پاکستان کا انگلینڈ کو جیت کے لیے 165 رنز کا ہدف، شائقین بابر سمیت ٹاپ آرڈر سے ناخوش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے اہم میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو جیت کے لیے 165 رنز کا ہدف دیا ہے۔
پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز صاحبزادہ فرحان نے بنائے جو 45 گیندوں پر 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
سری لنکا کے پالیکلے سٹیڈیم میں منگل کو پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ اننگز کے آغاز میں اچھا فیصلہ نہیں محسوس ہوا۔
صائم ایوب ایک بار پھر کوئی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور اننگز کے تیسرے ہی اوور میں سات رنز بنا کر جوفرا آرچر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کے بعد کپتان سلمان علی آغا کریز پر آئے لیکن وہ بھی مجموعی سکور میں کچھ زیادہ بڑا اضافہ نہیں کر سکے۔
سلمان علی آغا صرف پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور اس طرح 27 رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی دوسری وکٹ گِر گئی۔
اس کے بعد اوپنر صاحبزادہ فرحان اور بابر اعظم نے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن اپنے پرستاروں میں ’کنگ‘ کے نام سے مشہور بابر اعظم بھی زیادہ دیر وکٹ پر رُک نہیں سکے اور 24 گیندوں پر 25 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کے علاوہ فخر زمان نے 16 گیندوں پر 25، شاداب خان نے 11 گیندوں پر 23، عثمان خان نے پانچ گیندوں پر آٹھ اور شاہین شاہ آفریدی اور سلمان مرزا نے دو، دو رنز بنائے۔
ٹاپ آرڈر پر تنقید
ٹی20 ورلڈ کپ میں پے در پے ناکامیوں کے بعد صائم ایوب، سلمان علی آغا اور بابر اعظم شدید تنقید کی زد میں نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صائم ایوب کی بیٹنگ میں تکنیکی خرابیوں کو اُجا گر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ غلطیاں اتنے اونچے لیول پر بہت مہنگی ثابت ہوتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کپتان کے بارے میں انھوں نے لکھا کہ ’سلمان علی آغا کو بیٹنگ آرڈر میں نیچے بیٹنگ کرنی چاہیے جہاں ان کو اپنا نیچرل گیم کھیلنے کا زیادہ وقت ملے گا۔‘
ایک صارف نے طنز و مزاح کا سہارا لیتے ہوئے لکھا کہ ’جن کے گھر صائم ایوب کے ہوتے ہیں انھیں دوسروں کے ابھیشیک شرما پر بات نہیں کرنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہX
خیال رہے انڈیا کے جارح مزاج اوپنر ابھیشیک شرما بھی ورلڈ کپ میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں اور انھیں شائقین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔
کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے صحافی مظہر ارشد سمجھتے ہیں کہ عادل رشید نے بابر اعظم پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ اوورٹن کی گیند پر رسک لینے کے چکر میں آؤٹ ہو گئے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر فخر زمان کو پانچویں نمبر پر بیٹنگ پر بھیجنے پر ٹیم مینجمنٹ سے نالاں نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہX
پاور پلے میں کم اوسط سے رنز بنانے پر بھی پاکستانی بیٹرز کو تنقید کا سامنا ہے۔
ہارون رشید نے لکھا کہ ’پاکستان کے ٹاپ آرڈر بیٹرز کو پولیس میں ڈٹیکٹو ہونا چاہیے تھا۔ گیارہ میں سے صرف دو فیلڈر پیچھے فیلڈنگ کر رہے ہیں اور تب بھی بیٹرز انھیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔‘
تاہم کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کی سب سے اچھی ٹیم ہے۔ انڈین کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے لکھتے ہیں کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد سے سب کچھ پاکستان کے حق میں جا رہا ہے ’شاید انھوں نے اپنی بہترین ٹیم کا انتخاب کر لیا ہے۔‘













