امریکہ اور یورپی یونین سے تجارتی معاہدے: کیا اب انڈیا کی سب معاشی مشکلات دور ہو جائیں گی؟

انڈیا کے وزیر تجارت پیوش گوئل پریس کانفرنس کے دوران انڈیا امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق دستاویزات دکھا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ سنہ 2014 کے بعد انڈیا کا دسواں آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔
    • مصنف, نکھل انامدار
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

تجارتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سنہ 2026 انڈیا کے لیے تاریخی قرار پائے گا۔

مارچ ابھی شروع بھی نہیں ہوا اور دہلی نے یورپی یونین کے ساتھ ’تمام تجارتی معاہدوں کی ماں‘ کہلانے والا معاہدہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ وہ معاہدہ بھی کیا ہے جسے اب ’تمام تجارتی معاہدوں کا باپ‘ کہا جا رہا ہے۔

اگرچہ بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے زیادہ فائدہ امریکہ اٹھائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس عبوری معاہدے کی غیر متوازن نوعیت پر سنگین خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔

اس کے باوجود سنہ 2014 کے بعد یہ انڈیا کا دسواں آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ہے۔ ماضی میں انڈیا کے محتاط رویّے کی وجہ سے کئی ممالک کے ساتھ مذاکرات دہائیوں تک رکے رہے۔

ان نئے معاہدوں کے فوراً بعد انڈیا نے چھ رکنی خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ بھی مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا، جہاں انڈیا کی مجموعی عالمی تجارت کا 15 فیصد حصہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت مثبت ہے لیکن یہ برآمدات تیزی سے بڑھانے کے لیے کوئی جادوئی حل فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی یہ گہرے تجارتی اصلاحات کا متبادل بن سکتی ہے۔

اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی سومیدھا داس گپتا نے بی بی سی کو بتایا: ’کسی بھی ایف ٹی اے کی کامیابی کا انحصار اس کے استعمال پر ہوتا ہے۔ انڈیا نے تاریخی طور پر صرف 25 فیصد استعمال کی شرح دکھائی ہے جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ شرح 70 سے 80 فیصد ہوتی ہے۔‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے انڈین برآمد کنندگان، خاص طور پر چھوٹی کمپنیاں، کاغذی کارروائی کے بوجھ، آڈٹ کے خطرات اور ایف ٹی اے کی شقیں نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹیرف میں کمی کا فائدہ نہیں اٹھا پاتیں۔

نوی ممبئی، مہاراشٹر، انڈیا میں جواہرلال نہرو پورٹ پر موجود ٹرکوں پر لدے سامان والے کنٹینٹر

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

،تصویر کا کیپشنتاریخی طور پر انڈیا نے آزاد تجارت کے معاہدوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاریخ بتاتی ہے کہ صورت حال ہمیشہ سے ایسی رہی ہے۔

کنسلٹنسی کمپنی ای وائے کے مطابق سنہ 2017 سے 2022 کے درمیان انڈیا نے جن ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ کیا، ان ممالک کو انڈیا کی برآمدات 31 فیصد بڑھیں جبکہ ان ممالک سے انڈیا میں درآمدات 82 فیصد بڑھ گئیں۔

ای وائے کے مطابق برآمدات اور درآمدات میں اتنا زیادہ فرق ترجیحی منڈی تک رسائی سے فائدہ اٹھانے میں ’تشویش ناک ناکامی‘ ہے۔

تاہم حکومت نے اس صورت حال کا جائزہ لیا اور سنہ 2023 کے بعد آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے جو معاہدے کیے گئے ان میں برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا۔ ای وائے نے اسے تجارتی ڈھانچہ بہتر کرنے اور تنازعات جلدی حل کرنے کا طریقہ کار وضع کرنے جیسے اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

برآمدی دستاویزات تیار کرنے میں مدد دینے والی کمپنی ڈسٹا کے سی ای او کرن کوٹلا کہتے ہیں: ’آزاد تجارتی معاہدے سے کاغذوں پر تو مواقع پیدا ہو جاتے ہیں لیکن جب ان پر عمل در آمد ہونے لگے تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

کوٹلا کے مطابق سب سے بڑے مسائل میں یہ چیزیں شامل ہیں؛ ثابت کرنا کہ یہ اشیا ملک میں ہی تیار ہوئیں، دستاویزات کے زیادہ اخراجات، ٹیسٹنگ اور لیبلنگ کے قواعد جیسی غیر ٹیرف رکاوٹیں اور کسٹمز کے محکمے کی جانب سے قوانین کی تشریح میں بار بار رد و بدل۔

انھوں نے کہا کہ ’بہت سے برآمد کنندگان تکنیکی طور پر اس بات کے اہل ہوتے ہیں کہ کم محصول ادا کریں، لیکن پھر بھی وہ مکمل ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔ کیوں کہ خود کو کم محصول کا اہل ثابت کرنے کا عمل سست، خطرناک یا مہنگا ہوتا ہے۔‘

رولز آف اوریجن خاص طور پر متنازع ہیں۔ ان اصولوں کے تحت برآمد کنندگان کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اشیا واقعی انڈیا میں تیار کی گئی ہیں یا بنائی گئی ہیں، نہ کہ صرف جوڑی گئی ہیں۔

اس سے پہلے یہ تصدیقی سرٹیفیکیٹ انڈیا کی حکومت جاری کرتی تھی۔ لیکن دہلی کے تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ اینڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کے مطابق یورپی یونین کے ساتھ نئے معاہدے کے تحت اب برآمد کنندگان کو خود تصدیق کرنا ہوگی۔

جی ٹی آر آئی کے اجے سری واستوا کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ برآمد کنندگان اب ’غلطی کی صورت میں قانونی اور مالی خطرہ خود برداشت کریں گے۔‘

غلط دعویٰ کرنے پر جرمانہ ہو سکتا ہے اس لیے ’انڈیا یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ تبھی فائدہ دے گا جب رولز آف اوریجن کو درست طریقے سے سمجھا جائے اور نافذ کیا جائے۔‘

ان پیچیدہ اصلاحات سے ہٹ کر کچھ بنیادی خدشات بھی ہیں جنھیں دور کرنا ضروری ہے تاکہ انڈیا امریکہ اور یورپی یونین کی منڈیوں میں ویتنام جیسے ایشیائی حریفوں کا مقابلہ کر سکے۔

کوٹلا کہتے ہیں: ’مقابلہ معاہدوں سے نہیں، کام سے جیتا جاتا ہے۔ ویتنام کو جو برتری حاصل ہے اس کی وجہ محصول میں رعایت نہیں بلکہ رفتار، قابل پیش گوئی نظام اور سپلائی چین کا انضمام ہے۔‘ اس کا مطلب ہے کہ سامان تیزی سے پہنچتا رہے، کسٹمز سے کلیئر ہوتا رہے، اسے پہنچانے کے لیے انفراسٹرکچر قابل اعتماد ہو اور لین دین کے اخراجات کم ہوں۔

’ان کے بغیر، صرف ٹیرف میں برابری سے مارکیٹ شیئر میں اضافہ نہیں ہو گا۔‘

احمد آباد شہر کی ورک شاپ میں ایک خاتون ہیرے کا معائنہ کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں سے زیورات اور قیمتی پتھروں جیسے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے

سنگاپور میں قائم تھنک ٹینک ایشیا ڈی کوڈڈ کی بانی پریانکا کشور نے بی بی سی کو بتایا کہ ویتنام، حتیٰ کہ بنگلہ دیش نے بھی برآمدات پر مبنی پیداواری ماڈل بنایا، جس میں برآمدات کے فروغ کی پالیسیاں بنانے اور بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری لانے پر زور دیا گیا۔ جبکہ ’اس کے مقابلے میں انڈیا کی صنعتی حکمت عملی بکھری ہوئی رہی۔ جسے کوئی جلدی نہیں اور وہ مقامی کمپنیوں کو غیر ملکی کمپنیوں کے سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اسے تیزی سے بدلنے کی ضرورت ہے۔‘

ویتنام کی حکمت عملی کی کامیابی سب کے سامنے ہے۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ویتنام کی برآمد کی جانے والی اشیا سنہ 2010 میں انڈیا کی برآمدات کے تقریباً ایک تہائی کے برابر تھیں اور اب انڈیا کے تقریباً برابر پہنچ چکی ہیں۔ حالانکہ ویتنام کی مجموعی قومی پیداوار انڈیا کے صرف دسویں حصے کے برابر ہے۔

ایشیاء ڈی کوڈڈ کے مطابق، درحقیقت گذشتہ دہائی میں تقریباً تمام بڑے ایشیائی برآمد کنندگان، بشمول ملائیشیا، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا، برآمدی شرح نمو کے لحاظ سے انڈیا سے بہتر کارکردگی دکھا چکے ہیں۔

اگرچہ انڈیا نے ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ میں جگہ بنانے کے لیے سخت محنت کی، مثال کے طور پر ایپل کے لیے آئی فون بنانا، لیکن ٹیکسٹائل، جوتے، فرنیچر اور دیگر کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات بنانے جیسے زیادہ محنت طلب شعبوں میں وہ اب بھی پیچھے ہے۔

پریانکا کشور کہتی ہیں: ’یہ ممکن نہیں کہ اگر نائیکی (جوتوں کا برانڈ) کو ویتنام میں زیادہ محصولات کا سامنا ہو تو وہ انڈیا کو بہترین متبادل سمجھے۔ انڈیا کے بھاری لاجسٹک اخراجات، درآمدی محصولات اور پیچیدہ کسٹمز ضوابط اس کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق، اب جبکہ آزاد تجارتی معاہدے طے پا چکے ہیں، دہلی کو یہ رکاوٹیں دور کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔ یہی وہ اقدامات ہیں جو انڈیا کو زیادہ سرمایہ کاری لانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سالانہ ایک ہزار ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف تک پہنچنے میں مدد دیں گے۔