پاکستان، افغانستان تنازعے پر متنازع ویڈیو: ’انڈیا سے جنگ کے دوران آپ نے اچھا مواد بنایا لیکن یہ بالکل بھی مزاحیہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہX/@BSWarraich
’افغانیو پاکستان پر حملہ کرو گے۔ او تمھارے پاس ایئر فورس بھی ہے۔ اچھا جی۔۔۔ تم جنگیں بھی لڑتے ہو۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات اور جمعے کی شب ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے دوران طنز پر مبنی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
32 سیکنڈ دورانیے کی یہ ویڈیو وزیرِ اعظم پاکستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر بدر شہباز وڑائچ نے شیئر کی جسے پھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا۔
عطار تارڑ نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کے نوجوانوں میں حب الوطنی کا الگ جذبہ ہے۔ وہ ہر حال میں مزاح تلاش کرتے ہیں۔‘
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی لڑائی میں جہاں متضاد دعوے سامنے آتے رہے وہیں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ بھی ہوتی رہی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ رات دیر گئے تک پاکستان کی ’جوابی کارروائی‘ سے متعلق تفصیلات شیئر کرتے رہے جبکہ پاکستان میں ایکس پر افغانستان سے متعلق مختلف ہیش ٹیگز بھی ٹرینڈ کرتے رہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین جنگ کے ماحول میں اس نوعیت کے طنز پر تنقید کرتے ہوئے اسے قابلِ اعتراض قرار دے رہے ہیں۔
اس ویڈیو پر تنقید کرنے والوں میں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی شامل ہیں، جنھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ مزاح نہیں، یہ اخلاق سے گرا ہوا مواد ہے جسے ہٹا دینا چاہیے۔ براہ کرم مواد بنانے کے لیے پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کریں اور اس نسل پرستانہ، سستی تھرڈ کلاس ریل کو ہٹا دیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہX/@fawadchaudhry
’ایک پیشے کو کسی قوم سے جوڑنا خطرناک ہے‘
جبران شاہد نامی صارف نے عطا تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ نسل پرستی ہے۔ بحیثیت وزیرِ اطلاعات آپ کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص پیشے کو کسی قوم سے جوڑنا بہت خطرناک ہے، یہ توہین ہے اور اس سے نفرتیں پھیلتی ہیں اور بات قتل و غارت گری تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
جبران کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ اگر کوئی امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے بارے میں یہ کہے کہ یہ تو صرف یہاں ٹیکسی چلاتے ہیں۔
ماہر معاشیات خرم حسین نے ایکس پر لکھا کہ جنگ سنجیدہ معاملہ ہے، یہ لطیفوں کا وقت نہیں۔ ’پاکستان کی مغربی سرحد پر جنگ، مشرقی بارڈر سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ مغربی سرحد پر اس کا اختتام زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہمیں طعنے اور کیچر اُچھالنے کے بجائے اتحاد اور عزم کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سکندر آفریدی نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ حکومت میں بیٹھی شخصیات کی جانب سے اس نوعیت کی ناپختگی دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے وقت، جنگ سے متعلق غیر حساس میمز شیئر کرنا انتہائی نامناسب ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جنگ سنگین معاملہ ہے، اس معاملے میں طنز و مذاق غیر ضروری ہے۔ ذمہ دار قیادت کے لیے وقار، تحمل اور پیشہ ورانہ مہارت ضروری ہے۔
نعمان قیوم نامی صارف نے لکھا کہ عام افغان عوام خصوصاً غریب اور محنتی لوگوں کا مذاق اڑانا غیر ضروری اور بے حسی ہے۔ حکومتوں یا پالیسیوں پر تنقید ایک چیز ہے لیکن عام لوگوں کا مذاق اڑانا اور بات ہے۔
حسن کاظمی نے لکھا کہ یہ کبھی بھی پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل نہیں کریں گے۔ یہ جناح اور اقبال پر فلمیں اور ویب سیریز بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور یہ اس میں بھی ناکام ہوں گے۔
اُسامہ خلجی نے لکھا کہ ’یہ مزاح نہیں، یہ شرمناک مواد ہے اور ہمارے نوجوانوں سے ایسا کام ہرگز نہیں لینا چاہیے تھا۔‘
شہید فیض نامی صارف نے لکھا کہ مئی میں پاکستان، انڈیا جنگ کے دوران آپ نے اچھا مواد بنایا۔ سب نے اسے تسلیم کیا لیکن یہ سنجیدہ اور حب الوطنی کا مواد تھا لیکن یہ والی ویڈیو بالکل بھی مزاحیہ نہیں۔
جعفر ورک نامی صارف نے لکھا کہ یہ ہیں پاکستان کے نوجوان جو اپنے ملک، فوج اور قیادت کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی حمایت کے دعویدار صرف جھوٹے ہیں کیونکہ پاکستانی نوجوان صرف و صرف اپنے ملک اور فوج کا حامی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے بعد پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان رجیم کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ اور نو پر قبضہ کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان حملوں میں افغان طالبان کے دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، دو ایمو نیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈ کوارٹر، دو سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا۔













