روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ہیفار حسن
- عہدہ, بی بی سی عربی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں روزہ رکھنے والے مسلمان پورے مہینے فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے سے پرہیز کریں گے۔
کچھ لوگوں کو ماہ رمضان کے ابتدائی ایام میں روزہ زیادہ محسوس ہوتا ہے جس کی بڑی وجہ بھوک اور پیاس کا لگنا ہے۔ بعض افراد کے لیے اپنی غذائی عادات میں اچانک تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنھیں طویل وقت تک کھانے پینے سے دور رہنے کے باعث تھکاوٹ یا کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض صحت سے متعلق مسائل کا سامنا بھی کر سکتے ہیں۔
تو ایسا کیا کیا جائے کہ روزے کے دوران بھوک اور پیاس محسوس نہ ہو، تھکاوٹ نہ ہو اور دن زیادہ سہولت اور ترتیب کے ساتھ گزارا جائے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سحری میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں؟
آپ سحری میں کیا کھا رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب سے ہی طے ہو جائے گا کہ روزے کے دوران آپ کو تھکن، بھوک یا پیاس کس حد تک محسوس ہو گی۔
ماہر غذائیت فادی عباس چند ایسے مشورے دیتے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ روزہ نسبتاً آسان بنانے، جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے اور بہتر صحت کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں عباس نے کہا: ’سحری میں ایسی غذا لینی چاہیے جس میں تقریباً 70 فیصد پانی موجود ہو۔ سحری کو تین حصوں میں کھایا جائے اور ہر حصے کے درمیان پانچ منٹ کا وقفہ رکھا جائے۔ ابتدا سلاد سے کی جائے، اور پھر جو کھانا کھایا جائے اس میں نمک کی مقدار کم رکھی جائے۔‘
فادی عباس کے مطابق پنیر اور خشک میوہ جات جیسی چیزیں غذائیت سے تو بھرپور ہوتی ہیں لیکن چند ہی گھنٹوں بعد جسم میں پانی کی زیادہ ضرورت پیدا کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ مزید کہتے ہیں: ’دوسرے مرحلے میں میٹھا لیا جائے اور بہتر ہے کہ پانی سے بھرپور پھل کھائے جائیں (جیسے سٹرابیری، تربوز یا مالٹے) یا پھر تازہ جوس کا ایک گلاس۔ آخر میں پانی پیا جائے۔‘
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) چائے اور کافی سے پرہیز کا مشورہ دیتی ہے، کیونکہ ان میں کیفین ہوتی ہے اور کیفین کی وجہ سے پیشاب زیادہ آتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔
جسم سے پانی کے اخراج کی وجہ سے سر درد، کم بلڈ پریشر، گردوں کے مسائل اور دیگر طبی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسا کیا کھائیں کہ روزے کے دوران غصّہ نہ آئے اور جھنجھلاہٹ نہ ہو؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
روزے کے دوران بھوک کی وجہ سے کچھ لوگ چڑچڑے بھی ہو جاتے ہیں اور کام کے دوران ان کی کارکردگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔
شام کے شہر حلب میں تعمیراتی کام کرنے والے سعید کہتے ہیں کہ ’دوپہر تک میرا مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے۔ میں اپنے رویّے پر قابو نہیں رکھ پاتا اور مزدوروں پر چیخنے لگتا ہوں۔ پھر فوراً پچھتاوا ہوتا ہے اور معذرت بھی کر لیتا ہوں، مگر یہ صورت حال بار بار دہرائی جاتی ہے۔‘
سعید کے بھائی عثمان کا کہنا ہے: ’پہلے چند دن تو بھوک برداشت ہو جاتی ہے، لیکن ایک ہفتے بعد شدید پیاس لگتی ہے جس سے سر میں درد ہوتا ہے اور میرا رویہ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ میں اپنی جھنجھلاہٹ پر قابو نہیں رکھ پاتا۔‘
ایسی مشکلات صرف سعید اور عثمان تک محدود نہیں، بہت سے دیگر لوگ بھی اس کیفیت سے گزرتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین غذائیت کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، کیونکہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس کا بڑا اثر اس کے رویّے پر پڑتا ہے۔
اسی حوالے سے مراکش کے غذائی علوم کے ماہر محمد فائد کہتے ہیں: ’عمومی طور پر عورتیں مردوں کے مقابلے میں روزہ زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کر لیتی ہیں، کیونکہ عورتوں کے جسم میں چربی کی مقدار مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔‘
فائد کے مطابق اس کے پیچھے سائنسی وجوہات بھی ہیں کیونکہ کچھ ہارمون عورتوں میں زیادہ فعال ہوتے ہیں اور کچھ مردوں میں۔
وہ کہتے ہیں: ’ایسٹروجن ہارمون عورت کو بھوک برداشت کرنے اور زیادہ دیر تک پرسکون رہنے میں مدد دیتا ہے، جس سے وہ جذباتی بے چینی اور غصے پر قابو رکھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون غصے، بے چینی اور تناؤ کے احساس کو بڑھاتا ہے۔‘
فائد مزید کہتے ہیں: ’مرد کے مقابلے میں عورت کے جسم کو مجموعی طور پر کم خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ گوشت، مرغی اور پنیر جیسی غذاؤں کا زیادہ استعمال ان ہارمونز کی پیداوار بڑھا دیتا ہے جو اعصابی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چونکہ ایسٹروجن کا تعلق کولیسٹرول سے بھی ہے، اس لیے گوشت کا زیادہ استعمال کولیسٹرول بڑھاتا ہے، جو اعصابی بے چینی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔‘
فائد کا کہنا ہے کہ انسان جو کھانا کھاتا ہے وہ اس کے مزاج پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ جو لوگ زیادہ گوشت کھاتے ہیں، وہ عام طور پر سبزی خور افراد کے مقابلے میں زیادہ چڑچڑے اور بے چین ہوتے ہیں۔
روزے کے دوران وقت کیسے گزاریں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہ رمضان کے دوران پاکستان سمیت کئی ممالک میں دفتری اوقات کم کر دیے جاتے ہیں۔ دفتری مصروفیات کی وجہ سے بھوک اور پیاس محسوس اگر نہ بھی ہو تو گھر واپس جا کر افطاری تک کا وقت کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تو اس کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھر میں بھی خود کو کسی نہ کسی مثبت سرگرمی میں مصروف رکھیں۔
انغام دو بچوں کی ماں ہیں اور سعودی عرب کے شہر ریاض میں مقیم ایک گھریلو خاتون ہیں۔ وہ پیشگی منصوبہ بندی کرتی ہیں تاکہ رمضان کے مہینے کو اپنی صحت بہتر بنانے، اپنی مہارتیں نکھارنے اور خود سے مطمئن رہنے کا ذریعہ بنا سکیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے رمضان سے پہلے ہی وقفے وقفے سے بھوکا رہنے کو معمول بنایا تاکہ میرا جسم بھوک برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائے اور رمضان کے روزے مجھے ایک معمول کی طرح محسوس ہوں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ہر سال میں اپنے لیے ایک ہدف مقرر کرتی ہوں جسے پورا کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس سال میں نے منصوبہ بنایا ہے کہ رمضان میں دو بار قرآن ختم کروں اور اپنے بچوں کو کچھ آیات حفظ کرواؤں۔ اس کے ساتھ میں بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف رہتی ہوں اور وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔‘
نادیہ اردن کے شہر عقبہ میں رہنے والی 25 سالہ نوجوان خاتون ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں بھوک اور پیاس کا مقابلہ پڑھائی سے کرتی ہوں۔ میں اپنا وقت ایسی کتابیں اور ناول مکمل کرنے میں گزارتی ہوں جو میرے پاس موجود تھے اور پڑھ نہ پائی۔ کچھ ٹی وی پروگرام بھی دیکھتی ہوں اور اپنی انگریزی بہتر کرتی ہوں۔ یوں فارغ وقت ہی نہیں ملتا کہ بھوک یا پیاس کا خیال آئے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افطار میں کیا لیا جائے؟
افطار کے وقت کھانے کی میز عام طور پر طرح طرح کے کھانوں سے بھر دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اکثر لوگ ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد وہ زیادہ کھانے کے نقصانات کا سامنا کرنے لگتے ہیں؛ جیسے کہ پیٹ میں درد، بھاری پن اور سستی وغیرہ۔ لیکن زیادہ کھانے سے اگر بلڈ پریشر یا شوگر بڑھ جائے تو زیادہ سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہر غذائیت فادی عباس کے مطابق روزے کے ابتدائی دن سب سے مشکل ہوتے ہیں ’کیونکہ جسم توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چربی کا استعمال چار دن بعد شروع کرتا ہے۔‘
عباس کہتے ہیں کہ افطاری کے وقت بھی تین مراحل میں کھایا جائے، بالکل اسی طرح جیسے سحری کھاتے ہوئے وقفے لیے تھے، اور ہر مرحلے کے درمیان چھ منٹ کا وقفہ ہو۔ ان کے مطابق، دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل ملنے میں 18 منٹ لگتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں:’پہلے مرحلے میں ایک گلاس پانی پینا چاہیے، بیٹھ کر اور تین وقفوں میں۔ چھ منٹ بعد میٹھا لیا جائے تاکہ جسم کو وہ توانائی مل سکے جو روزے کے دوران کم ہوئی ہے۔ لیکن یہ میٹھا مصنوعی نہیں بلکہ قدرتی ہو، جیسے کھجور یا تازہ پھلوں کا جوس۔‘
عباس کے مطابق ’مزید چھ منٹ انتظار کرنے کے بعد باریک کٹی ہوئی سلاد سے آغاز کرنا چاہیے تاکہ معدے پر بوجھ نہ پڑے۔ سبزیوں میں موجود فائبر جسم کو وٹامن فراہم کرنے اور قبض سے بچانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘
عباس کا کہنا ہے کہ ’سلاد کے بعد ایک یا زیادہ سے زیادہ دو قسم کے ایسے کھانے لیں جن میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس شامل ہوں۔‘
مثال کے طور پر آلو، چاول، پاستا، روٹی اور بیکری کی اشیاء، سب میں کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں۔ اس لیے ’ان میں سے صرف ایک چیز کا انتخاب کیا جائے اور اس کے ساتھ صرف ایک قسم کا پروٹین لیا جائے (جیسے دالیں، انڈے، کم چکنائی والا گوشت یا دودھ کی مصنوعات)۔ کھانا چباتے ہوئے بھی مناسب وقت دیا جائے، جو نرم غذاؤں کے لیے تقریباً 30 سیکنڈ اور سخت غذاؤں (جیسے گوشت اور خشک میوہ جات) کے لیے 60 سیکنڈ ہوتا ہے۔‘
ماہر غذائیت فادی عباس کا کہنا ہے کہ اگرچہ جسم کو پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے لیکن ایک ہی بار میں بہت زیادہ پانی پینا یا غلط طریقے سے پینا آنتوں اور گردوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
وہ ہدایت دیتے ہیں کہ ’صحت مند طریقہ یہ ہے کہ افطار کے ایک گھنٹے کے اندر دو گلاس سے زیادہ پانی ایک ساتھ نہ پیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہ رمضان کے دوران ورزش کس وقت کی جائے اور کتنی کی جائے؟
لندن میں مقیم ماہر غذائیت آئسون کفانج کہتی ہیں کہ ’کسی بھی قسم کی ورزش شروع کرنے سے پہلے معدے کو ہاضمے کے عمل سے مکمل طور پر فارغ ہو جانا چاہیے، یعنی افطار کے کم از کم تین گھنٹے بعد ورزش کی جائے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’ابتدائی دنوں میں جسم کو زیادہ تھکانا نہیں چاہیے۔ ہلکی ورزشیں بہتر ہیں، جیسے چہل قدمی، گھر میں موجود ہلکے وزن اٹھانا، یا چند بار سیڑھیاں چڑھنا۔ پھر ورزش کا دورانیہ ہر روز آہستہ آہستہ بڑھایا جائے یہاں تک کہ ہر شخص کی اپنی صحت اور ورزش کرنے کی صلاحیت کے مطابق ایک مناسب سطح تک پہنچ جائے۔‘
آئسون کفانج کا مشورہ ہے کہ دل کی دھڑکن بڑھانے والی ورزشیں ضرور کرنی چاہییں۔












