نیپال کے نئے نقشے کی منظوری انڈیا کے ساتھ تعلقات پر کیسے اثر انداز ہوگی؟

انڈیا نیپال کا پرچم

نیپال میں حزب اختلاف کی اہم جماعت نیپالی کانگریس نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی آئینی ترمیم کی تجویز کو حمایت فراہم کی ہے جس کے بعد اب پارلیمنٹ میں اس کے منظور ہونے کا امکان قوی ہو گیا ہے۔

اس تجویز کے تحت نیپال کے نئے سیاسی نقشے میں لیپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی کو نیپال کی سرحد کے اندر دکھایا گیا ہے۔

انڈیا کے معروف اخبار 'دی ٹائمز آف انڈیا' میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حزب اختلاف کی رضامندی کے بعد اب اس آئینی ترمیم کو باقاعدہ طور پر پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے اثرات ہند نیپال تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔

یہ آئینی ترمیم نیپال کی پارلیمان میں کب پیش کی جائے گی اس کے بارے میں تو فی الحال کوئی معلومات نہیں ہیں لیکن خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ جلد ہی اسے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق پارلیمنٹ میں اس آئینی ترمیم کی منظوری سے وزیر اعظم اولی کے قوم پرست اور انڈیا مخالف رہنما ہونے کے امیج کو فروغ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیے

اسی کے ساتھ ہی پارٹی کے اندر ان کی گرفت مزید مضبوط ہوگی۔ اس تجویز کو پہلے ہی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، سماج وادی جنتا پارٹی نیپال، اور راشٹریہ جنتا پارٹی نیپال کی حمایت حاصل ہے۔ اس سے قبل لیپولیکھ میں انڈیا کی جانب سے سڑک کے باضابطہ افتتاح کی مخالفت نہ کرنے پر اولی کو اپنی پارٹی کے اندر پہلے ہی تنقید کا سامنا رہا تھا۔

در حقیقت چھ ماہ قبل انڈیا نے اپنا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا جس میں ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ اس نقشے میں، لمپیادھورا، کالاپانی اور لیپولیکھ کو انڈیا کا حصہ بتایا گیا ہے۔ نیپال ایک طویل عرصے سے ان علاقوں کا دعویدار ہے۔

نیپال کا کہنا ہے کہ مہاکالی (شاردا) دریا کا ماخذ دراصل لمپیادھورا ہے جو اس وقت ہندوستان کے اتراکھنڈ کا حصہ ہے۔ انڈیا اس کی تردید کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں انڈیا نے لیپولیکھ کے راستے مانسوروور جانے والے ایک راستے کا افتتاح کیا ہے جس سے نیپال ناراض نظر آیا ہے۔

انڈیا کے نئے نقشے میں نیپال کے تین مقامات

،تصویر کا ذریعہSURVEY OF INDIA

اخبار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کی انڈین حکومت کی متعدد کوششوں کے باوجود اولی کی قیادت میں نیپال کا چین کی طرف جھکاؤ بڑھا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ حکومت ہند کی اس مسئلے کے بارے میں سنجیدگی میں اضافہ نظر آیا ہے اور حکومت کا خیال ہے کہ لیپولیکھ میں سڑک کے افتتاح کو بڑی دھوم دھام سے نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

نیپال سے صحافی سوریندر پھویال نے بتایا کہ لیپولیکھ وہ علاقہ ہے جو چین، نیپال اورانڈیا کی سرحدوں سے ملتا ہے اور وہاں پر مبینہ 'تجاوزات' کے معاملے پر نیپال میں انڈیا مخالف مظاہرے بھی جاری ہیں جبکہ نیپال نے انڈیا کے اس اقدام پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت نے بھی ایک سخت سفارتی احتجاج درج کیا ہے اور لیپولیکھ پر نیپال کے دعوے کو اعادہ کیا ہے۔

نیپال کا دارچولا ضلع اتراکھنڈ کے دھارچولا کے مشرق میں دریائے مہاکالی کے کنارے واقع ہے۔ مہاکالی دریا نیپال اور انڈیا کی حدود کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔

نیپال حکومت کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اس کے لیپولیکھ علاقے میں 22 کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے۔

اس سے قبل انڈین آرمی چیف جنرل منوج مکنڈ ناروانے نے کہا تھا کہ 'نیپال کسی اور کے کہنے پر دھارچولا سے لیپولیکھ روڈ بنانے کی بھارت کی کوشش کی مخالفت کر رہا ہے۔'

نیپال نے ان کے بیان کی سخت مخالفت کی ہے اور نیپال کے وزیر دفاع ایشور پوکھریال نے ان کے بیان کو 'نیپال کی تاریخ کی توہین' قرار دیا ہے۔

اخبار کے مطابق ایسا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مسئلے پر نیپال کے بڑھتے ہوئے اقدامات کی وجہ سے اب دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔