’دی بون‘: ایران پر ممکنہ بڑے حملے کے لیے برطانیہ پہنچنے والا امریکی بمبار طیارہ آخر اتنا خطرناک کیوں سمجھا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
24 کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت کا حامل امریکی فضائیہ کا ایک بڑا بمبار طیارہ برطانیہ کی سرزمین پر اتر چکا ہے۔
146 فٹ لمبا بی ون لینسر جمعے کے روز برطانیہ کے گلوسسٹرشائر میں رائل ایئرفورس فیئرفورڈ کے ہوائی اڈے پر پہنچا ہے۔
’دی بون‘ نامی اس طیارے میں ایسے جدید ریڈار اور جی پی ایس نظام موجود ہیں جو اہداف کو بہترین طریقے سے نشانہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
دشمن سے بچاؤ کے لیے اس میں الیکٹرانک جیمرز، ریڈار وارننگ اور دشمن کو دھوکہ دینے والا مخصوص نظام بھی شامل ہے۔
یہ پیش رفت برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی جانب سے امریکہ کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
تاہم برطانیہ کے مطابق یہ اجازت صرف ایران کے میزائل مراکز پر دفاعی حملوں کے لیے دی گئی ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں حکام کی جانب سے کہا تھا کہ برطانیہ ان جنگی طیاروں کو اپنی ایئربیس استعمال کرنے کے لیے آمادہ ہے اور انھوں نے چند روز میں ان طیاروں کی آمد کی توقع کا اظہار بھی کیا تھا۔
137 فٹ لمبا اور 86 ٹن وزنی ’دی بون‘

،تصویر کا ذریعہPA Media
یہ طیارہ چار رکنی عملے کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ اس کے پروں کی لمبائی 137 فٹ ہے اور وزن 86 ٹن ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بوئنگ کے مطابق یہ امریکی فضائیہ کا سب سے تیز بمبار جہاز ہے جو 900 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار تک جا سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے بیان میں عندیہ دیا ہے کہ ایران پر جلد ہی حملوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ان میں لڑاکا طیاروں کے زیادہ بیڑے ہوں گے جبکہ دفاعی صلاحیتیں بھی زیادہ ہوں گے جبکہ بمبار طیاروں کی پروازیں بھی بڑھ جائیں گی۔‘
رائل ایئرفورس فیئرفورڈ گلوسسٹرشائر اور وِلٹ شائر کی سرحد پر واقع ہے جسے ماضی میں بھی امریکہ نے طویل فاصلے پر شدید بمباری کے مشن کے لیے استعمال کیا ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے لیکن خود جنگی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
اس سے قبل جمعہ کے روز وزیرِاعظم کے ترجمان نے صحافیوں سے کہا: ’ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ہمارا ردِعمل یہ رہا ہے کہ ہم نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کے محدود، مخصوص اور دفاعی استعمال کی اجازت دی ہے تاکہ برطانوی جانوں، برطانوی مفادات اور خطے میں اپنے اتحادیوں کا تحفظ کیا جا سکے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ برطانیہ کی فوج کی توجہ فضا میں ڈرون مار گرانے پر مرکوز ہے، جبکہ امریکہ ایران میں میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہم مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے ہم ضروری اقدامات کریں گے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے امریکہ کو ان میزائلوں کو ان کے منبع پر ہی نشانہ بنانے کی اجازت دی ہے، جبکہ ہم خود فضا کا دفاع کر رہے ہیں۔‘













