لائیو, ٹرمپ کا ایران کی سربراہی کے لیے ’تین اچھے امیدواروں‘ کا حوالہ، حزب اللہ اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیاں ضرورت پڑنے پر ’چار سے پانچ ہفتوں تک‘ جاری رہ سکتی ہیں اور یہ کہ ان کی نظر میں ایران کی قیادت کے لیے ’تین اچھے امیدوار‘ موجود ہیں۔ ادھر لبنان کے دارالحکومت بیروت میں صبح تین بجے دھماکوں کی آوازیں سنائیں دیں اور اس سے قبل ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں راکٹ داغے تھے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک 'تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔' جبکہ انھیں مزید امریکی شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے
  • فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف دفاعی کارروائی بھی کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
  • برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائی کے لیے استعمال کرسکتا ہے
  • ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے 'تباہ کن' فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. آیت اللہ خامنہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں پُرتشدد مظاہرے، کم از کم 16 افراد ہلاک

    پاکستان، احتجاج، آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے خلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کے بعد گلگت اور سکردو کے اضلاع میں آئندہ تین روز کے لیے کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    اتوار کی علی الصبح ایران کی جانب سے سید علی خامنہ ای کے قتل کی تصدیق کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

    پاکستان، احتجاج، آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مظاہرین کی جانب سے پاکستان میں واقع امریکی قونصل خانوں، سفارتخانے اور دیگر مقامات کی جانب سے جانے کی کوشش کی گئی تاہم اس دوران پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے ہونے والے جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد مظاہرین ہلاک ہوئے۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرین سے پُرامن رہنے کی اپیلیں بھی کی گئیں جبکہ کئی شہروں میں دفعہ 144 (پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع کی ممانعت) کا نفاذ بھی کیا گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں اب تک کراچی میں 10، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جبکہ سکردو میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    پاکستان، احتجاج، آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    استفسار کے باوجود گلگت میں حکام کی جانب سرکاری سطح پر تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ گذشتہ روز ہوئے پرتشدد مظاہروں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلگت میں سینیئر پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    گلگت میں شیعہ نمائندہ تنظیموں نے اس ضلع میں سات افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے ان افراد کی اجتماعی نماز جنازہ آج (دو مارچ) دن 11 بجے ادا کی جائے گی۔

  2. ایران کی سربراہی کے لیے تین اچھے امیدوار موجود ہیں، پاسداران انقلاب ہتھیار ڈال سکتے ہیں: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیاں ضرورت پڑنے پر ’چار سے پانچ ہفتوں تک‘ جاری رہ سکتی ہیں اور یہ کہ ان کی نظر میں ایران کی قیادت کے لیے ’تین اچھے امیدوار‘ موجود ہیں۔

    نیو یارک ٹائمز کو دیے ایکانٹرویو میں انھوں نے وینزویلا کی مثال دی جہاں سابق صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کے بعد امریکہ لایا گیا تھا۔ یعنی وینزویلا میں صدر کو ہٹائے جانے کے باوجود حکومت تبدیل نہیں کی گئی اور شاید ایران میں بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ’چار سے پانچ ہفتوں تک‘ اسی شدت کے ساتھ ایران پر حملے جاری رکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ مشکل نہیں ہو گا۔ ہمارے پاس ہتھیاروں کی بڑی تعداد ہیں۔ ہمارے ہتھیار دنیا بھر میں مختلف ملکوں میں ذخیرہ کیے گئے ہیں۔‘

    دریں اثنا امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایران کی قیادت کے لیے ’تین بہترین امیدوار‘ ہیں تاہم انھوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ اتوار کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب سے قبل عبوری کمیٹی ملک چلائے گی۔

    ٹرمپ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا لاریجانی ایرانی حکومت کے نئے سربراہ ہوں گے۔ جب ان سے ایران میں طاقت کی منتقلی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ایرانی فوجی قیادت بشمول پاسداران انقلاب ایرانی عوام کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ لوگوں کے سامنے سرنڈر کر دیں گے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’جو ہم نے وینزویلا میں کیا، میرا خیال ہے کہ وہ بہترین صورتحال ہے۔‘

    انھوں نے یہ جواز پیش کیا کہ جو وینزویلا میں کارگر ثابت ہوا وہ ایران میں بھی کارگر ثابت ہو گا۔ ’سبھی لوگ اپنے عہدوں پر برقرار رہے سوائے دو لوگوں کے۔‘

    ایران کی سربراہی کے لیے ’تین اچھے امیدواروں‘ کا ذکر کرنے کے بعد ٹرمپ نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کا تخت الٹ دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کئی برسوں سے اس بارے میں بات کر رہے ہیں اور اب ان کے پاس موقع ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ خلیج فارس میں عرب ریاستوں کو بھی ایران کے خلاف امریکی حملوں میں حصہ لینے کی ضرورت ہو گی۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ اگر نئی ایرانی قیادت پُرامید شراکت دار کے طور پر ثابت ہوتی ہے تو وہ ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا امریکی حکومت ایرانی عوام کا دفاع کرے گی، اگر انھوں نے موجودہ حکومت کا تخت الٹنے کی کوشش کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتا، یہ قبل از وقت ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی بحریہ کے بڑے حصے کو نقصان پہنچا ہے جن میں نو بحری جہاز اور ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔

  3. ایران نے اپنے پڑوسی مسلم ممالک کے ایئر پورٹس کو ہی نشانہ کیوں بنایا؟, آسمنڈ چیا، بزنس رپورٹر

    دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشندوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

    تیل کی صنعت کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے خطے میں ہوابازی کا شعبے بھی متاثر شدید متاثر ہو رہا ہے۔

    ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک کو وہاں نشانہ بنایا ہے جہاں انھیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچتی ہے: ان کے ہوائی اڈے، جو عالمی تجارت اور سفر کے اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔

    ہوائی اڈے خلیجی ممالک کی معیشت کی بنیاد ہیں۔ یہاں سے نہ صرف ان ممالک میں خوراک اور یہاں کام کرنے والے بیشتر غیر ملکی آتے ہیں بلکہ یہ ایئرپورٹس عالمی تجارت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    دنیا کے مصروف ترین ٹرانسپورٹ حب میں سے ایک دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں روک دی گئی ہیں۔ اس بندش سے ان تمام ہوائی کارگو کی ترسیل پر اثر پڑ سکتا ہے جو اس ہوائی اڈے سے دنیا بھر کو جاتی ہیں۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پروازوں کی یہ بندش کب تک جاری رہے گی اور ممالک کب تک اس نقصان کو برداشت کر سکتے ہیں۔

    ان حملوں کے اثرات ابھی سے دکھنا شروع ہو گئے ہیں اور آج صبح ایشیا پیسفک کی مارکیٹیں کھلنے کے ساتھ ہی ایئرلائنز کے حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

    سوموار کے روز آسٹریلیا کی کنٹاس ایئرویز، سنگاپور ایئر لائنز اور جاپان ایئر لائنز کے حصص میں پانچ فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔

    ایران نے سمندری بندرگاہوں اور جہاز رانی کے راستوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس میں آبنائے ہرمز شامل ہے جو دنیا میں تیل کی تجارت کے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔

  4. اسرائیلی فوج کا لبنان کے کئی علاقوں میں شہریوں کو انخلا کا حکم

    اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 50 سے زیادہ قصبوں میں انخلا کا حکم جاری کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ وہ ان قصبوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور چلے جائیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کی کارروائیوں نے آئی ڈی ایف کو اس کے خلاف کارروائیوں پر مجبور کیا ہے‘۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ آبادی کو ’نقصان پہنچانا نہیں چاہتی۔‘

  5. بیروت میں دھماکوں کے بعد شہر کے خارجی راستوں پر ٹریفک جام

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز میں بیروت کے جنوبی نواحی علاقے میں دھواں اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایئرپورٹ جانے والی سڑک اور دیگر شاہراہوں پر ٹریفک جام ہے۔

    بیروت میں دھماکوں کی آوازوں گاڑیوں کے ہارن کی آوازوں میں بدل چکی ہیں۔

    دیگر تصاویر میں سڑکوں پر بھاری نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے اور سڑکوں پر شیشے کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں۔

    یہ غیر واضح ہے کہ اب تک بیروت پر اسرائیلی حملوں میں کتنا نقصان ہوا ہے۔

  6. خلیج تعاون کونسل کی ایران کو دھمکی: اپنی حفاظت کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ کریں گے، جی سی سی

    بحرین

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنبحرین کے شہر منامہ میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد کے مناظر۔

    خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ارکان کا اتوار کے روز ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں جی سی سی کے رکن ممالک پر ایرانی حملوں سے ہونے والے بے پناہ نقصان پر تبادلہ کیا گیا۔

    جی سی سی کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں میں شہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ جی سی سی میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت شامل ہیں۔ گروپ نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور تہران پر اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

    جی سی سی نے اپنے بیان میں ایران سے حملے روکنے اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تاہم، گروپ نے یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ کرے گا۔

  7. ایرانی حکام کا مناب حملے میں کم از کم 153 ہلاکتوں کا دعویٰ: ’سکول کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا‘

    مناب سکول

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی حکام کے مطابق جنوبی ایران میں ایک سکول پر مبینہ حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 153 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایران نے اس حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے علاقے میں آئی ڈی ایف کی کسی کارروائی کے متعلق کوئی ’علم نہیں‘ ہے۔

    لڑکیوں کا سکول مناب میں پاسدارانِ انقلاب کے اڈے کے نزدیک واقع تھا۔ اس اڈے کو پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    ایرانی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک ایران میں فضائی حملوں میں کم از کم 201 افراد ہلاک اور 747 زخمی ہو چکے ہیں۔

    ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے اس واقعے کو ایک ’وحشیانہ فعل‘ اور ’جارحیت پسندوں کی جانب سے کیے گئے ان گنت جرائم کے ریکارڈ میں ایک اور سیاہ باب‘ قرار دیا ہے۔

    امریکی میڈیا نے سینٹ کام کے ترجمان ٹم ہاکنز کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا یے کہ امریکی فوج ان رپورٹس کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تحفظ انتہائی اہم ہے، اور ہم شہریوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ ایران میں سنیچر سے جمعرات تک کام ہوتا ہے اور ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دن ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ممکنہ طور پر جب سکول پر حملہ ہوا تو اس وقت وہاں بچے اور اساتذہ موجود تھے۔

    سنیچر کے روز پیش آنے والے واقعے کے بعد جنیوا میں ریڈ کراس اور ہلال احمر کے حکام نے کہا کہ انھوں نے اپنی ٹیموں کو سکول کی جانب متحرک کر دیا ہے۔

    ایک اہلکار نے بتایا کہ صوبہ ہرمزگان کے قصبے مناب میں واقع سکول کو ’تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔‘

    یہ سکول پاسدارانِ انقلاب کے اڈے سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    بی بی سی نے دھماکے کے بعد کی فوٹیج کی تصدیق کی ہے، جس میں ایک عمارت سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ قریب ہی ہجوم جمع ہے اور لوگوں کو خوف و ہراس کے باعث چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

    تاہم مرنے والوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو اکثر ایران میں کام کرنے کے لیے ویزے جاری نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے وہاں سے معلومات اکٹھا کرنے کی ان کی صلاحیت بہت محدود ہے۔

    ایرانی سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے کی خبر پر غصے کا اظہار کیا ہے۔

    ایران میں فوجی مداخلت کی مخالفت کرنے والے بیرون ملک مقیم ایک ایرانی نے تبصرہ کیا: ’اس جنگ کا پہلا شکار مناب میں میزائل حملے کا نشانہ بننے والی 40 لڑکیاں ہیں۔ کیا یہ وہ جنگ ہے جس کی آپ حمایت کر رہے ہیں؟‘

    تاہم، ایرانی حکومت پر اعتماد کی شدید کمی کے باعث بہت سے لوگوں کے لیے سرکاری رپورٹس کو قبول کرنا بہت مشکل ہے، اور کچھ ایرانیوں نے براہ راست حکومت کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

    ایک صارف نے لکھا: ’اگرچہ حکومت نے براہ راست سکولوں کو نشانہ نہیں بنایا، مناب میں بچوں کی ہلاکت کی ذمہ داری اسلامی جمہوریہ پر عائد ہوتی ہے۔

    ’لوگوں کے لیے کوئی پناہ گاہ دستیاب نہیں، انٹرنیٹ منقطع ہے، فون لائنیں بند ہیں، اور بچوں کو سکول سے باہر رکھنے کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔ ان حالات میں، زیادہ سے زیادہ گھر میں رہنے کی خرورت ہے۔‘

  8. حزب اللہ کے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بیروت میں دھماکے

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کے دارالحکومت بیروت میں صبح تین بجے دھماکوں کی آوازیں سنائیں دیں اور اس سے قبل ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں راکٹ داغے تھے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں لبنان سے اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق یہ ڈرون اور میزائل اسرائیلی سرزمین پر کھلے میدانوں میں آ کر گِرے ہیں۔

    حزب اللہ کو ایران کی حمایت حاصل رہی ہے اور یہ اسرائیل کے مخالف گروہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ایک بیان میں اسرائیلی دفاعی فورسز نے الزام لگایا کہ حزب اللہ ایران کی طرف سے اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں کے ردعمل میں لبنان کے خلاف جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 2024 میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی اور اس کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔

  9. اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے میں نو افراد ہلاک

    اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے میں نو افراد ہلاک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے اسرائیل پر اب تک کے سب سے بڑے حملے میں حکام کے مطابق نو افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے اسرائیلی شہر بیت شمس پر میزائل حملہ اپنے خلاف اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایرانی حملوں میں اب تک متحدہ عرب امارات اور کویت میں ایک، ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ خطے میں کئی لوگ ان حملوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    خطے میں کئی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں اور اسے کووڈ وبا کے بعد عالمی سفری صنعت کے لیے سب سے سنگین مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    خلیج میں ایران نے امریکی اتحادیوں اور اس کی تنصیبات کے خلاف بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق ایران نے یروشلم کے مغرب میں واقع بیت شمس شہر پر براہ راست میزائل داغے۔ حکام کے مطابق اس حملے میں ’معصوم شہری‘ ہلاک ہوئے کیونکہ ایک عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

    یہ عمارت پوری طرح تباہ ہو گئی تھی۔ ریسکیو حکام اب بھی زندہ بچنے والوں کی تلاش کر رہے ہیں اور انھیں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ قریب موجود گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 11 افراد لاپتہ ہیں۔ یہ اسرائیل میں حالیہ کشیدگی کے دوران اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔

  10. آبنائے ہرمز کے نزدیک بحری جہازوں پر حملے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 78.25 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہgetty

    امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ایسے میں آبنائے ہرمز کے نزدیک کم از کم تین بحری جہازوں پر حملے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ تیسرے جہاز کے قریب ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ پھٹا ہے۔

    دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے تین ٹینکرز کو ’میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور وہ جل رہے ہیں‘۔ برطانیہ اور امریکہ نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں ’متعدد سکیورٹی واقعات‘ کی اطلاعات ملی ہیں، اور اس نے بحری جہازوں کو اپنی نقل و حرکت میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

    کم از کم 150 ٹینکر آبنائے ہرمز سے آگے کھلے خلیجی پانیوں میں لنگر انداز ہیں۔ دوسری جانب، جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم کپلر (Kpler) کے مطابق آج ایرانی اور چینی جہاز وہاں سے گزرے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایران نے بحری جہازوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو استعمال نہ کریں۔ اس گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے۔

    فی الوقت آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی شپنگ تقریباً مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو اس سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    آبنائے ہرمز

    سوموار کو ایشیا میں صبح کی تجارت میں خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت سات فیصد سے زائد اضافے کے بعد 78.25 ڈالر (58.30 پاؤنڈ) فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی تجارت میں تیل 7.3 فیصد اضافے کے ساتھ 71.93 ڈالر پر پہنچ گیا۔

    ایم ایس ٹی کے انرجی ریسرچ کے سربراہ ساؤل کاونک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ نظر رکھے ہوئے ہے کہ آبنائے ہرمز کب دوبارہ کھلتا ہے، کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں دوبارہ کمی ہو گی۔

    کچھ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ طویل تنازع کی صورت میں قیمت 100 ڈالر سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔

    اتوار کے روز تیل پیدا کرنے والے ممالک اوپیک +— جس میں سعودی عرب اور روس شامل ہیں — نے اپنی پیداوار میں یومیہ دو لاکھ چھ ہزار بیرل اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافے کو کم کرنے میں مدد ملے۔ تاہم کچھ ماہرین کو شک ہے کہ اس سے زیادہ مدد نہیں ملے گی۔

    آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے صدر ایڈمنڈ کنگ نے خبردار کیا کہ اس بندش کے نتیجے میں دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

    ’مشرقِ وسطیٰ میں ہنگامہ آرائی اور بمباری یقینی طور پر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل ڈالنے کا باعث بنے گی، جس سے لامحالہ قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔‘

  11. برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

    سٹامر

    ،تصویر کا ذریعہKeir Starmer/X

    برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹامر نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

    اپنے ایک وڈیو بیان میں انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے دفاعی مقاصد کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی درخواست کی ہے۔ ‘

    کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’ہم نے یہ درخواست قبول کی ہے تاکہ ایران کو خطے میں میزائل فائر کرنے سے روکا جا سکے، جو بے گناہ شہریوں کو مار سکتے ہیں، برطانوی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اُن ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو اس تنازع میں شامل نہیں۔‘

    کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ ان حملوں میں شریک نہیں ہے اور صرف دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں، ہم نے عراق کی غلطیوں کو یاد رکھا ہے اور ان سے سبق سیکھا ہے۔ ہم ایران پر ابتدائی حملوں میں شامل نہیں تھے اور اب بھی جارحانہ کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران ’زمین کو تباہ کرنے کی حکمتِ عملی‘ پر عمل کر رہا ہے، اس لیے برطانیہ اپنے اتحادیوں اور خطے میں موجود اپنے لوگوں کے اجتماعی دفاع کی حمایت کر رہا ہے۔

    ان کے مطابق یہ ’فوری خطرے کو ختم کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔‘

    برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’ہمارے خلیجی اتحادیوں نے ہم سے مزید دفاعی اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہمارے جیٹ طیارے پہلے ہی مشترکہ دفاعی آپریشنز کا حصہ ہیں اور انھوں نے ایرانی حملوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’خطرے کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میزائلوں کو اُن کے لانچرز پر ہی تباہ کیا جائے۔‘

    دریں اثنا فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف دفاعی کارروائی بھی کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔

    اپنے مشترکہ بیان میں تینوں ممالک نے کہا کہ خطے کے ممالک کے خلاف ایران کے ’اندھا دھند اور غیر متناسب‘ میزائل حملوں سے انھیں دھچکا لگا ہے ۔ ایران کے میزائل حملوں سے وہ ممالک بھی متاثر ہوئے جو ابتدائی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شامل نہیں تھے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے کام کریں گے اور ایران کی میزائل اور ڈرون لانچنگ کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری اور متناسب دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔‘

  12. ’ایران کے خلاف امریکی آپریشن جاری‘: ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےمتنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں اور اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘

    اپنے ایک ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ اس دوران مزید امریکییوں کی ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں، لیکن یہی حقیقت ہے۔ امریکہ اپنے فوجیوں کی موت کا بدلہ لے گا اور اُن دہشت گردوں کو سب سے سخت ضرب لگائے گا جنھوں نے تہذیب کے خلاف جنگ چھیڑی ہے۔‘

    انھوں نے ایران کے پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے دھمکایا کہ ’اپنے ہتھیار ڈال کر عام معافی حاصل کریں، ورنہ وہ یقینی موت کا سامنا کریں گے۔ یہ موت یقینی ہوگی اور خوشگوار نہیں ہو گی۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے، جس کا مقصد صرف موجودہ وقت اور جگہ کے لیے سلامتی یقینی بنانا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ اقدامات درست اور ضروری ہیں تاکہ امریکی عوام کو کبھی بھی ایک ایسی دہشت گرد حکومت کا سامنا نہ کرنا پڑے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو۔ یہ ناقابلِ برداشت خطرات اب مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے۔‘

    صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایرانی عوام کو مخاطب ایک بار پھر حکومت کی تبدیلی کی اپیل کی اور کہا کہ ’میں آزادی کے خواہاں تمام محبِ وطن ایرانیوں کو کہتا ہوں کہ اس لمحے کو غنیمت جانیں، بہادر بنیں اور اپنا ملک واپس لیں۔ امریکہ آپ کے ساتھ ہے۔‘

  13. اب تک کی اہم خبریں

    ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی آپریشن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ’تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔‘ جبکہ انھیں مزید امریکی شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے
    • جبکہ اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے ایران کے خلاف آپریشن کو جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آنے والے دنوں میں مزید شدت سے حملے کیے جائیں گے‘
    • فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف دفاعی کارروائی بھی کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں
    • برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائی کے لیے استعمال کرسکتا ہے
    • ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
    • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں
  14. بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    ملائیشیا میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور ایران سے اظہار یکجہتی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنملائیشیا میں امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور ایران سے اظہار یکجہتی

    مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بی بی سی کی جانب سے یہ لائیو کوریج شروع کی گئی ہے۔