بابر اعظم کی بے بسی، پالیکیلے کی اوس اور بروک کی بے خوفی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
ٹی ٹوئنٹی ایک نازک کھیل ہے۔ ایک درست فیصلہ اگر میچ کو پشت کے بل پٹخ سکتا ہے تو ایک ہی غلط فیصلہ اسے منھ کے بل بھی پٹخ سکتا ہے۔ اور جب کسی ٹیم کی تقدیر پہلے ہی کچے دھاگے سے لٹک رہی ہو تو اس کے پاس ذرا سی غلطی کی بھی مہلت نہیں ہوتی۔ مگر جو ماضی سے سیکھ جائے، وہ پاکستان کرکٹ ہی کیا؟
جو سٹریٹیجی پاکستان نے اسی پالیکیلے میں دو روز پہلے سری لنکا کے خلاف انگلش بیٹنگ دیکھ کر بنائی تھی، وہ بے چاری پھر خطا کھا گئی کہ وہ میچ تو استعمال شدہ پچ پر کھیلا گیا تھا اور اوس کا بھی کوئی کردار نہ تھا مگر یہاں پچ بھی نئی تھی اور اوس بھی یقینی تھی۔
ایک ناپ کی سٹریٹیجی ہر پچ کو راس نہیں آ سکتی۔ پالیکیلے کی کنڈیشنز انگلینڈ کے لیے گھر کی مانند تھیں جبکہ پاکستان متواتر کولمبو میں کھیلتا چلا آ رہا تھا۔ پھر سونے پر سہاگہ پاکستان کی سلیکشن نے کر دکھایا کہ ایک درست فیصلے کے ہمراہ ایک غلط فیصلے کی روایت نبھاتے ہوئے بابر اعظم کو برقرار رکھا گیا۔
اب تو یہ امر مضحکہ خیزی کی حدوں سے بھی گزر چکا ہے کہ اس مڈل آرڈر میں بابر اعظم کو ’سپن کے خلاف مہارت‘ کی بنیاد پر رکھا گیا ہے حالانکہ کوچ مائیک ہیسن بذاتِ خود ان کے سٹرائیک ریٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔
جہاں ان کے اوپر تلے سبھی بلے باز 130 سے زیادہ سٹرائیک ریٹ پر بیٹنگ کرنے کے قابل ہیں، وہاں یہ حقیقت بھی لگ بھگ چار برس سے چیخ رہی ہے کہ وہ گُگلی کو پڑھ نہیں سکتے اور ریورس سویپ بھی ان کے کوائف میں شامل نہیں۔
مگر مجبوری سٹار کلچر کی ہے کہ نہ صرف پی سی بی ’شائقین‘ کے ’بائیکاٹ‘ سے گھبراتا ہے بلکہ ٹیم مینیجمنٹ بھی سب کچھ کہہ دینے کے باوجود دراصل کچھ نہیں کہہ پاتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پالیکیلے گراؤنڈ کی باؤنڈریز اگرچہ طویل ہیں مگر سری لنکا کے خلاف انگلش بیٹنگ کم مجموعے تک محدود صرف پرانی پچ کے باعث رہی تھی۔ نئی پچ پر اگر ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا ہی مقصود تھی تو لازم تھا کہ پاکستان مسابقتی مجموعے سے بھی کوئی دس رنز زیادہ جوڑنے کی کوشش کرتا تا کہ اوس پڑتے وقت کام آئے۔
مگر نئی پچ کے باوجود پاور پلے کے بعد بھی پاکستانی اننگز اسی رفتار سے چلی جیسے آزمائش کے دنوں میں وقت کٹتا ہو۔ گو کہ عادل رشید کے لیے یہ ورلڈ کپ بہت عمدہ نہیں رہا مگر پھر بھی وہ بابر اعظم کا رستہ روکنے کو کافی ٹھہرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بابر اعظم نے عادل رشید کے خلاف آٹھ گیندوں کا سامنا کیا اور چھ رنز بنائے۔ لیام ڈاسن کے خلاف انھوں نے چھ گیندوں کا سامنا کیا اور چار رنز بنائے۔
یہ سب عین اس وقت ہو رہا تھا جب گیند نئی تھی اور باؤنڈریز بٹورنے کا موقع تھا۔ نہ صرف اس مرحلے نے پاکستانی اننگز پر دباؤ بڑھایا بلکہ خود بابر اعظم کے حواس پہ بھی کچھ یوں طاری ہوا کہ سپن کے خلاف بے بس ہونے کے بعد وہ پیس کے خلاف مہارت بھی بُھلا بیٹھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستانی بولنگ اگرچہ اس مجموعے کے دفاع میں بھی بہت جان سے لڑی اور شاہین آفریدی کی واپسی بھی فارم سے لبریز رہی مگر ہیری بروک کے بے خطر قدم اوسط ہدف کو نگلتے چلے گئے۔ جیسی یلغار وہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان پر ڈھاتے رہے ہیں، پالیکیلے میں اس سے بھی دو قدم آگے دکھائی دیے۔
بروک کی بے خوفی پاکستان کی پارٹ ٹائم سپن پہ بہت بھاری گزری۔ جب مجموعہ مسابقت سے کم ہو اور پالا بھی ایسے نڈر بلے باز سے پڑ جائے تو فیلڈنگ ٹیم کے کندھے جھکنا ناگزیر ہوتا ہے۔ بولنگ میں تبدیلیاں بھی نشانے سے چُوکنے لگتی ہیں۔ ہیری بروک نے تنِ تنہا پاکستان کو میچ سے بے دخل کر دیا۔
ایک بار پھر ورلڈ کپ میں پاکستان کی تقدیر ’اگر مگر‘ کے انباروں میں گِھر چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ اور اس سے جُڑے سبھی احباب، بالخصوص شائقین، کے لیے بھی اب سوچ کا مقام ہے کہ آخر کیوں ہر بار ان کی تقدیر ایسے ہی ’اگر مگر‘ کے انباروں میں گِھر جاتی ہے۔
کہنے کو پاکستان کرکٹ پی سی بی کے تلے چلتی ہے مگر اس کی اصل اسٹیبلشمنٹ اس کی مارکیٹ ہے جہاں شائقین نہ صرف اپنے پسندیدہ ستاروں کے اسیر ہیں بلکہ ’قدرت کے نظام‘ کے بھی دلدادہ ہیں۔












