دیوا شریف میں ہولی جہاں ’کوئی ہندو مسلم نہیں، سب بھائی بھائی ہیں‘

پریتی جیسوال کی دیوا شریف کی ہولی میں شریک ہونے کی خواہش رواں سال پوری ہوئی
،تصویر کا کیپشنجب دیوا شریف کی ہولی میں شرکت کی برسوں پرانی خواہش پوری ہوئی
    • مصنف, مہتاب عالم دلی سے اور پربھات کمار دیوا شریف سے
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

نام نبی کی رتن چڑھی بوند پڑی اللہ اللہ

رنگ رنگیلی اوہی کھلاوے جو سکھی ہووے فنا فی اللہ

ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ۔۔۔

18ویں صدی کے مشہور صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کا یہ کلام بیشتیر لوگوں کے لیے شاید صرف ایک ادبی فن پارے کی حیثیت رکھتا ہو لیکن پریاگ راج (سابقہ الٰہ آباد) کے رہنے والے دو دوستوں وسیم علی اور آکاش پانڈے کے لیے یہ ان کی زندگی کا حصہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں گذشتہ کئی برسوں سے اپنے شہر میں کی بجائے ڈھائی سو کلو میٹر دور دیوا نامی ایک قصبے میں ہولی مناتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہمارے شہر میں اچھی ہولی نہیں منائی جاتی۔ لیکن یہاں کی ہولی کی بات ہی کچھ الگ ہے۔‘

وسیم علی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گذشتہ آٹھ برسوں سے ہولی کھیلنے دیوا آتے ہیں۔ ان کے ساتھی آکاش نے بتایا کہ وہ گذشتہ پانچ سالوں سے ہولی کھیلنے یہاں آتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق انھیں ’اس میں ایک الگ طرح کا سکون ملتا ہے۔ یہاں کوئی ہندو، کوئی مسلم نہیں ہوتا۔ سب بھائی بھائی ہوتے ہیں۔‘

آکاش اور وسیم کی طرح پریتی جیسوال بھی بدھ کے روز اپنے شہر سے ہولی منانے دیوا پہنچیں۔ لیکن ان کا سفر ان دونوں دوستوں کے مقابلے اور بھی لمبا تھا کیونکہ کولکتہ سے دیوا کا ان کا سفر کوئی نو سو کلو میٹر طویل تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں کی ہولی کے بارے میں تو سالوں سے سنتی آ رہی تھی اور میری دلی خواہش بھی تھی کہ میں اس میں شرکت کروں۔ لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا تھا۔ مگر اس بار وارث پاک نے مجھے بلا لیا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہاں کا کیا ہی کہنا، یہاں کا تو سب کچھ اچھا ہی اچھا ہے۔ من میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے، سب ایک ہیں۔‘

ہولی
،تصویر کا کیپشندیوا شریف کی ہولی میں ہر مذہب و ملت کے لوگ دور دور سے شامل ہونے آتے ہیں

در اصل یہ ہولی لکھنؤ سے تقریباً 50 کلو میٹر دور بارہ بنکی ضلع میں واقع دیوا شریف درگاہ میں منائی جاتی ہے۔ اور ہر سال اس میں مختلف مذاہب کے ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس کا انعقاد مسلمان کرتے ہیں اور اس میں ہندو، مسلم، سکھ، بچے، بوڑھے، نوجوان، مرد اور عورت سب شامل ہوتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا حاجی حافظ سید وارث علی شاہ نامی ایک صوفی بزرگ نے قریب ڈیرھ سو سال پہلے کی تھی۔

وارث علی شاہ کی پیدائش سنہ 1817 میں بارہ بنکی ضلع کے ہی رسول پور گاؤں میں ہوئی تھا اور 1905 میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کے مریدوں میں تمام مذاہب کے منانے والے ہیں اور ہرسال اکتوبر-نومبر کے مہینے میں ان کی برسی پر دیوا شریف میں بڑا عرس ہوتا ہے، جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

رسول پور گاؤں کے سماجی کارکن ڈاکٹر ریحان کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حضرت وارث علی شاہ یہاں سے ہجرت کر کے دیوا شریف چلے گئے، جو کہ پچاس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اور اسی کو اپنا مسکن بنایا۔

’کیونکہ ان کے ماننے والوں میں ہندو بھی شامل تھے تو انھوں نے ہولی منانا شروع کی اور یہ سلسلہ ان کی وفات کے 120 سال کے بعد بھی جاری ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت یہ ہولی گیندے کے پھول سے کھیلی جاتی تھی۔ ان کے مطابق رسول پور گاؤں کی شہرت بنیادی طور وارث علی شاہ کے آبائی وطن ہونے کی وجہ سے ہے اور یہاں ابھی بھی وہ مسجد قائم ہے جس میں وہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کا نام مسجد موسوی ہے۔

ہولی
،تصویر کا کیپشندیوا شریف میں وارث شاہ کے مزار پر ہولی کھیلنے کی روایت ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے قائم ہے

لکھنؤ کے معروف مصنف اور ثقافتی امور کے ماہر مسعود عبداللہ ہولی منانے کی اس روایت کو حضرت امیر خسرو اور نوابین اودھ سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہا کہ ’اس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ امیر خسرو جو اپنے پیر حضرت نظام الدین کو خوش کرنے کے لیے پورے جوگی بنے، پیلے رنگ پہنے، بسنت میں پھولوں کی ہولی کھیلی وہی سلسلہ خانقاہوں میں بھی جاری ہوا، دیوا بھی پہنچا اور یہی یہاں کی گنگا جمنی تہذیب ہے۔

’اِسی کو نوابین اودھ نے بھی پروان چڑھایا۔‘

اس سلسلے میں وہ نواب واجد علی شاہ کے دور کا ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک سال ہولی اور محرم دونوں ایک ہی دن تھا تو واجد علی شاہ نے ’صبح پہلے اپنی رعایا کے ساتھ ہولی کھیلی اور پھر محرّم کے جلوس میں شامل ہوئے۔‘

واضح ہو کہ گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی ہولی اور رمضان دونوں ایک ساتھ ہونے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں دیکھا گیا اور عوام میں وہی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔

رحیم النسا وارثی اپنے اہل خانہ کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنرحیم النسا وارثی کا کہنا ہے کہ دیوا شریف کی ہولی ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہے

دیوا کی ہی رہنے والی رحیم النسا وارثی کا خاندان اس کی مثال ہے۔ رمضان کے باوجود بھی ان کا خاندان آستانہ پر ہولی کھیلنے پہنچا۔

انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’ہر سال کی طرح وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ خوشی خوشی بغیر کسی دباؤ کے ہولی کھیلنے آئی ہیں۔ یہ سب لوگوں میں اتحاد، ہندو مسلم سب بھائی بھائی ہیں کی علامت ہے۔‘

ہر سال کی طرح اس سال بھی ہولی کا جلوس شہر کے قومی ایکتا گیٹ پر مٹکا پھوڑنے کے ساتھ شروع ہوا اور پورے علاقے میں گھومتے ہوئے وارث علی شاہ کے آستانہ پر پہنچا۔

دیوا ہولی اُتسَو کمیٹی کے صدر اودھ کشور مشرا بتاتے ہیں کہ اس ہولی کو دیکھنے اور اس میں شریک ہونے علاقے کے لوگوں علاوہ دور دور سے بھی لوگ آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ واحد ہولی ہے جو ’(وارث شاہ) آستانے پر کھیلی جاتی ہے اور اِسی لیے اِس کی دھوم دور دور تک ہے۔‘

وہ اس روایت کو قومی یکجتی اور مذہبی رواداری کی مثال مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں قومی اتحاد قائم ہے اور قائم رہے، کبھی نہیں ختم ہوگا۔‘