امریکی اور ایرانی وفد کی آمد سے مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہنے کے اعلان تک، اسلام آباد میں کیا ہوتا رہا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ شکریہ۔‘
یہ کہہ کر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے سامنے موجود میز کو دو بار تھپتھپایا اور پریس کانفرنس کا اختتام ہو گیا۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے امریکہ ایران مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو چکے تھے۔
اس بات کا اعلان مذاکرات کے لیے پاکستان آئے امریکی نائب صدر نے اتوار کی صبح چھ بجے کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔ پریس کانفرنس میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دوریاں کم کر کے کسی معاہدے تک پہنچانے کے لیے بہترین کوشش کی، تاہم ’بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔‘
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی کہ ایران کے لیے ہے، ’معاہدہ نہیں ہوا اور ہم امریکہ واپس جا رہے ہیں۔‘
پاکستان کی ہی درخواست پر امریکہ اور ایران دو ہفتوں کے لیے جنگ بند کرنے پر متفق ہوئے تھے اور دونوں ممالک کے وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے تھے اور فریقوں کے درمیان بات چیت اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوئی۔
امریکی نائب صدر نے مذاکرات بے نتیجہ رہنے کا اعلان تو کیا تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کا دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر ہو گا۔
ان کی پریس کانفرنس کے تقریباً دو گھنٹے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق نے بھی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتا رہے گا، ’یہ اہم ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کون سی شرائط تھیں جن پر امریکہ اور ایران میں اتفاق نہیں ہو سکا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں امریکی نائب صدر نے کہا: ’ہم نے بہت واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں، کن باتوں پر ہم مفاہمت کر سکتے ہیں اور کن پر نہیں۔‘
جے ڈی وینس کے مطابق: ’اور انھوں نے (ایران نے) فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہماری شرائط تسلیم نہیں کریں گے۔‘
اس موقع پر صحافیوں نے امریکی نائب صدر سے سوال کیا کہ ’واضح طور پر بتائیے کہ کون سی شرائط مسترد کی گئی ہیں؟‘
جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹے تک جو مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے ہوئے، ان کی تمام تفصیلات تو وہ نہیں بتائیں گے، تاہم ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔
’امریکی صدر کا یہی بنیادی مقصد ہے اور ہم نے مذاکرات کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے پاس موجود یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہے، ’لیکن کیا ہم ایران میں یہ آمادگی دیکھ رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار کبھی بھی نہیں بنائیں گے؟ یہ آمادگی ابھی تک ہمیں نظر نہیں آئی۔‘
ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں کے متعلق بھی بات ہوئی تاہم ہم اس نکتے پر نہیں پہنچ سکے کہ جہاں ایرانی ہماری شرائط قبول کرتے۔
’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہرتیں کوششیں کرنی ہیں، ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘
جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ان کا صدر ٹرمپ سے کتنی بار رابطہ ہوا اور انھوں نے کیا کہا؟
امریکی نائب صدر کا جواب تھا: ’ہم صدر سے مسلسل رابطے میں تھے، مجھے نہیں معلوم کہ گذشتہ 21 گھنٹوں میں کتنی بار بات ہوئی ہو گی۔۔۔۔ شاید ایک درجن مرتبہ۔‘
’ہم ایڈمرل کوپر (کمانڈر سینٹکام)، مارکو روبیو (وزیر خارجہ)، پیٹ ہیگسیتھ (وزیر دفاع) اور پوری نیشنل سکیورٹی ٹیم سے رابطے میں تھے۔ ہم مسلسل رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔‘
پریس کانفرنس ختم کرتے ہوئے امریک نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا: ’ہم اس سادہ سی تجویز کے ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا ایک طریقۂ کار وضع کیا جائے۔ یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘
اس مختصر سی پریس کانفرنس کے بعد جے ڈی وینس راولپنڈی کی نور خان ایئر بیس گئے اور امریکہ واپسی کے لیے اڑان بھری۔ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے انھیں الوداع کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی مؤقف میں لچک نہ ہونے کے باعث مذاکرات بے نتیجہ رہے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچا تھا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر سمیت دیگر امریکی حکام سنیچر کو صبح پاکستانی دارالحکومت آئے۔
دونوں وفود نے علیحدہ علیحدہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری بیانات میں کہا گیا کہ پاکستان بطور ثالث اپنا کردار نبھاتا رہے گا اور اسے امید ہے کہ سنیچر کو ہونے والے مذاکرات تنازع کے حل کی طرف ایک قدم ثابت ہوں گے۔
پاکستانی حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہلے پاکستان کے ذریعے ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا جس کے بعد مہمان وفود نے پاکستانی حکام کی موجودگی میں ڈھائی گھنٹے تک بات چیت کی۔
اس کے بعد ایک گھنٹے کا وقفہ لیا گیا اور پیش کیے گئے مطالبات پر ایرانی اور امریکی ماہرین کے درمیان تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔
پاکستانی حکام کے مطابق تکنیکی پہلوؤں پر پیغامات کا تبادلہ رات گئے تک جاری رہا تھا۔
ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کی وجہ امریکی مؤقف میں لچک نہ ہونا تھا۔
تسنیم کے مطابق ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان پہنچنے والے وفد نے کم از کم دو مرتبہ آرمی چیف اور ایک مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات کی ’تاکہ ضروری انتظامات کیے جا سکیں اور مذاکرات کے آغاز ہی میں امریکہ کی وعدہ خلافی کے خلاف باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات 21 گھنٹے سے زائد تک جاری رہے۔ اس دوران ایران نے بارہا اپنی تجاویز پیش کیں اور ’امریکی فریق کو حقیقت پسندی کی طرف لانے کی کوشش کی۔‘
تسنیم نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ’ہر مرحلے پر امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات نے کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔ امریکی مؤقف میں لچک نہ ہونے کے باعث مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔‘
خبر میں مزید کہا گیا کہ تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار سے متعلق کسی پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سیرینا ہوٹل سے ایک کلومیٹر دور صحافیوں نے سنیچر کا دن کیسے گزارا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریانی، کڑاہی، فرائیڈ رائس، ساتھ چکن شاشلک، کباب اور ساتھ میں میٹھا بھی۔۔۔ یہ مینیو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کا نہیں جہاں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان سنیچر کے روز براہ راست مذاکرات ہوئے بلکہ یہ منظر ایک کلومیٹر دور واقع جناح کنونشن سینٹر کا تھا جہاں پوری دنیا سے آئے صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔
یہ کوئی اور وقت ہوتا تو شاید ان انتظامات پر پاکستانی حکومت کی تعریفیں کی جا رہی ہوتیں۔ مگر وہاں دراصل ’ایکسلوسیو‘ خبروں کی تلاش میں ملکی اور غیر ملکی صحافی جمع تھے جو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے آئے تھے۔
ہوٹل کے باہر سڑک پر بسیں کھڑی تھیں جن کا کام صحافیوں کو جناح کنونشن سینٹر تک پہنچانا تھا۔ یہاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گاڑیوں اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع تھا۔
بس میں غیرملکی صحافیوں کا جوش دیدنی تھا۔
غیر ملکی میڈیا ادارے سے وابستہ ایک خاتون صحافی کو میں نے فون پر یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ ’آل آئیز آن پاکستان‘ یعنی تمام نگاہیں پاکستان پر ہیں۔
معلومات کا فقدان مگر وافر کھانے
کچھ دیر بعد ہم جناح کنونشن سینٹر پہنچے جہاں درجنوں ملکی و غیرملکی صحافی موجود تھے۔ یہ ایک ایسا میلہ تھا جہاں ہر قسم کی زبانیں سنائی دے رہی تھیں۔ کوئی انگریزی، کوئی اردو، کوئی پشتو اور کوئی دیگر یورپی زبانوں میں کیمرے اور فون پر رپورٹنگ کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
میں خود یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں کام کیسے ہوگا؟ میں نے ایک غیرملکی خاتون صحافی سے دریافت کیا کہ ’کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس مقام سے ایک کلومیٹر دور سیرینا ہوٹل میں ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان ملاقاتوں میں کیا ہو رہا ہے؟‘ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’کنونشن سینٹر سے باہر شاید کچھ صحافیوں کو معلومات کا علم ہو۔ لیکن یہاں کسی کو کچھ نہیں پتا۔‘
میں نے ان کی یہ بات مختلف الفاظ میں دیگر صحافیوں کے منہ سے بھی سنی۔ پورا دن یہاں گزارنے کے بعد بھی مجھے کوئی حکومتی شخصیت نظر نہیں آئی جو صحافیوں کو بتا سکے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔
مقامی اور غیرملکی صحافی ایک دوسرے سے یہی سوال پوچھتے رہے کہ کسی کو معلوم ہے کہ مذاکرات میں چل کیا رہا ہے؟ معلومات کی کمی اور جناح کنونشن سینٹر کا سست رفتار انٹرنیٹ پورے دن ہی صحافیوں کو تنگ کرتا رہا۔
اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں سیرینا ہوٹل میں جاری تھے، ان سے متعلق خبریں لینے کے دوران متعدد بار سست انٹرنیٹ کی وجہ سے میرا رابطہ لوگوں کے ساتھ معطل ہوتا رہا۔
دنیا بھر سے اسلام آباد پہنچنے والے صحافی یہ خواہش کرتے ہوئے نظر آئے کہ انھیں خالی ہاتھ اپنے گھر نہ لوٹنا پڑے۔ خبر بڑی ہو اور تنازع ختم ہونے سے بڑی خبر کوئی نہیں ہو سکتی۔
اس کے لیے کنونشن سینٹر میں بیٹھے صحافیوں نے مذاکرات کے مقام سیرینا ہوٹل پر نظریں جمائے رکھیں۔
جس خبر کا صحافیوں کو انتظار تھا، وہ اتوار کی صبح چھ بجے کے بعد آئی، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات بے نتیجہ رہنے کا اعلان کیا۔



























