ سمجھتے ہیں۔

لاس اینجلس میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سینٹر فار اسرائیل سٹڈیز کے پروفیسر ڈوکس ویکسمین نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’(سات اکتوبر کو) جو کچھ ہوا اگر اسرائیلیوں پر اس کا نفسیاتی اثر امریکیوں پر نائن الیون کے نفسیاتی اثرات جیسا ہی ہے، تو یہ ضروری ہے کہ اسرائیل وہی غلطیاں نہ کرے جو امریکہ نے نائن الیون حملوں کے جواب میں کی تھیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خاص طور پر، افغانستان پر امریکی حملے نے دو دہائیوں تک قبضے اور شورش کو جنم دیا (اور القاعدہ کو تباہ نہیں کیا)۔ اگر اسرائیلی افواج غزہ پر حملہ کر کے حماس کی حکومت کا تختہ الٹ دیتی ہیں تو وہ غزہ پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں اور نتیجتاً ایک طویل شورش کا سامنا بھی۔ اندر جانا، واپس باہر نکلنے سے کہیں آسان ہو گا، جیسا کہ امریکہ نے ایک مشکل طریقے سے سیکھا ہے۔‘

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مفادات اور حکمت عملی

40 سال قبل امریکی سیکریٹری خارجہ الیگزینڈر ہیگ نے کہا تھا کہ ’اسرائیل امریکہ کا سب سے بڑا جنگی طیارہ بردار جہاز ہے جو ڈوب نہیں سکتا، جس پر کوئی امریکی فوجی سوار نہیں اور یہ ایک ایسے خطے میں موجود ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔‘

امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بیان آج کے اعتبار سے بھی اہم ہے اور اسرائیل کے لیے غیر مشروط امریکی حمایت کی وضاحت کرتا ہے۔

کونسل آف فارن ریلیشنز کی کالی روبنسن کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ توانائی کی وجہ سے، ایرانی اثر ورسوخ کی وجہ سے اور سوویت یونین کی وجہ سے امریکہ کے لیے بہت اہم ہے اور اسی لیے اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنانا ہر امریکی انتظامیہ کی ترجیح رہا ہے۔‘

سرد جنگ تو ختم ہو چکی لیکن امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات نہیں بدلے۔ اس کی ایک وجہ خطے میں درپیش اہم مسائل ہیں۔

ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام کی وجہ سے خطے میں امریکہ کے لیے بڑا درد سر رہا ہے اوروہ حماس کا حامی بھی ہے۔ اگرچہ اسرائیل اور امریکہ نے حالیہ حملوں میں ایرانی کردار کے بارے میں اشاروں میں بات کی ہے لیکن اب تک امریکی خفیہ ادارے کوئی ٹھوس شواہد تلاش نہیں کر پائے۔ حال ہی میں ایران نے روس اور چین سے تعلقات مضبوط کیے ہیں اور امریکہ کے لیے اسرائیل کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔

2014 میں، اس وقت کے نائب صدر، بائیڈن نے اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ ایک تقریب کے دوران ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’یہ بنیادی طور پر خود امریکہ کے مفاد میں ہے کہ اسرائیل جیسا سٹریٹجک پارٹنرمحفوظ، جمہوری اور دوستانہ ہو‘۔ یہ احسان نہیں ہے، یہ ایک فرض ہے، بلکہ ایک سٹریٹجک ضرورت بھی۔‘

بائیڈن نے اس وقت کہا تھا کہ ’اگر اسرائیل نہ ہوتا تو ہمیں ایک (ایسا ملک) قائم کرنا پڑتا۔‘

اسرائیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بھی پڑھیے

نئی نسل میں اسرائیلی حمایت میں کمی؟

موجودہ حالات میں جب ایسے معاملات نہ ہونے کے برابر ہیں جن پر امریکی سیاست کے مرکزی حریف ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز متفق ہوں، اسرائیل کی حمایت ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ایسا ہے۔

پروفیسر سٹیفن زونز کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یہ تاثر اب تک قائم ہے کہ اسرائیلی ایک ایسی قوم ہیں جنھوں نے صدیوں کی جلا وطنی کے بعد اپنی ریاست بنائی جو ایک جمہوری ملک ہے اور اردگرد کی رجعت پسند عرب حکومتوں سے کافی مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’امریکی لبرلز کی پرانی نسل میں اسرائیل کے ساتھ جذباتی لگاؤ موجود ہے۔ وہ اسرائیلیوں کو ستائے ہوئے لوگوں کے طور پر دیکھتے ہیں جنھوں نے صدیوں کی جلاوطنی کے بعد بالآخر اپنی ریاست کی بنیاد رکھی اور انھوں نے تاریخی طور پر ایک ترقی پسند ملک کی بنیاد رکھی‘۔

سان فرانسسکو یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات کے مطابق، کسی حد تک، اسرائیل خود امریکہ کے قیام کی وجہ بننے والی صورتحال کا آئینہ دار ہے، ایک ایسا ملک جو ستائے ہوئے مذہبی آباد کاروں نے تشکیل دیا تھا جنھوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک نئی خوشحال اور آزاد زمین تعمیر کی۔

تاہم یہ تاثر امریکہ کی نئی نسل میں منتقل نہیں ہو رہا۔ جولائی 2022 کے پیو سروے کے مطابق 65 برس سے زیادہ عمر کے 67 فیصد جبکہ 50 سے 64 برس عمر کے 60 فیصد افراد اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں تاہم 18 سے 29 سال کی عمر کے امریکی شہریوں میں یہ تناسب کم ہو کر 41 فیصد رہ جاتا ہے۔

اس کی وجہ اسرائیل میں دائیں بازو کی حکومتوں کی پالیسیاں اور غرب اردن میں آباد کاریوں کا تسلسل بتایا گیا ہے۔

پروفیسر سٹیفن زونز کے مطابق ’نوجوان آبادی میں اسرائیلی رویے سے جڑے منفی تاثرات اب تک امریکی سیاست پر اثر انداز نہیں ہو سکے کیوں کہ سیاسی اور حکومتی میدان میں فیصلے کرنے والے اب تک اس نسل کے والدین اور دادا کی نسل کے لوگ ہیں۔

سیاسی میدان کے برعکس، اسرائیل نے امریکہ میں اوینجلیکل مسیحی آبادی میں اپنی حمایت کی تجدید کی ہے۔ یہ امریکہ کی آبادی کے ایک تہائی سے کچھ کم ہیں اور ان میں سے اکثریت ٹرمپ کی حامی ہے۔ یہ اسرائیل کے ایجنڈے سے ٹرمپ کے لگاؤ کی وضاحت کرنے میں مدد کرتا ہے، حالانکہ انھیں کبھی امریکی یہودی برادری سے ہمدردی نہیں تھی۔

زونز کہتے ہیں کہ دائیں بازو کے یہ مسیحی اسرائیل کے مسئلے کو مسیح کی زمین پر واپسی کے لیے ضروری انجیلی بشارت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع اسی جدوجہد کا تسلسل ہے جو صدیوں قبل شروع ہوئی۔