دو ارب پتی ’دوستوں‘ کی عدالتی جنگ اور اربوں ڈالر کا مقدمہ جو پوری دنیا کے لیے اہم ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, للی جمالی
- عہدہ, شمالی امریکہ سے نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
جج نے ایلون مسک سے کہا: ’عدالت میں موجود سب کو یاد دلا دیں کہ آپ وکیل نہیں ہیں۔‘
یہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کی ایک عدالت کا منظر ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیت ایلون مسک کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ وہی ایلون مسک جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے مالک ہیں، اور بجلی سے چلنے والی کاریں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے شریک بانی ہیں۔
انھوں نے چیٹ جی پی ٹی (مصنوعی ذہانت کا چیٹ بوٹ) تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سیم آلٹمین پر کیس کر رکھا ہے۔
ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کے درمیان تلخ تنازع برسوں سے جاری ہے، تاہم الزامات، جوابات اور طنزیہ جملوں کا تبادلہ زیادہ تر آن لائن ہی ہوتا رہا۔
پیر کے روز ایلون مسک نے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں سیم آلٹمین کو ’سکیم آلٹمین‘ لکھا۔
لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا کے ان ارب پتیوں کے درمیان یہ کشمکش اب آن لائن دنیا سے نکل کر عدالت میں منتقل ہو چکی ہے۔
ایلون مسک نے آلٹمین کے ساتھ اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔ عدالت ایلون مسک کے اس دعوے پر غور کر رہی ہے کہ سیم آلٹمین نے ان سے لاکھوں ڈالر بھی ہتھیا لیے اور چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی کو غیر منافع بخش رکھنے کے اصل مشن سے بھی انحراف کیا۔
اس مقدمے کے نتائج مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ مقدمہ کوئی ایک فریق ہی جیتے گا تاہم اس بات کا امکان ہے کہ نقصان دونوں کا ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس تصادم کو دو ہیوی ویٹ باکسرز کے رِنگ میں اترنے سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ ایک مبصر نے اسے ’کنگ کانگ اور گاڈزیلا کے مقابلے‘ سے بھی تشبیہ دی ہے۔
تنازعات کے حل میں مہارت رکھنے والی یونیورسٹی آف سان ڈیاگو کی پروفیسر سارہ فیڈرمن کہتی ہیں: ’مسک اور آلٹمین اتنے بڑے، اتنے غیر معمولی اور عام لوگوں سے اتنے مختلف ہیں کہ ان کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کا بھی مزا ہے۔‘
ایلون مسک نے مقدمے میں اوپن اے آئی، اس کے شریک بانی اور صدر گریگ بروک مین، اور مائیکروسافٹ کو بھی نامزد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کو منافع بخش بنانے کا منصوبہ مائیکروسافٹ کا تھا، جبکہ مائیکروسافٹ اس کی تردید کرتی ہے۔
مسک اربوں ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنھیں ان کے وکلا ’غلط کمائی‘ قرار دیتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ یہ رقم اوپن اے آئی کے غیر منافع بخش شعبے میں لگائی جائے۔ وہ کمپنی میں بڑی تبدیلیوں اور آلٹمین کی برطرفی کے بھی خواہاں ہیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مسک یہ سب کچھ اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں حسد ہے اور کمپنی چھوڑنے پر پچھتاوا ہے۔
اوپن اے آئی کا ایلون مسک پر الزام ہے کہ وہ آرٹیفیشیل انٹیلی جنس کی دوڑ میں اپنے اس اہم حریف (یعنی اوپن اے آئی) کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیس سننے والی جج
ایلون مسک بنام سیم آلٹمین کیس ضلعی عدالت کی جج یووان گونزالیز راجرز کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
جنوبی ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی 61 سالہ جج عدالت میں اپنے صاف گو اور غیر لچکدار رویے کے لیے مشہور ہیں۔
وہ قانونی فرم کُولی ایل ایل پی میں شراکت دار رہ چکی ہیں۔ اسی فرم کے سابق شراکت دار اور ریٹائرڈ وکیل مائیکل رہوڈز نے بی بی سی کو بتایا: 'وہ بے حد تجربہ کار ہو چکی ہیں اور کوئی بھی چیز انھیں پریشان نہیں کر سکتی۔'
گذشتہ ہفتے اپنی گواہی کے دوران ایلون مسک نے ایک موقع پر خود اپنے وکیل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی اور اوپن اے آئی کے وکیل ولیم ساوٹ کے سوال کرنے کے انداز پر تنقید کی۔ ایلون مسک کا الزام تھا کہ وکیل ان سے ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جس سے انھیں اُن کی مرضی کے جواب ملیں۔
گونزالیز راجرز نے فوراً مداخلت کی اور کہا ’یہ اس طرح نہیں ہوتا۔‘
انھوں نے مسک سے کہا: ’عدالت میں موجود سب کو یاد دلا دیں کہ آپ وکیل نہیں ہیں۔‘
مسک نے تسلیم کیا: ’میں وکیل نہیں ہوں۔ البتہ تکنیکی طور پر میں نے سکول میں لا 101 کا کورس کیا تھا۔‘ اس پر کھچا کھچ بھری عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
تبصرہ نگاروں نے گونزالیز راجرز کو ایک سخت مگر منصفانہ فیصلے کرنے والی جج قرار دیا ہے، جو اپنی عدالت پر مکمل گرفت رکھتی ہیں۔
مائیکل رہوڈز، جو ماضی میں مسک اور اوپن اے آئی دونوں کی نمائندگی کر چکے ہیں، نے کہا: ’'وہ چاہتی ہیں کہ قانون کے تحت سب کے ساتھ بالکل یکساں سلوک ہو۔‘
اگرچہ توقع ہے کہ نو رکنی جیوری اس ماہ کے آخر تک مقدمے کا فیصلہ دے دے گی، تاہم یہ فیصلہ حتمی نہیں ہو گا بلکہ مشاورتی نوعیت کا ہو گا۔ حتمی فیصلہ گونزالیز راجرز ہی کریں گی۔
اب تک گونزالیز راجرز کی عدالت میں آنے والے وہ مقدمات، جو بڑے ٹیک اداروں کے خلاف یا ان کی جانب سے دائر کیے گئے، سب سے زیادہ پیچیدہ اور گہری توجہ حاصل کرنے والے مقدمات میں شمار ہوتے ہیں۔
مدعی کے وکیل جے ایڈلسن نے کہا: ’کچھ جج ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ کوئی مقدمہ سن رہے ہوں تو آدمی خود بخود زیادہ سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ آپ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہر چیز درست ہو، ٹائی سیدھی ہو اور آپ کسی کیس کا حوالہ غلط نہ دیں۔‘
جج گونزالیز راجرز کو سنہ 2011 میں اس وقت کے صدر باراک اوباما نے تعینات کیا تھا۔
اپریل کے آخر سے مسک بنام آلٹمین مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے بعد سے گونزالیز راجرز انتہائی نظم و ضبط سے معاملات چلا رہی ہیں۔ وہ ہر صبح ٹھیک آٹھ بجے کارروائی شروع کرتی ہیں، دوپہر کا کھانا نہیں ہوتا، بلکہ صرف 20، 20 کے دو وقفے دیے جاتے ہیں۔
وہ جیوری کے ساتھ نرم رویہ رکھتی ہیں، اور عوامی خدمت اور کارروائی پر بھرپور توجہ دینے پر باقاعدگی سے ان کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔
ایک موقع پر انھوں نے کہا: ’اگر آپ کا رویہ گھر والوں سے چڑچڑا ہو جائے تو بس جان لیں کہ اس کی وجہ تھکن ہے۔‘
مائیکل روڈز اپنی سابقہ لاء پارٹنر کے سامنے عدالت میں پیش ہو چکے ہیں، وہ ان کی حس مزاح کا ذکر کرتے ہیں۔
جبکہ گونزالیز نے حال ہی میں عدالت کو بتایا کہ ان کے بچے انھیں کہتے ہیں کہ ان کے لطیفے خراب ہوتے ہیں ’اور وکیل صرف اس لیے ہنستے ہیں کہ انھیں ہنسنا پڑتا ہے۔‘
تاہم جب مقدمے کے فریقین اور ان کے وکلا کا معاملہ آتا ہے تو وہ پوری طرح پیشہ ورانہ رویہ اپناتی ہیں۔
مقدمے کے پہلے ہفتے میں انھوں نے مسک کو اُن حالیہ پوسٹس پر جھاڑا، جو انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی تھیں۔ انھوں نے اوپن اے آئی اور سیم آلٹمن کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے انھیں 'سکیم آلٹمن' لکھا تھا۔
گونزالیز راجرز نے سوال کیا: ’آپ عدالت کے باہر حالات مزید خراب کیے بغیر یہ معاملہ کیسے ختم کرنا چاہتے ہیں؟‘
مسک نے جواب دیا کہ وہ صرف اوپن اے آئی کے عوامی بیانات کا جواب دے رہے تھے۔
اس کے بعد گونزالیز راجرز نے مقدمے کے سبھی فریقوں کو عدالت سے باہر مقدمے سے متعلق عوامی بیانات دینے سے منع کر دیا۔
مارچ میں ہونے والی ایک قبل از سماعت کارروائی میں انھوں نے کہا تھا کہ مقدمے کے اعلیٰ پروفائل کرداروں کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی، اگرچہ کچھ معاملات میں انھوں نے لچک دکھائی ہے۔
مسک اور دیگر افراد عام سکیورٹی جانچ کے عمل سے گزرتے ہیں، لیکن انھیں عمارت کے ایک ایسے داخلی راستے تک رسائی دی گئی ہے جو عوام استعمال نہیں کرتے، تاکہ وہ باہر موجود صحافیوں اور متجسس افراد سے بچ سکیں۔
اور اگرچہ آج کل ہر ایک کے پاس مصنوعی ذہانت کے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے ہے، گونزالیز راجرز نے سائنسی قیاس آرائیوں کو عدالت سے باہر رکھنے کی کوشش کی ہے۔
جب مسک نے مصنوعی ذہانت کا موازنہ ٹرمینیٹر فلموں سے کیا تو جیوری کے عدالت سے نکلنے کے بعد گونزالیز راجرز نے ان سے کہا: ’آپ اپنا مختصر بیان دے چکے ہیں۔ اب بس۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایلون مسک اور سیم آلٹمین میں تنازع شروع کیسے ہوا؟
ایلون مسک اور سیم آلٹمین نے جب اوپن اے آئی کمپنی بنائی تھی تو طے کیا تھا کہ یہ غیر منافع بخش رکھی جائے گی اور اس کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا کہ آرٹیفییشل جنرل انٹیلی جنس کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچیں۔
آرٹیفیشیل جنرل انٹیلی جنس کی اصطلاح ایسی مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو انسانی ذہانت سے آگے بڑھ جائے۔
جب اوپن اے آئی نامی کمپنی بنائی گئی اس وقت بھی مسک کے ستارے عروج پر تھے۔ وہ ٹیسلا کے ذریعے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں عام کر رہے تھے، سپیس ایکس کے ذریعے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ تیار کر رہے تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر انھیں ایسا ٹیکنالوجسٹ سمجھا جاتا تھا، جس پر کبھی تھکن طاری نہیں ہوتی۔
جبکہ آلٹمین سلیکون ویلی (جسے ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے) میں تو مشہور تھے، مگر اس سے باہر نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بتایا جاتا ہے کہ مسک اور آلٹمین کی ملاقات سنہ 2012 میں سلیکون ویلی کے ایک سرمایہ کار کے ذریعے ہوئی۔ اُس وقت آلٹمین اپنی عمر کی 20 کی دہائی میں تھے اور مسک سے 14 سال چھوٹے تھے۔
بعد ازاں انھوں نے اوپن اے آئی کا تصور ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ (ایلون مسک) کے سامنے پیش کیا۔ وہ اس سے قبل مسک کو اپنا ہیرو بھی کہہ چکے ہیں۔
آلٹمین کی پیشکش کا اہم حصہ یہ بات تھی کہ مصنوعی ذہانت کو ترقی دیتے ہوئے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اوپن اے آئی کے آغاز میں دونوں کے درمیان تعاون خوشگوار رہا، دونوں ہی ٹیکنالوجی کی صلاحیت پر یکساں یقین رکھتے تھے۔
سنہ 2015 میں دونوں نے ایک کانفرنس سے گفتگو کی۔ ایلون مسک نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت وہ واحد ٹیکنالوجی ہے جو ’انسانیت کو سب سے زیادہ بدل سکتی ہے‘ مگر ساتھ ہی اسے ’انتہائی فریبی‘ اور ’مشکلات سے بھری‘ بھی قرار دیا تھا۔
مسک کہتے ہیں کہ ادارہ بناتے وقت طے ہوا تھا کہ اس سے منافع نہیں کمایا جائے گا، لیکن بعد میں اسے غیر قانونی طور پر ایک منافع کمانے والے ادارے میں بدل دیا گیا۔
اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ ایلون مسک نے جن فریقوں پر مقدمہ کیا ہے، وہ اور ایلون مسک خود سنہ 2017 میں اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ ’مشن کو آگے بڑھانے‘ کے لیے اسے منافع بخش بنانا ہی منطقی طور پر اگلا قدم ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق اُس وقت ایلون مسک نے اس سے اتفاق کیا تھا لیکن ’مکمل اختیار‘ کے ساتھ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بننے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔
یوں، سیم آلٹمین کے ساتھ اختیارات کی مبینہ کشمکش کے بعد سنہ 2018 میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی چھوڑ دی۔
اپنی رخصتی سے چند ماہ قبل مسک نے ایک ای میل میں لکھا: ’لوگوں، بس بہت ہو گیا۔ یا تو خود کچھ کرو یا اوپن اے آئی کو غیر منافع بخش ہی رہنے دو۔‘
مسک نے کمپنی کو مزید فنڈ دینے سے بھی انکار کیا اور لکھا کہ ’میں اس وقت تک اوپن اے آئی کو مالی معاونت فراہم نہیں کروں گا جب تک آپ (کمپنی میں) رہنے کا حتمی عزم ظاہر نہیں کرتے۔ ورنہ میں محض ایک احمق ہوں جو سٹارٹ اپ بنانے کے لیے مفت میں سرمایہ فراہم کر رہا ہے۔‘
سنہ 2022 میں اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی متعارف کروایا اور صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت کے انقلاب کا آغاز ہوا۔ چند ہی ماہ میں 10 کروڑ افراد اسے استعمال کر رہے تھے۔
مسک نے بعد میں مصنوعی ذہانت کی اپنی کمپنی ایکس اے آئی قائم کی، جو چیٹ بوٹ گروک بناتی ہے اور تا حال اپنے حریفوں سے پیچھے ہے۔
سنہ 2024 میں مقدمہ دائر کرتے وقت مسک نے الزام لگایا کہ اوپن اے آئی اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ کر مائیکروسافٹ کے لیے ’منافع بڑھانے‘ پر توجہ دے رہی ہے۔
ایلون مسک کا کہنا تھا کہ انھوں نے چار کروڑ ڈالرز کے قریب رقم اوپن اے آئی کو عطیہ کی، لیکن مدعا علیہان انھیں گمراہ کر کے ادارے کو منافع بخش کمپنی بنانے کی طرف لے گئے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے دو بڑے کھلاڑیوں کا ٹکراؤ
مقدمے کے بعد سے مسک اور آلٹمین کے درمیان دشمنی بارہا عوامی سطح پر سامنے آئی ہے۔
گذشتہ سال مسک اور سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے اوپن اے آئی کے اثاثے 97.4 ارب ڈالر میں خریدنے کی پیشکش کی۔
حالیہ فنڈنگ راؤنڈ میں کمپنی کی قدر 157 ارب ڈالر لگائی گئی تھی۔ اب یہ کمپنی سٹاک مارکیٹ میں پہلی بار حصص پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں اس کی ممکنہ مالیت تقریباً 850 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
اوپن اے آئی نے 97.4 ارب ڈالر کی پیشکش مسترد کی، آلٹمین نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: ’نہیں شکریہ، لیکن اگر آپ چاہیں تو ہم ٹوئٹر 9.74 ارب ڈالر میں خرید لیں گے۔‘
آلٹمین کی پوسٹ کے کمنٹ میں مسک نے جواب دیا: ’دھوکے باز۔‘
مارک زکربرگ کے ساتھ نجی پیغامات میں مسک یہ پوچھتے بھی دکھائی دیے کہ کیا میٹا کے سربراہ ’اوپن اے آئی کی بولی میں اُن (ایلون مسک) کے اور چند دیگر کے ساتھ شامل ہونا چاہیں گے۔‘
کولمبیا لاء سکول کی پروفیسر ڈوروتھی کے مطابق کمپنی خریدنے میں مسک کی دلچسپی اس مقدمے کو مزید الجھا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’مسک کئی بار اوپن اے آئی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر چکے ہیں اور ہر بار ٹھکرا دیے گئے۔ اس لیے یہ سوچنا غلط نہیں کہ ان کے محرکات مشکوک ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ مقدمے میں جج نے بھی اس نکتے کی نشاندہی کی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دلچسپ تفصیلات
عدالت میں مائیکروسافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا، اوپن اے آئی کے سابق سائنسدانوں میرا موراتی اور ایلیا سٹسکیور اور سابق بورڈ رکن شیون زیلس کی گواہی بھی متوقع ہے، جو مسک کے چار بچوں کی والدہ ہیں۔
مقدمے سے قبل وکلا کے درمیان ثبوت اور گواہی پر کشمکش کے دوران ارب پتیوں کی نجی زندگی سے متعلق کئی رنگین تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
جج نے فیصلہ دیا ہے کہ مسک کی جانب سے منشیات کے مبینہ استعمال سے متعلق باتیں عدالت میں نہیں آئیں گی۔
مسک کی قانونی ٹیم بھی خبروں میں رہی ہے۔ کاروبار سے متعلق خبریں دینے والے ادارے بزنس انسائیڈر کے مطابق ایلون مسک کے ایک وکیل فارغ وقت میں مسخرہ بنتے ہیں، جبکہ دوسرے وکیل ہالی ووڈ کے پروڈیوسر بھی ہیں اور حال ہی میں وینیٹی فیئر (ثقافت اور فیشن کا جریدہ) نے ان کا پروفائل شائع کیا۔
بڑا داؤ
یہ مقدمہ نہ صرف ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے لیے اہم ہے، بلکہ ممکنہ طور پر ہم سب کے لیے بھی اہم ہے۔
سنہ 2023 کے آخر تک ایلون مسک کہہ رہے تھے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں وقفہ لیا جانا چاہیے۔
اسی دوران مختصر عرصے کے لیے آلٹمین کو اوپن اے آئی کے سی ای او کے عہدے سے ہٹایا گیا، اس الزام پر کہ انھوں نے بورڈ ممبران کو گمراہ کیا ہے۔
اور اب ایکس اے آئی کے ذریعے ایلون مسک خود مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں قانون کی پروفیسر روز چن لُوئی کے مطابق اگر مسک جیتتے ہیں تو آرٹی فیشیل جنرل انٹیلی جنس کی دوڑ میں ایک بڑے حریف کی شکست ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’جو بھی یہ دوڑ جیتے گا، اس کے پاس بے پناہ طاقت ہو گی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مسک یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر وہ اوپن اے آئی کے مفادات کے درست نمائندگی کرتے ہیں۔
روز نے کہا: ’اگرچہ میں اس مسئلے کو عوامی سطح پر اجاگر کرنے پر ان کی قدر کرتی ہوں، لیکن بہت سوں کو خدشہ ہے کہ وہ غیر جانب دار نہیں، کیونکہ ان کی اپنی ایک بڑی اے آئی کمپنی ہے۔‘
مسک بنام آلٹمین مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب لوگ اپنی زندگیوں میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دونوں شخصیات صارفین تک یہ ٹیکنالوجی پہنچانے میں پیش پیش رہی ہیں۔
یہ مقدمہ ان کے عزائم اور اس ٹیکنالوجی کی ترقی سے متعلق نیت پر نئی روشنی ڈال سکتا ہے، جو اب دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے زیر استعمال ہے۔

























