’چین ٹیکنالوجی کو عوامی بنا رہا ہے‘: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکہ کے مقابلے میں خاموشی سے آگے بڑھتی چینی کمپنیاں

AI Robot

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنوری 2025 میں چینی ڈیپ سیک آر ون ماڈل کے آغاز کے بعد سے پن ٹرسٹ میں مصنوعی ذہانت کی چینی ٹیکنالوجی کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے
    • مصنف, للی جمالی
    • عہدہ, شمالی امریکہ کی نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی

ہر ماہ کروڑوں افراد جدید ترین سٹائلز کی تلاش میں پن ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر آتے ہیں۔

ویب سائٹ پر ’سب سے مضحکہ خیز چیزیں‘ کے عنوان سے موجود ایک صفحہ تخلیقی لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے عجیب و غریب خیالات سے بھرا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ایسے جوتے جو گملے بنا دیے گئے ہیں، آنکھوں کا میک اپ جو چیز برگر کی شکل کا ہے، یا سبزیوں سے بنایا گیا ننھا سا گھر۔

لیکن ممکنہ خریدار نہیں جانتے کہ ضروری نہیں اس کے پیچھے کام کرنے والی ٹیکنالوجی امریکی ہی ہو۔ پن ٹرسٹ تجاویز فراہم کرنے اور اپنی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے چینی ماڈلز کے ساتھ تجربات کر رہا ہے۔

کمپنی کے سربراہ بل ریڈی نے مجھے بتایا: ’ہم نے پن ٹرسٹ کو شاپنگ میں مدد فراہم کرنے والا ایسا معاون بنا دیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے سہارے چلتا ہے۔‘

سان فرانسسکو میں قائم یہ ادارہ پس پردہ کام کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی امریکی سہولیات بھی استعمال کر سکتا تھا۔

لیکن جنوری 2025 میں چینی ڈیپ سیک آر ون ماڈل کے آغاز کے بعد سے پن ٹرسٹ میں مصنوعی ذہانت کی چینی ٹیکنالوجی کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

بل ریڈی کے نزدیک یہ بڑی پیش رفت ہے، وہ اسے ’ڈیپ سیک لمحہ‘ قرار دیتے ہیں۔

بل کا کہنا ہے: ’انھوں نے اسے اوپن سورس کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں اوپن سورس ماڈلز کی ایک لہر پیدا ہوئی۔‘

چین کی حریف کمپنیوں میں علی بابا کی کوئن اور مون شاٹ کی کیمی شامل ہیں، جبکہ ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس بھی اسی طرح کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔

Three icons for AI apps. On the left is ChatGPT. In the middle is Qwen, written in two Chinese characters. On the right is DeepSeek.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپن ٹرسٹ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر میٹ میڈریگل کے مطابق چینی ماڈلز کی طاقت یہ ہے کہ یہ مفت ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں

پن ٹرسٹ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر میٹ میڈریگل کے مطابق ان ماڈلز کی طاقت یہ ہے کہ یہ مفت ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں اور کمپنیاں انھیں ضرورت کے مطابق تبدیل کر سکتی ہیں۔ یہ سہولت امریکی حریف، جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی، فراہم نہیں کرتے۔

میڈریگل کا کہنا ہے: ’اوپن سورس تکنیک جنھیں ہم اپنے اندرونی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرتے ہیں، مارکیٹ میں دستیاب بہترین ماڈلز کے مقابلے پر 30 فیصد زیادہ درست نتائج دیتے ہیں۔‘

میڈریگل کے مطابق ان کی قیمت کہیں کم ہوتی ہے، بعض اوقات تو مصنوعی ذہانت ڈیولپ کرنے والے امریکی ماڈلز سے 90 فیصد تک کم۔

’تیز اور سستا‘

پن ٹرسٹ وہ واحد کمپنی نہیں جو مصنوعی ذہانت کی چینی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہی ہے۔

بلکہ امریکہ کی 500 بڑی کمپنیوں میں بھی یہ ماڈل تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ائیر بی این بی کے سربراہ برائن چیسکی نے اکتوبر میں بلوم برگ کو بتایا تھا کہ ان کی کمپنی صارفین کو خدمات فراہم کرنے کے لیے علی بابا کے تیار کردہ کوئن پر ’بہت زیادہ‘ انحصار کرتی ہے۔

انھوں نے اس کی تین سادہ سی وجوہات بتائیں: یہ بہت ’اچھا‘، ’تیز‘ اور ’سستا‘ ہے۔

مزید شواہد ہگنگ فیس پر مل سکتے ہیں، وہ جگہ جہاں لوگ مصنوعی ذہانت کے تیار شدہ ماڈلز ڈاؤن کرنے جاتے ہیں۔ ان میں میٹا اور علی بابا جیسے بڑے ڈیولپرز کے ماڈلز بھی شامل ہوتے ہیں۔

پلیٹ فارم پر پروڈکٹس بنانے والے جیف بوڈیئر کا کہنا ہے کہ لاگت ہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ نئی اسٹارٹ اپ کمپنیاں امریکی ماڈلز کے مقابلے میں چینی ماڈلز کو ترجیح دیتی ہیں۔

جیف بوڈیئر نے مجھے بتایا: ’اگر آپ ہگنگ فیس پر سب سے زیادہ ٹرینڈ کرنے والے ماڈلز کو دیکھیں، وہ جو سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ اور پسند کیے جاتے ہیں، تو عام طور پر چینی لیبز کے تیار کردہ چینی ماڈلز پہلے 10 نمبروں پر ملیں گے۔ ایسے ہفتے بھی آتے ہیں جب ہگنگ فیس پر سر فہرست پانچ میں چار ٹریننگ ماڈلز چینی لیبز کے تیار کردہ ہوں۔‘

ستمبر میں ہگنگ فیس پلیٹ فارم پر کوئن سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا لارج لینگوئج ماڈل تھا اور اس نے میٹا کے لاما کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

میٹا نے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ماڈل ’لاما‘ سنہ 2023 میں جاری کیا تھا۔ ڈیپ سیک اور علی بابا کے ماڈلز آنے تک یہی ماڈلز ایپلی کیشنز تیار کرنے والوں کا اولین انتخاب سمجھے جاتے تھے۔

لیکن گذشہ سال ’لاما فور‘ کے اجرا نے ڈیولپرز کو زیادہ متاثر نہیں کیا اور اطلاعات کے مطابق میٹا اس سال جاری ہونے والے نئے ماڈل کی تربیت کے لیے علی بابا، گوگل اور اوپن اے آئی کے اوپن سورس ماڈل استعمال کر رہا ہے۔

ائیر بی این بی بھی متعدد ماڈلز استعمال کرتا ہے، جن میں امریکی ماڈلز بھی شامل ہیں اور انہیں کمپنی کے اپنے محفوظ انفراسٹرکچر میں چلایا جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت کے جو ماڈلز استعمال کیے جاتے ہیں، ان کے ڈیولپرز کو کبھی بھی صارفین کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا جاتا۔

چین کی کامیابی

سنہ 2025 کے آغاز تک عمومی خیال یہی تھا کہ امریکی ٹیک کمپنیاں اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود خطرہ ہے کہ چینی کمپنیاں آگے نکل جائیں گی۔

بوڈیئر کہتے ہیں: ’اب کہانی وہ نہیں رہی، اب سب سے بہترین ماڈل اوپن سورس ماڈل ہے۔‘

گذشتہ ماہ سٹینفرڈ یونیورسٹی کی طرف سے شائع کی گئی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ چینی ماڈلز اپنے عالمی حریفوں کے ’برابر آتے یا ان سے آگے نکلتے دکھائی دیتے ہیں‘، چاہے بات ان کی صلاحیت کی ہو یا انھیں استعمال کرنے والوں کی تعداد کی۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں برطانیہ کے سابق نائب وزیر اعظم سر نِک کلیگ نے کہا تھا کہ انھیں محسوس ہوتا ہے امریکی کمپنیاں ایسی مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہی ہیں جو ایک دن انسانی ذہانت سے بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔

سر نِک کلیگ لاما تیار کرنے والی کمپنی میٹا میں عالمی امور کے سربراہ تھے۔ گذشتہ سال انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

AI

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیٹا نے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ماڈل 'لاما' سنہ 2023 میں جاری کیا تھا

کمپنی کے باس مارک زکر برگ جسے 'سپر انٹیلیجنس' کہتے ہیں، وہ حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر مختص کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

کچھ ماہرین ان اہداف کو مبہم اور غیر واضح قرار دے رہے ہیں، جس سے چین کو اوپن سورس مصنوعی ذہانت میں غلبہ حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

سر نِک کلیگ کے مطابق: ’دنیا کی سب سے بڑی آمریت چین اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت امریکہ کے بیچ جنگ میں یہی تو ستم ظریفی ہے۔ چین اُس ٹیکنالوجی کو زیادہ عوامی بنا رہا ہے جس میں دونوں کا مقابلہ ہے۔‘

سٹینفرڈ رپورٹ یہ رائے بھی دیتی ہے کہ اوپن سورس ماڈلز میں چینی کامیابی کی ایک وجہ چینی حکومت کا تعاون بھی ہو سکتی ہے۔

دنیا کے دوسرے حصے میں، اوپن اے آئی جیسی امریکی کمپنیوں پر آمدن بڑھانے اور منافع بخش بننے کا شدید دباؤ ہے اور یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ اشتہارات کا سہارا لے رہی ہیں۔

کئی برس بعد کمپنی نے گذشتہ سال پہلی بار دو اوپن سورس ماڈل جاری کیے۔ لیکن زیادہ توانائی ایسے ماڈلز پر لگائی جو رقم کما سکیں۔

اوپن اے آئی کے باس سیم آلٹ مین نے اکتوبر میں مجھے بتایا تھا کہ کمپنی نے زیادہ کمپیوٹنگ طاقت حاصل کرنے اور شراکت داروں کے ساتھ انفراسٹرکچر کے معاہدے کرنے میں جارحانہ انداز میں سرمایہ کاری کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’آمدن تو بہت تیزی سے بڑھے گی لیکن آپ کو توقع رکھنی چاہیے کہ ہم تربیت پر بھی بہت زیادہ سرمایہ کاری کریں گے، اگلے ماڈل میں، اس سے اگلے اور اس سے بھی اگلے۔‘