لیدر جیکٹس، فر کا لباس اور بالوں کا سٹائل: کم جانگ ان کی بیٹی کے کپڑے شمالی کوریا کی ممکنہ جانشین کے بارے میں کیا بتاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سنگمی ہاں
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
یہ نومبر 2022 کی بات ہے جب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی ایک ایسی تصویر سامنے آئی، جس میں اُن کے ساتھ ان کی کم عمر بیٹی جو اے بھی تھیں جنھوں نے ایک بہت خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا۔
وہ اپنے والد کے ساتھ ایک بلند قامت بیلسٹک میزائل کے سامنے ٹہلتے دکھائی دے رہی تھیں اور انھوں نے کالی پتلون اور سفید موٹی جیکٹ پہن رکھی تھی اور ان کے لمبے بال سلیقے سے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔
یہ تصویر ریاستی سطح پر ان کی پہلی موجودگی کو ظاہر کر رہی تھی اور اُس وقت بتایا گیا کہ ان کی عمر صرف نو برس تھی اور وہ اس کم عمری میں بھی اپنے لباس کے باعث بہت نمایاں دکھائی دے رہی تھیں۔
اس کے بعد سے جو اے کے بالوں کا انداز مزید بہتر اور ان کا لباس زیادہ نفیس ہوتا گیا۔
جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق کم جونگ اُن نے کم عمری کے باوجود بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث اُنھیں اپنا جانشین چن لیا ہے۔
جو اے اب لگ بھگ 13 برس کی ہیں اور انھیں متعدد باراپنے والد کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ وہ میزائل تجربات، فوجی پریڈز اور حتیٰ کہ بیرونِ ملک دوروں میں بھی اپنے والد کے ہمراہ نظر آتی ہیں۔
تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اُن کا لیدر اور فر کا لباس اور نفاست سے بندھے اونچے بال بھی اس بات کی علامت ہیں کہ اُنھیں ملک کی سربراہی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جو اے کے ملبوسات غالباً حکومت کے ’شعبۂ پروپیگنڈا اینڈ ایجی ٹیشن‘ کی ہدایت پر منتخب کیے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کبھی وہ پرتکلف سوٹ اور سکرٹس میں نظر آتی ہیں، جو اُن کی والدہ ری سول جو کے لباس سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔
سی جونگ انسٹیٹیوٹ کے نائب ڈائریکٹر چیونگ سونگ چانگ نے بی بی سی کوریا کو بتایا کہ ’چونکہ جو اے ابھی بہت کم عمر ہیں، اس لیے ان کی عمر کو مستقبل کی رہنما کے طور پر چیلینج سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُنھیں اپنی والدہ جیسے پرتکلف (فارمل) لباس پہنا کر اُن کی کم عمری کو چھپایا جا رہا ہے اور اس سے زیادہ سنجیدہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
چیونگ کے مطابق ’کبھی کبھار وہ لیدرجیکٹس بھی پہنتی ہیں اور یہ انتخاب جہاں مضبوط شخصیت کا تاثر دیتا ہے وہیں اس میں پرتکلف انداز بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کپڑے فوجی اڈوں جیسے ’سخت یا دشوار مقامات‘ کے دورے کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔‘
’تاہم اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو اے اکثر اپنے والد سے ملتے جلتے لباس میں نظر آتی ہیں، جو خود بھی سیاہ چمڑے کی جیکٹس اور ٹرنچ کوٹ پہننے کے شوقین ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گزشتہ نسلوں کے مقبول فیشن (image replication) کو اپنانا ایک ایسا حربہ ہے جسے شمالی کوریا کے رہنما اقتدار برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس کی مثال ہمیں کم آن جونگ کی قیادت کے ابتدائی دور سے ملتی ہیں جب کم جونگ اُن نے اپنے دادا کم اِل سنگ کی طرح لباس پہن کر اپنی قانونی حیثیت کو مضبوط کیا۔
ماہرین کے مطابق کم اِل سنگ نے شمالی کوریا کی بنیاد رکھی تھی اور 45 برس سے زیادہ عرصے تک اس کی قیادت کی، انھیں شمالی کوریا میں عملاً ایک دیوتا کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
چیونگ کہتے ہیں کہ ’شعبۂ پروپیگنڈا اینڈ ایجی ٹیشن نے ایسے عوامل کو ترتیب دیا جس کے ذریعے کم اِل سنگ کے لیے احترام فطری طور پر کم جونگ اُن کو منتقل ہو گیا۔‘
ان کے مطابق ’کہا جاتا ہے کہ جب کم جونگ اُن پہلی بار منظرِ عام پر آئے تو شمالی کوریا کے رہائشی تو حیران تھے ہی تاہم جنوبی کوریا کے ماہرین اس لیے بھی حیران تھے کہ کم جونگ اُن پہلی نظر میں نوجوان کم اِل سنگ سے مشابہت رکھتے تھے۔‘
’ایک جانشین کے طور پر نوجوان کم جونگ اُن کو تجربے کی کمی اور عمر کی وجہ سے چیلینجز کا سامنا تھا اور اسے صرف اس حقیقت کی بنیاد پر دور کیا جا سکتا تھا کہ وہ کم اِل سنگ سے مشابہ تھے۔ یہاں تک کہ شمالی کوریا کے لوگوں کے درمیان یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ کم اِل سنگ نے شاید دوبارہ جنم لے لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیونگ کے مطابق جو اے کا لباس بہت سی حکمت عملیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کے مطابق ’جو اے کی قانونی حیثیت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی طرز کے ملبوسات پہن کر جو اے اور ان کی والدہ ری سول جو ایک ایسا فرق ظاہر کرنے کی حکمتِ عملی دکھا رہی ہیں جو ان کے سماجی مقام کو عام لوگوں سے بنیادی طور پر مختلف دکھاتا ہے۔‘
جو اے کو کئی مواقع پر لیدر جیکٹ پہنے دیکھا جانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شعبۂ پروپیگنڈا اینڈ ایجی ٹیشن ان کے درجے کو عام شہریوں سے بلند دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔
چیونگ کے مطابق اعلیٰ معیار کے لیدر سے بنے ملبوسات پہننا اپنی خاص حیثیت ظاہر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
’چمڑے کے ملبوسات شمالی کوریا کے لوگوں میں عام نہیں۔ لگژری برانڈز، لیدر جیکٹیں اور فر کے کوٹ وہ قیمتی ملبوسات ہیں جوشمالی کوریا کے عام شہریوں کی دسترس میں نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایک جانب جو اے کا بدلتا ہوا فیشن ہے تو دوسری جانب شمالی کوریا کے عام شہری سخت پابندیوں کی ذد میں ہیں جو واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
2020 میں شمالی کوریا نے ایک قانون نافذ کیا جس کے تحت بیرونی ثقافت اپنانے پر سخت پاابندی لگا دی گئی۔
تاہم 2023 میں سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں جو اے ایک بار پھر اپنے والد کے ہمراہ ایک بیلسٹک میزائل کے سامنے چہل قدمی کرتی نظر آئیں۔
اس بار انھوں نے سیاہ رنگ کی موٹی (پیڈڈ) جیکٹ پہن رکھی تھی جو فرانسیسی لگژری فیشن ہاؤس کرسچین ڈیور سے خریدی گئی تھی اور اس کی قیمت 1,900 ڈالر (1,405 پاؤنڈ) تھی۔
اگلے برس جو اے نے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ایک رہائشی علاقے کے مکمل ہونے کی تقریب کے موقع پر بلاؤز پہنا جس سے ان کے بازو نمایاں ہو رہے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد عام شہریوں کے لیے ایک ہدایتی ویڈیو لیکچر جاری کیا گیا۔
ایک مقامی سورس نے ریڈیو فری ایشیا کو بتایا کہ ’اس پیغام میں خبردار کیا گیا کہ اس طرح کے ہیئر سٹائل اور ملبوسات وہ نہیں پہن سکتے کیونکہ یہ سوشلسٹ نظام کے خلاف سمجھے جاتے ہیں اور ریاستی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ان واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سمجھنا آسان ہے کہ کم خاندان (جنھیں تقریباً خدائی حیثیت دی جاتی ہے) اکثر اُن قوانین سے مبرا ہوتا ہے جو عام لوگوں پر لاگو کیے جاتے ہیں۔
شمالی کوریا سٹڈیز یونیورسٹی کے پروفیسر لی وو یَنگ کے مطابق اگرچہ جینز کو مغربی فیشن سمجھ کر شمالی کوریا میں پابندی کے تحت رکھا گیا لیکن کم جونگ اُن خود جینز پہن چکے ہیں۔
وہ الزام عائد کرتے ہیں کہ غیر ملکی ثقافت پر پابندیاں ہوں یا قوانین بنائے جائیں، شمالی کوریا میں سپریم لیڈر کے لیے کوئی کام ممنوع نہیں ہوتا۔
اس کے باوجود شمالی کوریا کے کچھ افراد کم خاندان کی نقل میں جو اے کی طرح جدید اور نفیس لباس پہننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایسی رپورٹس بھی ہیں جن کے مطابق شمالی کوریا کے امیر افراد میں شینل برانڈ کے کاسمیٹکس اور پرفیومز جیسے مہنگے سامان کا استعمال بڑھا ہے جبکہ چین کی سرحد کے قریب ایک شہر میں فر کے کوٹ مقبول ہو گئے ہیں۔
ایک کنڈر گارٹن سے بچوں کی ایسی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں وہ ہلکے شفاف بلاؤز پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی خبریں ہیں کہ جو اے اور کم جونگ اُن جیسے سن گلاسز اور کوٹ امیر نوجوانوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔
یہ شمالی کوریا میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ ماضی میں بھی نوجوان مرد کم جونگ اُن کے ہیئر سٹائل اپناتے رہے ہیں۔
شمالی کوریا کے عام افراد کو فیشن کے رجحانات سمیت بیرونی دنیا تک بہت محدود رسائی حاصل ہے، اس لیے ملکی رہنما کا فیشن آئیکون بننا پہلے غیر متوقع سمجھا جاتا تھا تاہم اب بظاہر ان کی بیٹی کو بھی فیشن کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس مضمون میں اضافی رپورٹنگ ہیون جنوگ کم نے کی ہے۔


























