انڈیا الیکشن: کانگریس کو ’مسلم لیگ‘ بننے کا طعنہ کیوں دیا گیا اور کیرالہ میں مسلمان امیدواروں کی تاریخی کامیابی کی کیا وجہ ہے؟

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈیا کی مشرقی ریاست آسام میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے پہلے روز سے ہی یہ یقینی طور مانا جا رہا تھا کہ وہاں ایک بار پھر سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی واپسی ہوگی۔ تاہم اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان انتخابات میں کانگریس پارٹی کو اتنی بری شکست ملے گی۔
چار مئی کو آئے نتائج میں نہ صرف کانگریس کو گذشتہ انتخابات کے نسبت دس سیٹوں کو نقصان ہوا ہے بلکہ پارٹی کے سینیئر لیڈر اور وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار گورو گوگوئی کو خود بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا۔
90 فیصد سیٹوں پر کانگریس کے مسلم امیدواروں کو کامیابی
خیال رہے کہ گذشتہ انتخابات میں کانگریس کو 29 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ اس بار صرف 19 نشستوں پر ہی پارٹی کامیابی درج کر پائی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جیتنے والے 19 امیدواروں میں سے 18 مسلمان ہیں۔
کانگریس پارٹی سے اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کی جیت نے اس کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ لیکن غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ریاست کے ان انتخابی نتائج، جس میں بی جے پی اور ان کے اتحادیوں کو زبردست کامیابی ملی ہے، اسمبلی کے لیے منتخب مسلم ممبران کی تعداد کم ہو گئی ہے۔
ایسا کیوں ہوا یہ جاننے سے قبل، آئیے یہ معلوم کرتے ہیں کہ کانگریس کے ٹکٹ پر اتنی بڑی تعداد میں مسلم امییدواروں کی کامیابی کی وجہ کیا ہے۔ شمال مشرق میں انڈیا کے مشہور انگریزی نیوز پورٹل سکرول کے نمائندہ رقیب الزمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ ان امیدواروں کو مسلم اکثریتی حلقوں سے ٹکٹ دیا جانا ہے۔ واضح ہو کہ کانگریس نے ریاستی انتخابات میں 20 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا، جس میں سے 18 کامیاب ہوئے۔ یعنی 90 فیصد سیٹوں پر کانگریس کے مسلم امیدواروں کو کامیابی ملی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’شاندار کامیابی باوجود مسلم نمائندگی میں گراوٹ‘
لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھلے ہی کانگریس پارٹی کے مسلم امیدواروں کو زبردست کامیابی ملی ہو لیکن مجموعی طور پر ان انتخابات میں مسلمانوں کو سیاسی نقصان ہوا ہے۔ کیونکہ اسمبلی میں ان کی تعداد میں اضافے کے بجائے کمی آئی ہے۔
گذشتہ دورانیے (2021) کے انتخابات کے نتیجے میں 31 مسلم رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے جو کہ اس بار کم ہو کر 22 رہ گئی ہے۔ یعنی مجموعی طور پر نو سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔
صحافی رقیب الزمان اس کی وجہ ڈیلیمیٹیشن یعنی انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی بتاتے ہیں۔ اس ضمن میں انتخابات سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی سمیر پرکایستھ نے کہا تھا کہ سنہ 2023 میں وزیر اعلی ہمنتا بسوا سرما کی حکومت کے دوران ہی آسام میں نئی حد بندی کی کارروائی مکمل کی گئی، جس کے تحت اسمبلی حلقوں کی نئی سرحدیں مقرر کی گئیں اور اس کے نتیجے میں مسلم یا اقلیتی اکثریت والی نشستوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کے مطابق پہلے جہاں مسلم اکثریت والی نشستیں تقریباً 30 تھیں، وہ کم ہو کر 22 رہ گئی ہیں۔ ساتھ ہی کئی ایسی نشستیں بھی بدل گئی ہیں، جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوتے تھے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’اس کا سیدھا فائدہ اُن پارٹیوں کو ہوگا جو اکثریتی ووٹوں پر زیادہ منحصر ہیں، جیسے بی جے پی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمنتا اب اپنی سیاست کو اور کھلے انداز میں اکثریتی پولرائزیشن کے گرد رکھ سکتے ہیں کیونکہ تبدیل شدہ انتخابی علاقوں کے حساب سے اُنھیں اقلیتی ووٹوں کی اتنی ضرورت نہیں رہی۔‘
حالیہ نتائج نے سمیر پرکایستھ کے تجزیہ کو درست ثابت کر دکھایا ہے۔ ریاست کے ان انتخابی نتائج کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس بار کانگریس کے بعد سب سے بڑا نقصان محمد بدرالدین اجمل کی قیادت والی سیاسی جماعت آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کو ہوا ہے۔ اس بار پارٹی کو صرف دو سیٹوں پر اِکتِفا کرنا پڑا جبکہ گذشتہ ٹرم میں یہ تعداد 16 تھی۔
دریں اثنا، انتخابی نتائج پر اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل نے کانگریس کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسام میں ’کانگریس مسلم لیگ (مراد محض ایک مسلم سیاسی جماعت) بن کر رہ گئی ہے۔‘ انھوں نے کہا، ’کانگریس کے جیتے گئے 19 اسمبلی حلقوں میں سے صرف ایک میں ہندو رہنما کو کامیابی ملی ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ پارٹی اب مسلم لیگ بن چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہIUML
کیرالہ میں مسلم لیگ کو شاندار کامیابی
دوسری جانب انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں مسلم لیگ کو ان انتخابات میں زبردست کامیابی ملی ہے۔ پارٹی نے 27 میں سے 22 نشستوں پر جیت درج کی ہے۔ یہ تعداد نہ صرف گذشتہ انتخابات کی نسبت زیادہ ہے بلکہ گذشتہ 15 برس میں سب سے زیادہ ہے۔
اس انتخاب میں مسلم لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ پارٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون ایم ایل اے بھی منتخب ہوئی ہیں۔ مسلم لیگ کی اس شاندار کامیابی کے پیچھے ماہرین مسلم ووٹوں کے اتحاد اور پارٹی میں نوجوان اور ترقی پسند لیڈر شپ فروغ دینا بتاتے ہیں۔
بی بی سی بات کرتے ہوہے کیرالہ کے محقق اور صحافی ریجی مون کٹپن نے کہا کہ ’گذشتہ دس برسوں میں ریاست کی کمیونسٹ پارٹی خاص طور پر وزیر علی پنیاری وجئین نے جس طرح سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی، ان کو تشدد پسند اور جرائم پیشہ بتانے کی کوشش کی، مسلم لیگ کی کامیابی اسی کا نتجیہ ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسام کی طرح مسلم لیگ کو ان سیٹوں پر کامیابی ملی ہے جہاں مسلمان بڑی تعداد یا اکثریت میں ہیں۔ یاد رہے کہ ریاست میں انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل یا مسلم لیگ) کانگریس کی قیادت والی الائنس یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کی اہم اتحادی ہے اور اس بار کیرالہ میں اسی اتحاد کو کامیابی ملی ہے۔
اسی طرح سیاسی تجزیہ کار پروفیسر پربھاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک ہندو تنظیم ایس این ڈی پی کے سربراہ ویلاپلّی ناتیسن نے مسلمانوں کے خلاف بار بار سخت بیانات دیے تو ان کے قریبی سمجھے جانے والے پنیاری وجئین نے ویلاپلّی کے ان بیانات کی مخالفت نہیں کی۔ جس سے مسلمانوں میں یہ پیغام پہنچا کہ کمیونسٹ پارٹی ہندو ووٹوں کو مضبوط کرنا چاہ رہی ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سی پی ایم نرم ہندوتوا کی سیاست کر رہی تھی۔ اس سے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے لیے مسلم حمایت کم ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان متحد ہو کر کانگریس کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اس فائدہ مسلم لیگ کو بھی ہوا۔‘
دونوں ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ کانگریس اور مسلم لیگ نے اقتدار میں آنے کے لیے مل کر کوشش کی، کیونکہ یہ ان پارٹیوں کی بقا کا سوال بھی تھا، کیونکہ مسلسل تیسری بار اپوزیشن میں بیٹھنے پر پارٹی شاید خود کو ٹوٹنے سے نہیں بچا پاتی۔


























