’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کئی ہفتوں قبل سے ہی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد ایرانی حکومتی عہدیدار یہ تنبیہ کرتے آئے تھے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں صرف تہران نہیں بلکہ پورا خطہ ایک نئی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’اگر اس بار امریکہ نے جنگ شروع کی تو یہ پورے خطے تک پھیل جائے گی۔‘
اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی ردِعمل دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ تہران اپنی ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
سنیچر کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں۔
ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کی موجودگی کوئی راز نہیں ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اگست 2024 میں بتایا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اِس کے تقریباً 40 ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں۔
قطر میں العدید ایئربیس امریکہ کے زیرِ استعمال ہے، جبکہ اُردن میں ’ٹاور 22‘ پر بھی امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔
امریکی فوجی قطر کے علاوہ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام، اُردن، مصر، قبرص اور عراق میں بھی موجود ہیں۔ امریکہ کے کویت میں بھی متعدد فوجی اڈے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی اس کے دو اڈے ہیں۔
ایرانی میزائلوں حملوں کی لپیٹ میں آنے والے متعدد خلیجی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوط رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اہداف کو نشانہ کیوں بنا رہا ہے اور تہران کی اس حکمتِ عملی کے مشرقِ وسطیٰ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

،تصویر کا ذریعہBBCVerify
’ایران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یونیورسٹی آف برمنگھم سے وابستہ پی ایچ ڈی محقق عمر کریم سمجھتے ہیں کہ فی الوقت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک خود کو صرف ایرانی حملوں کی مذمت تک ہی محدود رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آگے چل کر اگر اس نوعیت کے حملے امریکی اہداف تک ہی محدود رہتے ہیں اور ان خلیجی ممالک کے اپنے انفراسٹرکچر اور خصوصاً تیل کی تنصیبات کو زیادہ نقصان نہیں ہوتا، تو خطے کے ممالک زیادہ تر خود کو مذمت کی بیان بازی تک ہی محدود رکھیں گے۔‘
ایران کے اس نوعیت کے اقدامات اور اس کے ممکنہ نتائج پر مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’فوری طور پر ہمیں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی توقع رکھنی چاہیے اور اس کے علاوہ ہمیں ممکنہ طور پر عراق میں شیعہ مسلح گروہوں کی طرف سے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر چند حملے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔‘
دیگر تجزیہ کاروں کے لیے ایرانی ردِعمل بالکل حیران کُن بات نہیں ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سٹمن سینٹر سے منسلک باربرا سلاون حالیہ دنوں میں ایرانی عہدیداروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ایران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں وعدہ کیا تھا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ خلیجی ممالک میں موجود اہداف پر میزائل حملوں سے ایران کے ان ممالک کے ساتھ مراسم ضرور متاثر ہوں گے۔ تاہم ان کے مطابق ایران نے ان ممالک کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ’اگر وہ ٹرمپ اتنظامیہ کو حملوں سے باز رکھنے میں ناکام رہے تو پھر یہی کچھ ہو گا۔‘
کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ایران اپنے حملوں سے خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو جنگ جلدی ختم کرنے پر قائل کر سکیں۔
عرب گلف سٹیٹس انسٹٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر عزیز الغاشین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بالکل واضح ہے کہ ایران اس تنازع کو اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں کرنا چاہتا بلکہ پورے خطے تک پھیلانا چاہتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ عرب خلیجی ممالک کو معلوم تھا کہ انھیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران کی خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران چاہتا ہے کہ اس جنگ میں نقصانات بڑھیں، مقصد یہ ہے کہ خلیجی ممالک ٹرمپ پر زور دیں کہ یہ جنگ بند کی جائے۔‘
’وہ کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ کسی کو معلوم نہیں کیونکہ ایران نے جو کیا ہے اس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، اور اسی لیے عرب ممالک نے اس کی مذمت کی ہے۔‘
ڈاکٹر عزیز کے مطابق میڈیا رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایرانی حملوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، کویت میں ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا اور اس سے یہ ’ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک مایوس کُن صورتحال میں ہے اور اسے لگتا ہے کہ اس کے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں بچا۔‘
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ خلیجی ممالک ایران کے حملوں کا ردِعمل نہیں دیں گے بلکہ اپنے دفاع پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
امریکی صدر ٹرمپ نے سنیچر کو حملوں کے آغاز کے بعد کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) اُن کا ہدف ہے اور یہ کہ ایران کی عوام کو سڑکوں پر نکل کر اقتدار کی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
امریکی ہدف پر تبصرہ کرتے ہوئے باربرا سلاون کہتی ہیں کہ ’امریکی حملوں میں سینیئر ایرانی عہدیدار مارے جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ رہبرِ اعلیٰ بھی ہلاک ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے جواب میں ہمیں ایران میں ایک اور آمرانہ حکومت نظر آئے گی یا پھر طویل افراتفری۔‘
دوسری جانب برمنگھم یونیورسٹی سے منسلک پی ایچ ڈی محقق عمر کریم سمجھتے ہیں کہ ’مختصر دورانیے میں امریکہ اور اسرائیل ایرانی کی فوجی اور میزائل صلاحیتوں کو کم کرنے کے لیے حملے جاری رکھ سکتے ہیں اور توقع کریں گے کہ ایران کی جوابی حملے کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے۔‘
وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ موجود امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہے۔
’وہ زیادہ سے زیادہ عسکری اور سویلین عہدیداروں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایران میں ایک حکومت مخالف احتجاجی مہم کو دوبارہ شروع کروانے کی کوشش کریں۔‘
’ایران میں جو کشیدہ حالات ہیں انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی اس کے نتائج میں شامل ہو سکتا ہے۔‘
تاہم خلیجی ممالک کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر عزیز الغاشین سمجھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نہ صرف اس جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ انھیں ٹرمپ انتظامیہ کے عمل سے بھی مایوسی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر عزیز الغاشین کہتے ہیں کہ اس تنازع کا نتیجہ جو کچھ بھی نکلے لیکن انھیں نہیں لگتا کہ اب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں عنقریب کوئی بہتری آئے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔ وہ ٹرمپ انتظامیہ سے بھی مایوس ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف ان حملوں کی ضرورت نہیں تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے بعد ’مذاکرات اور سفارتکاری متاثر ہوئی ہے اور بظاہر صورتحال مزید خراب ہویی ہے اور خطے اب نئی جنگ کی آگ میں بھڑک رہا ہے۔‘











