انڈیا کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سپر 8 مرحلے میں 76 رنز سے شکست، کپتان کے فیصلوں پر سوال اور سیمی فائنل تک رسائی کی مشکل

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 9 منٹ

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقہ نے انڈیا کو 76 رنز سے شکست دے دی۔

اتوار کے روز جنوبی افریقہ کی جانب سے دیے گئے 188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انڈین ٹیم 111 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔

جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے تھے۔

مارکو جانسن نے چار اور کیشو مہاراج نے تین وکٹیں لے کر جنوبی افریقہ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انڈیا کی جانب سے شیوم دوبے نے سب سے زیادہ 42 رنز بنائے۔

یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں انڈیا کی پہلی شکست ہے۔ ٹیم انڈیا گروپ مرحلے میں اپنے چاروں میچ جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔

لیکن جنوبی افریقہ کی اس میچ میں کامیابی پر ڈیوڈ ملر کو میچ کا بہترین کھلاڑی منتخب کیا گیا۔

احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی اننگز

انڈیا کی کرکٹ ٹیم اتوار کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں اپنی بیٹنگ کی ابتدا سے ہی دباؤ کا شکار نظر آئی۔ انڈیا کے اوپنر ایشان کشن پہلے اوور کی چوتھی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئے جنھیں جنوبی افریقہ کے کپتان مارکرم نے بولڈ کیا۔

اس کے بعد تلک ورما دوسرے اوور کی پہلی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی وکٹ یانسن نے حاصل کی۔ انڈیا نے اپنی انگز کے دوسرے اوور کی پہلی گیند تک پانچ رن پر دو وکٹ گنوا دی تھیں۔

تاہم، تین میچوں کے بعد، ابھیشیک شرما اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہے اور پہلے اوور کی آخری گیند پر چوکا لگا دیا۔

شرما نے کچھ دیر کریز پر ٹھہرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی پانچویں اوور کی تیسری گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ تین وکٹیں جلد گرنے کے ساتھ، انڈیا نے واشنگٹن سندر کو پانچویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجا۔ لیکن یہ اقدام کام نہ آیا اور سندر صرف 11 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد کپتان سوریہ کمار یادیو بھی 22 گیندوں پر 18 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں انڈیا کی آدھی ٹیم دسویں اوور میں پویلین لوٹ چُکی تھی۔ ہاردک پانڈیا نے شیوم دوبے کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کی اننگز 18 رنز سے آگے بڑھنے میں ناکام رہی۔

15ویں اوور میں کیشو مہاراج نے ہاردک پانڈیا، رنکو سنگھ اور ارشدیپ سنگھ کی وکٹیں لیں۔ رنکو سنگھ دو گیندوں پر صفر پر آؤٹ ہوئے۔

شیوم دوبے نے یقینی طور پر 37 گیندوں پر 42 رنز بنا کر انڈیا کو 100 سے آگے پہنچا دیا لیکن جانسن نے انھیں بھی آؤٹ کر دیا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنوبی افریقہ کی اننگز

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی شروعات خراب رہی۔

انڈین تیز گیند باز جسپریت بمراہ اور ارشدیپ سنگھ نے شروع میں شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔ جنوبی افریقی اوپنرز نے میچ کی 10ویں گیند پر اپنا پہلا چوکا مارا، لیکن جسپریت بمراہ نے اگلی ہی گیند پر ڈی کاک کو آؤٹ کرکے انڈیا کو پہلی کامیابی دلائی۔

ارشدیپ نے اگلے اوور میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے اوور کی چوتھی گیند پر کپتان مارکرم کوآؤٹ کر دیا۔

رائن رکلٹن جو تیسرے نمبر پر بلے بازی کے لیے آئے تھے وہ بھی اچھا کھیل پیش نہ کر سکے اور چوتھے اوور کی آخری گیند پر بمراہ کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ چار اوورز میں 20 رنز پر تین وکٹیں گنوانے کے بعد دباؤ میں دکھائی دیا۔

لیکن اس کے بعد ڈیولڈ بریوس نے ڈیوڈ ملر کے ساتھ مل کر افریقی اننگز کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 30 گیندوں میں 50 رنز کی شراکت داری کی۔

بریوس اور ملر کی بدولت 10 اوورز کے اختتام پر جنوبی افریقہ کا سکور تین وکٹوں کے نقصان پر 84 رنز تھا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم شیوم دوبے نے 13ویں اوور کی دوسری گیند پر بریوس کو آؤٹ کر دیا۔ بریوس نے 29 گیندوں پر 45 رنز بنائے۔ تاہم ملر وکٹ پر جمے رہے اور 26 گیندوں میں اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

بریوس کے آؤٹ ہونے کے بعد ملر نے سٹبس کے ساتھ مل کر جنوبی افریقہ کی اننگز کو آگے بڑھایا۔ تاہم میچ میں مہنگے ثابت ہونے والے ورون چکرورتی نے انڈیا کو ملر کی اہم وکٹ دلوائی۔ ملر نے 35 گیندوں پر 63 رنز بنائے۔

ملر کی اننگز میں سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔ ورون نے 16ویں اوور کی چوتھی گیند پر ملر کی وکٹ لی۔ جنوبی افریقہ کی پانچویں وکٹ 152 پر گری۔

ارشدیپ سنگھ نے 18ویں اوور کی دوسری گیند پر جانسن کو آؤٹ کر کے جنوبی افریقہ کو دوبارہ دباؤ میں ڈال دیا۔

سٹبس نے 24 گیندوں پر 44 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور جنوبی افریقہ کے سکور کو 187 رنز تک پہنچا دیا۔

بمراہ کے تین وکٹوں کے علاوہ ارشدیپ سنگھ نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ورون چکرورتی اور شیوم دوبے نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

’سُپر 8 میچ تو ہم ہی جیتیں گے، تو آپ کپ کیک ہی رکھ لو‘

X.COM

،تصویر کا ذریعہX.COM

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یوں تو اس میچ میں کوئی ان ہونی چیز نہیں ہوئی مگر اس کے باوجود اس میچ کے چرچے سوشل میڈیا پر ایک اشتہار کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔

یہ اشتہار سٹار سپورٹس کی جانب سے پیش کیا گیا کہ جس میں ایک انڈین اور ایک جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے ڈمی کھلاڑیوں کو دیکھایا گیا۔

اس اشتہار میں یہ دونوں کھلاڑی ایک ہوٹل میں ایک ہی ٹیبل پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، مگر جب انڈین کھلاڑی ہال میں پڑے ایک ہی کپ کیک کی جانب بڑھتے ہیں تو جنوبی افریقہ کا کھلاڑی بھاگتے ہوئے اُس واحد کپ کیک کو اُٹھانے اور انڈین کھلاڑی سے معذرت کرتا ہے اور انڈین کھلاڑی کو ’سوری‘ کہتا ہے۔

مگر آگے سے پلٹ کر انڈین کھلاڑی کہتا ہے کہ ’سوری ٹو یو‘ جس پر جنوبی افریقہ کا کھلاڑی کہتا ہے مگر ایسا کیوں تو انڈین کھلاڑی انھیں یاد کرواتا ہے کہ سنہ 2024 میں آپ کو ہم نے فائنل میں شکست دی تھی اس لیے سوری۔

پھر انڈین کھلاری کہتا ہے کہ ’کپ تو ہم نے ہی جیتا تھا اور آنے والا سپر ایٹ کا میچ بھی ہم ہی جیتیں گے، اس لیے آپ کپ کیک رکھ لیں۔‘

بس اتنا سُنتے ہی جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کے گلے میں کیک پھنس جاتا ہے اور انڈین کھلاڑی کہتا ہے کہ او ہو ’چوکنگ‘۔ (یاد رہے کہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کو چوکرز کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہم ایونٹ کی اکثر اہم میچز ہار جاتی ہے۔)

اب معاملہ یہاں تھما نہیں ہوا یہ کہ سٹار سپورٹس کی جانب سے انڈیا کی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سپر ایٹ مرحلے کے میچ میں شکست کے فوراً بعد اس اشتہار کو غائب تو کر دیا گیا مگر کمان سے نکلا تیر کہاں واپس آتا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ اشتہار ہے اور انڈین کرکٹ فینز کا غصہ۔۔۔

سوشل میڈیا اور انڈین فینز کا غصہ

X.COM

،تصویر کا ذریعہX.COM

اس میچ میں شکست کے بعد سٹار سٹورٹس کے اس اشتہار کو لگا کر دی سکن ڈاکٹر 13 نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’جنوبی افریقہ نے انڈیا کو ایک یک طرفہ میچ میں شکست دی اور سٹار سپورٹس نے اس مخصوص مقابلے کے لیے بنائے گئے توہین آمیز اشتہار کو ہٹا دیا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’شاید یہ واقعہ ہمارے اشتہار بنانے والوں کو یہ سبق ضرور دے جائے گا کہ تکبر کرنا درست نہیں۔‘

شورتی سلوا پانڈا نامی ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میچ سے پہلے کپ کیک کے اشتہار میں ’جنوبی افریقہ کے چوکر ہونے کا مذاق اُڑایا گیا اور اصلی میدان میں انڈین نے 111 رنز بنائے اور 76 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’کھیل کے اصل میدان میں ناکامی کی بڑی وجہ خود اعتمادی کا حد سے زیادہ ہونا تھا۔ بڑی بڑی باتیں، زبردست ہائپ، لیکن کارکردگی صفر۔‘

میچ میں تو انڈیا کو جنوبی افریقہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر ذکر پاکستانی بالر محمد عامر کا کیوں ہوا؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سوشل میڈیا پر ہمیں ایک جانب تو سٹار سپورٹس کے اشتہار کی بات ہوتی رہی تو دوسری جانب پاکستانی گیند باز محمد عامر کا ذکر بھی ہوتا رہا۔

محمد عامر نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر انڈیا اور جنوبی افریقہ کے میچ سے قبل بھی کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے انڈین بلے باز ابھشک شرما کا ذکر کیا اور اُن کی بیٹنگ ٹیکنیک پر بات کی۔

محمد عامر کا کہنا تھا کہ ابھیشک شرما کو جب تک اُن کے من پسند مقام پر کھیلنے کے لیے بال ملتی رہے وہ اس پر اچھی ہٹ لگاتے ہیں مگر جیسے ہی بال تھوڑی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو انھیں مُشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انٹرنیشنل کرکٹ میں ہی کھلاڑی کی اصل قابلیت اور صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔‘

کپتان کے فیصلوں پر بھی سوالات

جنوبی افریقہ کے خلاف اس شکست کے بعد کپتان سوریہ کمار یادیو کے فیصلوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اکشر پٹیل کو نائب کپتان ہونے کے باوجود کیوں باہر رکھا گیا۔

ایک اور نکتہ جس پر بہت زیادہ بحث ہوئی وہ یہ تھی کہ انڈیا کے ٹاپ چھ بلے بازوں میں سے پانچ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے تھے۔ میچ کے دوران کمنٹری پینل نے بھی اسے ٹیم انڈیا کی ناقص حکمت عملی کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ انڈین ٹیم کے اس فیصلے کی وجہ سے مخالف ٹیم کے گیند بازوں کو حکمت عملی بنانے کا ایک بہتر آپشن مل گیا اور انھیں اپنی بولنگ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کرنی پڑی۔

سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب جسپریت بمراہ نے اپنے پہلے دو اوورز میں دو وکٹیں لے کر جنوبی افریقہ کو بیک فٹ پر دھکیل دیا تھا تو پھر انھیں دوبارہ باؤلنگ پر لانے میں اتنی دیر کیوں کی گئی۔

میچ کے بعد کپتان سوریہ کمار یادیو نے کہا کہ ’ہم نے ان کے تین بلے بازوں کو 21 رنز پر پویلین بھیج کر اچھی شروعات کی لیکن انھوں نے 7ویں سے 15ویں اوور کے درمیان اچھی بلے بازی کی۔‘

سیمی فائنل تک رسائی

اب ٹیم انڈیا پر سپر-8 کے اگلے دو میچ نہ صرف جیتنے کا دباؤ ہوگا، بلکہ بہتر رن ریٹ بھی رکھنا ہو گا۔

یہی نہیں بکہ انڈیا کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے دوسری ٹیموں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

انڈیا کے اگلے دو میچ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف ہیں۔ اگر انڈیا اپنے دونوں میچ جیت جاتا ہے اور جنوبی افریقہ بھی اپنے دونوں میچ جیت لیتا ہے تو ٹیم انڈیا کے 4 پوائنٹس ہوں گے اور جنوبی افریقہ کے 6 پوائنٹس ہوں گے، جس سے ٹیم انڈیا کے لیے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنا آسان ہو جائے گا۔

اگر انڈیا کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو عالمی کپ سے مکمل طور پر باہر ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر انڈیا اپنے دونوں میچ جیت جاتا ہے اور جنوبی افریقہ ایک ہار جاتا ہے تو دونوں ٹیموں کے 4-4 پوائنٹس ہو جائیں گے۔

لیکن اگر ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ کو شکست دی تو ایسے میں زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ انتہائی اہم ہو جائے گا۔ انڈیا کو اس کے بعد امید کرنی ہوگی کہ زمبابوے ویسٹ انڈیز کو شکست دے گا۔

اس صورت میں ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے پاس دو دو پوائنٹس رہ جائیں گے، ایسی صورت میں انڈیا اور جنوبی افریقہ چار چار پوائنٹس کے ساتھ کوالیفائی کر لیں گے۔