لائیو, پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دیں گے لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں، ذبیح اللہ مجاہد

افغانستان کی طالبان حکومت نے بدھ کے روز کہا کہ وہ حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دے گی۔ طالبان نے اسلام آباد پر الزام لگایا کہ اس نے افغان شہریوں کو نشانہ بنایا اور اپنے ملک میں داعش کے جنگجوؤں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ فراہم کر رکھی ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی اور ایرانی حکام جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے تیسرے دور کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی میں اس راہ پر چل رہی ہے تاکہ اس کشمکش کی صورتحال سے نکلا جا سکے۔
  • اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کسی علاقائی تنازع میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی یا استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن کے شہریوں کا تحفظ ان کی اوّلین ترجیح ہے۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں براہِ راست ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے تاکہ کاروباری برادری کو ریلیف ملے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی۔
  • بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم نو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چھ عام شہری بھی شامل ہیں، جن کو ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں نشانہ بنایا گیا۔

لائیو کوریج

  1. محسن نقوی کی اٹلی و سپین کے اوریونان کےوزرائے داخلہ سے ملاقات، غیر قانونی امیگریشن روکنے کے اقدمات پر اتفاق

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی اٹلی و سپین کے وزرائے داخلہ اوریونان کے وزیر مائیگریشن سے اہم ملاقات کی ۔

    چاروں وزرا نے روم میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے 4 ملکی کانفرنس میں شرکت

    اٹلی۔ سپین اور یونان نے غیرقانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا تینوں یورپی ممالک نے غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی پر پاکستان کی تعریف کی گئی۔

    پاکستانی وزیرداخلہ کی لیگل پاتھ وے کے ذریعے غیرقانونی امیگریشن روکنے کی تجویز پرتینوں ممالک نے اتفاق کیا۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق تینوں ممالک نے اس سلسلے میں پاکستان کی استعداد بڑھانے کے لیے یورپی یونین کے ذریعے پاکستان کی بھرپور معاونت کا فیصلہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق پاکستان۔ اٹلی۔ سپین اور یونان کا غیر قانونی امیگریشن کو ہر سطح پر روکنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

    یہ بطی طے پایا کہ ’سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لایا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ ‘

    چاروں وزرا نے آئندہ اجلاس رواں برس ہی پاکستان میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ ’غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کو قانون کی گرفت میں لایا گیا ہے۔ پاسکتان غیرقانونی امیگریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ مشترکہ میکنزم سے ہی اس چیلنج کا خاتمہ ممکن ہے۔‘

  2. ایران جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے: جے ڈی وینس

    نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے۔

    وہ جمعرات کو مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وائٹیکر کے ساتھ بات چیت کرنے والے ہیں۔

    گذشتہ موسم گرما میں 12 روزہ جنگ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا یہ تیسرا دور ہے۔

    حالیہ دنوں میں، جناب عراقچی اور ایرانی وزارت خارجہ کے دیگر حکام نے مذاکرات میں پیش رفت اور امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں پرامید ہے۔

    اس کے برعکس، ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے حکام، سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے، بارہا یہ بات کر چکے ہیں کہ اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا ہے تو اس کے لیے فوجی اختیارات اور ’سنگین نتائج‘ ہوں گے۔

    امریکہ اور ایران کے جنیوا میں بات چیت کے نئے دور کے آغاز سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےکہا کہ ’ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ہمارے لیے ایک مسئلہ ہو گا۔ درحقیقت، ہم نے شواہد دیکھے ہیں کہ وہ بالکل اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر نے مزید کہا ہے کہ ’اسی لیے صدر نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کار بھیجے ہیں۔ جیسا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں، وہ سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ، ان کے پاس دوسرے آپشن بھی ہیں۔‘

    آئندہ چند گھنٹوں میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی سفارتی وفد کی سربراہی میں، عمان کی ثالثی سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وائٹیکر کے ساتھ بات چیت کرنے والے ہیں۔

  3. پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دیں گے، پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے: ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

    ،تصویر کا ذریعہGE

    افغانستان کی طالبان حکومت نے بدھ کے روز کہا کہ وہ حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دے گی۔

    طالبان نے اسلام آباد پر الزام لگایا کہ اس نے افغان شہریوں کو نشانہ بنایا اور اپنے ملک میں داعش کے جنگجوؤں کو ’محفوظ پناہ گاہیں‘ فراہم کیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے اتوار کی رات افغانستان کے اپنی سرحد سے متصل علاقوں ننگرہار اور جنوب مشرقی پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ حملے ان عسکریت پسند گروہوں پر کیے گئے جو پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ’قدرتی طور پر یہ عسکری جواب ہوگا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں۔ پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے۔‘

    انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے بجائے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ننگرہار میں ایک خاندان کے 17 ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ پکتیکا میں بچوں کے ایک سکول پر حملہ ہوا، جس میں ایک بچہ زخمی اور کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہاں کوئی مسلح افراد نہیں تھے، صرف شہری زخمی اور ہلاک ہوئے۔‘

    پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے منسلک جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے تھے۔ کابل ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

    ذبیح مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ افغانستان عسکریت پسند گروہوں کو پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے جب بھی پاکستان میں حملے ہوتے ہیں، وہ فوراً بغیر ثبوت کے انھیں افغانستان سے جوڑ دیتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں۔ ہم اس کو رد کرتے ہیں۔ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں ہے۔

    ’یہ پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر بڑے علاقوں پر قابض ہے۔ وہ وہاں رہ سکتے ہیں، انھیں افغان زمین کی ضرورت نہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔’بغیر ثبوت یا شواہد پیش کیے، وہ صرف دعوے کرتے ہیں، پروپیگنڈا چلاتے ہیں، اور پھر ایسے اقدامات کرتے ہیں جنہیں ہم ناقابلِ معافی سمجھتے ہیں۔‘

    افغان حکومت کے ترجمان نے خاص طور پر خطے کے ممالک اور مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں اور اسلام آباد کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کریں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ خطے اور اسلامی ممالک اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پاکستان کو اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ کریں۔ تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔‘

  4. ممکنہ تصادم کو روکنے کی ’آخری کوشش‘: امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور جوہری معاہدے کے لیے دباؤ میں اضافہ

    امریک اور ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی اور ایرانی حکام جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔

    یہ بات چیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے سب سے بڑے اضافے کے دوران ہو رہی ہے، جو 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔

    ان مذاکرات کو ممکنہ تصادم کو روکنے کی آخری کوشش سمجھا جا رہا ہے، لیکن کسی معاہدے کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بحران کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران پر محدود حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس کی قیادت کو معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    صدر نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ مذاکرات میں کیا مطالبات کر رہے ہیں اور آٹھ ماہ بعد فوجی کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، جب کہ امریکہ نے اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی روکنے کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا ہے، لیکن اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں کچھ رعایت دینے پر تیار ہو سکتا ہے۔

    جیسا کہ اس ماہ کے اوائل میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے پچھلے دو ادوار کے مذاکرات میں ہوا تھا، ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔

    حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے ہزاروں فوجی اور وہ ’آرماڈا‘ بھیج دیا ہے جسے ٹرمپ نے بیان کیا تھا، جس میں دو طیارہ بردار جہاز، دیگر جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور ایندھن بھرنے والے جہاز شامل ہیں۔

    ٹرمپ نے پہلی بار گزشتہ ماہ ایران کو بمباری کی دھمکی دی تھی جب ایرانی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے کچل دیا تھا اور ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ان کی توجہ ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہو گئی ہے، جو مغرب کے ساتھ ایک طویل تنازعے کا مرکز رہا ہے۔

    دہائیوں سے امریکہ اور اسرائیل ایران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم خدشات ہیں کہ وہ واحد ایسا ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں لیکن اس نے یورینیم کو ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کر رکھا ہے۔

    امریکo اور ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد اس کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں رک گئی ہیں، اگرچہ اس نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو متاثرہ مقامات تک رسائی نہیں دی۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے وہ خفیہ الفاظ نہیں سنے کہ ’ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘۔‘

    تاہم، اس تقریر سے چند گھنٹے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران ’کسی بھی صورت میں کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا‘۔

    عراقچی نے مزید کہا کہ ایک ’تاریخی موقع‘ موجود ہے جس کے ذریعے ایک بے مثال معاہدہ کیا جا سکتا ہے جو باہمی خدشات کو دور کرے اور مشترکہ مفادات حاصل کرے۔

    ٹرمپ کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں ’بڑے جھوٹ‘ دہرا رہا ہے۔

    ایران کی تجاویز عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں، لیکن جنیوا میں ہونے والی بات چیت میں یورینیم افزودگی کے لیے ایک علاقائی کنسورشیم بنانے اور ایران کے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں بات شامل ہو سکتی ہے۔ بدلے میں، ایران توقع کرتا ہے کہ اس کی معیشت کو مفلوج کرنے والی پابندیاں ختم کی جائیں۔

    تاہم اریان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریلیف سے مذہبی حکمرانوں کو سہارا ملے گا۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کن شرائط کو معاہدے کے لیے قابلِ قبول سمجھیں گے۔ ایران پہلے ہی اپنے میزائل پروگرام پر پابندیوں اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے پر بات کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ یہ اتحاد، جسے تہران ’محورِ مزاحمت‘ کہتا ہے، میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، عراق کی ملیشیائیں اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ آنے والے دنوں میں ایران کی انقلابی گارڈز یا جوہری تنصیبات پر ابتدائی حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایرانی قیادت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صدر اتنا آگے جا سکتے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہٹانے کی مہم شروع کر دیں۔

    امریکی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملے خطرناک ہو سکتے ہیں اور امریکہ کو طویل جنگ میں الجھا سکتے ہیں، حالانکہ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ جنرل ڈین کین کا ماننا ہے کہ یہ جنگ ’آسانی سے جیتی جا سکتی ہے۔‘

    دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا۔

  5. نریندر مودی کی غزہ امن منصوبے کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار

    نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مسئلہ فلسطین بھی حل ہو گا۔

    انڈین وزیرِ اعظم جو کہ دو روزہ دورے پر بدھ کے روز یروشلم پہنچے ہیں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کرنے والے پہلے انڈین رہنما ہیں۔

    بی بی سی ہندی کے مطابق، اپنی تقریر کے دوران، نریندر مودی نے حماس کے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’انڈیا اس وحشیانہ دہشت گردانہ حملے میں تمام جانوں کے ضیاع پر سوگوار ہے اور متاثرہ افراد کے غم میں برابر کا شریک ہے۔‘

    انڈین وزیر اعظم نے کہا کہ ’شہریوں کے قتل کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اسے سمجھ سkتا ہے کیوں کہ ’ممبئی حملے میں اسرائیلی شہری سمیت ہمارے بے گناہ شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔‘

    اسرائیلی پارلیمان سے تقریر کرتے ہوئے انھوں نے ہولوکاسٹ کو دنیا کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا۔

    انڈیا اور اسرائیل کی ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈیا کی عوام اسرائیل کی کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    اسرائیل کے ساتھ اپنے خصوصی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وہ 17 ستمبر 1950 کو پیدا ہوئے تھے، یہ وہی دن ہے جب انڈیا نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔

    ’صرف دوست نہیں، بھائی ہیں

    اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کنیسٹ میں وزیر اعظم مودی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے عزیز دوست، مجھے آج آپ کے یہاں آنے سے بہت خوشی ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے نریندر مودی کو اسرائیل کا ایک قریبی دوست، انڈیا-اسرائیل شراکت داری کا عظیم حامی، اور عالمی سطح پر ایک عظیم رہنما قرار دیا۔

    ’میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ آپ نہ صرف ایک دوست ہیں، بلکہ ایک بھائی ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے پچھلے دورے سے اب تک انڈیا اور اسرائیل کے درمیان تجارت دوگنی جبکہ باہمی تعاون تین گنا بڑھ چکا ہے۔

    انڈین وزیرِ اعظم کے دورے کے موقع پر اسرائیلی پارلیمان کو انڈیا کے پرچم کے رنگوں سے سجایا گیا تھا۔

  6. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے بروقت اور جامع اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں جس کے لیے وفاق، صوبوں اور تمام ریاستی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہو گا۔ اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں براہِ راست (ڈائریکٹ) ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے تاکہ کاروباری برادری کو ریلیف ملے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی۔
    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے تیسرے دور کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی میں اس راہ پر چل رہی ہے تاکہ اس کشمکش کی صورتحال سے نکلا جا سکے۔
    • اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کسی علاقائی تنازع میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی یا استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن کے شہریوں کا تحفظ ان کی اوّلین ترجیح ہے۔
    • بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم نو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چھ عام شہری بھی شامل ہیں، جن کو ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں نشانہ بنایا گیا۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رُکن اسمبلی نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی آنکھ کی بیماری کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے رہنما کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
    • جاپان کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ مارچ 2031 تک تائیوان کے قریب واقع اپنے دور دراز مغربی جزیرے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جاپان نے سنہ 2022 میں پہلے اعلان کے بعد یوناگونی جزیرے پر میزائل تعیناتی کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دی ہو۔ چین خود مختار تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ’دوبارہ اتحاد‘ کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کرتا۔