’میرے عرب چچا‘: ایپسٹین فائلز میں قطر اور اسرائیل کو قریب لانے کی کوششوں کا احوال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, حنان عبدالرزاق
- عہدہ, بی بی سی نیوز عربی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
برطانوی دارالحکومت لندن کے مرکز میں واقع مشہور ہائیڈ پارک کے سامنے دنیا کی پرتعیش رہائشی عمارتوں میں سے ایک میں، قطر کے سابق وزیرِ اعظم شیخ حمد بن جاسم نے 20 دسمبر 2018 کو اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم اور ایہود باراک سے ملاقات کی تھی۔
اس غیر اعلانیہ ملاقات کا تعلق بدنام جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تھا جنھیں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے جرم میں سزا ہوئی تھی۔
حال ہی میں امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین فائلز میں سے 30 لاکھ سے زیادہ دستاویزات جاری کی ہیں۔
اب ایپسٹین فائلز کے ذریعے قطر اور اسرائیلی قیادت کے درمیان تعلق کا پوشیدہ پہلو سامنے آیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق باراک اور بن جاسم کے درمیان قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے لیے سکیورٹی خدمات فراہم کرنے کے امکان پر بحث ہوئی، جو باراک کی سربراہی میں چلنے والی کیریبین کمپنی کے ذریعے ممکن تھی۔

،تصویر کا ذریعہU.S. Department of Justice
ملاقات کی اہمیت
یہ ملاقات اُس وقت ہوئی جب خلیجی بحران عروج پر تھا۔
2017 میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے قطر پر اسلامی گروہوں، خصوصاً اخوان المسلمین، کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے، جس سے قطر مکمل طور پر علاقائی تنہائی کا شکار ہو گیا۔
چند ہفتے قبل، نومبر 2018 میں غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی ہوئی جسے مصر کی ثالثی سے روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قطر نے کئی برسوں سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں اہم ثالثی کردار ادا کیا۔
اسرائیل ماضی میں قطر پر حماس کی مالی معاونت کا الزام بھی لگا چکا ہے۔
گذشتہ برس صورتحال اُس وقت مزید خراب ہوئی جب ایک اسرائیلی فضائی حملے میں قطر کی سرزمین پر موجود حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ دوحہ نے اسے ’بے احتیاطی‘ اور ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہU.S. Department of Justice
ایپسٹین سے پرانے روابط
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایپسٹین فائلز کے مطابق وہ کم از کم سنہ 2010 سے بن جاسم کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ بعض خط و کتابت میں وہ انھیں ’دوست‘ بھی کہتے تھے۔
1992 سے 2013 تک شیخ حمد بن جاسم قطر کے وزیرِ خارجہ رہے۔ وہ 2007 سے 2013 تک قطر کے وزیرِ اعظم بھی رہے۔
اگرچہ دونوں کے درمیان براہِ راست پیغامات نہیں ملتے مگر شیخ حمد بن جاسم کا نام جاری شدہ فائلز میں 300 سے زیادہ مرتبہ سامنے آتا ہے۔
ایپسٹین انھیں کہیں ’ایچ بی جے‘ اور کہیں ’میرے عرب چچا‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ خلیجی بحران کے دوران وہ انھیں ’قطر میں واحد بالغ‘ بھی کہتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایپسٹین فائلز میں کسی شخصیت کا ذکر یا نام آنا ان کے خلاف کسی قانونی خلاف ورزی کا ثبوت نہیں۔
ایپسٹین اور قطر کے شاہی خاندان کے رکن جابر بن یوسف آل ثانی کے درمیان بھی گہرے دوستانہ تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔ ایپسٹین فائلز میں جابر آل ثانی کا نام چار ہزار سے زیادہ بار آیا۔
ایہود باراک اور ایپسٹین کے تعلقات بھی برسوں پر محیط تھے جن میں رسمی ملاقاتیں، کاروباری منصوبے، تہواروں پر ایک دوسرے کو پیغامات، حتیٰ کہ باراک اور ان کی اہلیہ کا ایپسٹین کے نیویارک اپارٹمنٹ میں قیام بھی فائلوں میں درج ہے۔
باراک کا نام جاری دستاویزات میں نو ہزار سے زیادہ بار آیا۔

،تصویر کا ذریعہU.S. Department of Justice
قطری اور اسرائیلی قیادت کے درمیان ملاقات کا انتظام
ملاقات لندن میں بن جاسم کی رہائش گاہ پر طے ہوئی۔
ایپسٹین نے باراک کو بتایا کہ وہ ’ابھی بن جاسم سے مل کر نکلے ہیں‘ اور جابر آل ثانی کے ذریعے ملاقات ترتیب دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔
ایپسٹین نے اپنے ’دوست‘ ایہود باراک کو اپنے ’عرب بھائی‘ جابر آل ثانی سے ملوایا۔
باراک نے ملاقات میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ دنیا اور خطے میں ’تشویشناک واقعات‘ بات چیت کی ضرورت پیدا کر رہے ہیں۔
ملاقات کے بعد جنوری 2019 میں جابر نے باراک سے اس سکیورٹی کمپنی کی مزید تفصیلات طلب کیں، جس کا ذکر میٹنگ میں کیا گیا تھا۔
باراک نے اپنی کیریبین کمپنی کی جانب سے پریزینٹیشن بھیجی جس میں 2022 ورلڈ کپ کی سکیورٹی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی گئی۔
باراک نے ساتھ ہی تجویز کیا کہ معاہدہ کسی یورپی کمپنی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل کا نام سامنے نہ آئے۔
گفتگو فروری 2019 تک جاری رہی۔
جابر نے اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی تفصیلات بھی طلب کیں جو باراک نے الگ سے فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ ملاقات کے بعد ایہود باراک نے ایک ای میل میں کیریبین کمپنی کے سی ای او امیر الیخائی کو بھی گفتگو میں شامل کیا تاکہ وہ مطلوبہ تکنیکی معلومات فراہم کر سکیں۔
جابر نے ڈیمیٹریس ڈومسٹیکاس کا ذکر بھی کیا جو لِسِز ویل نامی انجینیئرنگ گروپ کے مینجنگ ڈائریکٹر تھے، جو قطر میں اہم سکیورٹی و انفراسٹرکچر منصوبوں مثلاً السد سٹیڈیم کے نگرانی نظام پر کام کر چکے تھے۔
ملاقات طے ہونے سے قبل ایپسٹین نے باراک سے کہا تھا کہ وہ قطر کو یقین دلائیں کہ وہ ’موساد کے لیے کام نہیں کرتے۔‘
قطر، اسرائیل تعلقات میں اتار چڑھاؤ
قطر اُن خلیجی ریاستوں میں شامل نہیں جنھوں نے اسرائیل سے سرکاری سطح پر تعلقات قائم کیے ہیں مگر 1996 سے 2009 تک دونوں کے درمیان تجارتی دفاتر کئی بار کھلتے اور بند ہوتے رہے۔
مبصرین کے مطابق اسرائیل کی خلیجی ریاستوں کے ساتھ انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون نئی بات نہیں۔
ان معاملات کو اکثر خفیہ رکھ کر طے کیا جاتا ہے تاکہ عوامی دباؤ یا سیاسی تنازع سے بچا جا سکے۔
ایپسٹین نے 2017 میں جابر کو مشورہ بھی دیا تھا کہ قطر بحران کے حل کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غور کریں، جسے جابر نے نظرانداز کر دیا۔
2017 میں ایپسٹین نے جابر آل ثانی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بحران سے نکلنے کے لیے قطر کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’انڈین وزیرِاعظم مودی نے بھی اسرائیل میں امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ’ناچ گانا‘ کیا تھا تاہم انڈیا نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
ایپسٹین نے جابر آل ثانی کو مشورہ دیا کہ وہ ٹرمپ کو متاثر کرنے کے لیے امریکی سرکاری اداروں سے رابطہ نہ کریں کیونکہ اس وقت کے وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن زیادہ بااثر نہیں بلکہ اسرائیل اور ایوانکا ٹرمپ اس معاملے میں حقیقی اثر رکھتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہU.S. Department of Justice
مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر جیفری آرونسون کے مطابق خلیجی ریاستیں برسوں سے اسرائیلی انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی کی بڑی خریدار رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کا تعاون ’ابراہیمی معاہدوں‘ سے بھی پہلے سے موجود ہے اور اسے عموماً خفیہ رکھا جاتا ہے تاکہ عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔
آرونسون کے مطابق اسرائیلی کمپنیاں اکثر اپنی شناخت کو چھپانے کے طریقے بھی فراہم کرتی ہیں تاکہ خلیجی ممالک اعتماد کے ساتھ خفیہ ڈیلز کر سکیں۔
کیریبین کمپنی کیا ہے؟
یہ کمپنی 2015 میں قائم ہوئی، جسے سابق اسرائیلی فوجی افسران بشمول امیر الیخائی نے تشکیل دیا۔
کمپنی جدید ایمرجنسی سروسز، جیو لوکیشن، ویڈیو شیئرنگ اور سکیورٹی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے۔
ایہود باراک اس کے چیئرمین اور بڑے شیئر ہولڈر تھے۔
ایپسٹین نے 2015 میں اپنی کمپنی کے ذریعے کیریبین میں سرمایہ کاری کی تھی۔ گرفتاری سے چند ہفتے قبل اس نے کمپنی کے پریمیم بانڈز میں کروڑوں ڈالر کی مزید سرمایہ کاری بھی کی۔
ایپسٹین کی گرفتاری کے بعد باراک نے عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو امیر الیخائی کا کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی سرمایہ کاری کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
کیا قطر سے معاہدہ ہوا؟
دستیاب خط و کتابت سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ قطر اور کیریبین کمپنی کے درمیان کوئی باضابطہ معاہدہ ہوا یا نہیں۔
کیریبین کمپنی کے سی ای او، ڈومسٹیکاس اور باراک سے اس بارے میں بی بی سی کو کوئی جواب نہیں ملا۔
باراک کے دفتر نے صرف اتنا کہا کہ ورلڈ کپ سکیورٹی میں خدمات دینے کا خیال ’ابتدائی‘ نوعیت کا تھا اور ’کبھی مذاکرات یا معاہدے تک نہیں پہنچا۔‘
بی بی سی نے شیخ حمد بن جاسم اور جابر آل ثانی سے بھی رابطہ کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔













