اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عارف شمیم
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، لندن

اسرائیل نے جمعہ کی علی الصبح ایران میں 'جوہری و فوجی اہداف' کو نشانہ بنانے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ یہ 'حملے تب تک جاری رکھے جائیں گے جب تک اسرائیل کی بقا کے لیے موجود خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔'

ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اور دو جوہری سائنسدان مارے گئے ہیں۔

ایران کی مسلح افواج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی 'بھاری قیمت' چکانا پڑے گی جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے اسرائیل کی 'قبیح فطرت' کا پتا چلتا ہے اور یہ کہ 'یہ حملے کر کے اسرائیل نے اپنے لیے تلخ قسمت کا انتخاب کیا، جس کا سامنا اسے کرنا ہی پڑے گا۔'

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ انھیں اسرائیل کے منصوبوں کا پہلے سے علم تھا تاہم امریکی فوج نے اس آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری افزودگی کے اہم مقام نطنز کو نشانہ ہے۔

تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟

ایران اور اسرائیل کی عسکری قوت کا تقابلی جائزہ

ایران

ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 2152 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ ہے اور اکتوبر 2024 میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کر کے اور وہاں تک اپنے میزائل پہنچا کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ ایران عرصہ دراز سے اپنے جس میزائل پروگرام پر کام کر رہا ہے اس میں کافی ترقی ہوئی ہے۔

ایران کے میزائل پروگرام کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اور متنوع سمجھا جاتا ہے ہے۔ سنہ 2022 میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ میکنزی نے کہا تھا کہ ایران کے پاس '3000 سے زیادہ' بیلسٹک میزائل ہیں۔

دوسری جانب اس بات کی کوئی حتمی تصدیق نہیں کہ اسرائیل کے پاس کتنے میزائل ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اگر کسی ملک کے پاس جدید ترین میزائلوں کا ذخیرہ ہے تو وہ اسرائیل ہے۔

میزائلوں کا یہ ذخیرہ اس نے گذشتہ چھ دہائیوں میں امریکہ سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے اشتراک یا اپنے طور پر ملک ہی میں تیار کیے ہیں۔ سی ایس آئی ایس میزائل ڈیفنس پراجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کئی ملکوں کو میزائل برآمد بھی کرتا ہے۔

اسرائیل کے مشہور میزائلوں میں ڈیلائلا، جبریئل، ہارپون، چریکو 1، جریکو 2، جریکو 3، لورا اور پوپیئی شامل ہیں۔

لیکن اسرائیل کے دفاع کی ریڑھ کی ہڈی اس کا آئرن ڈوم سسٹم ہے جو کہ کسی بھی قسم کے میزائل یا ڈرون حملے کو بروقت روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غزہ سے حماس اور لبنان سے حزب اللہ کے راکٹوں کو متواتر فضا میں ہی تباہ کر کے وہ آج تک اپنا لوہا منواتا رہا ہے۔

اسرائیلی میزائیل ڈیفنس انجینیئر اوزی روبن نے بی بی سی کو بتایا کہ آئرن ڈوم کی طرح کا دنیا میں کوئی اور دفاعی نظام نہیں اور یہ بہت کارآمد شارٹ رینج میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران، اسرائیل سے بہت زیادہ بڑا ملک ہے اور اس کی آبادی اسرائیل سے دس گنا زیادہ ہے۔

لیکن اس فرق سے یہ اندازہ لگانا قطعی درست نہیں ہو گا کہ ایران فوجی حساب سے اسرائیل سے زیادہ طاقتور ملک ہے۔ اسرائیل ایران سے کہیں زیادہ رقم اپنے دفاعی بجٹ کی مد میں خرچ کرتا ہے اور اس کی سب سے بڑی طاقت بھی یہی ہے۔

ایران

اگر ایران کا دفاعی بجٹ 10 ارب ڈالر کے قریب ہے تو اس کے مقابلے میں اسرائیل کا بجٹ 24 ارب ڈالر سے ذرا زیادہ ہے۔

جہاں ایران کی آبادی اسرائیل سے کہیں زیادہ ہے اسی طرح اس کے حاضر سروس فوجی بھی اسرائیل کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہیں۔ ایران کے فعال فوجیوں کی تعداد چھ لاکھ دس ہزار جبکہ اسرائیل کے ایسے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار ہے۔

اسرائیل کے پاس جس چیز کی برتری ہے وہ اس کی ایڈوانس ٹیکنالوجی اور بہترین جدید طیاروں سے لیس فضائیہ ہے۔ اس کے پاس 241 لڑاکا طیارے اور 48 تیزی سے حملہ کرنے والے ہیلی کاپٹر ہیں جبکہ ایران کے پاس جنگی طیاروں کی تعداد 186 ہے اور اس کے بیڑے میں صرف 13 جنگی ہیلی کاپٹر ہیں۔

اسرائیل

دونوں ممالک نے ابھی تک اپنی بحری افواج کی زیادہ صلاحیتوں کا مظاہرہ تو نہیں کیا لیکن اگرچہ وہ جدید بنیادوں پر نہ بھی ہو، پھر بھی ایران کی بحری فوج کے پاس 101 جہاز جبکہ اسرائیل کے پاس 67 ہیں۔

ایران
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایران نے عراق کے ساتھ جنگ کے بعد سے اپنے میزائل سسٹم اور ڈرونز پر زیادہ کام کیا اور شارٹ اور لانگ رینج میزائل اور ڈرونز بنائے جو مبینہ طور پر اس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے حریفوں کو بھی مہیا کیے ہیں۔

حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر داغے میزائلوں کے تجزیے سے بھی یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ ایرانی ساخت کے تھے۔

ایران کے میزائلوں میں شہاب ون میزائل ہے جس کی رینج تین سو کلومیٹر ہے جبکہ اسی کا دوسرا ورژن شہاب ٹو پانچ سو کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ شہاب سیریز کا تیسرا میزائل شہاب تھری دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ ایرانی میزائلوں میں 700 کلومیٹر تک مار کرنے والا ذوالفقار، 750 کلومیٹر تک مار کرنے والا قائم 1 بھی شامل ہیں۔

ایران کے میزائلوں میں ایک اہم اضافہ فتح -110 ہائپر سونک میزائل ہیں جو 300 سے 500 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگرچہ ایران کی فوجی طاقت بھی ہے لیکن دوسرے کے ملک میں جا کر گوریلا آپریشن کرنے کا زیادہ تجربہ اسرائیل کا ہے اور وہ ہمیشہ ہی اس میں کامیاب ہوا ہے۔ لیکن جب بات ہوتی ہے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کی تو ایران کے رقبے اور فوج میں زیادہ تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نظر آتا ہے کہ اسرائیل ایسا نہیں کرے گا۔

ایران میزائل

اس کی برتری فضائی طاقت، میزائل اور ڈرونز ہیں اور اگر اس نے ردِعمل ظاہر کیا تو ممکنہ طور پر ان ہی کے ذریعے ہی کرے گا۔ ویسے ماضی میں ایران کے ہائی پروفائل فوجی اور سویلین شخصیات بھی اسی طرح کے حملوں میں ہلاک کی گئی ہیں اگرچہ اسرائیل نے اکثر اوقات اس کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا لیکن اس سے انکار بھی نہیں کیا ہے۔

اس جنگ کا ایک اور پہلو سائبر اٹیک بھی ہو سکتا ہے اور اس جگہ اسرائیل کافی ولنر ایبل (کمزور) لگتا ہے۔ وجہ صاف ہے کہ ایران کا دفاعی نظام اسرائیل کے دفاعی نظام جتنا ایڈوانس نہیں ہے، اس لیے اسرائیل کے نظام پر سائبر حملہ زیادہ آسان ہے۔