پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف امریکی آپریشن معطل: کیا متحدہ عرب امارات پر حملوں نے اسلام آباد کی مشکلات بڑھا دیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور دیگر ملکوں کی درخواست پر ایران کے خلاف آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا فوجی آپریشن عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاہم جنگ بندی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار رہے ہیں۔
جہاں امریکی فوج کی طرف سے ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تو وہیں متحدہ عرب امارات کے مطابق اس کی فجیرہ آئل انڈسٹری سمیت مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے پیر اور منگل کے ان حملوں پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایک بیان میں اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے حملوں کا جواب دینے کا ’مکمل قانونی حق حاصل ہے۔‘ جبکہ ایران نے ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسداران انقلاب نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ کہ ملک کی مسلح افواج نے ’حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کوئی میزائل یا ڈرون آپریشن نہیں کیا۔‘
اس کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو ہم اس کا واضح اعلان کرتے۔‘
ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار نبھانے والے ملک پاکستان کو جنگ بندی برقرار رکھنے اور دونوں ملکوں کو کسی معاہدے کی طرف لے جانے کی کوششوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان نے گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
منگل کو وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے بیان میں امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان یو اے ای میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کا نام لیے بغیر اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان اس مشکل وقت میں اپنے اماراتی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTelegram
شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان جنگ بندی کا ہر صورت احترام اور اس پر مکمل عملدرآمد نہایت ضروری سمجھتا ہے، تاکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔‘
پاکستان کی جانب سے یہ مذمت ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پیر کو متحدہ عرب امارات کے فجیرہ انڈسٹریل زون میں مبینہ ایرانی حملے کے بعد خطے میں دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان مرکزی ثالث سمجھا جاتا ہے جس کی دونوں ممالک توثیق بھی کرتے ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات پر ایک بار پھر حملے اور پاکستان کی بھرپور مذمت سے مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔
کیا متحدہ عرب امارات پر دوبارہ حملہ پاکستان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے اور کیا اس سے اس کی ثالثی کی کوششوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے؟ اور کیا جنگ بندی خطرے میں ہے؟
یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے ماہرین سے بات کی ہے۔
’پاکستان دوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
عمان میں پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کہتے ہیں کہ ثالثی کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے عمران علی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے بھی تنی ہوئی رسی پر چل رہا تھا اور وہ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
عمران علی کہتے ہیں کہ ’اب ہم دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بہت قریب آ گئے ہیں اور اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو پاکستان فریقین سے صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔‘
’پاکستان اب ان ممالک کو قائل نہیں کر سکتا، انھوں نے خود اس پر قائل ہونا ہے۔ پاکستان نے جنگ بندی کے بعد اسے برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی اور دونوں ممالک کو آمنے سامنے بٹھایا اور اب بھی پاکستان کی کوشش یہی رہے گی۔‘
دفاعی اُمور کے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاملات خراب ہو رہے ہیں اور اس سے جنگ بندی بھی خطرے میں ہے۔ وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے جوابی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے جبکہ ایران نے اس پر ایک انتباہ بھی جاری کیا ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بند ہوئی تھی اور جب کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے پاکستان کی مشکلات بڑھتی ہیں۔
حسن عسکری بھی عمران علی سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے دوست ممالک کے ساتھ توازن رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
’پاکستان نے ان حملے کی مذمت کی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بات ایران کو پسند نہیں آئے گی اور اگر پاکستان ایسا نہ کرتا تو اس سے امارات ناراض ہوتا۔‘
عمران علی کہتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے اعلان کے بعد بہت امکانات ہیں کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو نشانہ بنائیں گے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے منصوبے کو 'پراجیکٹ فریڈم' کا نام دے رکھا ہے اور اُنھوں نے دُنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ تاہم اب اس آپریشن کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
منگل کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے امریکی ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک ’طاقتور سرخ، سفید اور نیلے رنگ کا گنبد‘ قائم کیا ہے۔ تاہم
اُنھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا پاکستان متحدہ عرب امارات پر حملے رکوا سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں سابق سفیر عمران علی کا کہنا تھا کہ ایران کا جنگی منصوبہ واضح ہے کہ جب بھی ایران کا امریکہ کے ساتھ تنازع ہو گا تو وہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنائے گا۔
’ایران یہ محسوس کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات امریکہ کی اخلاقی حمایت کرتا ہے، اس لیے اس پر حملے کرنا جائز ہے۔ حالانکہ پاکستان نہیں چاہتا کہ ایران، متحدہ عرب امارات پر حملے کرے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایران نے چند روز قبل جنگ کے خاتمے کی جو تجاویز دی تھیں وہ بہت قابلِ عمل تھیں اور اس کے ذریعے دونوں ممالک آگے بڑھ سکتے تھے۔
’پاکستان کے پاس کوئی ایگزیکٹو اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ دونوں ممالک کو کسی معاہدے کے لیے پابند کرے، پاکستان کوشش ہی کر سکتا ہے اور وہ بطور ثالث یہ کوشش کرتا رہے گا۔‘
خیال رہے کہ ایران نے چند روز قبل پاکستان کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کے لیے تجاویز بھجوائی تھیں، جن میں جوہری معاملات پر بات چیت سے پہلے دیگر معاملات طے کرنے کی تجاویز تھیں۔ تاہم امریکی صدر نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔
ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان جس حد تک اس سارے عمل کا حصہ ہے، وہ ضرور امارات پر حملے کا معاملہ ایران کے سامنے اُٹھائے گا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’ایران میں بہت سے دھڑے اقتدار کے حصے دار ہیں۔‘
ان کی رائے میں ایران میں بعض حلقوں کے ’انتہا پسندانہ رویے کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرنے کا ہی مشورہ دے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا پاکستان اب بھی مرکزی ثالث رہے گا؟
سابق سفیر عمران علی کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ویسے تو کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ہی ثالث ہے، لیکن ساتھ ساتھ وہ روس اور چین کے دورے بھی کر رہے ہیں۔
اُن کے بقول پاکستان اب مرکزی ثالث رہتا ہے یا نہیں، اب یہ زیادہ ضروری نہیں، اب ضروری یہ ہے کہ جنگ ختم ہو اور آبنائے ہرمز کھلے، چاہے اس میں دیگر ممالک بھی بطور ثالث شامل ہو جائیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مذاکرات کا دوسرا دور ہو جاتا تو ہم کئی مسائل سے بچ جاتے، لیکن اب ہم مبہم قسم کی صورتحال دیکھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان، پہلے بھی کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر امارات پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے۔
اُن کے بقول پاکستان نے اس معاملے میں کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کیے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اُس وقت بھی پاکستان نے کسی ملک کا نام لیے بغیر ان حملوں کی مذمت کی تھی۔
ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ دونوں ممالک اب بھی پاکستان کو ہی مرکزی ثالث سمجھتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے تحویل میں لیے گئے ایرانی جہاز کے عملے کو پاکستان کے حوالے کرنا ’اس تاثر کو تقویت دیتا ہے۔‘
خارجہ اور دفاعی اُمور کی ماہر ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ پاکستان کے لیے یہ بہت نازک وقت ہے۔
بی بی سی اُردو کے پروگرام جہاں نما میں گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنازع میں ثالث بننا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کروانا تو اور بھی مشکل ہے۔
اُن کے بقول پاکستان کی کوشش ہو گی کہ وہ دونوں ممالک کو ایسے پیغامات بھجوائے جس سے کشیدگی کم ہو۔
’پاکستان پر یہ الزام بھی لگ رہا ہے کہ وہ امریکہ کی زیادہ طرفداری کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان یہ باور کروانے میں کامیاب رہا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد ثالث ہے اور یہ پاکستان کے لیے بھی بہت اچھی بات ہے۔‘
ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ صحیح طرح ختم نہیں ہوئی اور ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایسی چھوٹی کارروائیاں چلتی رہیں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ کبھی بات چیت ہوتی ہے تو کبھی حملے ہوتے ہیں، یہ ایک طرح سے ’کنٹرولڈ ایسکلیشن‘ ہے۔
























