خامنہ ای کا قتل: کیا پوتن ذاتی خطرے کی وجہ سے اپنے ’دوستوں‘ کے زوال کا باعث بننے والوں کا نام نہیں لیتے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ساندرو گونیدادزے
- عہدہ, بی بی سی، مانیٹرنگ
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
عالمی منظر نامے پر کچھ ایسا ہو گیا ہے جس پر روسی صدر ولادیمیر پوتن بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔
28 فروری کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیلی اور امریکی حملوں میں مارے گئے۔ اگلے دن پوتن نے رہبر اعلیٰ کی ہلاکت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ایسا قتل، جو پوتن کے مطابق، ’انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کے تمام تر اصولوں کی صریح خلاف ورزی‘ تھا۔
لیکن اپنے مذمتی بیان میں انھوں نے یہ تذکرہ نہیں کیا کہ یہ ’قتل‘ کس نے کیا۔
جو تعزیتی پیغام انھوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو بھیجا اُس میں بھی نہ تو امریکہ اور نہ ہی اسرائیل کا ذکر تھا۔
زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب جنوری 2025 میں روس اور ایران نے سٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں روس کی جانب سے ایران کو فوجی امداد فراہم کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں تھی۔
اس معاہدے کے چند ماہ بعد جون 2025 میں جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی اور انھیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، تو پوتن نے اسے ’ایران کے خلاف بلاجواز جارحیت‘ قرار دیا۔ ایسی جارحیت جس کی ’کوئی بنیاد اور کوئی جواز نہیں‘ تھا، لیکن اپنے اس مذمتی بیان میں بھی انھوں نے امریکہ کا نام نہیں لیا۔
ماضی میں جب اُن سے پوچھا گیا تھا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے خامنہ ای کو قتل کر دیا تو کیا ہو گا؟ اس پر پوتن نے کہا تھا: ’میں اس پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی مانیٹرنگ نے اہم مواقع پر کریملن کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات اور روسی سرکاری میڈیا کا جائزہ لیا کہ تاکہ یہ جان سکیں کہ سنہ 2011 سے سنہ 2026 کے درمیان کریملن کے پانچ اہم اتحادیوں کے زوال یا مارے جانے پر پوتن نے کیا کہا۔
حالیہ عرصے میں انھوں نے اپنے اتحادیوں کے زوال کا باعث بننے والوں کے بارے میں یا تو بالکل کچھ نہیں کہا یا بہت کم کہا ہے۔ تاہم پہلے وہ اس پر کھل کر بات کرتے تھے۔
معمر قذافی اور یانوکووچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اکتوبر 2011 میں لیبیا میں معمر قذافی کے قتل کے بعد پوتن کی جانب سے دیا گیا بیان بہت تفصیلی تھا۔
اپنے مذمتی بیان میں انھوں نے ’امریکی ڈرونز‘ کا تذکرہ کیا جن کی مدد سے قذافی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اُن ’غیر ملکی خصوصی دستوں‘ کا بھی ذکر کیا جو، اُن کے مطابق، ’وہاں (لیبیا میں) نہیں ہونے چاہییں تھے۔‘
انھوں نے قذافی کے قتل کو ایک ایسی تباہی قرار دیا جو ’بغیر مقدمے یا تحقیقات‘ کے برپا کی گئی۔ پوتن نے اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا کے معاملات میں مداخلت سے متعلق قرارداد کو ’صلیبی جنگ کی پکار‘ کہا۔
اسی طرح پوتن نے فروری 2014 میں یوکرین کے وکٹر یانوکووچ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بھی کُھلی تنقید کی تھی۔ چار مارچ 2014 کو ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے پولینڈ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے نام لیے جنھوں نے یوکرین میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ساتھ معاہدوں کی ضمانت دی تھی۔
انھوں نے یہ بھی کھلے عام تسلیم کیا کہ انھوں نے یانوکووچ کو کریمیا فرار ہونے میں مدد کی ہے۔
بعد کے برسوں میں پوتن نے بار بار امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے یوکرین میں ’بغاوت‘ کا ایک منصوبہ بنایا اور روس کو ’بیدردی اور ڈھٹائی سے‘ دھوکہ دیا۔
اسد: الفاظ کے بغیر اقدامات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو روس نے انھیں (بشار الاسد) ماسکو منتقل کر دیا، لیکن پوتن کی جانب سے اس معاملے پر دیے گئے عوامی ردِعمل میں نہ تو کسی کی مذمت کی اور نہ ہی اس میں ملوث کسی کردار کا نام لیا گیا۔
حکومت کے خاتمے اور بشار الاسد کی ماسکو آمد کے تقریباً دو ہفتے بعد پوتن نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے ’ابھی تک صدر اسد سے ملاقات نہیں کی ہے۔‘
اس موقع پر انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’شام میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ روس کو شکست ہوئی ہے۔‘
اور پھر چند ماہ بعد پوتن شام کے نئے صدر احمد الشرع کو علاقائی سالمیت بحال کرنے پر مبارکباد دے رہے تھے۔
نکولس مادورو پر کوئی بیان نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوری 2026 میں امریکی افواج کے ہاتھوں وینزویلا کے رہنما نکولاس مادورو کی گرفتاری پر پوتن نے کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔
اس ضمن میں مذمتی بیانات روس کی سکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف، روس کے اقوامِ متحدہ کے نمائندے واسیلی نیبینزیا، وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا اور کئی پارلیمانی اراکین کی طرف سے آئے۔
لیکن کریملن کی طرف سے کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
خامنہ ای: قاتل کا نام لیے بغیر قتل کا تذکرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کارنیگی برلن سینٹر کے سینیئر فیلو الیگزینڈر باؤنوف روس میں رائج ’متعدد سیاسی زبانوں‘ کے نظام کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خامنہ ای کے قتل پر سامنے آنے والا مذمتی بیان اسی نظام کا تسلسل ہو سکتا ہے۔
’متعدد سیاسی زبانوں‘ کا نظام جس کے تحت روس کی وزارتِ خارجہ تو امریکہ مخالف بیانیہ اپناتی نظر آتی ہے جبکہ کریملن کا ٹرمپ کے تئیں رویہ الگ ہوتا ہے۔
الیگزینڈر باؤنوف نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ خامنہ ای کے قتل پر پوتن کا بیان سنہ 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے موقع پر دیے گئے بیان سے کمزور تھا۔ قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ٹرمپ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انھوں نے بس جا کر ایک ایرانی جنرل کو قتل کر دیا، (وہ) بالکل عقل کھو بیٹھے ہیں۔'
لیکن اُس وقت بھی پوتن نے ٹرمپ کا نام نہیں لیا اور بس ’انھوں‘ کہنے پر اکتفا کیا۔
اس معاملے پر صحافی یکاترینا کوٹریکادزے کہتی ہیں کہ ’پوتن ایک مشکل میں ہیں: وہ امریکہ پر کُھل کر تنقید بھی نہیں کر سکتے (جیسا کہ وہ ماضی میں عام طور پر کرتے تھے)، لیکن مکمل طور پر خاموش بھی نہیں رہ سکتے کیونکہ خاموشی کمزوری کا اظہار ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پوتن کے لیے یہ تکلیف دہ ضرور ہو گا کہ اُن کے ایک قریبی دوست (اتحادی) کے بعد دوسرا گِر رہا ہے، لیکن وہ پلٹ کر وار نہیں کر سکتے کیونکہ کریملن اب بھی 47ویں امریکی صدر کے ساتھ کاروبار کرنے کی امید رکھتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار الیگزینڈر موروزوف نے کریملن کی جانب سے اپنائے گئے ’محتاط‘ ردِعمل کی نشاندہی کی اور کہا کہ ’ایران کی جنگ نے پوتن کی جانب سے (ایسے مواقع پر) اختیار کردہ حربوں میں موجود قدامت پسندی کو ظاہر کیا ہے اور کریملن کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کیا ہے۔‘
پوتن اپنی زبان پر قابو اس لیے بھی رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات کے تناظر میں ذاتی طور پر خطرہ محسوس کرتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار سرگئی شیلن کے مطابق ’پوتن اب ٹرمپ کو کچھ مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پوتن ’اپنی مشکوک طبعیت کے پیش نظر‘ حالات کو اب بڑھتے خوف کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
سنہ 2011 میں امریکی سینیٹر جان مکین نے کہا تھا کہ ’پوتن کا انجام بھی قذافی جیسا ہو سکتا ہے۔‘ اس کے جواب میں پوتن نے جان مکین کی ذہنی صحت پر سوال اٹھایا تھا۔
اگرچہ اب ’قذافی جیسا انجام‘ جیسے بیانات اور تجاویز امریکہ سے نہیں آتیں، مگر اسی دورانیے میں پوتن کا اہم عالمی معاملات پر ردِعمل کسی کا نام نہ لینے تک پہنچ گیا ہے۔











