سام سنگ کے نئے فون ایس 26 میں ’پرائیویسی ڈسپلے‘ کا انوکھا فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

سام سنگ، ایس 26، پرائیویسی ڈسپلے

،تصویر کا ذریعہSAMSUNG

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

سام سنگ نے اپنا جدید سمارٹ فون گلیکسی ایس 26 لانچ کیا ہے جس کی قیمت سابقہ ماڈلز سے قدرے زیادہ ہے۔

اس فون کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ’پرائیویسی ڈسپلے‘ کا فیچر دیا گیا ہے۔ اس کی مدد سے آپ یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص آپ کی سکرین کو نہ دیکھ سکے۔

سام سنگ ایس 26 سیریز 11 مارچ سے فروخت ہونا شروع ہو گی۔

خیال رہے کہ میموری چپ کی طلب میں اضافے کے بعد الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ پڑا ہے۔

سام سنگ نے گذشتہ ماہ متنبہ کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے کے بعد چِپ کی قلت بڑھ رہی ہے اور اس کا دباؤ سمارٹ فونز اور ڈسپلے یونٹس پر پڑ رہا ہے۔

میٹا، گوگل اور مائیکرو سافٹ جیسی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کا انفراسٹرکچر تعمیر کرنا چاہتی ہیں۔ یوں میموری چِپ کی طلب بڑھی ہے۔ اب چِپ بنانے والی کمپنیاں صارفین کی ڈیوائسز کی بجائے ڈیٹا سینٹر کے لیے زیادہ منافع بخش چیزوں کا رُخ کر رہی ہیں۔

سام سنگ ایس 26

،تصویر کا ذریعہEPA

تو کیا آئی فون کی قیمتیں بھی بڑھیں گی؟ اس حوالے سے ایپل کے سربراہ ٹِم کُک نے جنوری میں بتایا تھا کہ انھیں میموری چِپ کی قیمتوں میں اضافے کی توقع تھی تاہم انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا کہ آیا ایپل بھی اس کے ردعمل میں قیمتیں بڑھائے گا۔

گذشتہ برس چین اور انڈیا میں آئی فون کی طلب بڑھی تھی جس سے سام سنگ کو نقصان جھیلنا پڑا تھا۔

پرائیویسی ڈسپلے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فون کا وہ فیچر جس پر سوشل میڈیا صارفین بھی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں اس کا نام پرائیویسی ڈسپلے ہے۔ یہ ایک آپشن کی صورت میں فون کے ڈراپ ڈاؤن مینیو میں موجود ہے۔

سام سنگ کے مطابق ’پکسل لیول‘ پر پرائیویسی نئی پیشرفت ہے جو صارفین کے تحفظ کے طریقے کو بنیادی طور پر بدل دیتی ہے۔

روزمرہ حالات جیسے سفر، ریستوران یا دفتر میں جب آپ فون استعمال کرتے ہیں تو آپ اپنی ذاتی معلومات کی رازداری یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

سام سنگ کے مطابق ’روشنی کے پھیلاؤ کو پکسل کی سطح پر کنٹرول کرتے ہوئے یہ ڈسپلے صارف کے لیے روزمرہ استعمال میں مواد کو واضح، چمکدار اور آرام دہ رکھتا ہے جبکہ دوسروں کی جانب سے دیکھے جانے کے امکانات کو محدود کرتا ہے۔‘

روایتی پرائیویسی فلمز کے برعکس اگر آپ یہ فیچر بند رکھتے ہیں تو اطراف سے سکرین کو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے مگر جب اسے آن کرتے ہیں تو اطراف سے ڈسپلے سیاہ رہتا ہے، یعنی کوئی آپ کے پیغامات نہیں پڑھ سکتا۔

صارفین اپنی سہولت کے مطابق یہ منتخب کر سکتے ہیں کہ یہ خصوصیت کب آن ہو، جیسے پِن یا پاس ورڈ درج کرتے وقت یا مخصوص ایپس کھولنے پر۔ آپ حالات کے مطابق پرائیویسی لیول کو ایڈجسٹ بھی کر سکتے ہیں۔

جزوی اور مکمل پرائیویسی ڈسپلے کے ذریعے آپ سکرین کو جب چاہیں اور جتنا چاہیں دھندلا کر سکتے ہیں۔

پرائیویسی ڈسپلے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تصاویر اور روزمرہ اے آئی کا آسان استعمال

دریں اثنا گوگل کا کہنا ہے کہ ایس 26 وہ سمارٹ فون ہے جس میں گوگل کے سب سے جدید اے آئی ٹولز دستیاب ہوں گے۔ مثلاً آپ جیمنائی سے کہہ سکتے ہیں کہ گھر واپسی کے لیے رائیڈ بُک کریں، گروسیری خریدیں یا من پسند کھانا آرڈر کریں۔ جیمنائی کو دیے گئے کسی بھی کام کی آپ خود براہ راست نگرانی بھی کر سکتے ہیں۔

آپ کسی بھی تصویر پر دائرہ بنا کر اسے گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں، جیسے کسی انسٹاگرام ماڈل کے کپڑے۔

گوگل کے مطابق اِن فونز میں اے آئی کا ایسا فیچر بھی ہے جو آپ کو بتا سکتا ہے کہ آیا کوئی موصول ہونے والی کال سکیمر کی ہے۔

دریں اثنا اس فون میں ’فوٹو اسسٹ‘ کا فیچر بھی ہے جس کے ذریعے صارفین اے آئی سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کی تصویر میں کوئی چیز تبدیل کریں، جیسے بیک گراؤنڈ، کپڑوں کا رنگ وغیرہ۔

سام سنگ ایس 26

،تصویر کا ذریعہGoogle

اس کی قیمت کیا ہے؟

سام سنگ گلیکسی ایس 26 کو ابتدائی طور پر جنوبی کوریا اور امریکہ میں لانچ کیا گیا ہے۔

اس میں گوگل کے اے آئی اسسٹنٹ جیمنائی اور سام سنگ کے اے آئی اسسٹنٹ بکسبی کے اضافی فیچرز ہیں۔

سام سنگ نے ایس 26 کے کچھ ماڈلز میں کوالکوم کی بجائے اپنے خود کے ایگسینوس پروسیسر نصب کیے ہیں جس سے ماہرین کے مطابق اس کے منافع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں گلیکسی ایس 26 کی قیمت 899 ڈالر سے شروع ہوتی ہے جو سابقہ ماڈل سے 4.7 فیصد زیادہ ہے۔ ایس 26 پلس کی قیمت 1099 ڈالر ہے، جو سابقہ ماڈل سے 10 فیصد زیادہ ہے جبکہ ایس 26 الٹرا کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں۔

جنوبی کوریا میں بیس ماڈل کی قیمت میں 8.6 فیصد اضافہ ہوا۔