متنازع راستے سے زائرین کو چین بھیجنے کے منصوبے پر نیپال کا انڈیا سے احتجاج: ’لیپو لیکھ علاقہ ہمارا اٹوٹ انگ ہے‘

Nepal

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

نیپال کی حکومت نے درہ لیپو لیکھ کے راستے سے انڈین زائرین کو چین میں واقع مذہبی مقام کیلاش مانسرور بھیجنے کے نئی دہلی اور بیجنگ کے منصوبے پر اعتراض اُٹھایا ہے۔

نیپال کا مؤقف ہے کہ لیپو لیکھ کا علاقہ اس کا اٹوٹ انگ ہے اور اس حوالے سے اس نے اپنی تشویش باضابطہ طور پر انڈیا اور چین دونوں کو آگاہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا نے نیپال کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی اسی راستے سے زائرین مانسرور کی یاترا پر جاتے رہے ہیں۔

نیپال کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیپو لیکھ کے راستے کیلاش مانسرور کی مجوزہ یاترا کے بارے میں نیپال نے سفارتی ذرائع سے انڈیا اور چین کو اپنے مؤقف اور خدشات سے واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 1816 کے سوگولی معاہدے کے مطابق کالی ندی کے مشرق میں واقع لیپو لیکھ، لمپیا دھورا اور کالا پانی کے علاقے نیپال کا لازمی حصہ ہیں اور حکومت اس مؤقف پر قائم ہے۔

نیپالی وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومتِ نیپال مسلسل انڈین حکومت پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ان متنازع علاقوں میں یاترا، سرحدی تجارت، سڑکوں اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں سے گریز کرے۔

نیپال کا یہ اعتراض ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مصری 11 اور 12 مئی کو نیپال کے سرکاری دورے پر جانے والے ہیں۔

نیپالی میڈیا کے مطابق اگرچہ وکرم مصری کے دورے کا باضابطہ ایجنڈا تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ہے کہ اس دوران سرحدی تنازعات اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے سے متعلق امور پر بات چیت کی جائے گی۔

India Nepal

نیپال کا کہنا ہے کہ نیپال اور انڈیا کے دوستانہ اور قریبی تعلقات کی روح کے تحت نیپالی حکومت سرحدی تنازعات کو تاریخی معاہدوں، حقائق اور شواہد کی بنیاد پر سفارتی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پابند ہے۔

دوسری جانب انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نیپال کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ درہ لیپو لیکھ 1954 سے کیلاش مانسرور یاترا کا تسلیم شدہ راستہ رہا ہے اور اس راستے سے عشروں سے یاترا جاری ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ کوئی نیا یا حالیہ فیصلہ نہیں ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس بیان میں لیپو لیکھ پر نیپال کے علاقائی دعویٰ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دعوؤں کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ ہی یہ تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی ہیں۔

اُن کے بقول اس طرح کے یکطرفہ مصنوعی علاقائی توسیع کے دعوے کا کوئی جواز نہیں ہے ’اںڈیا سرحدی تنازعات کو نیپال کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

کیلاش مانسرور

India Nepal

،تصویر کا ذریعہSURVEY OF INDIA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کیلاش مانسرور چین کے علاقے میں واقع ایک مخصوص پہاڑ ہے، جسے ہندوؤں کے دیوتا شیوا کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔

چین ہر برس جون اور اگست کے درمیان محدود تعداد میں انڈین زائرین کو وہاں جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس یاترا کا انتظام انڈیا کی وزارتِ خارجہ کرتی ہے۔

یہ یاترا کورونا کی وبا کے بعد بند ہو گئی تھی۔ یہ گذشتہ برس دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ گذشتہ 30 اپریل کو وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس بار 500 زائرین سکم کے ناتھو لادرے اور دیگر 500 یاتری لیپو لیکھ درے کے راستے کیلاش مانسرور کا سفر کریں گے۔

انڈیا نے چند ماہ پہلے سکم کے ناتھولا، ارونا چل پردیش کے تاوانگ اور اتراکھنڈ کے لیپولیکھ سرحدی راستوں کے ذریعے چین سے تجارت دوبارہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس وقت بھی نیپال کی حکومت نے لیپو لیکھ پر اپنا دعویٰ کرتے ہوئے اس راستے سے تجارت کرنے پر اعتراض کیا تھا۔

لیپو لیکھ شمالی انڈیا کی ریاست اترا کھنڈ کی شمالی سرحد پر ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔ اس کے ایک جانب نیپال ہے اور دوسری طرف چین کی سرحد شروع ہوتی ہے۔

انڈیا نے سنہ 2015 میں میں تجارت اور مانسرور یاترا کے لیے لیپولیکھ میں سڑکیں اور کچھ عمارتیں وغیرہ بنائی تھیں۔ اس کے خلاف نیپال کے دارالحکومت میں مظاہرے ہوئے تھے۔ اس وقت بھی نیپال کی حکومت نے کہا تھا کہ لیپولیکھ، لیپیا دھورا اور کالا پانی نیپال کا اٹوٹ انگ ہیں۔

نیپال کا کہنا ہے کہ 1816 میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے سوگولی کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے تحت اس خطے میں کالی ندی کو انڈیا اور نیپال کے درمیان سرحد تسلیم گیا تھا۔

India Nepal

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ندی کے مشرق کے علاقوں پر نیپال کی ملکیت تسلیم کی گئی تھی۔ اسی معاہدے کی بنیاد پر نیپال ان علاقوں کو اپنی زمین مانتا رہا ہے۔ لیکن انڈیا اسے تسلیم نہیں کرتا۔

نیپال کے سرکردہ تجزیہ کار یوراج گھیمرے نے بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہو ئے بتایا کہ سنہ 2000 میں نیپال کے وزیرِ اعظم گرجا پرساد کوئرالہ اور اںڈیا کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اس سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے خارجہ سیکریٹری کی سطح پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اُن کے بقول جب انڈیا نے دفعہ 370 ختم کرنے کے بعد ایک نیا نقشہ جاری کیا تو اس میں ان تینوں علاقوں کو بھی اپنے علاقے کے طور پردکھایا تو نیپال نے بھی ایک نیا نقشہ جاری کرکے اسے باضابطہ طور پر اپنے نقشے میں شامل کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ نیپال کی حکومتیں اس تنازع کے بارے میں تشوش ظاہر کرتی رہی ہیں لیکن کسی حکومت نے اسے سفارتی طور پر بہت شدت سے آگے نہیں بڑھایا جس کے سبب یہ تنازع حل نہیں ہو سکا۔

یوراج گھیمرے کہتے ہیں کہ ’نیپال کے نئے وزیرِ اعظم بالن شاہ کی جماعت ایک نئی اور نوجوان نسل کی جماعت ہے، وہ ملک کے مسائل اور تنازعات کو مساوی درجے پر حل کرنا چاہتی ہے۔‘

اُن کے بقول یہ ٹیم نوجوان لوگوں کی ہے اس لیے اس کا لب و لہجہ قدرے سخت ہے، لیکن جو بات اہم ہے وہ یہ کہ دونوں ملکوں نے جو بیانات جاری کیے ہیں ان میں اسی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ سرحدی تنازعات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

Nepal

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے خارجہ سیکریٹری وِکرم مسری 11 سے 12 مئی تک نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے دورے پر جا رہے ہیں۔

انڈیا میں بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار بھرت بھوشن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ سیکریٹری کے دورے کے دوران سرحدی تنازعے پر ضرور بات چیت ہو گی، تاہم اُن کے مطابق اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نیپال میں ایک نئی حکومت قائم ہوئی ہے۔

بھرت بھوشن کا کہنا تھا کہ نیپال کی نئی حکومت کے سیاسی نظریے اور طرزِ سیاست کے بارے میں ابھی بہت کچھ واضح نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم بالیندر شاہ کو پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور انھیں کسی فوری سیاسی مسئلے کا سامنا نہیں، ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے اس مرحلے پر سرحدی تنازعے کا معاملہ کیوں اٹھایا۔

ان کے مطابق وزیرِ اعظم بالیندر شاہ کو مقبولیت حاصل کرنے کے لیے انڈیا مخالف جذبات ابھارنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، اس لیے اس معاملے کے وقت پر اٹھنے سے متعلق سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔

بھرت بھوشن کا کہنا تھا کہ بات چیت تو ضرور ہوگی، لیکن یہ اس بات پر بہت حد تک منحصر کرے گا کہ انڈیا کی حکومت نیپال میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں کو کس حد تک سمجھ پاتی ہے اور ان سے کیسے نمٹتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بالیندر شاہ نے انڈیا کے سامنے ایک چیلنج پیش کیا ہے اور اب یہ انڈیا پر منحصر ہے کہ وہ اس کا کس طرح سامنا کرتا ہے۔

بھرت بھوشن کے مطابق انڈیا اور نیپال کے درمیان متعدد معاملات پر ماضی میں بھی سفارتی سطح پر بات چیت ہوتی رہی ہے، اس لیے اگر وِکرم مسری نیپال کا دورہ کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ سرحدی تنازعے پر بھی بات ہوگی اور کسی حل کی تلاش کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ نیپال ایک ایسا ملک ہے جو دو بڑے ہمسایہ ممالک، چین اور انڈیا، کے درمیان واقع ہے اور اس کے پاس سمندر تک براہِ راست رسائی نہیں۔ تجارت کے لیے نیپال کو بڑی حد تک انڈیا پر انحصار کرنا پڑتا ہے، کیونکہ جس طرح کی تجارت اور ٹرانزٹ انڈیا کے راستے ممکن ہے، وہ چین کے ذریعے اسی شکل میں ممکن نہیں۔

بھرت بھوشن کے مطابق نیپال کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کا قومی مفاد کہاں ہے اور اسی طرح انڈیا کو بھی اپنے مفاد کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیپال کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے ساتھ آگے بڑھے۔ سرحدی تنازعات جیسے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہیں گے، تاہم ان کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔