لائیو, پاکستان کا افغانستان میں مزید ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ، ’پاکستان اچھا کام کر رہا ہے‘، ٹرمپ

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ اب تک افغانستان میں ’29 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ہے‘۔ ادھر افغان طالبان نے جمعے کی شب دوبارہ سرحد پار ’جوابی کارروائیاں‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جمعے کی شب افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف مزید فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں جبکہ دونوں اطراف سے سرحد پار فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے‘
  • پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ ’اعلان جنگ نہیں‘ مگر افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
  • اب تک پاکستان اور افغانستان نے اِن جھڑپوں میں اپنے 12، 12 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو تباہ کرنے، اُن پر قبضہ کرنے اور ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کیے ہیں
  • افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہم ابھی بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں‘
  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے تیار ہے
  • اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے رہنماؤں نے افغانستان اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں

لائیو کوریج

  1. ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات پر امریکی صدر کا عدم اطمینان کا اظہار: ’میں خوش نہیں ہوں‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ جوہری پروگرام کے مذاکرات کے نتائج سے خوش نہیں ہیں، تاہم انھوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا ملک پر فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔

    جنیوا میں جمعرات کو بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا، ’میں اس بات سے خوش نہیں کہ وہ ہمیں وہ فراہم نہیں کر رہے جو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اس لیے میں خوش نہیں ہوں۔‘

    امریکی صدر نے زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے، لیکن کہا کہ بعض اوقات ’یہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔‘

    امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر متعدد ممالک نے جمعے کو اپنے شہریوں کو خطے سے نکلنے یا محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

  2. خطے میں بڑھتی کشیدگی: فرانس، اٹلی، امریکہ، برطانیہ اور چین کی اپنے شہریوں کو ایران و اسرائیل سے متعلق سفری ہدایات

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    فرانس نے اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    علاقائی تناؤ میں اضافے کے باعث متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے یا وہاں موجود افراد کو جلد از جلد ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    اٹلی کی بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    جمعے کے روز اطالوی حکومت نے سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایران چھوڑ دیں اور مشرقِ وسطیٰ کے سفر سے گریز کریں۔

    اطالوی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’وہ اطالوی شہری جو ایران میں سیاحت کے لیے موجود ہیں یا جن کی وہاں موجودگی ناگزیر نہیں ہے، ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔‘

    وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ عراق اور لبنان کا سفر بالکل تجویز نہیں کیا جاتا۔

    اسرائیل میں موجود اطالوی شہریوں کو بھی ’زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے‘ کی ہدایت کی گئی ہے۔

    حالیہ دنوں میں کئی دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کی وارننگز جاری کی ہیں۔ برطانیہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ وہ عارضی طور پر ایران سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا رہا ہے، جبکہ چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکہ، برطانیہ اور چین نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ حفاظتی خطرات کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل میں موجود امریکی مشن سے غیر ہنگامی نوعیت کے سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دے دی ہے۔

    سکیورٹی واقعات کے تناظر میں امریکی سفارت خانہ بغیر پیشگی اطلاع مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے یا اپنے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو اسرائیل کے بعض علاقوں، یروشلم کے قدیم شہر اور مغربی کنارے کا سفر کرنے سے روک سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب تک کمرشل پروازیں دستیاب ہیں، وہ اسرائیل چھوڑنے پر غور کریں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد بھی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ امریکہ کے بعد چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے اور وہاں موجود افراد کو جلد از جلد نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

  3. بلوچستان میں ڈرونز کے استعمال پر دفعہ 144 کے تحت فوری پابندی نافذ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے بلوچستان بھر میں ڈرونز، یو اے ویز، کواڈ کاپٹرز، کیم کاپٹرز اور دیگر ریموٹ کنٹرول فضائی آلات کے استعمال، قبضے اور آپریشن پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نگرانی، جاسوسی، ممنوعہ اشیا اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل، خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوامی تحفظ، حساس اور اہم تنصیبات، عوامی اجتماعات اور اہم شخصیات و قافلوں کی نقل و حرکت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان بھر میں ڈرونز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور تاحکم ثانی برقرار رہے گی۔

    سرکاری اعلامیہ کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کور کو پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر عمل درآمد کی رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

  4. امریکہ نے ایران کو ’ناجائز حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک‘ قرار دے دیا

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں ایران کو ’ناجائز حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک‘ قرار دیا ہے اور ایک بار پھر امریکی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔

    ’ناجائز حراستوں کا سرپرست ملک‘ ایک نئی بلیک لسٹ ہے جو بالآخر سفری پابندی کا سبب بن سکتی ہے۔

    امریکی سرکاری درجہ بندی کے مطابق اس سے مراد ایسا ملک ہے جو سیاسی مقاصد کے لیے غیر ملکی شہریوں کو کسی جائز قانونی بنیاد کے بغیر حراست میں لیتا ہے اور انھیں دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

    مارکو روبیو نے کہا ’ایرانی حکومت کو یرغمال بنانے کا عمل بند کرنا ہوگا اور ایران میں ناحق قید تمام امریکیوں کو رہا کرنا ہوگا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دہائیوں سے ایران بے گناہ امریکیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کو ’بے دردی‘ سے حراست میں لیتا رہا ہے تاکہ انھیں دوسرے ممالک کے خلاف سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

    انطوں نے کہا ’یہ قابلِ نفرت عمل ختم ہونا چاہیے۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ کے مطابق، ’اگر ایران نے یہ عمل بند نہ کیا تو ہم مزید اقدامات پر غور کرنے پر مجبور ہوں گے، جن میں امریکی پاسپورٹ ہولڈر کے ایران جانے، ایران سے گزرنے یا ایران سے واپسی کے لیے استعمال پر جغرافیائی پابندیاں عائد کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔‘

  5. یہ جنگ نہیں مگر افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی: پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف ’اعلان جنگ کرنے کی ضرورت نہیں‘ تاہم سرحد پار کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘

    الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران وزیر اعظم کے ترجمان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے۔

    اس بارے میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جنگ کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ جنگ دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنی ضرورت کے مطابق اقدامات کر رہا ہے تاکہ پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے عوام۔۔۔ کا افغان سرزمین سے آنے والی دہشتگردی سے دفاع کیا جا سکے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف شدت پسندی کو افغان طالبان کی عبوری حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

    اس سوال پر کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کیسے بحال ہو گا، مشرف زیدی نے کہا کہ ’ہم اعتماد قائم نہیں کریں گے بلکہ آگ کی دیوار تعمیر کریں گے تاکہ اپنی سرزمین اور عوام کو تحفظ دے سکیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ افغان طالبان اور انڈیا کو اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کو دوحہ معاہدے کی شرائط پوری کرنا ہوں گی جن میں درج ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔

    مشرف زیدی نے یہ بھی کہا کہ اگر افغان طالبان اپنی سرزمین پر شدت پسندی کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کریں گے تو یہ کام پاکستان کرے گا۔ ’ہم یہ (کارروائیاں) جاری رکھیں گے جب تک افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘

  6. طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کرتے ہیں: امریکی سیکریٹری

    X

    ،تصویر کا ذریعہX

    امریکی محکمۂ خارجہ میں سیاسی امور کی سیکریٹری ایلیسن ہوکر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔‘

    ایکس پر ایک پیغام میں ہوکر کا کہنا تھا کہ ان کی جمعے کی شب پاکستانی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے گفتگو ہوئی ہے جس دوران انھوں نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں جانوں کے ضیاع پر ہمدردی ظاہر کی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم صورتحال کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔‘

  7. پشاور اور بنوں کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر حملے، ایک اہلکار زخمی: خیبر پختونخوا پولیس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب شدت پسندوں کی جانب سے پشاور سمیت صوبے بھر کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر حملے کیے گئے جن میں ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک بیان میں پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک تھانے پر ’دستی بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوا‘۔ جبکہ تھانہ متنی کی حدود میں بھی ’دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔‘

    ان کے مطابق خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے پولیس کی تنصیبات پر ’ہینڈ گرینیڈ اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے حملے کیے۔‘ جبکہ شدت پسندوں نے بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پی پی کنگر پل پر ’مختلف سمتوں سے سنائپر رائفلز کے ذریعے حملہ کیا۔‘

    اس کا مزید کہنا ہے کہ تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا جہاں پولیس کی ’جوابی کارروائی کی‘ اور فائرنگ ’15 منٹ تک جاری رہی۔‘

    پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر ’نامعلوم شرپسندوں نے دستی بم پھینکا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

    خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان سبھی حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے اور شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی گئی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ’یہ شرپسند صرف جھاڑیوں میں چھپ کر وار کرنا جانتے ہیں اور ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ سامنے آ کر مقابلہ کر سکیں۔ جیسے ہی انھیں پولیس کی جانب سے بھرپور اور آہنی جواب ملتا ہے، یہ بزدلوں کی طرح میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔‘

  8. شدت پسند گروہوں کی اپنے جنگجوؤں کو پاکستان میں حملے تیز کرنے کی ہدایت

    پاکستان میں کالعدم قرار دیے جانے والے شدت پسند گروہوں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین نے پاکستان میں حملوں میں تیزی لانے کی دھمکی دی ہے۔

    سوشل میڈیا پر ان شدت پسند گروہوں سے منسوب پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہیں اور اپنے جنگجوؤں کو ہدایت دیتے ہیں کہ پاکستان میں حملے تیز کیے جائیں۔

    اپنے بیانات میں ان گروہوں نے افغانستان کے ساتھ ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔

    پاکستان اور افغانستان نے تاحال ان بیانات پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  9. پاکستان، افغانستان لڑائی میں مداخلت کر سکتا ہوں لیکن میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے: ٹرمپ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرنے کے دوران دیا۔

    ایک صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ ’پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کی ہے، کیا انھوں نے آپ سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے؟‘

    اس پر ٹرمپ کا جواب تھا کہ وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو تو معلوم ہوگا کہ میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔ ان کا وزیر اعظم عظیم ہے، وہاں عظیم جنرل ہے، عظیم رہنما ہے۔‘

    ’وہ دو ایسی شخصیات ہیں جن کی میں واقعی بہت عزت کرتا ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اچھا کام کر رہا ہے۔

  10. پاکستان کا افغانستان میں ’29 مقامات پر‘ فضائی حملوں کا دعویٰ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغانستان کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران اب تک ’افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ، 18 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں ’29 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔‘

    پاکستانی وزیر اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں افغان طالبان کے 297 اہلکار ہلاک اور 450 زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

    طالبان کا سرحد پار ’جوابی حملے‘ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    دوسری طرف افغان طالبان کے حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب پاکستان پر حملے دوبارہ شروع کیے گئے ہیں۔

    جنوب مشرقی افغانستان میں طالبان کی 203ویں منصوری کمان کے ترجمان عبدالحق فدا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے وقفے کے بعد خوست اور ٹانک میں آپریشن بحال کیا گیا ہے اور لڑائی جاری ہے۔‘

    پاکستانی حکام نے تاحال اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

    خیال رہے کہ طالبان حکومت نے سرحد پار پوسٹوں پر حملوں میں 55 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جمعے کی شب طورخم سرحد کے مقام پر فائرنگ میں شدت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے طورخم ایکسپورٹ ٹرمینل سمیت متعدد مقامات کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔

  11. افغان طالبان کا پاکستان پر حملوں کی نئی لہر کا اعلان

    خوست میں طالبان کے حکومتی اہلکاروں نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ پاکستانی جانب سے حملے جمعے کی شام دوبارہ حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے جنوب مشرقی زون میں 203ویں منصوری کور کے ترجمان عبدالحق فدا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے وقفے کے بعد خوست اور ٹانک میں آپریشن دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور لڑائی جاری ہے۔‘

    عبدالحق فدا سے قبل خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گرباز نے بھی میڈیا کو بھیجے گئے ایک پیغام میں حملوں کے آغاز کے بارے میں اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’ایک بار پھر، صوبہ خوست کے زازئی میدان اور علیشیر اور تیریز اضلاع میں سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی حکومت کی چوکیوں پر افغان فورسز کے جوابی حملوں کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔‘

    پاکستان نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  12. امریکہ، برطانیہ اور چین کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ، برطانیہ اور چین نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

    حفاظتی خطرات کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل میں موجود امریکی مشن سے غیر ہنگامی نوعیت کے امریکی سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دے دی۔

    سکیورٹی واقعات کے جواب میں اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے امریکی سفارت خانہ مزید پابندیاں لگا سکتا ہے یا اپنے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو اسرائیل کے بعض علاقوں، یروشلم کے قدیم شہر اور مغربی کنارے کا سفر کرنے سے روک سکتا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب تک کمرشل پروازیں دستیاب ہیں، وہ اسرائیل چھوڑنے پر غور کریں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد بھی غیر یقینی کی سی صورتحال ایسی ہے کہ امریکہ کے بعد چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور وہاں موجود افراد کو جلد از جلد نکلنے کی ہدایت کی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    یہ طرح کے بیانات عام طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دے رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کسی ملک میں غیر یقینی یا خطرناک حالات پیدا ہو جائیں۔

  13. پاکستان اور افغانستان میں موجود چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے: ترجمان

    @SpoxCHN_MaoNing

    ،تصویر کا ذریعہ@SpoxCHN_MaoNing

    چین کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ چین کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پر گہری تشویش ہے اور وہ جانی نقصان پر افسردہ ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ چین دونوں فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں، اختلافات اور تنازعات کو مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور لڑائی کو جلد از جلد ختم کریں۔

    ترجمان نے کہا کہ چین اپنے چینلز سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرتا آیا ہے اور بیجنگ اب بھی تعلقات میں بہتری اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    چین نے پاکستان اور افغانستان سے کہا ہے کہ ’دونوں ممالک میں موجود چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔‘

  14. وزیر اعظم شہباز شریف کا جی ایچ کیو کا دورہ

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعہ کی دوپہر پاکستان فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا ہے جہاں انھیں عسکری قیادت کی جانب سے افغانستان سے متعلق صورتحال پر مفصل بریفنگ دی گئی ہے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اس موقع پر شہباز شریف نے شرپسندی پر مبنی کارروائیوں کے لیے زیرو ٹالرنس اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

    اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ’افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی کے لیے سرکاری سطح پر استعمال ہونے والی اصطلاح) کی پاکستان کے خلاف کاروائیاں ناقابل قبول ہیں۔‘

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملک کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں اور پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے افغان طالبان رجیم کے سرحدی علاقوں میں حملوں کو پسپا کرنے اور بھرپور جوابی کارروائیاں کرنے پر افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پوری قوم وطن کی حفاظت کے لیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

  15. ڈیورنڈ لائن پر جمعہ کے روز صورتحال کیسی رہی؟, حفیظ اللہ معروف، بی بی سی پشتو

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جمعرات کی رات ہونے والے شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد افغانستان کے صوبوں خوست، پکتیا، پکتیکا، ننگرھار اور کنڑ میں صورتحال نسبتاً پُرامن ہے اور براہ راست جھڑپیں نہیں ہو رہی ہیں تاہم سرحد پار فائرنگ کے واقعات جمعہ کے روز بھی پیش آتے رہے ہیں۔

    کنٹر میں موجود ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے روز صوبے کے سرحدی اضلاع شولتن، دانگام اور ناری میں سرحد پار فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ذرائع نے افغانستان میں طالبان اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے تاہم ان کی تعداد کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

    جمعہ کے روز صوبہ ننگرہار میں بھی براہ راست جھڑپوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں، تاہم طورخم سرحد کے نزدیک فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ طورخم سرحد کے نزدیک پاکستان سے نکالے گئے افغان پناہ گزینوں کا بڑا کیمپ موجود ہے اور طالبان حکام کے مطابق اس کیمپ میں موجود پناہ گزینوں کو گذشتہ رات ہی وہاں سے نقل مکانی کا کہہ دیا گیا تھا۔

    اسی طرح جمعہ کے روز خوست، پکتیا اور پکتیکا میں بھی براہ راست جھڑپیں نہیں ہوئی ہیں تاہم ذرائع کے مطابق سرحد پار فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ خوست میں طالبان عبوری حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور قوم سے متحد رہنے کی اپیل کی۔

    اگرچہ طالبان حکام نے اس کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے مگر چند ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے جمعہ کی صبح پکتیا کے ضلع سروبی میں فضائی حملہ کیا ہے۔

  16. ہم ابھی بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں: افغان طالبان ترجمان کی نیوز کانفرنس

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہTaliban

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ جب بھی افغانستان پر حملہ ہوا تو افغان حکومت نے ہمیشہ بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار حملے دہرائے گئے۔ ہم نے صرف اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا اور کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔

    جمعے کو کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم ہمسایوں اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ ’افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اب بھی اس عزم پر قائم ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی باہمی احترام پر مبنی ہے، اور ہم کسی کے ساتھ نقصان یا دشمنی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندرونی تنازع سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اوریہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔

    اُن کے بقول تقریباً 20 برس سے پاکستان میں ٹی ٹی پی اور اور پاکستانی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ سنہ 2007 میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی موجودگی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے وہاں کئی فوجی آپریشن کیے، جن میں سے نمایاں آپریشن ضرب عضب تھا جو سنہ 2014 میں شروع ہوا تھا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان تقریباً چار سال سے افغانستان میں برسراقتدار ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے اب اپنے پرانے اور گھریلو مسائل کو افغانستان پر تھوپنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

  17. پاکستان کی افغانستان سے جھڑپوں میں 12 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق، 274 افغان اہلکار اور شدت پسند مارنے کا دعویٰ

    APP

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان سے جھڑپوں میں اب تک 12 پاکستانی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، 27 زخمی ہیں جبکہ ایک سپاہی لاپتہ ہے۔

    فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج کی فوری اور مؤثر کارروائی میں 274 افغان رجیم کے اہلکار مارے گئے اور 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان طالبان نے پاکستان میں 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائر کیے اور ریڈ کیے۔ یہ سب ایک عالمی سطح پر ’دہشتگرد تنظیم قرار دی گئی تنظیم‘ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں افغانستان کی 73 پوسٹیں مکمل تباہ کی جا چکی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ’18 پوسٹیں ہمارے قبضے میں ہیں جبکہ 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔‘

    بی بی سی آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی افواج نے 21 اور 22 فروری کی شب کو ٹی ٹی پی کے خلاف ’افغانستان کے اندر ٹھکانوں کو بہت احتیاط سے نشانہ بنایا تھا، جسے بنیاد بنا کر پھر ’دہشتگرد تنظیموں کی ماسٹر کاپی‘ افغان طالبان نے ایک نام نہاد ایکشن لیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف جتنے بھی 22 مقامات پر حملے کیے وہاں کسی عام شہری کا نقصان نہیں ہوا۔ ترجمان کے مطابق کابل، قندھار اور پکتیکا پر کیے جانے والے حملوں میں کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ ’دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ‘ کیے گئے۔

    ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اور سول لیڈرشپ کے حکم کے مطابق یہ آپریشن جاری رہے گا اور ہم مطلوبہ اہداف حاصل کر رہے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا ہے کہ افغان رجیم کو پاکستان اور دہشتگرد گروہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ ہمارا انتخاب بہت واضح ہے اور وہ ہے پاکستان، اس کی سکیورٹی اور عوام کا تحفظ اور ناموس ہے۔

  18. ڈیورنڈ لائن سے لے کر ٹی ٹی پی تک: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کی تاریخ, بی بی سی نیوز

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گذشتہ برس بھی کئی روز تک لڑائی رہی تھی جسے دوست ممالک کی مداخلت کے بعد روک دیا گیا تھا۔

    گذشتہ برس اکتوبر میں دونوں ممالک نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ لیکن اس کے باوجود حالیہ عرصے میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں پر اسلام آباد نے اس کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کا الزام عائد کیا تھا۔

    جمعرات کی شب شروع ہونے والے نئے تنازع کے دوران فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اب افغان طالبان حکومت کے خلاف ’کھلی جنگ‘ ہو گی۔

    دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی تاریخی جڑیں کیا ہیں اور نئے سرے سے لڑائی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟

    ایک پیچیدہ تاریخ

    سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا سے کابل میں سابق حکومت تواتر کے ساتھ پاکستان پر یہ الزام عائد کرتی تھی کہ وہ افغان فورسز کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغان طالبان کی مدد کرتا ہے۔

    پاکستان نے اُس وقت افغان طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

    پاکستان نے 2020 میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والے دوحہ معاہدے میں بھی سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد افغانستان سے امریکہ کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

    پاکستان اُن چند ممالک میں سے بھی ایک تھا، جنھوں نے 1996 اور 2001 کے درمیان افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے دوران اس حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔

    لیکن دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے یہ طاہر کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نازک ہیں۔

    پاکستان کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کرتی ہے اور افغان طالبان اُنھیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔

    سابق پاکستانی سفارت کار مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو اُمید تھی کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو ماضی کی طرح افغان طالبان کی حمایت حاصل نہیں ہو گی اور سرحد پر حالات بہتر ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

    صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان روایتی حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے گروہ کے طور پر اقتدار میں آئے ہیں جو تاریخی طور پر ٹی ٹی پی سے جڑے ہوئے تھے۔

    وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے یہ توقع کرنا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغانستان سے ختم کر دیں گے یا نکال دیں گے، تو یہ ایک غیر حقیقی توقع ہے۔

    گذشتہ سال اکتوبر میں افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے نئی دہلی کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان کے حریف انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔

    گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان پر ’دہلی کے لیے پراکسی جنگ لڑنے‘ کا الزام لگایا تھا۔

    انڈیا نے افغانستان کے اندر کسی بھی پاکستان مخالف عناصر کی حمایت سے مسلسل انکار کیا ہے۔ لیکن سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ انڈیا اور افغانستان کے مابین گرمجوشی ایک طرح سے پاکستان کی ’علامتی شکست‘ تھی۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا خطے میں سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہے جبکہ طالبان خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اپنی تنہائی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اسے ڈیورنڈ لائن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس کا تعین 1893 میں برٹش راج کے دوران کیا گیا تھا۔

    افغانستان اور سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے لاکھوں پشتون ڈیورنڈ لائن کو متنازع سمجھے جاتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا اس سے بھی تعلق ہے۔

    پاکستان ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد قرار دیتا ہے جبکہ افغان طالبان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کو افغانستان میں ضم کرنے کی بات کرتے ہیں۔

    بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ ڈیورنڈ لائن سے جڑا تنازع بھی ہے۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جمعے کی شب افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف مزید فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں جبکہ دونوں اطراف سے سرحد پار فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
    • امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے‘
    • پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ ’اعلان جنگ نہیں‘ مگر افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
    • اب تک پاکستان اور افغانستان نے اِن جھڑپوں میں اپنے 12، 12 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو تباہ کرنے، اُن پر قبضہ کرنے اور ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کیے ہیں
    • افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہم ابھی بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں‘
  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔