خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان بھر میں پُرتشدد مظاہرے: کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر نو افراد ہلاک، گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے دفاتر نذر آتش

تصویر
،تصویر کا کیپشنکراچی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف کراچی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کو کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

مشتعل مظاہرین نے گلگت اور سکردو میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔ اسلام آباد، لاہور، پشاور، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض افراد گیٹ توڑ کر کراچی میں امریکی قونصل خانے کے اندر داخل ہوئے، جس کے بعد استقبالیہ اور سکیورٹی کمرے کے شیشے توڑے گئے۔

کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ایسٹ زون کا کہنا ہے کہ کچھ مشتعل افراد قونصلیٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پا لیا ہے۔

سول ہسپتال کراچی کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد نو لاشوں اور کم از کم 32 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا تھا۔

نجی ریسکیو سروس ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ اُنھوں نے نو لاشوں اور درجنوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکراچی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں

مظاہرین کا قونصل خانے کی عمارت سے امریکی جھنڈا اُتارنے کا مطالبہ

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس وقت بھی امریکی قونصل خانے کے قریب صورتحال کشیدہ ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مشتعل مظاہرین کراچی کے علاقے ٹاور کے قریب موجود ہیں اور دوبارہ قونصل خانے کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شدید شیلنگ بھی کی گئی ہے جبکہ ربر کی گولیاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے اُنھیں قونصل خانے سے دُور بحریہ کالج کے مقام پر احتجاج کی پیشکش کی ہے، تاہم مظاہرین کا اصرار ہے کہ وہ قونصل خانے کے باہر ہی احتجاج کریں گے۔

مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی عمارت سے امریکی جھنڈا اُتارنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے بس کی بات نہیں ہے، جس پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے بات کر کے امریکی جھنڈا اُتارا جائے۔

کشیدگی کے پیشِ نظر کراچی کے مختلف اضلاع کی پولیس کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس کے خصوصی یونٹس کو بھی بلا لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کیماڑی امیر فضل اویسی نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے مشتعل مظاہرین صدر کی طرف سے آئے اور پی آئی ڈی سی گیٹ سے قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اُن کے بقول پولیس وہاں پہنچ گئی اور مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، لیکن کچھ مظاہرین اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور اس دوران فائرنگ ہوئی۔

لیکن ڈپٹی کمشنر نے یہ واضح نہیں کیا کہ فائرنگ کہاں سے ہوئی۔

اسلام آباد، لاہور، گلگت بلتستان سمیت مختلف شہروں میں بھی مظاہرے

اسلام آباد میں احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق آبپارہ چوک پر جمع ہونے والے مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کا اعلان کیا، جس پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی ہے۔

مظاہرین کی بڑی تعداد شاہراہ دستور پر موجود ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

احتجاج کے دوران ایک نجی نیوز چینل کی ڈی ایس این جی پر بھی حملہ کیا گیا جس سے اس کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ مظاہرین کی جانب سے عملے کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسلام آباد پولیس کی سپیشل برانچ کے ایک اہلکار کے مطابق مظاہرین کی تعداد میں کمی آنے کے بجائے ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اہلکار کے مطابق سرینا چوک اور ریڈ زون بالخصوص ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے راستوں پر سکیورٹی کی تین پرتیں لگائی گئی ہیں۔

اہلکار کے مطابق ایف سی اور رینجرز بھی پولیس کی معاونت کے لیے موجود ہیں۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی تو وہیں مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کی بھی اطلاعات ہیں جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہو ئے ہیں جبکہ پتھراؤ کی وجہ سے ایک صحافی بھی زخمی ہوا ہے۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنلاہور قونصل خانے کے باہر مظاہرین موجود

اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ریڈ زون، ڈپلومیٹک انکلیو اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر کسی کا قانونی حق ہے، لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق لاہورمیں امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین موجود ہیں اور اس دوران پولیس کی جانب سے اُنھیں منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی گئی ہے۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ’ہم امریکی قونصل خانہ کراچی اور لاہور کے باہر جاری مظاہروں کی اطلاعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے اور پشاور میں قونصل خانہ کے باہر مزید مظاہروں کی اپیلیں بھی سامنے آئی ہیں۔‘

سفارتخانے نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ہم امریکی شہریوں کو پاکستان میں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مقامی خبروں پر نظر رکھیں اور ذاتی حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔‘

امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہیں، ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں اور دیگر دستاویزات کا خیال رکھیں۔

گلگت اور سکردو میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر نذرِ آتش

صحافی زبیر خان کے مطابق گلگت بلتستان کے ہیڈکوارٹر سمیت سکردو میں پرتشدد مظاہرے ہوئے جن میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔

گلگت اور سکردو میں متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ ڈی ایس پی سکردو اور متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ سکردو میں ایس پی ہاؤس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر پر توڑ پھوڑ کی گئی۔

گلگت میں یو این ڈی پی اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور آگ لگا دی گئی۔

گلگت سے صحافی وجاہت علی کے مطابق دوپہر کے وقت ایک بڑی ریلی نکالی گئی جو پرامن تھی اور مختلف سڑکوں پر مارچ کر رہی تھی۔ اس کا اختتام ممکنہ طور پر اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر ہوگا۔ تاہم صبح کے وقت مشتعل افراد نے اقوامِ متحدہ کے دفتر کا گھیراؤ کیا تھا۔

ان کے مطابق مظاہرین نے دفاتر پر حملے کی کوشش کی، پولیس نے مزاحمت کی لیکن آنسو گیس ختم ہونے کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ کی، جو مظاہرین کو نہ روک سکی اور انہوں نے دفتر پر دھاوا بول دیا۔

سکردو میں عینی شاہد اسرار عالم کے مطابق مظاہرین صبح سے ہی مختلف سڑکوں پر جمع ہو رہے تھے اور انتہائی مشتعل تھے۔ جیسے جیسے تعداد بڑھتی گئی، مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملہ کیا اور پولیس پر بھی دھاوا بول دیا۔

Karachi

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر رینجرز اہلکار موجود

ایک اور عینی شاہد کے مطابق پولیس نے اقوامِ متحدہ کے دفتر کو بچانے کی کوشش کی تو مظاہرین نے ایس پی دفتر اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک پر بھی حملہ کر دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں جن میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

نگران گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر نے کہا کہ پورے علاقے میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے جو گلگت اور سکردو میں امن و امان قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں جو نہیں ہونے چاہیے تھے۔

شبیر میر نے کہا کہ احتجاج کرنا مظاہرین کا حق ہے لیکن توڑ پھوڑ اور اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔ حکومت نے تمام مقامات پر سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور مذہبی قیادت سے بات چیت جاری ہے تاکہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔

ان کے مطابق زخمیوں کے حوالے سے درست معلومات فی الحال موجود نہیں، تاہم فرائض کی ادائیگی کے دوران ڈی ایس پی سکردو سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے مرکزی امام بارگاہ سے لال چوک تک مارچ کیا گیا لال چوک میں دھرنا بھی دیا گیا۔

مظاہرین نے مظفرآباد، راولا کوٹ اور دیگر علاقوں میں ریلیاں نکالیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔