علیمہ خان کو پی ٹی آئی کے وکلا سے شکوے: ’پارٹی قیادت میں تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں‘

علیمہ خان، عمران خان کی بہن

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مطالعے کا وقت: 9 منٹ

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت، علاج اور مقدمات کی پیروی جیسے معاملات ان کے خاندان اور پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات کا باعث بن رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی بہن علیمہ خان کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی قیادت میں موجود بعض وکلا ان کے بھائی کی رہائی کے لیے کوششیں نہیں کر رہے۔

خیال رہے کہ علیمہ خان نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ عمران خان کے علاج کے بارے میں پارٹی قائدین نے انھیں اعتماد میں نہیں لیا۔

مگر اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان کے علاج میں تاخیر کی ذمہ دار خود ان کی بہن علیمہ خان ہیں۔

جب سے عمران خان جیل میں ہیں تو ان ہی کی ہدایت پر پارٹی کی باگ ڈور بعض وکلا کے ہاتھ میں ہے۔ سنہ 2024 کے الیکشن سے قبل پی ٹی آئی نے وکلا کو پارٹی ٹکٹس جاری کیے تھے جبکہ عمران خان کی عدم موجودی میں پارٹی کا چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بنایا گیا تھا۔

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے وکلا اور اہل خانہ کی محدود ملاقاتوں کی وجہ سے یہ تاثر ملا کہ علیمہ خان اور پارٹی قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

واضح رہے کہ نو مئی کو توڑ پھوڑ کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کو خیرباد کہنے والے کے بعض سابق رہنما، جیسے فواد چوہدری، یہ الزامات لگا چکے ہیں کہ بظاہر تحریک انصاف کی موجودہ قیادت ’چاہتی ہی نہیں کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں۔‘

’ٹکٹ لینے والے وکلا کدھر ہیں؟‘ علیمہ خان کا سوال

بدھ کے روز اپنی پریس کانفرنس میں علیمہ خان نے تحریک انصاف کے رہنماؤں پر سوال اٹھائے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ ’محسن نقوی ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے علاج میں تاخیر ہوئی، پارٹی والے اسے چیلنج کیوں نہیں کر رہے؟

انھوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا عمران خان کے علاج پر بریفنگ کے لیے جانے کا علم بھی انھیں محسن نقوی کے ذریعے ہی ہوا ورنہ ’گوہر صاحب نے تو ہمیں نہیں بتایا۔‘

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام لگایا تھا کہ علیمہ خان عمران خان کے علاج میں رکاوٹ ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے رابطہ کیا گیا اور کہا گیا کہ آئیں اور تمام عمل اپنی آنکھوں سے دیکھیں تاہم محسن نقوی کے مطابق ’ہم انتظار کرتے رہے لیکن بیرسٹر گوہر کا جواب آیا کہ پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے، وہ نہیں آ سکیں گے۔‘

اپنی پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کے معائنے اور علاج کے بعد حکومت کی دعوت پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر اسلام آباد کے پمز ہسپتال آئے اور بریفنگ لی۔

وزیر داخلہ کے مطابق بیرسٹر گوہر کو ’اپنے ڈاکٹرز‘ ساتھ لانے کی پیشکش بھی کی گئی تھی لیکن انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’ڈاکٹرز تو لاہور میں ہیں۔‘

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جب حکومت کی دعوت پر راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر پمز ہسپتال آئے تو ’تقریباً 45 منٹ تک ڈاکٹرز نے اور 45 منٹ تک ہی پی ٹی آئی رہنماؤں نے بریفنگ لی۔ اس دوران ایک ایک چیز پوچھی گئی۔‘

وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بریفنگ کے بعد ’ان کے ڈاکٹرز نے عمران خان کے علاج کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ اگر ہم نے بھی کرنا ہوتا تو یہی علاج کرتے۔ سیاسی رہنماؤں نے بھی کہا کہ ہم مطمئن ہیں۔‘

محسن نقوی نے الزام لگایا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے واپس جانے کے بعد ’علیمہ خان نے کہا کہ اگر ہم نے یہ (علاج بہترین ہونے والی بات) مان لیا تو ایشو ختم ہو جائے گا۔ انھی (علیمہ خان) کی وجہ سے تین دن میڈیکل چیک اپ نہیں ہو سکا۔‘

محسن نقوی کا یہ دعویٰ کہ عمران خان کے علاج کے سلسلے میں تحریک انصاف تو ان کے ساتھ تھی جبکہ علیمہ خان رکاوٹ بنی رہیں، پر علیمہ خان کا کہنا تھا ’ہمیں تو پارٹی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کس چیز میں ساتھ تھے۔‘

علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے انھیں تحریک انصاف کوئی بھی کوشش کرتی نظر نہیں آ رہی۔

علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنعلیمہ خان نے سوال کیا کہ عمران خان نے جن وکلا کو پارٹی کے ٹکٹ دیے تھے وہ آج کدھر ہیں؟

انھوں نے نام لے لے کر سوال کیا کہ عمران خان نے جن وکلا کو پارٹی کے ٹکٹ دیے تھے وہ آج کدھر ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ علیمہ خان نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے بھی سوال کیا کہ ’عمران خان کی صحت کو جو فارغ کروا دیا، تو گوہر صاحب کدھر ہیں اس وقت، جو چیئرمین ہیں۔‘

علیمہ خان نے مزید کہا کہ اگر وہ عمران خان کے لیے کوشش کر سکتی ہیں تو ’جن کے پاس عہدے ہیں، وہ بھی آ کر بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ عمران خان پر کوئی احسان نہیں کر رہے۔ اگر نہیں بوجھ اٹھا سکتے تو سائیڈ پر ہو جائیں۔‘

پی ٹی آئی وکلا کا موقف

عمران خان کی بہن نے پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے جن وکلا کے نام لیے، ان میں سے بیرسٹر گوہر علی خان، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی بخاری کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

علیمہ خان کے الزامات کے جواب میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ پارٹی اختلافات کو پارٹی کے اندر ہی حل کر لیا جائے تاکہ تنازعات جنم نہ لیں۔

بدھ کے روز جیو ٹی وی کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اینکر حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’میرے سمیت تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کم از کم 17 دفعہ ہائی کورٹ جا چکے ہیں، سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیتے رہے ہیں، آج بھی میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے گیا تھا۔ ہم سب عمران خان کی رہائی کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔‘

لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ عمران خان پر مختلف کیس ہیں اور ہر وکیل اپنے اپنے کیس کی پیروی کر رہا ہے۔ دنیا نیوز کے پروگرام میں اینکر مہر بخاری سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’بشریٰ بی بی کو شاید یہ تاثر ملا کہ سبھی وکلا مل کر تمام کیسز کی پیروی کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ جس وکیل کو جس کیس کا مختار نامہ دیا گیا ہو، وہ صرف اسی کیس میں بحث کر سکتا ہے۔

انٹرویو میں لطیف کھوسہ نے کہا ’میرے ذمے جو بھی کیس تھے ان میں عمران خان کو 100 فیصد ریلیف دلایا۔‘

بیرسٹر علی بخاری نے اپنے جوابی مؤقف میں کہا کہ شاید علیمہ خان کو درست معلومات سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔

ٹیلی وژن چینل ہم نیوز پر عاصمہ شیرازی کو انٹرویو میں علی بخاری کا کہنا تھا کہ ’وہ انسداد دہشت گردی عدالت میں اپنے کیس کے سلسلے میں پیش ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ کورٹ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ میں بھی پیش ہوئے۔ علی بخاری کے مطابق ’میں ہر جگہ اپنی ڈیوٹی پوری کرتا ہوں۔‘

پی ٹی آئی کا ’وکلا گروہ‘ نشانے پر کیوں؟

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صحافی اور تجزیہ کار ماجد نظامی نے تحریک انصاف میں حالیہ اختلافات کی وجہ پر اپنی رائے دی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف میں واضح حکمت عملی کا فقدان ہے، پارٹی اور خاندان اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ عمران خان کی رہائی کی حکمت عملی کیا ہو گی، یا کیا ہونی چاہیے۔

ماجد نظامی کے مطابق پاکستان میں یہ رجحان موجود ہے کہ جماعت کے اندر لیڈر شپ کے خلا کو پر کرنے کے لیے اکثر اوقات خاندان سے ہی لوگ منتخب کیے جاتے ہیں۔

بی سی سی اردو کے نمائندہ عمر دراز ننگیانہ سے گفتگو میں ماجد نظامی نے کہا کہ ’اگرچہ ابھی تک پی ٹی آئی کے اندر باضابطہ طور پر یا تحریری طور پر ایسا کچھ نہیں لیکن عملی طور پر بہت سی چیزیں علیمہ خان کو منتقل ہو چکی ہیں۔‘

یاد رہے کہ اس سے پہلے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ علیمہ خان کو عمران خان سے ملنے ہی نہ دیتے۔

تحریک انصاف میں اس وقت کون سے گروہ سرگرم ہیں، اس بارے میں تجزیہ کار ماجد نظامی بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کا ایک گروہ سوشل میڈیا کو اپنے زیرِ اثر رکھتا ہے اور جارحانہ سیاست پر یقین رکھتا ہے۔

’ان کو پہلے دن سے وکلا کے گروہ سے یہی مسئلہ تھا کیونکہ الیکشن 2024 سے پہلے یہ بات ہوئی تھی کہ چونکہ پارٹی مشکل میں ہے اس لیے وکلا پارٹی کی قیادت کریں گے۔ اسی حکمت عملی کے تحت بیرسٹر گوہر کو سربراہی دی گئی تھی۔‘

’لیکن جارحانہ سوچ رکھنے والے اور سوشل میڈیا ہینڈل کرنے والے گروہ کے مطابق یہ حکمت عملی ٹھیک نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک وقت تک ان (وکلا) کا استعمال کرنا ٹھیک تھا لیکن اب انھیں تبدیل کر دینا چاہیے۔‘

ماجد نظامی کہتے ہیں کہ چونکہ پارٹی کی جانب سے وکلا قیادت کو تبدیل نہیں کیا جا رہا، پارٹی کے اندر بہت سے گروپس ہیں اور عموماً وکلا کا گروہ ان سبھی کے نشانے پر ہوتا ہے۔

کیا پی ٹی آئی قیادت میں تبدیلی ہو سکتی ہے؟

پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار حبیب اکرم اس بات سے متفق ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت ’عارضی ارینجمنٹ کے تحت‘ وکلا کے حوالے کی گئی تھی کیونکہ اس وقت بہت سے رہنما پارٹی چھوڑ چکے تھے یا انھیں نکالا جانے لگا تھا لیکن ان کے بقول یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ ان وکلا کی عوامی سطح پر پذیرائی نہیں تھی اور نہ ہی وہ عوامی سطح پر لوگوں کو منظم کر سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کے بعد عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف نہیں ملا اور ان کا وکلا کو لانے والا فیصلہ اپنی اہمیت کھو چکا۔

حبیب اکرم کے مطابق یہ تاثر بھی بنا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت نے پوزیشن لی جبکہ اس کا اختیار اہل خانہ کے پاس ہونا چاہیے۔

ان کی رائے ہے کہ معاملات جہاں تک پہنچ چکے ہیں تو اب پارٹی قیادت میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

’جو لوگ ایم این اے یا سینیٹر بن چکے ہیں، وہ تو اپنے عہدوں پر رہیں گے۔۔۔ (علیمہ خان کے بیان کے بعد) وہ غیر منتخب لوگ جو پارٹی کے عہدوں پر فائز ہیں ان کی تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ یہ ممکن ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد پارٹی قیادت میں تبدیلی ہو جائے۔

اس سوال پر کہ کیا اب عمران خان کی فیملی بھی پی ٹی آئی قیادت میں سامنے آ سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ نظریاتی اعتبار سے سابق وزیر اعظم اس کے مخالف رہے ہیں لیکن اب چونکہ معاملہ ان کی صحت کا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ان کی فیملی بھی پارٹی قیادت میں صف اول پر دکھائی دے۔

حبیب اکرم کہتے ہیں کہ آخری بار عمران خان نے علیمہ خان سمیت اپنی فیملی کو سیاست سے دور رکھا تھا تاہم اب ان کے بقول علیمہ خان اور دیگر بہنوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور اسے لیے ’عمران خان کے ووٹرز کا ان کے ساتھ تعلق ہے۔‘

’اس بار معاملہ عمران خان کی صحت کا ہے، جو خالصتاً اب ان کی فیملی کا ذاتی معاملہ ہے۔‘