رہبرِ اعلیٰ سمیت اہم ایرانی رہنماؤں اور کمانڈرز کی ہلاکت، مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے سنیچر کو 40 ایرانی کمانڈرز کو ہلاک کیا تھا
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق ان حملوں میں ایران کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی بھی مارے گئے ہیں جبکہ تہران نے پاسدرانِ انقلاب گارڈز کے کمانڈر محمد پاکپور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

ایرانی میڈیا نے وزیر دفاع جنرل عزیز ناصر زادہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسی کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔

ایک انٹیلی جنس اور فوجی ذریعے نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا کہ مجموعی طور پر ان حملوں میں 40 ایرانی عہدے دار مارے گئے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور اور ایران کی ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران کی سکیورٹی قیادت کے سات ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جن میں پاکپور اور شمخانی بھی شامل تھے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایران نے رہبرِ اعلیٰ کی موت کی تصدیق کر دی ہے

امریکہ اور اسرائیل کے دعوے

سنیچر کی صبح اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان کے ملک نے ’خطرات کو دور کرنے کے لیے ایران کے خلاف ایک پیشگی حملہ شروع کیا ہے‘ اور اسرائیلیوں کو خبردار کیا کہ وہ جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے تیار رہیں۔

صرف ایک گھنٹے بعد ٹرمپ نے حملوں میں امریکہ کے شامل ہونے کی بھی تصدیق کر دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ان کے میزائلوں کو تباہ کرنے جا رہے ہیں اور ان کی میزائل انڈسٹری کو تباہ کر دیں گے۔ اسے دوبارہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی مسلح افواج کے ارکان کو ’مکمل استثنیٰ‘ حاصل کرنے کے لیے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ اُنھوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ علما کی اسٹیبلشمنٹ کا تختہ الٹنے کی تیاری کریں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے ملک اور امریکہ نے ’ایران میں دہشت گرد حکومت کی طرف سے لاحق خطرے کو دور کرنے کے لیے آپریشن کیا ہے۔‘

اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے بتایا کہ ایران پر حملوں کے لیے لگ بھگ 200 لڑاکا طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں حملے کیے اور جیٹ طیاروں نے بیک وقت تقریباً 500 اہداف پر بمباری کی۔

ایران کا ردِعمل

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل اور امریکہ پر ایک ایسی جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا جو اُن کے بقول ’مکمل طور پر بلا اشتعال، غیر قانونی اور ناجائز‘ تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج اسی دن کے لیے تیار ہیں اور حملہ آوروں کو وہ سبق سکھائیں گی جس کے وہ حقدار ہیں۔

ایرانی وزارتِ دفاع نے بھی اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ’وحشیانہ حملے‘ کے جواب میں زبردست جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے پاسدران انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی فورسز نے اسرائیل کے متعدد مقامات کے ساتھ ساتھ خطے میں پانچ بڑی امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر حملوں کا جواب دیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق العدید ایئربیس، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئربیس، بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر جبکہ بحرین اور اُردون میں بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسدران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک امریکی جنگی امدادی جہاز بھی اس کے میزائلوں کی زد میں آیا ہے جبکہ قطر میں ایک امریکی ریڈار سسٹم کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

ایران کی ریڈ کریسینٹ کے ترجمان مجتبی خالدی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے 31 میں سے 24 صوبوں میں حملے کیے گئے۔

تصویر

بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ فوٹیج کا تجزیہ کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران میں ایرانی قیادت کے کمپاؤنڈ کو کافی نقصان پہنچا ہے، یہاں ایران کے سپریم لیڈر کا دفتر بھی واقع تھا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح سپریم لیڈر خامنہ ای کی اُن کے دفتر میں ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

اب تک ایران میں حملوں کے دوران 250 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں کم از کم 148 افراد جنوبی ایران میں لڑکیوں کے سکول میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

ایران کی جانب سے اسرائیل میں میزائل اور ڈرونز کے ذریعے لگاتار حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں تل ابیب میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ تباہ ہو گئی۔ اسرائیل میں ہونے والے حملوں میں آٹھ افراد کی ہلاکت جبکہ 120 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ایران کے پاسدرانِ انقلاب کی جانب سے امریکی کے بحرین میں پانچویں بحری بیڑے اور خلیجی ممالک میں قائم اس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دبئی، دوحہ اور کویت میں بھی حملے ہوئے ہیں۔ دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈے دبئی ایئر پورٹ میں بھی ایک واقعے میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بحرین کے بین الاقوامی ہوئی اڈے پر بھی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

عبدالرحیم موسوی

تصویر

،تصویر کا ذریعہkhamenei.ir

میجر جنرل عبدالرحیم موسوی 1955 میں قم میں پیدا ہوئے۔ اُن کا شمار ایرانی فوج کے ایک تجربہ کار جرنیلوں میں ہوتا تھا۔

مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کے طور پر ان کی تقرری ایران کے فوجی کمان کے ڈھانچے میں ایک اہم موڑ تھی، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ یہ عہدہ، جو پہلے ہمیشہ پاسدرانِ انقلاب کے پاس رہا تھا، کسی آرمی کمانڈر کو دیا گیا تھا۔

عبدالرحیم موسوی نے 1979 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور آرمی آفیسرز یونیورسٹی سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ڈیفنس مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد اُنھوں نے فوج میں تیزی سے ترقی حاصل کی۔ ابتدا میں اُنھوں نے امام علی آفیسرز یونیورسٹی کے صدر، شمال مشرقی نازا ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر اور زمینی افواج کے لیے تربیت اور منصوبہ بندی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اپنی تقرری کے آغاز پر اُنھوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی ریاست کی تباہی اُن کا خواب ہے۔

جنرل عزیز ناصر زادہ

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی میڈیا نے وزیر دفاع جنرل عزیز ناصر زادہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ وہ سنہ 1964 میں پیدا ہوئے۔

اُنھیں سنہ 2024 میں ایران کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ سنہ 2021 سے 2024 کے درمیان ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف سٹاف کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

وہ اگست 2018 سے 2021 کے دوران ایران کی ایئر فورس کے کمانڈر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

محمد پاکپور

تصویر

،تصویر کا ذریعہFars

،تصویر کا کیپشنمحمد پاکپور

محمد پاکپور کو سنہ 2025 میں 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ان کے پیشرو کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔

وہ پہلے پاسدارانِ انقلاب کی گراؤنڈ فورسز کے کمانڈر رہ چکے تھے۔

جنرل محمد پاکپور نے اپنی تعیناتی کے بعد علی خامنہ ای کے نام ایک خط میں لکھا تھا: ’ہمارے پیارے امام اور پیروکار کے وعدے کو پورا کرنے، اپنے کمانڈرز اور سائنسدانوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے، جلد ہی جہنم کے دروازے اس بدمعاش حکومت کے لیے کھول دیے جائیں گے۔‘

آٹھ ماہ کے دوران بطور پاسدران انقلاب کے کمانڈر ان چیف اُنھوں نے ہمیشہ جنگ کی تیاری اور میزائل صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

علی شمخانی

تصویر

،تصویر کا ذریعہNournews.ir

،تصویر کا کیپشنعلی شمخانی

شمخانی، جو ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر بھی تھے، 12 روزہ جنگ کے دوران زخمی ہوئے تھے۔

اُس وقت یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ وہ اس جنگ کے دوران مارے گئے ہیں، تاہم کچھ روز بعد ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ اسرائیل حملوں میں بچ گئے تھے، تاہم وہ زخمی ہوئے تھے۔

اس کے بعد علی شمخانی کو کئی روز تک عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ لیکن وہ گذشتہ برس 27 جولائی کو پاسدران انقلاب کے کمانڈرز کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔

بارہ روزہ جنگ کے بعد علی شمخانی علی خامنہ ای کے سیکرٹری اور نئی قائم کردہ سپریم ڈیفنس کونسل کے نمائندے بن گئے تھے۔

رہبرِ اعلیٰ کے جانشین کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب براہ راست ووٹ سے نہیں ہوتا بلکہ 88 سینئر علماء کی ایک باڈی کے ذریعے کیا جاتا ہے جسے ماہرین کی اسمبلی کہا جاتا ہے۔

وہ ہر آٹھ سال بعد براہ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔

ایرانی آئین کے تحت، ان علماء کو جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنا چاہیے، لیکن یہ ملک پر حملے کے دوران حفاظتی وجوہات کی بناء پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صدر کی کونسل، عدلیہ کے سربراہ اور طاقتور گارڈین کونسل کے ایک عالم رکن عبوری طور پر رہنما کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

پچھلے سال کی دشمنیوں سے بھی پہلے ہی، خامنہ ای نے 'مجلسِ رہبری' کو ہدایت دی تھی کہ وہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں۔

نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اپنی ہلاکت کی صورت میں انھوں نے 'تین سینئر علما' کو ممکنہ جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا۔

سالوں سے یہ قیاس آرائیاں جاری رہی ہیں کہ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے، اس میں ان کے بیٹے مجتبیٰ کا نام بھی شامل ہے۔