آشا بھوسلے، پیمرا اور گلزار

آشا بھوسلے

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

27 اکتوبر 2018 کو چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ’مقامی میڈیا انڈسٹری پر ان ہاؤس (خانہ ساز) کیبل چینلز کے اثرات کی روک تھام‘ کی درخواست پر چار سطری حکم جاری کیا کہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) انڈین چینلز کے مواد کی نشریات روکنے کے لیے متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔

چنانچہ اس حکم کے بعد گلی گلی پھیلے کیبل چینلز نے انڈین فلموں، ڈراموں اور نیوز چینلز کی نشریات سے پرہیز کیا۔ فروری 2019 میں بالاکوٹ پر انڈین فضائی حملے کے بعد سے ’گلی بوائے‘ آخری بالی وڈ فلم تھی جو پاکستانی سینیما گھروں میں دکھائی گئی۔

جب سات جولائی2021 کو دلیپ کمار کی وفات ہوئی تو پاکستانی چینلز نے ان کے انٹرویوز اور یادگار فلموں کے بصری اقتباسات سے مزین خراِجِ عقیدت کھل کے پیش کیا۔ اور کرنا بھی چاہیے تھا (تب سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے اور متعلقہ پیمرا ضابطہِ اخلاق کا کوئی حوالہ سننے میں نہیں آیا)۔

جب چھ فروری 2022 کو برصغیر کی عظیم مغنیہ لتا منگیشکر کی وفات ہوئی تو تمام پاکستانی ٹی وی چینلز نے لتا جی کے شاہکار گانوں پر مبنی نیوز اور فیچر رپورٹیں نشر کیں۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

چنانچہ گزرے اتوار (12 اپریل) لتا جی کی چھوٹی بہن آشا بھوسلے کی وفات کی خبر آئی تو پاکستانی ٹی وی چینلز نے حسبِ معمول آشا جی کے گانوں سے مزین شردھان جلی مرتب کی اور بتایا کہ ان کے گیتوں نے برصغیر کی مسلسل چار پیڑھیوں کو کس کس طرح متاثر کیا۔ آشا جی کو کیا کیا اعزازات ملے اور برصغیر کی گائیکی میں ان کا کیا مقام ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس پس منظر میں جب پیمرا نے نجی چینل جیو کو ’انڈین مواد اور گانے‘ نشر کرنے کی پاداش میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تو بہت سوں کو حیرت ہوئی۔ نوٹس کے مطابق یہ کارروائی پیمرا ضوابط اور سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی۔

میرے ایک صحافتی دوست کے بقول یا تو نوٹس جاری کرنے والے بااختیار بابو کے کانوں کو کبھی راہ چلتے بھی موسیقی سے سابقہ نہیں پڑا یا پھر اس بابو نے ان ہاؤس کیبل چینلز پر انڈین مواد نشر کرنے کی اعلی عدالتی پابندی کو چیونگم کی طرح کچھ زیادہ ہی کھینچ لیا۔

پیمرا کے ایک اہلکار نے نوٹس جاری کرنے کی وجہ بی بی سی اردو کو بتائی کہ ’پیمرا کو کسی فن کار کی وفات کی خبر نشر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ فلموں کے گانے چلانا کہاں کی صحافت ہے؟‘

جو بھی آشا بھوسلے سے واقف ہیں وہ ان کے شہرہ آفاق فلمی گانوں کے سبب ہی واقف ہیں۔ تو پھر آپ ہی بتائیں کہ چینلز کیا دکھائیں؟

شکر ہے جنرل ضیا الحق کی وفات بہت پہلے ہو گئی۔ آج حیات ہوتے تو کوئی ارسطو بابو ان سے بھی پوچھ بیٹھتا کہ حضور ہمیں تو آپ بہت نصیحت کرتے ہیں مگر شترو گھن سنہا کی فلموں کے ویڈیو کیسٹس اور خود شترو جی کے آپ اتنے مداح کیوں ہیں؟

آشا بھوسلے

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بات یہ ہے کہ انڈیا ہو یا پاکستان۔ موجودہ پیڑھی کی ذہن سازی کچھ اس طرح انتہائی محنت سے کی گئی ہے کہ سیاسی و عسکری دشمنی کا مطلب یہ ہے کہ دوسری جانب کی ہر شے بشمول مشترکہ تاریخی ثقافت و موسیقی کی سن گن بھی حرام ہے۔

پاکستانی کتابیں اور فن کار انڈیا نہیں جا سکتے اور انڈین فن کار و رسائل یہاں نہیں آ سکتے۔ ثقافتی تعلق کا مطلب ہی ہندو یا مسلم رسم و رواج کے ایک دوسرے پر غلبے کی گھناؤنی سازش ہے۔

یہ سوچ ہمارے ذہن میں کس حد تک پیوست کی جا چکی ہے، اس کا اندازہ تب ہوا جب گذشتہ برس کسی مداح نے کال کی کہ کیا آپ مسلمان ہیں؟ میں نے کہا جی الحمدللہ۔ کیا آپ پاکستانی ہیں؟ میں نے کہا جی بے شک۔ کہنے لگا تو پھر بی بی سی کے لیے آپ ہندوؤں کی زبان (ہندی) میں ولاگ کیوں لکھتے ہیں۔ کوئی شرمندگی ’مسوس‘ نہیں ہوتی؟

پابندیاں اگر کسی عقلی روایت یا اصول کی بنیاد پر ہوں تو بات سمجھ میں بھی آ سکتی ہے مگر یہ کیا ہے کہ جب دوطرفہ سیاسی تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو گانے، فلمیں، دورے اور نیوز چینلز سمیت سب حلال ہو جاتا ہے اور جیسے ہی سیاسی تعلقات بگڑتے ہیں تو ہر شے حرام قرار پاتی ہے۔

پشاور میں دلیپ کمار اور راج کپور کے گھر ’قابلِ فخر ورثہ‘ قرار دیے گئے ہیں مگر ان پر فلمائے گئے گانے اور تمام فلمیں یوٹیوب پر ہی دیکھی جا سکتی ہیں۔ مین سٹریم ٹی وی چینلز ان لیجنڈز کے کام کا بصری حوالہ تک نہیں دکھا سکتے۔

پہلی بار یہ مسئلہ 1965 کی جنگ کے بعد درپیش ہوا جب انڈین فلموں کی نمائش پر قومی سطح پر پابندی لگ گئی۔ ریڈیو پاکستان کو حکم ملا کہ کسی بھی انڈین گلوکار کی آواز اور شاعر کا کلام نشر نہ ہو۔

جو فہرست بنی اس میں شامل ہونے سے خسرو، میر، غالب اور اقبال کے ساتھ ساتھ فراق گورکھپوری بھی بچ نکلے (شاید حکم جاری کرنے والے کو فراق صاحب کا اصل نام رگھوپتی سہائے معلوم نہیں تھا)۔ البتہ رفیع صاحب کو چونکہ سب انڈین فلمی گلوکار کے طور پر جانتے تھے لہذا ان کی آواز بھی ہاتھیوں کی لڑائی میں رگڑی گئی۔

آشا بھوسلے

،تصویر کا ذریعہEPA

کہیں 1978 کے مارشل لا دور میں یہ سرکاری نشریاتی فہرست ساقط ہوئی۔ چنانچہ نوے کی دہائی میں ایف ایم سٹیشنز پر ڈرتے ڈرتے بالی وڈ کے سدا بہار گانے بھی چلنے لگے اور چند برس بعد دوبارہ سناٹا ہو گیا۔

جس طرح ہم اپنے بچپنے میں سکندرِ اعظم کو مسلمان سمجھتے تھے۔ گلزار صاحب کے بارے میں بھی بہت سے لوگوں کو یہی شبہہ رہتا ہے۔ سکندر کی طرح ایک دن سب ہی کو جانا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جب گلزار صاحب رخصت ہوں گے تو پیمرا قوانین کے تحت ٹی وی چینلز پر ان کا کیسے تذکرہ ہو گا؟

’گلزار صاحب جہلم کے قصبے دینہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سمپورن سنگھ تھا۔ تقسیم کے بعد وہ پڑوسی ملک چلے گئے۔ انھیں سفید کرتا پاجامہ بہت پسند تھا۔ وہ نظر کا سنہری چشمہ بھی لگاتے تھے جو سفید مونچھوں پر بھلا لگتا تھا۔ گلزار صاحب نے کئی فلمیں بنائیں۔ بیسیوں فلموں کے لیے گیت لکھے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے ہیں جو آپ ریختہ کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور ان کا فلمی کام یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ واہگرو آنجہانی کی آتما کو شانتی دے اور اب سنیئے آج کے موسم کا احوال۔‘