مہینوں کی منصوبہ بندی اور عین وقت پر ملنے والی خفیہ اطلاع: خامنہ ای کو قتل کرنے کا امریکی، اسرائیلی مشن کیسے مکمل ہوا؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصبح کی روشنی میں حملے کرنے کی وجہ وہ اہم خفیہ اطلاع تھی جو سی آئی اے کو موصول ہوئی اور جسے اسرائیل کے ساتھ شیئر کیا گیا
    • مصنف, گورڈن کوریرا
    • عہدہ, سکیورٹی تجزیہ کار، بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کی غرض سے کیا گیا حملہ رات نصف شب (رات کی تاریکی) نہیں ہوا۔ اندازوں کے برعکس یہ حملہ صبح کی روشنی میں ہوا۔

صبح کی روشنی میں حملے کرنے کی وجہ وہ اہم خفیہ اطلاع تھی جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس کو چند گھنٹے قبل ہی موصول ہوئی تھی۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس نے رات ہونے کا انتظار کیے بغیر اس خفیہ اطلاع کا فوری فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب اعلیٰ ایرانی حکام کسی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوں گے۔ خفیہ اطلاع یہ تھی کہ سید علی خامنہ ای سنیچر کی صبح تہران کے مرکزی علاقے میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔

خامنہ ای کی کمپاؤنڈ میں موجودگی کی اطلاع کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اور امریکی انٹیلیجنس کو اس مقام کا بھی پتہ چل گیا تھا جہاں اُسی وقت دیگر ایرانی اعلیٰ فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران کو اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہونا تھا۔

امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ سے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات خفیہ رکھی گئی کہ اُن پر نظر رکھنے کا طریقہ کار کیا گیا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ (خامنہ ای) ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے۔‘

یہ ممکن ہے کہ ایران میں موجود کوئی انسانی ذریعہ اُن کی نقل و حرکت کی اطلاع دے رہا ہو تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اہم ایرانی عہدے داروں کی تکنیکی بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی تھی۔

جب یہ حملہ ہوا تو صدر ٹرمپ اپنے اعلیٰ حکام کے ساتھ حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب یہ حملہ ہوا تو صدر ٹرمپ اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گذشتہ سال جون میں ہونے والی ایران، اسرائیل 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور بعدازاں بتایا گیا کہ اِن اہم افراد کی نقل و حرکت جاننے کے لیے ٹیلی کام اور موبائل فون سسٹمز تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔

اس عمل کے دوران اُن محافظوں یعنی باڈی گارڈز کی نقل و حرکت کو بھی ٹریک کیا گیا جو اہم ایرانی حکام کی سکیورٹی پر معمور تھے۔

یوں طویل عرصے تک کی جانے والی نگرانی اور جانچ کا طریقہ کار اختیار کرنے کی مدد سے اہم شخصیات کی طرزِ زندگی اور روٹین کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ اس طریقہ کار کی مدد سے (اپنے ہدف کی) سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی کے ساتھ اُن کی کمزوری کے لمحات (وہ مواقع جب سکیورٹی زیادہ نہیں ہوتی) بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔

ایران کو علم تھا کہ رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای دشمنوں کے نشانے پر ہیں لہٰذا اُن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے عمل کے دوران کمزوری کے لمحات کا تعین کر کے اُن سے نمٹنے میں ناکامی ایرانی سکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی ایک بڑی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اہداف کی نشاندہی ے اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ٹریک کرنے کے نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔

ایرانیوں نے شاید یہ بھی اندازہ بھی لگایا ہو گا کہ اس نوعیت کا اہم حملہ دن کے اوقات میں نہیں ہو سکتا۔

خبر رساں ادارے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق رہبر اعلیٰ کی کمپاؤنڈ میں موجودگی پر مبنی خفیہ اطلاع امریکی خفیہ ادارے، سی آئی اے، سے آئی تھی جسے اسرائیل کے ساتھ شیئر کیا گیا کیونکہ حملہ اسرائیل کو کرنا تھا۔

امریکہ اور اسرائیل کے طریقہ کار میں کام کی تقسیم دکھائی دیتی ہے یعنی اسرائیل اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والے حملوں پر توجہ دیتا ہے جبکہ امریکہ زیادہ تر فوجی اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ سپریم لیڈر اور دیگر حکام کی نقل و حرکت سے قبل ہی اُن سے متعلق خفیہ اطلاعات ملیں جن کے باعث ایسے حملوں کی منصوبہ بندی ممکن ہو سکی جن میں ایسے جیٹ طیارے استعمال ہوئے جو دور سے میزائل فائر کر سکیں اور اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔

یہ حملہ صرف ایک بڑے رہنما (خامنہ ای) کو نشانہ بنانے کے لیے ترتیب نہیں دیا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد (خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے بعد) ایک وسیع مہم کا آغاز تھا، جسے وقت کے ساتھ اور موقع ملنے پر اب آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی جیٹ طیاروں کو تہران پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگ سکتے ہیں لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ انھوں نے کتنی دور سے تہران کی جانب میزائل فائر کیے۔

خامنہ ای کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے کے بعد جب حملے کا فیصلہ ہو گیا، تب صبح 9:40 بجے کے قریب اسرائیلی طیاروں نے اُن کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرا دیے۔

ایران پر حملہ

ایک ساتھ 30 بم گرانے کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ رہبر اعلیٰ حفاظت کی غرض سے کمپاؤنڈ کے نیچے موجود زیرِ زمین بنکر استعمال کر رہے تھے اور اس لیے گہرائی تک پہنچ کر ہدف کو نشانہ بنایا جا سکے۔

اور اتنی گہرائی تک پہنچنے کے لیے مختلف قسم کے بم استعمال کیے گئے ہوں گے جو یقینی بنائیں کہ ہدف تک کامیابی سے پہنچا گیا ہے۔

تہران میں رہبر اعلیٰ کے کمپاؤنڈ کے علاوہ صدر مسعود پزشکیان کے دفتر سمیت دیگر مقامات پر بھی حملے ہوئے۔ بعدازاں ایرانی صدر نے بیان جاری کیا کہ وہ ان حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔

ایران نے اب تک تین اعلیٰ دفاعی حکام کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصرزادہ اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل محمد پاکپور شامل ہیں۔

جب تہران میں یہ حملہ ہوا تو عین اُسی وقت فلوریڈا کے مار-اے-لاگو میں رات کا وقت تھا اور صدر ٹرمپ اپنے اعلیٰ حکام کے ساتھ حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔

اسرائیلی اور امریکی حکام جانتے تھے کہ حملے کے بعد رہبر اعلیٰ کی ہلاکت کی تصدیق آنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

ایران اس امکان کے لیے پہلے سے تیار تھا اور اسی لیے نہ صرف خامنہ ای بلکہ دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کے جانشینوں کی پیشگی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی تھی۔

اس کا مطلب ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس قتل کا اس تنازع پر کیا اثر پڑے گا۔