کینیڈا کا تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال صوبہ ملک سے علیحدگی کیوں چاہتا ہے؟

البرٹا کی آزادی کے حامی ایک شخص نے صوبے کا پرچم لپیٹ رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکینیڈین ادارے اباکس ڈیٹا کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 25 فیصد شہری صوبے کی آزادی کے حامی ہیں
    • مصنف, ایڈیٹوریل سٹاف
    • عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی پسندوں نے پیر (4 مئی) کو خطے کی آزادی کے حق میں ریفرنڈم کرانے کے لیے ایک باقاعدہ درخواست جمع کروائی ہے۔

یہ درخواست دینے والے گروپ ’سٹے فری البرٹا‘ کا کہنا ہے کہ اس نے عوامی رائے شماری کے لیے درکار تعداد سے کہیں زیادہ دستخط جمع کر لیے ہیں۔

البرٹا کی علیحدگی تحریک کی جڑیں نام نہاد مغربی اجنبیت کے تصور میں پیوست ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد یہ ہے کہ صوبے کے بعض عوام کے مطابق وفاقی حکومت، جو کینیڈا کے دار الحکومت اوٹاوا میں قائم ہے، اکثر البرٹا کو نظر انداز کرتی رہی ہے۔

درخواست کے منتظمین کے پاس اس مہینے تک کم از کم ایک لاکھ 78 ہزار دستخط (جو صوبے کے ووٹروں کا 10 فیصد بنتے ہیں) جمع کرنے کا وقت تھا تاکہ ریفرنڈم کرایا جا سکے۔

تاہم سٹے فری البرٹا کے سربراہ مچ سلویسٹر نے پیر کے روز بتایا کہ وہ تین لاکھ سے زائد دستخط جمع کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ البرٹا کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔‘

تاہم البرٹا کی ایک عدالت نے دستخطوں کی تصدیق کا عمل روک دیا ہے کیونکہ کینیڈا کی مقامی آبائی قوم (انڈیجینس فرسٹ نیشنز) سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے درخواست دائر کر دی تھی۔

ان کا موقف ہے کہ صوبے کی کینیڈا سے علیحدگی کی کوشش ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔ اس معاملے پر فیصلہ رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔

مقامی آبائی افراد کا کہنا ہے کہ البرٹا کی آزادی سے ان کے وہ حقوق متاثر ہوں گے جن کی ضمانت کینیڈا کے آئین میں دی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمقامی آبائی افراد کا کہنا ہے کہ البرٹا کی آزادی سے ان کے وہ حقوق متاثر ہوں گے جن کی ضمانت کینیڈا کے آئین میں دی گئی
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مقدمہ دائر کرنے والے گروہ کے وکیل کیون ہلی نے کہا ہے کہ ان کے مؤکلوں کا مقدمہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور یہ ریفرنڈم کی درخواست کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس علاقے کو الگ کر کے یہاں ایک بین الاقوامی سرحد بنا دی گئی تو ان کے مؤکلوں کے حقوق اور طرز زندگی کو نقصان پہنچے گا۔

ان کے مطابق جدید کینیڈا کے قیام سے ایک صدی سے بھی پہلے برطانیہ اور یہاں کی مقامی آبائی قوم کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، البرٹا کی آزادی سے وہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

ہلی نے بتایا کہ دسمبر میں البرٹا کی ایک اور عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ آزادی کے حق میں ریفرنڈم غیر قانونی ہو گا، کیونکہ یہ کینیڈا کے آئین میں درج فرسٹ نیشنز کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

اس کے باوجود البرٹا کی حکومت نے درخواست کو آگے بڑھنے کی اجازت دی اور اپنے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے یہ شرط ختم کر دی کہ عوامی نوعیت کے ریفرنڈم کا آئینی ہونا ضروری ہے۔

وکیل کیون ہلی کے مطابق، تازہ ترین عدالتی کارروائی میں یہی سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا دسمبر کا عدالتی فیصلہ، قانون میں اس تبدیلی کے باوجود، اب بھی برقرار ہے یا نہیں اور اگر اس درخواست میں کامیابی ہوئی تو ہلی کے مطابق، آزادی کا ریفرنڈم صرف اسی صورت ہو سکے گا اگر اسے خود صوبائی حکومت پیش کرے۔

اگر دستخطوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو البرٹا کے شہری 19 اکتوبر کو عوامی رائے شماری میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

ریفرنڈم میں پوچھا جانے والا سوال یہ ہو گا: ’کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صوبہ البرٹا کینیڈا کا حصہ نہ رہے اور ایک آزاد ریاست بن جائے؟‘

قدرتی وسائل سے مالا مال

البرٹا کینیڈا کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 6 لاکھ 61 ہزار 848 مربع کلومیٹر ہے اور تقریباً 50 لاکھ آبادی کے ساتھ یہ ملک کا چوتھا بڑا صوبہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے اس کا نمبر اونٹاریو، کیوبیک اور برٹش کولمبیا کے بعد آتا ہے۔

یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل رکھتا ہے، جو مقامی اور قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک جانب صوبے کے مغرب میں پہاڑیاں واقع ہیں، جہاں شاندار مناظر، دریا، جھیلیں اور قومی پارکس موجود ہیں۔ یہ علاقے سیاحت کو فروغ دیتے ہیں، جس سے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

دوسری جانب ویسٹرن سیڈیمنٹری بیسن ہے، جو صوبے کے بیشتر حصے پر پھیلا ہوا ایک ارضیاتی خطہ ہے۔ یہ علاقہ کوئلے، تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے، جن سے وسیع پیمانے پر استفادہ کیا گیا ہے۔

دی کینیڈین انسائیکلوپیڈیا کے مطابق البرٹا کینیڈا کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔ سنہ 2020 میں یہاں سے یومیہ 37 لاکھ 90 ہزار بیرل تیل نکالا گیا۔

تاہم صوبے میں فوسل فیولز کی پیداوار پر ماحول اور صحت سے متعلق خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ پانی اور زمین کی آلودگی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور صحت پر ان کے مجموعی اثرات کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

تیل اور گیس کا انفراسٹرکچر مقامی افراد کے روایتی خوراک کے ذرائع کے لیے بھی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

سٹے فری البرٹا کے سربراہ مچ سلویسٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسٹے فری البرٹا کے سربراہ مچ سلویسٹر کا کہنا ہے کہ صوبے کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم کرانے کے لیے درکار تعداد سے زیادہ دستخط ان کے پاس موجود ہیں

اوٹاوا (کینیڈا کا دارالحکومت) سے متعلق عدم اطمینان البرٹا میں طویل عرصے سے موجود ہے، خاص طور پر قدرتی وسائل کے حوالے سے۔

کچھ شہریوں کا ماننا ہے کہ وفاقی حکومت، بالخصوص لبرل پارٹی کے دور اقتدار میں، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف قانون سازی کو ترجیح دے کر البرٹا کی تیل و گیس کی صنعت کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتی رہی ہے۔

ماضی کی مقامی سیاست میں اس مسئلے پر زیادہ بات نہیں کی جاتی تھی لیکن اب ملک کا یہ حصہ الگ ہونے کے امکان نے زیادہ شدت اختیار کر لی ہے۔

سرویز کے مطابق اگر ریفرنڈم ہوا تو البرٹا کے شہری کینیڈا سے علیحدگی کے خلاف ووٹ دیں گے۔ فروری میں کینیڈین ادارے اباکس ڈیٹا کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 25 فیصد شہری صوبے کی آزادی کے حامی ہیں۔

اس کے برعکس، علیحدگی کی مخالفت میں شروع کی گئی شہری درخواست فار ایور کینیڈین کو چار لاکھ 50 ہزار دستخط مل چکے ہیں اور اس کا مستقبل اس وقت ایک کمیٹی کے فیصلے کا منتظر ہے۔

آزادی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ البرٹا کی خود مختاری سے صوبے کے وسائل آزاد ہوں گے اور خطے کی دولت یہیں رہے گی۔ اس گروپ کے ارکان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

آزادی کے حامی اور وکیل جیف راتھ نے جنوری میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان ملاقاتوں میں یہ بات کی گئی تھی کہ اگر صوبہ علیحدہ ہوتا ہے تو کیا اسے 500 ارب ڈالرز کا قرضہ دیا جا سکتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے گروپ نے امریکہ سے کسی مالی مدد کی درخواست نہیں کی۔

*یہ رپورٹ کینیڈا میں بی بی سی کی نامہ نگار نادین یوسف کی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی۔*