’انڈیا کے معاملے میں چین جیسی غلطی نہیں کریں گے:‘ امریکی نائب وزیرِ خارجہ کا بیان اور مودی حکومت پر تنقید

تصویر

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنوزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو نئی دہلی میں رائسینا ڈائیلاگ 2026 کے موقع پر امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو سے ملاقات کی
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک انڈیا کے معاملے میں وہ غلطی نہیں کرے گا جو 20 سال پہلے چین کے ساتھ کی گئی تھی۔

یہ بات امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے انڈیا اور امریکہ کے مابین تجارتی معاملات کے تناظر میں کہی ہے۔

کرسٹوفر لینڈاؤ جو ’رائسینا ڈائیلاگ 2026‘ میں شرکت کے لیے انڈیا آئے تھے، نے کہا کہ امریکہ، انڈیا کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے میں دو دہائیاں قبل چین کے ساتھ کی گئی غلطیوں کو نہیں دہرائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ نے چین کے ساتھ سابقہ ​​تجارتی معاہدوں سے بہت سے سبق سیکھے ہیں اور اب انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے مزید وضاحت ہو گی۔

گذشتہ ماہ یہ اطلاع ملی تھی کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان ایک جامع تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک اس تجارتی معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد امریکہ کی طرف سے عائد ٹیرف کی شرح کو کم کرنا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بدھ کو نئی دہلی میں ’رائسینا ڈائیلاگ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کرسٹوفر لینڈو نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً تکمیل کے قریب ہے اور ’ہم اس کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ یہ معاہدہ واقعی تقریباً لامحدود امکانات کے دروازے کھولنے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ ہم انڈیا کے ساتھ اقتصادی اور کاروباری مواقع پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے بہت پُرجوش ہیں۔‘

کرسٹوفر لینڈو نے خبردار کیا کہ ’ہم انڈیا کے ساتھ وہی غلطی نہیں دہرائیں گے جو ہم نے 20 سال پہلے چین کے ساتھ کی تھی۔ یعنی ہم آپ کو تمام منڈیوں میں توسیع کی اجازت دیں اور پھر ہمیں پتہ چلے کہ آپ بہت سے شعبوں میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ جو بھی قدم اُٹھاتا ہے وہ اس کے عوام کے لیے منصفانہ ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے لوگوں کے سامنے اسی طرح جوابدہ ہونا ہے جس طرح انڈین حکومت کو اپنے شہریوں کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کرسٹوفر لینڈو نے انڈیا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’اس صدی میں کئی طریقوں سے انڈیا کا عروج دیکھا جائے گا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے مفاد میں ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ شراکت داری کرنا انڈیا کے بھی مفاد میں ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں بڑی صلاحیت ہے اور یہ اب دُنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔‘

'انڈیا کے پاس مضبوط معاشی، انسانی اور دیگر وسائل موجود ہیں جو اسے ان ممالک میں شامل کرتے ہیں جو اس صدی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ امریکہ اس عمل کا حصہ بننا چاہتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا: ’میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ 21ویں صدی میں جب ہم دنیا کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کن تعلقات کو آگے بڑھانا چاہیے تو انڈیا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اور میں ایک بار پھر واضح کر دوں کہ میں یہاں کسی سماجی خدمت یا خیراتی مقصد سے نہیں آیا۔‘

’میں یہاں ہوں کیونکہ یہ ہمارے ملک کے مفاد میں ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ انڈیا کے بھی مفاد میں ہے، تاکہ ہماری شراکت کو مزید گہرا کیا جائے۔ ہم تجارتی معاہدے کے بارے میں بہت پرجوش ہیں، جو اب تقریباً اپنے آخری مراحل میں ہے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہANI

ماہرین اور اپوزیشن رہنما کیا کہتے ہیں؟

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو کے اس بیان کے بعد اپوزیشن نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کانگریس لیڈر سپریا شرینے نے انسٹاگرام پر لینڈو کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’امریکی نائب وزیرِ خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے انڈین سرزمین پر یہ کہا۔ یہ ایک طرح سے ایک کمزور وزیر اعظم کا سرینڈر ہے۔‘

انڈیا یوتھ کانگریس نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ کھلے عام کہہ رہا ہے کہ وہ انڈیا کو کبھی بھی اقتصادی طاقت نہیں بننے دے گا اور یہ بات انڈین سرزمین پر کھڑے ہو کر کہی گئی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ کرسٹوفر لینڈو نے واضح طور پر کہا کہ تجارتی معاہدے میں ’امریکہ سب سے پہلے‘ ہو گا، انڈیا کو مسابقتی نہیں بننے دیا جائے گا۔ سچ یہ ہے کہ ’کمزور وزیر اعظم‘ نے پوری طرح ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے امریکی نائب وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیان سمیت کئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ اس سے انڈیا کی خارجہ پالیسی پر سوالات اُٹھتے ہیں۔

اُنھوں نے لکھا کہ ’پہلے کرسٹوفر لینڈو نے دہلی میں محکمہ خارجہ کے حمایت یافتہ فورم میں کہا کہ انڈیا کے ساتھ معاملات امریکہ فرسٹ ہوں گے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کو امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات (میک امریکہ گریٹ اگین) کو پورا کرنا ہو گا۔

دوسرا امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ، انڈیا کو 30 روز کے لیے عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی ’اجازت‘ دے رہا ہے۔

تیسرا یہ کہ امریکی آبدوز نے اپنے سکیورٹی شراکت دار انڈیا کو بتائے بغیر ایک غیر مسلح ایرانی جنگی جہاز کو انڈیا کے پانیوں کے قریب نشانہ بنا کر ڈبو دیا۔ دوسری طرف انڈیا ایسا دکھاوا کر رہا ہے کہ وہ لاعلم تھا کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے جنگی جہاز جنگ سے پہلے بحیرہ عرب اور بحر ہند میں تعینات تھے۔

چوتھا یہ کہ جب ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل نے ہلاک کر دیا تھا تو انڈیا تعزیت کا اظہار کرنا ہی بھول گیا تھا۔ چھٹے دن رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک سفارت کار کو دہلی میں ایرانی سفارت خانے بھیجا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایس جے شنکر اور ان کے باس سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بہت سرگرم ہیں۔ لیکن وہ خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کرنا بھی بھول گئے، حالانکہ یہ واقعہ مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کو نئی شکل دے گا۔ اس کے باوجود انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی آزاد ہے۔‘

’امریکہ انڈیا تعلقات صرف اقتصادی نہیں ہیں‘

رائسینا ڈائیلاگ کے اسی سیشن میں، یو ایس فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے اسسٹنٹ سینئر فیلو بونی گلک نے کہا کہ تجارت سے متعلق کچھ مسائل ہیں جو امریکہ اور انڈیا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

اُن کے بقول ’مجھے لگتا ہے کہ جب ہم اس تعلقات کی گہرائی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تعلقات صرف اقتصادیات پر مبنی نہیں ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کا چین سے موازنہ کرنا شاید درست نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیا ہماری انڈیا کے ساتھ تجارتی جنگ ہو گی؟ ایسا نہیں لگتا۔ کیا ٹیرف بڑھیں گے۔ ہاں مجھے ایسا لگتا ہے۔ جیسا کے وہ دُنیا بھر کے ممالک پر بڑھ رہے ہیں۔