سابق شہزادے اینڈریو کی گرفتاری شاہی خاندان کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے؟

King Charles, Queen Camilla, the Prince and Princess of Wales and their three children look straight ahead on the balcony of Buckingham Palace

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشناینڈریو کی گرفتاری کے بعد بادشاہ نے کہا کہ حکام کو ’ہمارا مکمل اور تہہِ دل سے تعاون حاصل ہے‘
    • مصنف, جونی ڈیمنڈ
    • عہدہ, شاہی نامہ نگار
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

محل، شاہی خاندان اور بادشاہت کے لیے اس کا نتیجہ ’برا‘ ہونے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

بادشاہ کے بھائی کو گرفتار کیا گیا، انھیں سینڈرنگھم میں کنگز سٹیٹ پر موجود ان کے گھر سے لے جایا گیا، ان کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) لیے گئے تاہم انھیں اب رہا کر دیا گیا ہے لیکن اُن کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

محض چند دن پہلے، یہ وہ شخص تھے جو ونڈسر گریٹ پارک میں تیس کمروں کے شان و شوکت والے شاہی لاج میں رہ رہے تھے۔

محض چند ہفتے پہلے، یہ ’شہزادہ‘ اینڈریو تھے جو شاہی محل کے ذریعے بیانات جاری کر رہے تھے اور اپنی (عوامی) خدمت اور بے گناہی کا اعلان کر رہے تھے۔‘

محض چند ماہ پہلے، وہ ویسٹ منسٹر کیتھیڈرل کی سیڑھیوں پر ’ڈچز آف کینٹ‘ کی آخری رسومات کے موقع پر خاندان کے دیگر افراد کے جھرمٹ میں نظر آئے۔

اور 2011 میں تجارتی سفیر کے عہدے سے دستبرداری کے بعد بھی، برسوں تک انھوں نے بکنگھم پیلس کو اپنے سرمایہ کاری کے منصوبے ’پچ ایٹ پیلیس‘ کے پسِ منظر کے طور پر استعمال کیا۔

اس وقت بادشاہ کی پوزیشن سے کوئی بھی حسد نہیں کرے گا۔ ان کے حامی ان اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو وہ پہلے ہی اٹھا چکے ہیں، جیسے اپنے بھائی سے القابات اور گھر واپس لینا اور ساتھ ہی کسی بھی قسم کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا وعدہ کرنا۔

حامی اس رفتار اور پختہ عزم کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے ساتھ بادشاہ نے اب تک کارروائی کی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اور وہ اس بیان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد جاری کیا گیا۔

ایک ایسا بیان جس میں بادشاہ اور اینڈریو کے درمیان خونی رشتے کا ایک بار بھی حوالہ نہیں دیا گیا۔

جہاں انھوں نے ’اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور عوامی عہدے کے غلط استعمال کے شبے‘ پر اپنی ’شدید تشویش‘ کا ذکر کیا، وہیں انھوں نے کہا کہ حکام کو ’ہمارا مکمل اور تہہِ دل سے تعاون حاصل ہے۔‘

ان کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بادشاہ اپنی خاندانی وفاداری کو ایک طرف رکھ رہے ہیں۔

بادشاہ کے سوانح نگار اور دوست، جوناتھن ڈمبلبی نے جمعرات کو بی بی سی کے پروگرام ’ورلڈ ایٹ ون‘ میں شاہی خاندان اور بادشاہت کے درمیان ایک حد کی وضاحت کی۔

انھوں نے گرفتاری کے حوالے سے کہا ’میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بادشاہت کو نقصان پہنچے گا۔ میرے خیال میں ہمیں ایک خاندان کے تصور کو بادشاہت کے ادارے سے الگ کرنا ہو گا۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا بہت آسان ہے۔‘

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس گرفتاری سے شاہی خاندان اور محل کو تھوڑا موقع ملے گا اور اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے ساتھ ’ایک عام مشتبہ شخص‘ جیسا سلوک کرنے سے نقصان میں کمی آئے گی۔

بھیانک خبروں کے درمیان یہ شاید تسلی کا ایک قطرہ ہو لیکن یہ زیادہ امید افزا نہیں۔

برسوں سے، دہائیوں سے، محل وہ ادارہ جو شاہی خاندان کے افراد کے عوامی کردار اور ان کی نجی زندگیوں کے درمیان ایک لائن کھینچتا آیا ہے۔

اینڈریو عوامی زندگی سے دستبردار ہوئے تو شاہی محل نے بھی ان کی نمائندگی سے ہاتھ کھینچ لیا۔

لیکن یہ فرق جو محل کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے عام لوگوں کی سمجھ سے بالکل بالاتر ہے۔ ان کے لیے شاہی محل، شاہی خاندان اور بادشاہت، یہ سب ایک ہی نظر آتے ہیں۔

اینڈریو شاید کچھ عرصے سے بکنگھم پیلس کی بالکونی میں (خاندان کے ساتھ) نظر نہ آئے ہوں لیکن چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک وہ اس کا حصہ رہے جسے ان کے والد پرنس فلپ ’فیملی بزنس‘ کہا کرتے تھے۔

یہ خیال کہ یہ ایک ’نجی معاملہ‘ ہے یا تھا، بالکل ناقابلِ یقین ہے۔

The King pictured with his brother Andrew at the funeral of the Duchess of Kent

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبادشاہ چارلس کو ایک کڑی جدوجہد اور ذہنی کشمکش کا سامنا رہا ہے، جہاں انھیں ایک طرف خاندانی وفاداری اور دوسری طرف تاج و تخت کے تئیں اپنے فرائض کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑا

ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سابقہ پرنس اینڈریو ہیں اور وہ اب بھی تاج و تخت کے وارثوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ موروثی بادشاہت کی اصل بنیاد ہی ’شاہی خون‘ ہے۔

اگر وہ محض ایک ’عام شہری‘ بھی ہوتے، تب بھی شاہی خاندان اور محل کے ساتھ ان کا ماضی کا تعلق بادشاہت کو اس تنازعے میں گھسیٹنے کے لیے کافی ہوتا۔

کون جانتا ہے کہ ان تحقیقات میں ’تہہِ دل سے تعاون‘ کے نتیجے میں کیا کچھ سامنے آ جائے جس کا بادشاہ نے وعدہ کیا ہے؟

محل، بادشاہ کی طرف سے اب تک کیے گئے بے مثال اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے، جیسے اینڈریو سے القابات اور گھر چھیننا، امداد کی پیشکش کرنا اور حکام سے کسی بھی قسم کی رعایت حاصل کرنے سے مکمل گریز کرنا۔

اس میں شاید ہی کوئی شک ہو کہ بادشاہ کو ایک کڑی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا، جہاں وہ ایک طرف خاندانی وفاداری اور دوسری طرف تخت سنبھالتے ہی ورثے میں ملنے والی (پیچیدہ) صورتحال اور تیسری طرف تاج و تخت کے تئیں اپنے فرائض کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن بادشاہت کا اصل مقصد ’تسلسل‘ ہے۔ یہ ماضی کے واقعات کا ایک مجموعہ بھی ہے اور ایک زندہ جاوید حقیقت بھی جو حال کے تقاضوں کے مطابق ردِعمل دیتی ہے۔

بادشاہ کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انھوں نے (اس معاملے میں) کتنا کچھ کیا جبکہ اس ادارے کے ناقدین یہ سوال کریں گے کہ پہلے کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

جب رپورٹس اور الزامات بڑھ رہے تھے تو اس وقت مزید چھان بین کیوں نہیں کی گئی؟ اور وہ کون سا موڑ تھا اور کیوں، جب سابقہ شہزادے کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں تبدیلی آئی؟

آج کا یہ ہنگامہ تو تھم جائے گا لیکن نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے۔

شاہی محل، شاہی خاندان اور تاج و تخت کے لیے اب سوال یہ ہے کہ ابھی مزید کتنا (نقصان) ہونا باقی ہے؟