امریکہ ایران کشیدگی: تہران ’ہتھیار ڈالنے‘ کے بجائے تصادم کا انتخاب کیوں کر سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA / Iran's Supreme Leader Office via EPA
- مصنف, عامر اعظمی
- عہدہ, بی بی سی فارسی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
خطے میں امریکی فوجی طاقت میں مسلسل اضافہ اب محض اشارے دینے کے بجائے جنگی تیاریوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر کا ایرانی پانیوں کے قریب پہنچنا پہلے ہی اہم قدم ہے۔
ایک اور طیارہ بردار جہاز، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، آخری بار آبنائے جبل الطارق کے قریب دیکھا گیا تھا اور ممکنہ آپریشنز میں ساتھ دینے کے لیے مشرق کی طرف جا رہا ہے۔
دیگر فوجی ساز و سامان بھی خطے میں منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ واشنگٹن مرحلہ وار فوجی آپشنز کو یکجا کر رہا ہے۔
اس طرح کی تعیناتیاں سفارت کاری میں بطور دباؤ استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن مجموعی طور پر، یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔
ایک ایسا تعطل جو فوجی کارروائی پر منتج ہو سکتا ہے اگر کسی بھی فریق نے اپنے موقف میں تبدیلی نہ کی۔
یہ ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: ایرانی رہنما، کم از کم عوامی سطح پر دنیا کی سب سے طاقتور فوج اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے مضبوط ترین علاقائی اتحادی کے سامنے ڈٹے کیوں ہوئے ہیں؟
اس کا جواب واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کے لیے رکھی گئی شرائط میں پنہاں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہUS Navy / Reuters
امریکی شرائط ’ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف
تہران کے نقطہ نظر سے یہ مطالبات مذاکرات نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہیں۔
ان مطالبات میں یورینیئم افزودگی کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کی مار کرنے کی حد میں کمی تاکہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ رہیں، پورے خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت روکنا اور جیسا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بیان کیا اسلامی جمہوریہ کا اپنے شہریوں کے ساتھ سلوک تبدیل کرنا شامل ہے۔
ایرانی قیادت کے لیے یہ ثانوی پالیسیاں نہیں۔ یہ اس چیز کا بنیادی حصہ ہیں جسے وہ اپنا سکیورٹی ڈھانچہ تصور کرتے ہیں۔
طاقتور بین الاقوامی اتحادیوں کی عدم موجودگی میں تہران نے دہائیوں تک وہ نیٹ ورک تیار کیا، جسے وہ ’مزاحمتی محور‘ کہتا ہے۔
یہ اتحادی مسلح گروہوں کا ایسا نیٹ ورک ہے جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ محاذ آرائی کو ایران کی سرحدوں سے دور رکھا جائے اور دباؤ کو اسرائیل کے قریب منتقل کر دیا جائے۔
تہران کا بیلسٹک میزائل پروگرام دراصل اس کی پرانی اور بوسیدہ فضائیہ اور جدید فوجی ٹیکنالوجی تک محدود رسائی کا متبادل ثابت ہوا۔
جوہری پروگرام، اگرچہ سرکاری طور پر اسے ’پرامن‘ قرار دیا جاتا ہے لیکن اسے بڑے پیمانے پر ایک دفاعی رکاوٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
جوہری ہتھیار بنانے کے عمل کے بغیر بھی یورینئیم افزودگی کے عمل میں مہارت حاصل کرنا وہ صلاحیت پیدا کر دیتا ہے جسے ماہرِ سماجیات و دفاع ’تھریش ہولڈ کیپبلٹی‘ کہتے ہیں۔
اس کا مطلب ایک ایسا بنیادی ڈھانچہ ہے جسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے محض ایک سیاسی فیصلے کی ضرورت ہو گی۔
یہ پوشیدہ صلاحیت بذاتِ خود ایک سفارتی برتری یا دباؤ کے طور پر کام کرتی ہے۔
تہران کے نزدیک ان عناصر کو ختم کرنے کا مطلب اپنے دفاعی نظام کی بنیادوں کو مسمار کرنا ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہIran Army Office / EPA
رہبرِ اعلیٰ کے لیے خطرہ
ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے نقطہ نظر سے، ان شرائط کو تسلیم کرنا ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ قیادت امریکہ کے ساتھ ایک محدود جنگ کا خطرہ مول لینے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک فوجی تصادم، چاہے وہ کتنا ہی مہنگا کیوں نہ پڑے، اسے ناقابلِ برداشت نہیں سمجھا جاتا (یعنی اس میں بقا ممکن ہے) لیکن مکمل تزویراتی پسپائی کو بقا کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، اس حساب کتاب میں چھپے خطرات انتہائی سنگین ہیں اور یہ صرف ایران کے لیے ہی نہیں۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
امریکی کارروائی کے آغاز ہی میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اگر خامنہ ای ہلاک ہو جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کی تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط حکمرانی کا خاتمہ ہو گا بلکہ اس نازک لمحے میں جانشینی کا عمل بھی عدم استحکام سے دوچار ہو سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور دیگر سکیورٹی اداروں پر حملے اس ریاستی مشینری کو بھی کمزور کر سکتے ہیں جس نے حال ہی میں ایران کی تاریخ کے بدترین اور پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کنٹرول حاصل کیا۔
وہ مظاہرین جو حالیہ ہفتوں میں سڑکوں پر نکلے تھے اور صرف شدید طاقت کے استعمال کے بعد پیچھے ہٹے وہ اب بھی شدید بے چینی اور بیزاری کا شکار ہیں۔
ریاست کے جبر و تسلط کے اس نظام کو لگنے والا ایک اچانک دھچکا ملک کے اندرونی توازن کو غیر متوقع طور پر بدل سکتا ہے۔
تہران شاید یہ سمجھتا ہو کہ واشنگٹن کے اہداف صرف اس کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے تک محدود ہوں گے لیکن جنگیں شاذ و نادر ہی ابتدائی مفروضوں کے مطابق آگے بڑھتی ہیں۔
اہداف، جنگ کے دورانیے، یا سیاسی نتائج کے بارے میں غلط اندازہ اس تنازعے کو تیزی سے پھیلا سکتا ہے۔
معاشی دباؤ اس خطرے میں ایک اور تہہ کا اضافہ کرتا ہے۔
ایران کی معیشت، جو پہلے ہی پابندیوں، مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے، مزید جھٹکوں کو برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرے گی۔
تیل کی برآمدات میں خلل یا انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان عوامی غصے کو مزید ہوا دے گا جسے حل کرنے کی بجائے صرف دبا دیا گیا۔
اس تناظر میں یہ سخت موقف کئی مقاصد پورے کرتا ہے۔ یہ بیرونی طور پر پختہ ارادے کا اشارہ دیتا ہے اور اندرونی طور پر طاقت کا اظہار کرتا ہے لیکن یہ سمجھوتے کی گنجائش کو بھی کم کر دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
واشنگٹن کے لیے خطرات
واشنگٹن کے لیے بھی خطرات اتنے ہی حقیقی ہیں۔
اگر تناؤ بڑھتا ہے توکاغذی حد تک امریکی فوج کے پاس وہ تمام تر صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنے کمانڈر ان چیف کے اہداف کو پورا کر سکے۔
لیکن جنگیں کاغذ پر نہیں لڑی جاتیں۔
وہ غلط اندازوں، لڑائی کی شدت میں اضافے اور غیر متوقع نتائج سے یکسر مختلف شکل اختیار کرتی ہیں۔
اسرائیل اور ایران کے مابین حالیہ بارہ روزہ عسکری تصادم نے نہ صرف تہران کے تزویراتی ڈھانچے کی حساسیت کو عیاں کیا بلکہ ایرانی دفاعی نظام میں موجود خلا کو بھی نمایاں کر دیا تاہم اس کشیدگی نے ایران کو دباؤ کی صورتحال میں اپنے عسکری نظم و ضبط کو دوبارہ ترتیب دینے، حملوں کے اثرات کو جذب کرنے اور جوابی حکمتِ عملی وضع کرنے کے نئے تجربات بھی فراہم کیے ہیں۔
مستقبل میں کسی بھی وسیع تر جنگ کے نتائج ان توقعات سے یکسر مختلف ہو سکتے ہیں جن کا اندازہ فریقین لگا رہے ہیں۔ تہران میں مرکزی حکومت کی گرفت کمزور ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خطہ فوری طور پر استحکام کی جانب بڑھے گا یا مغربی مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
تاریخی طور پر، اقتدار کا خلا اکثر ایسے منتشر اور شدت پسند گروہوں کے ابھرنے کا باعث بنتا ہے جو نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی نئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔
ایران کے داخلی ڈھانچے کی کمزوری واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک ایسی پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتی ہے جس سے نمٹنا موجودہ چیلنجز سے کہیں زیادہ مشکل ہو گا۔
آیت اللہ خامنہ ای کو اس وقت بہت کم سازگار اختیارات کا سامنا ہے۔
واشنگٹن کی شرائط کو تسلیم کرنے کا مطلب حکومت کی دفاعی حکمتِ عملی کو کھوکھلا کرنے کا خطرہ مول لینا ہے جبکہ انھیں مسترد کرنا، اندرونی حالت کی کمزوریوں کے اس دور میں، براہِ راست تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔
ایران کی نظر میں ’بدترین‘ آپشن یعنی سٹرٹیجک پسپائی اور ’بدترین میں سے بہتر‘ یعنی ایک محدود لیکن قابو میں رہنے والی جنگ میں سے تہران، کم از کم عوامی سطح پر دوسرے آپشن کی طرف مائل نظر آتا ہے۔













