شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ کی ممکنہ ’جانشین‘ بیٹی کی چین آمد: عوامی منظر نامے سے غائب اور پراسراریت میں چھپی کِم جُو اے کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہXinhua
- مصنف, لوئس بروچو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ اُن کی بیجنگ آمد کے موقع پر جو تصاویر جاری کی گئی ہیں اُن میں اُن کی بیٹی کم جو اے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
سامنے آنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چین پہنچنے پر جب کم جون اُن اپنی بکتر بند ٹرین سے اُتر رہے ہیں تو اُن کے ساتھ اُن کی ’ممکنہ جانشین‘ سمجھی جانے والی بیٹی کم جو اے بھی موجود تھیں۔
شمالی کوریا کے رہنما چین میں ’وکٹری ڈے‘ کی پریڈ میں شرکت کے لیے چین آئے ہیں جہاں انھوں نے چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔
کم جونگ اُن پہلی مرتبہ کسی بھی ایسی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں جہاں دیگر عالمی رہنما بھی اُن کے ساتھ موجود ہیں۔
پریڈ میں شرکت کے لیے کم جونگ اُن منگل کو اپنی بکتر بند ٹرین میں چین پہنچے ہیں۔ اُن کی آمد پر جب وردی میں ملبوس گارڈ اور اہلکار اُن کا استقبال کر رہے تھے تو کم جو اے اپنے والد کے پیچھے کھڑی ہوئی نظر آئیں۔
جنوبی کوریا کی سرکاری خفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کی بیٹی کو اُن کے ممکنہ ’جانشین‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہم کم جو اے کے بارے میں کیا جانتے ہیں اوراُن کے اپنے والد کی جانشین بننے کے کتنے امکانات ہیں؟
کم جونگ اُن نے اپنے خاندان کو ہمیشہ کافی دنیا کی نظروں سے دور اور خفیہ رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُن کے خاندان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی اہلیہ ری سول بھی کم جونگ اُن سے شادی کے کافی عرصے بعد منظر عام پر آئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
جنوبی کوریا کے میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن کی شادی سنہ 2009 میں ہوئی اور سنہ 2010 میں اُن کے گھر پہلی اولاد پیدا ہوئی تھی۔
عوامی سطح پر پہلی بار اُن کی بیٹی کم جو اے کا تذکرہ سنہ 2013 میں اُس وقت ہوا جب امریکہ کے سابق باسکٹ بال سٹار ڈینس روڈمین نے شمالی کوریا کا ایک متنازع دورہ کیا۔
ڈینس روڈمین نے کہا تھا کہ انھوں نے سمندر کنارے کم جونگ اُن کے خاندان کے ساتھ وقت گزارا اور اُن کے ’بچے کو گود میں اُٹھایا‘ جسے انھوں نے ’جو اے کے نام سے پکارا۔‘
یونیورسٹی آف سیئول سے وابستہ محقق فیودور ٹرٹسکی کا کہنا ہے کہ اُس وقت تک شمالی کوریا کا میڈیا بھی اُنھیں محض کم جونگ اُن کی بیٹی کے طور پر جانتا تھا اور اُن کی عمر اور نام سے ناواقف تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اندازً اُن کی عمر دس سال یا اس سے کچھ زیادہ ہو گی۔
گذشتہ برس جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلجنس سروسز (این آئی ایس) نے ایک بریفنگ کے دوران انکشاف کیا تھا کہ کم جو اے نے کبھی بھی کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ نہیں لیا اور انھیں پیانگ یانگ میں گھر پر ہی تعلیم دی گئی ہے۔
ایجنسی نے اُن کے بارے میں مزید بتایا تھا کہ وہ گھڑ سواری، تیراکی اور سکئینگ جیسے مشاغل سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ اس بریفنگ میں شریک ایک شخص نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن اپنی بیٹی کی گھڑ سواری میں مہارت سے بہت مطمئن ہیں۔
این آئی ایس نے یہ بھی بتایا تھا کہ کم جو اے کے ایک بڑے بھائی اور ایک چھوٹی بہن یا بھائی بھی ہے جس کی صنف کے بارے میں نہ کوئی معلومات دستیاب ہیں اور نہ ہی کبھی انھیں دیکھا گیا ہے۔
عوامی منظر پر آمد

،تصویر کا ذریعہReuters
پہلی مرتبہ کم جو اے کو اپنے والد کے ساتھ سنہ 2022 میں ایک میزائل ٹیسٹ کے موقع دیکھا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ کئی مرتبہ عسکری اور غیر عسکری تقریبات میں دکھائی دی ہیں۔
حال ہی میں ایک تقریب کے موقع پر پیانگ یانگ میں یکم مئی کو ایک شاندار تقریب کے دوران دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا تھا۔
کم جو اے دسمبر 2023 میں شمالی کوریا کی جانب سے بین البراعظمی میزائل کے تجربے اور نومبر میں جاسوس سیٹئیلائٹ کی لانچنگ کی تقاریب میں بھی شریک تھیں۔
فروری 2023 میں ریڈیو فری ایشیا نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ شمالی کوریا نے کم جو اے کے ہم نام افراد کو اپنے نام تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے، جو اُن کے بقول حکمران خاندان کی روایت کے عین مطابق ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا کے مبصرین کا ماننا ہے کہ کم جو اے کو اب ’محترمہ‘ کے بجائے ’قابلِ احترام‘ بیٹی کے طور پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ’محترم‘ کی صفت عموماً شمالی کوریا کے رہنما کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر سرکاری عہدہ ملنے کے بعد کم جونگ اُن کو ’محترم کامریڈ‘ کے نام سے متعارف کروایا جاتا ہے۔
ممکنہ جانشین؟
شمالی کوریا دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہے اور بیرونی دنیا کو واضح طور ہر یہ نہیں معلوم کہ کم جو اے اپنے والد کے ساتھ بار بار کیوں نظر آ رہی ہیں۔
شمالی کوریا کے افراد کو بتایا جاتا ہے کہ کم خاندان بہت خاص ہے اور ملک کی قیادت صرف وہی کر سکتے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم عمر بیٹی کو سامنے لانے کا مقصد یہ ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما لوگوں سے اُن کی پہچان کروانے کے ساتھ ساتھ کوئی عہدہ دینے سے پہلے انھیں مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
اُنھیں جانشین کب مقرر کیا جاتا ہے اس بارے میں کوئی بھی معلومات موجود نہیں ہے۔ اس سے قبل ماضی میں کم جونگ اُن کی صحت کی خرابی سے متعلق افواہیں پھیلی تھیں جو وقت کے ساتھ دم توڑ گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہKCNA/EPA-EFE/REX/Shutterstock
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بعض افراد کا کہنا ہے کہ انتہائی پدرشاہی نظام پر مبنی معاشرے میں کم جونگ اُن یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کا بہت خیال رکھتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں اُمور برائے کوریا کے لیکچرار ایڈورڈ ہاویل کا کہنا ہے کہ ماضی میں شمالی کوریا کے سابق رہنماؤں کی پدرانہ شخصیت پر بہت زیادہ پراپیگنڈہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ والد کے ساتھ بیٹی کی موجودگی کو علامتی طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔‘
سنہ 1948 میں شمالی کوریا کی بنیاد کے بعد سے اب تک ملک میں کِم خاندان کے مردوں ہی نے حکومت کی اور اگر کم جو اے ایک دن اپنے والد کی جگہ لے لیتی ہے، تو وہ ملک کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔
پروفیسر ہاویل کا کہنا ہے کہ ’شمالی کوریا کی قیادت کے لیے کِم بلڈ لائن کا رکن ہونا بہت اہم ہے، چاہے کوئی عورت ہی کیوں نہ ہو، یہ کسی ایسے شخص سے بہتر ہے جو کم خاندان کا رکن نہ ہو۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن کے جانشین کے طور پر ممکنہ طور پر ایک اور دعوایدار بھی ہے اور وہ ہیں شمالی کوریا کے رہنما کی بہن کم یو جونگ، جن کا ذکر 2014 میں سامنے آیا تھا۔ وہ کوریا کی حکمران ورکرز پارٹی میں ایک سینیئر عہدے پر فائز ہیں۔
پروفیسر ہاویل کا کہنا ہے کہ ’وہ عمر میں کم جو اے سے بڑی ہیں اور شمالی کوریا کی سیاست میں بہت زیادہ تجربہ رکھتی ہیں اور اب جانشین کے طور پر بیٹی ہو یا بہن، دونوں خواتین ہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
فیودور ٹرٹسکی کا خیال ہے کہ کم جونگ اُن کم جو اے کو منظرِ عام پر لا کر’ممکنہ جانشینی پر عوام اور اشرافیہ کی رائے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
وہ اس بات سے متفق ہیں کہ کم جونگ ان کے جانشین کے بارے میں بات کرنے قبل از وقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ اپنے والد کی طرح 70 سال کی عمر میں انتقال کرتے ہیں تو اُس وقت 2054 ہو گا۔ اس دوران اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ شمالی کوریا کی ریاست اپنی موجودہ شکل برقرار رکھتی بھی ہے تو معاشرہ ویسا نہیں ہو گا جیسا کہ اب ہے۔‘












