شمرون ہیٹمائر کی دھواں دار بیٹنگ، ’ویسٹ انڈیز کا پیغام‘ اور انڈیا کے لیے ’گیم اوور‘ ہونے کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہIndranil MUKHERJEE / AFP via Getty Images
سوموار کو ممبئی کے وانکھیڈے سٹیڈیم نے زمبابوے کے خلاف ویسٹ انڈیز کی دھواں دار بیٹنگ دیکھی۔ چھکوں اور چوکوں کی برسات نے میدان میں موجود تماشائیوں کو خوب محظوظ کیا۔
ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ سے لطف اندوز ہونے والوں میں کرکٹ کے انڈین شائقین بھی تھے، لیکن شاید انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ویسٹ انڈیز کا ہر چوکا اور چھکا ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کا آگے کا راستہ مشکل بناتا جا رہا ہے۔
ویسٹ انڈیز نے 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 254 رنز بنا ڈالے۔ یہ ٹی 20 کی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا سکور ہے۔
اس سے پہلے سری لنکا نے سنہ 2007 میں کینیا کے خلاف 6 وکٹوں پر 260 رنز بنائے تھے۔
ویسٹ انڈیز 107 رنز کے بڑے مارجن سے جیتا اور اس نے انڈیا کے لیے سیمی فائنل میں پہنچنے کا راستہ خاصا دشوار کر دیا ہے۔
سپر ایٹ مرحلے کے گروپ ون میں انڈیا، جنوبی افریقہ، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں شامل ہیں۔
چاروں ٹیمیں ایک ایک میچ کھیل چکی ہیں۔ جہاں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ نے فتوحات حاصل کی ہیں، وہیں انڈیا اور زمبابوے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
5.35 کے نیٹ رن ریٹ کے ساتھ ویسٹ انڈیز گروپ میں سر فہرست ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسرے نمبر پر جنوبی افریقہ ہے جس کا نیٹ رن ریٹ 3.80 ہے۔
جبکہ منفی 3.80 نیٹ رن ریٹ کے ساتھ انڈیا تیسرے اور منفی 5.35 نیٹ رن ریٹ کے ساتھ زمبابوے آخری نمبر پر ہے۔
انڈیا کے لیے راستہ اب بہت مشکل ہو چکا

،تصویر کا ذریعہNikhil Patil/Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیٹ رن ریٹ کے کھیل نے انڈیا کا راستہ بہت مشکل بنا دیا ہے۔
اب اس کے لیے ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف اپنے دونوں میچ جیتنا بہت ضروری ہے، لیکن صرف اتنا کر لینے سے کام نہیں چلے گا۔ دوسرے نتائج بھی انڈیا کے حق میں آئیں تب جا کر کہیں بات بنے گی۔
سابق کرکٹر آکاش چوپڑا کہتے ہیں: ’اب انڈیا صرف اس صورت میں سیمی فائنل تک پہنچ سکتا ہے جب احمد آباد میں ہونے والے میچ میں جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز کو ہرا دے۔‘
’لیکن اگر جنوبی افریقہ ہار جاتا ہے، تو پھر ہمیں دعا کرنا ہو گی کہ زمبابوے بھی جنوبی افریقہ کو ہرا دے۔ کیونکہ اگر ایسی صورتحال بنتی ہے کہ انڈیا، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ، تینوں ہی دو دو میچ جیت جائیں، تو پھر انڈیا کے لیے کوئی موقع نہیں بچے گا۔ کیونکہ نیٹ رن ریٹ کے حساب سے انڈیا بہت پیچھے ہے۔‘
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ زمبابوے کی ٹیم نے اس ٹورنامنٹ میں اچھا کھیل پیش کیا ہے، اس کے باوجود جنوبی افریقہ کو ہرانا زمبابوے کے لیے مشکل ہو گا۔
اسی طرح، ویسٹ انڈیز کی موجودہ فارم کو دیکھا جائے تو جنوبی افریقہ کے لیے بھی اسے شکست دینا ہر گز آسان نہیں ہوگا۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا پیغام
پورے ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم چھائی ہوئی ہے۔
وہ سکاٹ لینڈ کو 35 رنز سے، انگلینڈ کو 30 رنز سے، نیپال کو 9 وکٹوں سے، اٹلی کو 42 رنز سے اور زمبابوے کو 107 رنز سے شکست دے چکی ہے۔
کرکٹ ایکسپرٹ ہرشا بھوگلے نے ایکس پر لکھا ہے: ’ویسٹ انڈیز کی ٹیم سبھی کو بہت سخت پیغام دے رہی ہے۔‘
کھیل کے تجزیہ کار سندریسان ایکس پر لکھتے ہیں: ’کیا ویسٹ انڈیز اچانک ہی ٹائٹل کے لیے پسندیدہ امیدوار بن گیا۔ اس کی وجہ صرف ان کا چھکے مارنے والے گروپ کے طور پر کھیلنے کا انداز نہیں بلکہ ان کے دو سپنرز کی گیند کے ساتھ شاندار شراکت بھی ہے جو اب تک نمایاں رہی ہے۔‘
کھیل کی خبریں دینے والے صحافی وکرانت گپتا نے ایکس پر لکھا: ’انڈیا کو ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف میچ لازماً جیتنے ہوں گے۔ ساتھ ہی اگر جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز کو ہرا دے تو انڈیا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لے گا۔ لیکن اگر تینوں ٹیموں نے دو دو میچ جیت لیے تو انڈیا نیٹ رن ریٹ میں اتنا پیچھے ہے کہ اسے ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑے گا۔‘
تو معاملہ یہ ہے کہ اگر ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ کو ہرا دیتی ہے، تو انڈیا کے لیے ’گیم اوور‘ ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
یعنی انڈیا سپر ایٹ کے اپنے باقی دو میچ جیت بھی لے تو پھر بھی اسے دوسرے میچز کے نتائج پر انحصار کرنا پڑے گا۔












