نیتن یاہو اور مودی کی طالبان حمایت سے متعلق ’ڈیپ فیک ویڈیوز‘: ’یہ اے آئی ہے لیکن انڈیا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ڈھکا چھپا نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے دوران نیتن یاہو کی ایک جعلی ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انڈیا اور اسرائیل افغان طالبان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔
بعض صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کلپ کو شیئر کیا اور اسے پاکستان اور افغان طالبان کے مابین جاری مخاصمت کے تناظر میں انڈیا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ قرار دیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ نیتن یاہو نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم مودی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔
ڈیپ فیک اے آئی ویڈیو میں اسرائیلی وزیر اعظم سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ اُنھوں نے کہا کہ انڈین وزیراعظم کی درخواست پر اسرائیل افغان طالبان کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا بھی اعلان کر رہا ہے۔
لیکن بعد ازاں معلوم ہوا کہ انڈین وزیر اعظم نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ کوئی مشترکہ نیوز کانفرنس نہیں کی جبکہ دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے الگ الگ خطاب کیا جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نے افغانستان، طالبان اور پاکستان سے متعلق کوئی گفتگو ہی نہیں کی۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے دو روزہ دورے پر آنے والے انڈین وزیرِ اعظم نے بدھ کو اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کیا تھا، جہاں نیتن یاہو بھی موجود تھے۔ انڈین وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق یہ کسی بھی انڈین وزیراعظم کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے پہلا خطاب تھا اور اس خطاب میں وزیر اعظم مودی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی نے دونوں وزرائے اعظم کے خطاب کا تفصیلی جائزہ لیا تو اس میں افغانستان، طالبان یا پاکستان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے درحقیقت اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’اسرائیل بنیاد پرست اسلام کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہے۔‘ اُنھوں نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بنیاد پرستی اسلام کی جڑ ہے۔
ڈیپ فیک ویڈیو میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کا نام لیتے اور افغانستان کے لیے اربوں ڈالرز کی امداد کا اعلان کرتے دکھایا گیا لیکن درحقیقت مودی نے اپنی تقریر میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین وزیر اعظم کے آفس کے مطابق مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقل اور مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو پائیدار امن اور علاقائی استحکام میں معاون ہوں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’یہ اے آئی ویڈیو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہو رہے تھے اور بعض صحافی بھی انھیں شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے نیا چیلنج قرار دے رہے تھے۔
لیکن کسی معتبر میڈیا ادارے یا دونوں وزرائے اعظم کے سرکاری طور پر جاری کیے گئے بیانات میں ان باتوں کا تذکرہ نہ ہونے پر سوشل میڈیا صارفین بھی اسے ڈیپ فیک ویڈیو قرار دے رہے ہیں۔
اس سے قبل جب یہ کلپ تیزی سے وائرل ہوئے تو پاکستانی صارفین نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا اور اسرائیل، پاکستان کی مخالفت میں افغان طالبان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
سمیر مجاہد نامی صارف نے لکھا کہ نیتن یاہو نے افغان طالبان حکومت کے لیے کسی حمایت کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مودی کے ساتھ کوئی مشترکہ خطاب کیا کیونکہ کوئی معتبر رپورٹ اس کی تصدیق نہیں کرتی۔
آصف علی نامی صارف نے لکھا کہ یہ ویڈیوز اے آئی ہیں لیکن بالواسطہ یا براہ راست خطے کے معروضی حالات سے متعلق انڈیا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی نے بھی کہا کہ یہ اے آئی ویڈیو ہے اور اسے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے لکھا کہ یہ جعلی ویڈیو ہے اور جن اکاؤنٹس نے اسے شیئر کیا، ان کا درد قابل فہم ہے۔ افغانستان کو کھونا کوئی آسان سٹریٹجک درد نہیں۔ یہ گہرا زخم ہے اور بہت سے لوگوں کو طویل عرصے تک محسوس ہوتا رہے گا۔
انڈیا اور اسرائیل کی افغان طالبان سے متعلق پالیسی
حالیہ عرصے میں انڈیا اور افغان طالبان کے مابین تعلقات میں بہتری آئی اور گذشتہ برس افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے انڈیا کا دورہ بھی کیا تھا تاہم انڈیا نے تاحال افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
دوسری جانب اسرائیل کا افغان طالبان سے متعلق موقف ہمیشہ سخت رہا اور وہ اسے سخت گیر بنیاد پرست گروپ قرار دیتا ہے۔
اسرائیلی پارلیمان کے رُکن امیت حلوی نے انڈین وزیر اعظم کے دورے کے دوران افغان اخبار افغانستان انٹرنیشنل کو انٹرویو میں کہا کہ افغان طالبان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈیا کو افغان طالبان کی حمایت ترک کر دینی چاہیے بلکہ اس کے مخالف دھڑوں کی حمایت کرنی چاہیے۔
طالبان سے متعلق انڈیا کی پالیسی کے سوال پر حلوی کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کو اپنی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے کیونکہ اس پالیسی سے انڈیا کو سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہX/@SamiYousafzaii
ڈیپ فیک ویڈیو کا کیسے پتہ چل سکتا ہے؟
یہ پہلا موقع نہیں جب ڈیپ فیک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا ہوا۔ اس سے قبل گذشتہ برس روسی صدر پوتن کی بھی ایک ڈیپ فیک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس پر روسی سفارت خانے کو وضاحت دینا پڑی تھی۔
سوشل میڈیا پر روسی صدر کی ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں اُنھیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
ڈیپ فیک ویڈیو میں روسی صدر کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ ’پاکستان، افغانستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے باز رہے۔‘
جعلی ویڈیو میں روسی صدر یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اب اگر افغانستان پر حملہ کیا تو جواب صرف کابل سے نہیں ملے گا۔
ویڈیو میں روسی صدر کی جانب سے افغان طالبان کی مکمل حمایت اور اُنھیں کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی گئی۔
یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسے کئی مستند اکاؤنٹس کی جانب سے بھی شیئر کیا گیا اور تشویش کا اظہار کیا گیا تھا لیکن بعدازاں اسلام آباد میں روسی سفارت خانے نے اسے جعلی قرار دیا تھا۔
آسان زبان میں اگر کہا جائے تو ڈیپ فیک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے کسی ایک شخص کے چہرے پر کسی دوسرے شخص کا چہرہ اور آواز لگا دی جاتی ہے۔
تو اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ فوٹو شاپ یا اس طرح کے دیگر ایڈیٹنگ سافٹ ویئر بھی تو یہی کام کرتے ہیں تو کیا وہ بھی ڈیپ فیک ہیں یا نہیں۔
تو جواب ہے نہیں۔۔۔
فوٹو شاپ جیسے سافٹ ویئرز کی مدد سے ہم اکثر خود ایک تصویر کو ایڈیٹ کرتے ہیں جبکہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے سافٹ ویئر فراہم کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے ایسا کرنا سیکھتا ہے، جو تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں ہوتا ہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص مائیکل جیکسن کی ڈیپ فیک ویڈیو بناتا ہے تو وہ مائیکل جیکسن کی متعدد تصاویر اور ویڈیوز جمع کرے گا اور ان کی مدد سے ڈیپ فیک بنانے والا سافٹ ویئر ان کے چہرے کی حرکت اور تاثرات کا معائنہ کرے گا۔
جب کوئی شخص مائیکل جیکسن کی شکل اپنے چہرے پر لگائے گا تو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نہ صرف اس کے چہرے کو مائیکل جیکسن کے چہرے سے بدل دے گی بلکہ مذکورہ شخص کے چہرے کی حرکت اور تاثرات کو بھی مائیکل جیکسن کے چہرے اور تاثرات جیسا بنا دے گی۔
ویڈیو جتنی لمبی ہوگی اے آئی کی گڑبڑ کا امکان اتنا ہی زیادہ ہے۔
آپ ایک سے زیادہ اے آئی ویڈیوز کو ایک ساتھ جوڑ سکتے ہیں لیکن آپ کو ہر آٹھ سیکنڈ یا اس سے زیادہ میں کٹ نظر آئے گا۔
دوسرے دو عوامل ریزولوشن اور معیار، ایک دوسرے سے وابستہ ہیں لیکن مختلف ہیں۔
ریزولوشن سے مراد کسی تصویر میں پکسلز کی تعداد یا سائز ہے جبکہ کمپریشن ایک ایسا عمل ہے جو تفصیل کو نکال کر ویڈیو فائل کے سائز کو کم کرتا ہے۔ اس میں اکثر بلاک والے پیٹرن اور چیزوں کے کنارے دھندلے ہو جاتے ہیں۔












