امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

A woman holding a picture of two children is sitting on the ground being comforted by two other woman; the legs of many others standing around them are visible.

،تصویر کا ذریعہAmirhossein Khorgooei/ISNA/West Asia News Agency via Reuters

،تصویر کا کیپشنایران میں سکول پر ایک حملے میں 150 لڑکیاں ہلاک ہوئی ہیں
    • مصنف, لوئس بروچو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیوں اور اس کے جواب میں ایران کے حملوں کے نتیجے میں پہلے ہی شہری ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے فریقین سے بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔

فریقین کا دعویٰ ہے کہ دونوں اطراف کے ہی اقدامات جائز ہیں لیکن ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے ابتدائی حملے جائز تھے یا نہیں یہ جانچنے کے لیے ہمیں بین الاقوامی اصولوں کو دیکھنا ہوگا جن پر دوسری عالمی جنگ کی تباہی کے بعد زیادہ تر ممالک متفق ہوئے تھے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری شروع ہونے کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگایا، جو ان کے مطابق امریکی اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں اور ’جلد ہی امریکی سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

تاہم 2 مارچ کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کو تہران کے خلاف ’پیشگی کارروائی کرنا پڑی‘ کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کو معلوم تھا کہ ایران کے خلاف ’اسرائیلی کارروائی‘ ہونے والی ہے۔

An aerial photo of at least five rows of rectangular holes in the ground, some marked and yet to be dug out, with three mechanical diggers visible.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایرانی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی تصویر جس میں بہت ساری قبریں دیکھی جا سکتی ہیں

اسی دوران اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ کو بتایا کہ ایران کے مبینہ منصوبے، جن کے تحت وہ ’ایک بم تیار کرنا‘ چاہتا ہے، حملوں کو جائز قرار دینے کے لیے کافی تھے۔

ایران نے جواب میں اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک پر بمباری کی جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور اسے دفاعی اقدام قرار دیا۔

ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کے مطابق ایران میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک سکول کی 165 لڑکیاں اور عملہ بھی شامل ہیں۔

لبنان میں پیر کے روز اسرائیلی حملوں کے دوران 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب، درجنوں مزید افراد، جن میں چھ امریکی فوجی بھی شامل ہیں، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں ہلاک ہوئے ہیں۔

کیا یہ حملے قانونی طور پر جائز تھے؟

بی بی سی سے بات کرنے والے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں ابتدائی امریکی، اسرائیلی حملے کے لیے درکار قانونی شرائط پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں لیکن ایران کا جوابی حملہ بھی ممکنہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھا۔

Several people stand outside a damaged building with its windows blown out.

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلبنان میں پیر کے روز اسرائیلی حملوں کے دوران 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے

اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت رکن ممالک کو عام طور پر کسی دوسری ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال سے منع کیا گیا ہے، جب تک کوئی ایسی بات نہ ہو جو خصوصی جواز فراہم کرتی ہو۔

آرٹیکل 2 (4) کہتا ہے کہ کوئی بھی ریاست دوسری ریاستوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتی۔

آرٹیکل 51 ریاستوں کو مسلح حملے کی اجازت دیتا ہے۔ کچھ ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ اجازت صرف اس وقت ملتی ہے جب کسی ریاست پر حملے یقینی ہوں۔

یہاں اہم قانونی سوال یہ ہے کہ آیا ایران اسرائیل اور امریکہ کے لیے ایک فوری اور ناگزیر خطرہ تھا یا نہیں۔

برطانیہ کے انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ لیگل اسٹڈیز سے منسلک بین الاقوامی قانون کی ماہر سوزن بریو کا کہنا ہے کہ جائز حقِ دفاع ثابت کرنے کے لیے ’ایک فوری حملے کے ناقابلِ تردید ثبوت‘ درکار ہوتے ہیں اور ان کے مطابق انھوں نے ایسے کسی ثبوت کو نہیں دیکھا۔

انسانی حقوق کے وکیل سر جیفری نائس بھی اس بات سے متفق نظر آتے ہیں۔ سنہ 1998 سے 2006 تک انھوں نے سابق یوگوسلاوی صدر سلوبودان میلوسووچ کے خلاف بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں استغاثہ کی قیادت کی۔

انھوں نے کہا کہ ’کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ جنگ کا آغاز غیر قانونی تھا۔‘

امریکہ کی اندرونی سیاست میں بھی اس جنگ پر بحث ہو رہی ہے۔ بہت سے ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف کی جانے والی کارروائی غیر قانونی ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔

تاہم بطور کمانڈر اِن چیف ایک امریکی صدر باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان کیے بغیر بھی بعض فوجی کارروائیاں انجام دے سکتا ہے۔

کیا امریکہ اور اسرائیل کو ایران سے واقعی خطرہ تھا؟

Flames engulf the top of a tower block at night while smoke billows into the night sky. A tall building next to it appears not to have been damaged

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبحرین میں ایک عمارت پر ہونے والے حملے کے بعد کی تصویر
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جون 2025 میں تین جوہری مقامات پر بمباری کے بعد امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی لیکن پھر تہران نے ’اپنی جوہری خواہشات ترک کرنے کے ہر موقع کو مسترد کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جو امریکی اتحادیوں اور بیرونِ ملک فوجیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور بالآخر امریکی سرزمین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ایزرا کوہن صدر ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں ان کی انٹیلیجنس اور سکیورٹی ٹیم کا حصہ تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رپورٹس موجود ہیں کہ ایرانی حکام امریکہ یا اسرائیل کی کارروائی کے فیصلے سے پہلے اپنے میزائلوں کو حملے کے لیے تیار کر رہے تھے۔‘

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی نے بھی پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایران کے پاس ’بہت بڑا اور پرعزم جوہری پروگرام‘ ہے لیکن انھیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو ’جوہری ہتھیار بنانے کے منظم پروگرام‘ کی نشاندہی کرے۔

امریکی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی کی مئی 2025 کی ایک رپورٹ میں بھی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ایران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے میں ابھی کئی سال لگیں گے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ٹرمپ کا سابقہ دعویٰ کہ گزشتہ سال 12 روزہ ایران، اسرائیل جنگ کے دوران اسے ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا گیا تھا فوری خطرے کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔

Three cars drive along a three-lane highway with smoke ahead of them. The sky is dark blue and the sides of the road are dusty with a few shrubs.

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں آرامکو پر حملے کے بعد کی ایک تصویر

بین الاقوامی قانون میں ایک مرکزی تنازع اس بات پر ہے کہ ’فوری خطرے‘ کی تشریح کتنی محدود ہونی چاہیے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے منسلک بین الاقوامی قانون کے ماہر مارک ویَلر کہتے ہیں ’روایتی طور پر ’فوری خطرے‘ سے مراد وہ آخری ممکنہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اُس حملے کو روک سکتے ہیں جو بصورتِ دیگر ناگزیر ہو۔‘

بریو کے مطابق بین الاقوامی قانون میں ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کوئی ریاست پیشگی دفاع میں کب قانونی طور پر طاقت استعمال کر سکتی ہے: کچھ کا کہنا ہے کہ حملہ شروع ہو چکا ہونا چاہیے جبکہ دیگر کے نزدیک اگر اس بات کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں کہ حملہ بہت جلد ہونے والا ہے تو طاقت کا استعمال پہلے ہی جائز ہو جاتا ہے۔

بریو کے مطابق قانونی حقِ دفاع کے لیے دو شرائط بھی ہوتی ہیں: ضرورت یعنی ’جب کوئی دوسرا ذریعہ دستیاب نہ ہو‘ اور ممکنہ حملے کا تناسب۔

ویَلر اور بریو دونوں کے نزدیک جدید تاریخ میں پیشگی حقِ دفاع کی سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی مثالوں میں سے ایک 1967 میں چھ روزہ جنگ کے دوران مصر کے خلاف اسرائیل کا حملہ ہے۔

بریو کے مطابق اُس وقت بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ سرحد پر جمع ہونے والے مصری فوجی حملہ کرنے کے لیے تیار تھے۔

تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اُس وقت بھی اسرائیلی حملہ ’متنازع‘ سمجھا جاتا تھا۔

A firefighter at night projects water from a hose at a burning car that is lit up in orange flames; other cars around it are severely damaged works.
Picture from Itai Ron / Reuters - no access to Israeli outlets

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن28 فروری کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بعد کا منظر

ایران کے جوابی حملے کی قانونی حیثیت

بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کا جوابی حملہ بھی ممکنہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھا۔

ویَلر کے مطابق خلیجی ممالک پر ’بلا امتیاز حملے‘ کر کے ایران نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔

سر نائس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ ایران حقِ دفاع کا حوالہ دے سکتا ہے مگر اس کا جواب ’تناسب‘ پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تناسب کا تقاضا یہ ہے کہ فوجی ہدف کا تقابل متوقع ضمنی نقصانات سے کیا جائے۔

’ایسے میزائلوں کا استعمال جو درست اور محدود ہدف بندی نہ کر سکیں انھیں غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔

بریو اس بات سے اتفاق کرتی ہیں اور دبئی کے ڈاؤن ٹاؤن میں واقع عالمی شہرت یافتہ فئیرمونٹ ہوٹل کی جانب اشارہ کرتی ہیں، جسے ایرانی فورسز نے نشانہ بنایا تھا۔

’وہ کوئی فوجی ہدف نہیں تھا بلکہ ایک شہری ہدف تھا۔‘

خطرناک مثال

People and rescue forces working in rubble following an Israel strike on a school in Minab, Iran, 28 February 2026 Image from Abbas Zakeri/Mehr News/WANA (West Asia News Agency) via REUTERS

،تصویر کا ذریعہWest Asia News Agency via Reuters

،تصویر کا کیپشنایرانی ریسکیو اہلکار سکول پر حملے کے بعد لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طاقت کے غیر قانونی استعمال کی واضح نشاندہی میں ناکامی وقت کے ساتھ بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کر سکتی ہے۔

بریو خبردار کرتی ہیں کہ دیگر ممالک بھی اسی منطق کا سہارا لے کر طاقت کے استعمال کی طرف جا سکتے ہیں، مثال کے طور پر چین، جو خودمختار تائیوان کو ایک علیحدہ ہونے والا صوبہ سمجھتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’طاقت کے غیر قانونی استعمال کو قبول کرنے سے بڑھ کر بین الاقوامی نظام کے لیے کوئی چیز زیادہ خطرناک نہیں۔‘

چیٹم ہاؤس کے لیے ایک مضمون میں ویَلر خبردار کرتے ہیں کہ ’مزید روسی جارحیت یا ممکنہ چینی توسیع پسندی‘ کی مخالفت کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ایسا کرنے سے ’دوہرے معیار اور منافقت کے اعتراضات‘ پیدا ہو سکتے ہیں اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کو ’اس قانونی اور اخلاقی اتھارٹی کے نقصان پر افسوس ہو سکتا ہے جو اس سے ہوگا۔‘

اگر طاقتور ممالک بار بار بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں اور انھیں اس کے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے تو بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ جنگ کے بعد قائم عالمی نظام ٹوٹ جائے گا اور طاقت کے اصول کی حکمرانی جنم لے گی۔