'رام نیپالی تھے، ایودھیا نیپال میں ہے': نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے بیان پر تنازع

نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی

،تصویر کا ذریعہNURPHOTO

نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے انڈیا کے شہر ایودھیا اور ہندوؤں کے بھگوان رام کے بارے میں جو بیان دیا تھا اس پر نیپالی وزارت خارجہ کو وضاحت دینی پڑی ہے۔

گذشتہ روز انڈیا میں اس معاملے پر سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری تھی۔ اسی روز نیپالی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم اولی کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتے تھے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں تین امور کے متعلق وضاحت پیش کی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سب سے پہلے کہا گیا ہے کہ 'یہ تبصرے کسی سیاسی معاملے سے متعلق نہیں تھے اور کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں تھے۔' اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 'شری رام اور ان سے متعلقہ مقامات کے بارے میں بہت سارے نظریات اور حوالہ جات موجود ہیں۔ وزیر اعظم شری رام، ایودھیا اور اس سے وابستہ مختلف مقامات کے بارے میں حقائق کی معلومات کے لیے صرف اس وسیع ثقافتی جغرافیائی مطالعے اور تحقیق کی اہمیت کا ذکر کر رہے تھے جسے رامائن میں پیش کیا گیا ہے۔'

بیان کے تیسرے نکتے میں کہا گیا ہے کہ 'اس کا مقصد ایودھیا کی اہمیت اور ثقافتی اقدار کو کم کرنا نہیں تھا۔'

ایودھیا

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ 'ہر سال نیپال میں ویواہ پنچمی (رام سیتا کی شادی کی رسم) منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر انڈیا کے ایودھیا سے نیپال کے جنک پور تک ایک بارات آتی ہے۔ نیپال اور انڈیا کے وزرائے اعظم نے مئی سنہ 2018 میں رامائن سرکٹ لانچ کیا جس میں جنک پور۔ ایودھیا بس سروس ایک اہم حصہ ہے۔ یہ تمام حقائق دونوں ممالک اور وہاں کے لوگوں کے مابین دیرینہ ثقافتی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔'

لیکن ایسا نظر آ رہا ہے کہ نیپال میں ہی وزارت خارجہ کی وضاحت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

نیپال کے سابق وزیر اعظم بابو رام بھٹارائی نے محکمہ خارجہ کے بیان کے بعد ٹویٹ کیا: 'اگر سوراخ چھوٹا ہے تو اس کا رفو بھی کیا جاسکتا ہے۔ اتنا بڑا سوراخ کس طرح بند ہوگا۔ اگر کے پی اولی نجی طور پر بات کرتے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اانھوں نے کیا کہا ہے۔ لیکن ملک کے وزیر اعظم کی بات سیاسی نہیں ہے۔ اس پر کون یقین کرے گا۔ وزیر اعظم کے مستقل متضاد اور قومی مفاد کے منافی طرز عمل کی پردہ پوشی نہین کرنی چاہیے۔ انھیں رخصت کرنا ہی ہوگا۔'

مودی اور اولی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اولی نے رام اور ایودھیا کے بارے میں کیا کہا؟

سوموار کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر شاعر بھانو بھکت کی 207 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں وزیر اعظم کے پی اولی نے کہا کہ اصل ایودھیا نیپال میں بیرگنج کے قریب ایک گاؤں ہے جہاں ہندو بھگوان رام کی پیدائش ہوئی تھی۔

شاعر بھانو بھکت نے نیپالی زبان میں رامائن لکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اولی نے کہا تھا: 'ہمیں ثقافتی طور پر دبایا گیا ہے۔ حقائق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ ہم اب بھی مانتے ہیں کہ ہم نے انڈین راجکمار کو سیتا دی تھی۔ لیکن ہم نے سیتا کو انڈیا کے ایودھیا کے راجکمار کو نہیں دیا تھا۔ اصلی ایودھیا بیر گنج کے مغرب میں واقع ایک گاؤں ہے، نہ کہ وہ جسے اب بنایا گیا ہے۔'

وزیر اعظم اولی کا بیان آتے ہی نہ صرف انڈیا بلکہ نیپال میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔

اولی کے بیان پر انڈیا میں ایودھیا کے سادھو سنتوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

نیپال میں بھی کئی لوگوں نے اولی کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ ان کے سیاسی مخالفین سے لے کر بہت سارے سینیئر صحافیوں اور سیاسی ناقدوں نے بھی اولی کے بیان کو غلط بتایا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی (آر پی پی) کے چیئرمین اور نیپال کے سابق نائب وزیر اعظم کمل تھاپا نے وزیر اعظم اولی کے بیان پر کڑی تنقید کی۔

انھوں نے لکھا: 'کسی بھی وزیر اعظم کے لیے ایسا بے بنیاد اور غیر یقینی بیان دینا مناسب نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم اولی انڈیا اور نیپال کے مابین تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں جب کہ انھیں تناؤ کو کم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

اولی کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سابق پریس مشیر اور نیپال کے تری بھوون یونیورسٹی کے پروفیسر کندن آریل نے بھی ٹویٹ کیا ہے۔

انھوں نے لکھا: 'اولی نے کیا کہہ دہا؟ کیا وہ انڈین ٹی وی چینلز سے مقابلہ کر رہے ہیں؟'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

نیپال کے مصنف اور معروف سیاسی تجزیہ کار کنک منی دیکشیت نے ٹویٹ کیا: 'بھگوان رام کی پیدائش کہاں ہوئی تھی اور کہاں ایودھیا ہے اس بارے میں اس طرح کی خرافاتی باتوں پر تنازع پیدا کرنا وزیر اعظم اولی کی بے وقوفانہ کوشش ہے۔ ابھی تو صرف حکومت ہند کے ذہن میں ہے موجودہ صورتحال کی وجہ سے تلخی ہے۔ یہ لوگوں میں تفریق کا سبب بھی بن سکتا ہے۔'

اندیا نیپال

،تصویر کا ذریعہSpl

انڈیا، نیپال سرحدی تنازع

اولی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب انڈیا اور نیپال کے مابین پہلے ہی کافی کشیدگی ہے۔

نیپال نے حال ہی میں اپنا نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں لیپولیکھ، کالپانی اور لمپیادھورا کو نیپال کے حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

نیپال ان پر دعوی کرتا رہا ہے لیکن یہ تینوں علاقے فی الحال انڈیا کے قبضے میں ہیں اور وہ انڈیا کی شمالی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں آتے ہیں۔

انڈیا نے نیپال کے اس اقدام پر تنقید کی ہے اور ان علاقوں سے متعلق نیپال کے تمام دعووں کو مسترد کردیا ہے۔

انڈیا اور نیپال کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کی ایک وجہ نیپال اور چین کی بڑھتی قربت بھی ہے۔

لیکن نیپال نے اس طرح کی خبروں پر سخت اعتراض کیا تھا جو حال ہی میں چین کی ایک خاتون سفیر کے بارے میں انڈین میڈیا میں شائع ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے انڈیا کے کچھ نجی چینلز کی نیپال میں ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔