چینی کمپنی کی طرف سے چھاپے گئے نیپال کے 100 روپے کے نئے نوٹ پر انڈیا برہم

نیپال نوٹ

،تصویر کا ذریعہX

انڈیا کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات نہ تو ڈھکے چھپے ہیں اور نہ نئے۔ لیکن ایسی خبروں میں زیادہ تر چین اور پاکستان کا نام آتا ہے۔ تاہم حالیہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب نیپال نے اپنے نئے 100 روپے کے بینک نوٹ کا اجرا کیا۔

انڈیا کو اعتراض نوٹ کے اجرا پر نہیں بلکہ اس پر چھپے ایک نقشے پر ہے جس میں اس کے بقول تین ایسے متنازع علاقوں کو شامل کیا ہے جن پر انڈیا بھی دعویٰ کرتا ہے۔

ان متنازع علاقوں میں لیپولیکھ، لمپیادھورا، اور کالاپانی شامل ہیں۔

انڈیا کے وزیر خارجہ نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’کوئی بھی یکطرفہ اقدام زمینی حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔‘

انڈیا کی وزارت خارجہ نے نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدی مسئلہ مذاکرات میں شامل ہے۔ اور یہ کہ انڈیا نے پہلے نیپال کو خبردار کیا تھا کہ ’علاقائی دعوؤں کی مصنوعی توسیع قابل قبول نہیں ہوگی۔‘

اس نئے نوٹ کی اشاعت کے لیے منظوری مئی 2024 میں نیپالی کابینہ نے دی تھی۔ تاہم یہ اب عوامی رسائی میں آیا ہے۔

انڈین وزراتِ خارجہ کے ترجمان رندھینر جیسوال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر اعظم مودی کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک میں سرحدی معاملات پر بات چیت چل رہی ہے۔ ایسے میں اگر وہاں کوئی ایسا ایکشن لیا بھی جاتا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

ایک عوامی نوٹس میں نیپال راسترا بینک (این آر بی)، جو ملک کا مرکزی بینک ہے، نے کہا کہ نیا متعارف کرایا گیا نیپالی 100 کا نوٹ ’بہتر سکیورٹی اور شناختی عناصر کو شامل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ یہ مستند ہو اور اس کے استعمال میں اضافہ ہو سکے۔‘

گذشتہ سال اکتوبر میں، این آر بی نے ایک چینی کمپنی کو نئے بینک نوٹ چھاپنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے 20 مئی 2020 کو نیپال نے آئینی ترمیم کے ذریعے لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالاپانی کو شامل کرنے والا نیا نقشہ جاری کیا۔ جس پر انڈیا نے نیپال اس اقدام کو سختی سے مسترد کیا جس کے بعد نیپال کی حکومت نے ایک نظرثانی شدہ سرکاری نقشہ جاری کیا ہے جس میں متنازع علاقوں کے کچھ حصے شامل ہیں۔

انڈیا نے نیپال کے اس اقدام کو بھی سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

نوٹ ڈیزائن کون کرتا ہے اور اس نوٹ میں کیا کیا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

نیپال راسترا بینک ایکٹ کے تحت این آر بی نوٹوں کے ڈیزائن کا ذمہ دار ہے۔

تاہم نوٹوں کے ڈیزائن یا سائز میں کسی بھی تبدیلی کے لیے حکومت کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

نئے نوٹ میں بائیں جانب ماؤنٹ ایورسٹ اور دائیں جانب روڈوڈینڈرون یعنی نیپال کا قومی پھول کا واٹر مارک دکھایا گیا ہے۔ نوٹ کے وسط میں نیپال کے نقشے اور اشوکا ستون کی تصویریں شامل ہیں۔

جبکہ نوٹ کے دوسری جانب مرکزی ڈیزائن میں ایک سینگ والا گینڈا اپنے بچھڑے کے ساتھ نمایاں ہے۔

نوٹ میں پچھلے ورژن کے رنگ اور سائز کو برقرار رکھا گیا ہے اور اس میں مایا دیوی کی تصویر چاندی کی دھاتی سیاہی میں چھپی ہوئی ایک بیضوی شکل میں شامل ہے۔

نوٹ میں دو ملی میٹر چوڑا رنگ بدلنے والا حفاظتی دھاگا موجود ہے (نوٹ سیدھا دیکھنے پر سرخ اور جھکا کر دیکھنے پر سبز رنگ دکھائی دیتا ہے)۔

اس نوٹ پر اس وقت کے گورنر مہا پرساد ادھیکاری کے دستخط ہیں اور نیچے نیپالی ہندسوں میں '2081' کے ساتھ ایک سیریز نمبر بھی شامل ہے۔

این آر بی نے چینی کمپنی کو 100 روپے کے 30 کروڑ نوٹ ڈیزائن، پرنٹ، سپلائی اور ترسیل کا کام سونپا تھا۔ مجموعی پرنٹنگ لاگت کا تخمینہ تقریبا 89 لاکھ 96 ہزار امریکی ڈالر سے زائد ہے۔

سنہ 2020 میں کٹھمنڈو میں حکومت کی کووڈ-19 کورونا وائرس کے خلاف کارروائی کے خلاف مظاہرے کے دوران مظاہرین نے نئے نقشے والا بینر اٹھا رکھا ہے۔ نیپال کے ایوان زیریں نے 13 جون کو ایک نیا قومی نشان منظور کیا تھا جس پر ایک متنازع سیاسی نقشہ شامل ہے جس میں اس کے بڑے پڑوسی انڈیا کے ساتھ متنازع سٹریٹجک علاقے شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2020 میں کٹھمنڈو میں مظاہرین نے نئے نقشے والا بینر اٹھا رکھا ہے۔ نیپال کے ایوان زیریں نے 13 جون کو ایک نیا قومی نشان منظور کیا تھا جس پر ایک متنازع سیاسی نقشہ شامل ہے جس میں اس کے پڑوسی انڈیا کے ساتھ متنازع سٹریٹجک علاقے شامل ہیں

ان علاقوں کا تنازع ہے کیا؟

لیپولیکھ پاس انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں واقع ہے۔ لیپولیکھ کی یہ گزر گاہ ضلع پیتھوراگڑھ میں سطح سمندر سے تقریبا 17,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

لیپولیکھ ایک ہمالیائی گزرگاہ ہے جو اتراکھنڈ اور تبت، چین کی سرحد پر واقع ہے۔

یہ راستہ چین کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اہم سرحدی راستہ ہے۔

اس گزر گاہ کے جنوبی حصے پر انڈیا کا کنٹرول ہے لیکن نیپال بھی اس پر دعویٰ کرتا ہے۔

ایک معاہدے کے تحت دریائے کالی کو تقسیم کی لکیر مقرر کیا گیا تھا۔

نیپال کے مطابق یہ دریا لمپیادھورا سے شروع ہوتا ہے اور کالاپانی، لمپیادھورا، اور لیپولیکھ اس کی حدود میں آتے ہیں۔

انڈیا اس تشریح سے اختلاف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دریا مزید نیچے کی طرف شروع ہوتا ہے، جس سے یہ علاقے اتراکھنڈ کی حدود کے اندر ہی رہتے ہیں۔

لیپولیک پاس انڈیا اور تبت کے درمیان ایک اہم دروازہ ہے۔ سنہ 2020 میں انڈیا نے اس پاس تک جانے والی سڑک کو جدید بنایا، جس سے تاجروں، سکیورٹی فورسز اور زائرین کے لیے رابطہ کاری میں اضافہ ہوا۔

نیپال نے انڈیا کی جانب سے سڑکوں کی توسیع اور تجارت کی بحالی کی سخت مخالفت کی اور دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات باہمی بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے اصول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

سنہ 1962 میں انڈیا اور کے درمیان ہونے والے تنازعے کے بعد انڈیا نے سرحدی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کالاپانی میں اپنی سکیورٹی فورسز تعینات کی تھیں۔

نیپال نوٹ

،تصویر کا ذریعہX

انڈین صارفین کا سخت ردعمل

انڈین سوشل میڈیا صارفین اور نیوز سائٹس نے بڑے پیمانے پر اس کی مذمت کی ہے۔

ایک صارف نے لکھا ’اتراکھنڈ کے تاجروں کو نیپال کا نیا 100 روپے کا کرنسی نوٹ قبول نہیں کرنا چاہیے۔ جس میں ایک نقشہ شامل ہے جس میں کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھرا کو نیپالی علاقے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔‘

ایس کے چکربرتی نامی صارف نے لکھا کہ ’نیپال نے جمعرات کو 100 روپے کا ایک نیا ڈیزائن شدہ نوٹ جاری کیا جس میں ایک نظر ثانی شدہ قومی نقشہ شامل ہے جو کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھھورا کے علاقوں کو نیپال کا حصہ دکھاتا ہے۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے اس معاملے پر انڈیا کا سرکاری موقف بھی شیئر کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول عمل قرار دیا۔

ستنم خالصہ نامی سارف نے ایکس پر لکھا ' نیپال بھی چین کا دوست بن کر انڈیا کو آنکھیں دکھانے لگا ہے۔ نیپال نے انڈین علاقوں پر مشتمل نیا 100 روپے کا نوٹ متعارف کرایا۔ لیپولیکھ، لمپیادھرا اور کالاپانی کو اپنے حصے کے طور پر دکھا رہا ہے۔‘