برطانیہ داخلے کا نیا نظام اور پیچیدگیاں: اب آپ کو ویزا چاہیے یا ’ای ٹی اے‘؟

برطانیہ، ویزا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

برطانوی حکومت نے 85 ممالک سے برطانیہ سفر کرنے والے افراد کے لیے ایک نیا سفری نظام شروع کیا ہے۔ جبکہ پاکستان سے برطانیہ جانے والے تقریباً تمام مسافر ’ای ویزا‘ سروس استعمال کر سکیں گے۔

برطانوی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق اب سیاحتی ویزے کے خواہشمند افراد اپنی ویزا درخواست آن لائن جمع کروا سکیں گے تاہم بائیو میٹرک کے لیے انھیں ایک بار ویزا سینٹر جانا پڑے گا۔

ویب سائٹ کے مطابق ویزا حاصل کرنے والے افراد کے امیگریشن سٹیٹس کا ڈیجیٹل ریکارڈ موجود ہو گا اور درخواست کنندہ سفر کے وقت متعلقہ حکام کو دکھانے کے لیے ایک کوڈ بھی حاصل کر سکے گا۔

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ویزے کی درخواست پر کارروائی کے دوران پاسپورٹ ویزا دفتر میں جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ای ویزا کے حصول کے دوران پاسپورٹ مسافروں کے پاس ہی رہے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ برس برطانیہ نے تعلیم اور ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے ای ویزا کی سہولت کا آغاز کیا تھا۔

دوسری طرف برطانیہ کے نئے ’الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن‘ (ای ٹی اے) نظام کا اطلاق آج یعنی 25 فروری 2026 سے ہو گیا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے امیگریشن کے نظام میں بہتری آئے گی تاہم دوہری شہریت کے حامل کچھ افراد کے لیے اس نئے نظام کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ای ٹی اے کیا ہے؟

الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ای ٹی اے) برطانیہ میں داخلے کے لیے ڈیجیٹل اجازت نامہ ہے اور اس کا اطلاق 85 ممالک پر ہو گا۔ تاہم اس فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے۔

سیاحتی ویزے، بزنس ویزے اور مختصر مدت کی تعلیم کے خواہشمند افراد کے لیے ای ٹی اے کا حصول لازمی ہو گا۔

ڈیجیٹل اجازت نامہ ملنے کے بعد آپ چھ ماہ تک برطانیہ میں قیام کر سکیں گے۔ اس اجازت نامے کی مدت دو سال ہو گی یا اس وقت تک جب تک کہ آپ کے پاسپورٹ کی میعاد ختم نہیں ہو جاتی۔ ای ٹی اے کے ذریعے برطانیہ کے متعدد دوروں کی سہولت بھی میسر ہو گی۔

یاد رہے کہ کام، طویل دورانیے کے قیام اور طویل مدت کی تعلیم کے خواہشمند افراد کے لیے اب بھی ویزے کا حصول لازم ہو گا۔

مگر ای ٹی اے ایسے افراد بھی استعمال کر سکیں گے جنھیں متعدد ملکوں کے سفر کے دوران برطانیہ بھی آنا پڑے گا۔ تاہم کسی اور ملک جانے والے افراد جو بذریعہ برطانیہ ٹرانزٹ کرتے ہیں، انھیں ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

برطانیہ یا آئرلینڈ کے شہریوں کو ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

یہ نئی پالیسی اکتوبر 2023 میں لانچ کی گئی تھی لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اسے سختی سے نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم نومبر میں برطانوی حکومت نے کہا کہ 25 فروری سے ای ٹی اے لازمی ہو گا۔

برطانیہ امیگریشن

،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images

ای ٹی اے کیسے حاصل کیا جائے گا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ای ٹی اے حاصل کرنے کے لیے آپ کو برطانوی حکومت کو 16 پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس فیس کو 20 پاؤنڈ کیا جا سکتا ہے۔

ای ٹی اے کی درخواست کے حوالے سے خود برطانوی حکومت تجویز کرتی ہے کہ آپ اس کا فارم گوگل پلے یا ایپل سٹور پر موجود ایپ سے ڈاؤن لوڈ کریں۔

اس فارم میں آپ کو اپنے پاسپورٹ کی تفصیلات اور اپنی تصویر کے علاوہ کچھ دیگر سوالوں کے جواب بھی دینا ہوں گے۔

سفر کرتے وقت آپ کو وہی پاسپورٹ اپنے پاس رکھنا ہو گا جس کے ذریعے آپ نے ای ٹی اے کے لیے اپلائی کیا تھا۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ای ٹی اے ایپ کے ذریعے آپ کو منٹوں میں جواب مل جائے گا تاہم لوگوں کو تجویز کیا گیا ہے کہ وہ سفر سے کم از کم تین دن پہلے ای ٹی اے کے لیے اپلائی کریں۔

اگر کسی شخص کی ای ٹی اے درخواست مسترد (ریجیکٹ) ہو جاتی ہے تو اسے اس کی وجہ بتائی جائے گی اور وہ دوبارہ اپلائی کرنے کا اہل بھی ہو گا۔

تاہم اگر کسی شخص کی ای ٹی اے درخواست کو انکار (ریفیوز) کر دیا جاتا ہے تو اسے اپیل کا حق نہیں دیا جائے گا بلکہ اسے برطانیہ کے ویزے کے لیے اپلائی کرنا ہو گا۔

اس نئے نظام پر عملدرآمد کیسے ہو گا؟

جب آپ اپنے سفر کا آغاز کریں گے تو ای ٹی اے کے بغیر آپ کو بورڈنگ کی اجازت نہیں ہو گی۔

برطانوی حکومت نے ایئر لائنز، ریلوے اور شپنگ کمپنیوں کو ایسے ٹولز فراہم کر دیے ہیں جو ہوم آفس کے ساتھ خودکار ڈیجیٹل چیک کے ذریعے سفری اجازت کی تصدیق کر سکیں گے۔

ای ٹی اے آپ کے پاسپورٹ کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر منسلک ہو گا اور آپ کو پیپر کاپی کی ضرورت نہیں ہو گی تاہم آپ اپنے ریکارڈ کے لیے ایک کاپی رکھ سکتے ہیں۔

اگرچہ ای ٹی اے آپ کو برطانیہ جانے کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ آپ کو برطانیہ میں داخلے کا حق نہیں دیتا۔ لہذا آپ کو اب بھی پاسپورٹ کنٹرول سے گزرنا پڑے گا۔

اگر پاسپورٹ کنٹرول میں دیگر مسائل سامنے آتے ہیں تو ای ٹی اے ہونے کے باوجود بھی آپ کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

دوہری شہریت کے حامی افراد کے لیے کیا مشکلات ہیں؟

دوہری شہریت کے حامل افراد (جن کے پاس برطانیہ اور کسی دوسرے ملک کی شہریت موجود ہے) ای ٹی اے حاصل نہیں کر سکتے۔

برطانیہ میں داخلے کے لیے انھیں اپنا برطانوی پاسپورٹ یا اپنی دوسرے قومیت کے پاسپورٹ کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے انٹائٹلمنٹ سرٹیفکیٹ کا نیا ڈیجیٹل ورژن دکھانا ہو گا۔

اس کے بغیر انھیں برطانیہ سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

برطانیہ

،تصویر کا ذریعہReuters

واضح رہے کہ برطانوی پاسپورٹ اور انٹائٹلمنٹ سرٹیفکیٹ ان لوگوں کو خود بخود جاری نہیں کیا جاتا جو شہریت حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے درخواست دینا ضروری ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے متعدد افراد کئی دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم رہنے کے باوجود اس کے لیے اپلائی نہیں کرتے۔

دونوں دستاویزات حاصل کرنے میں ہفتوں لگ جاتے ہیں اور ان کی فیس بھی الگ ہوتی ہے۔ برطانوی پاسپورٹ کی فیس تقریباً 100 پاؤنڈ جبکہ استحقاق سرٹیفکیٹ کی فیس 589 پاؤنڈ ہے۔

دوہری شہریت رکھنے والے متعدد برطانوی شہریوں نے بی بی سی کو برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی جدوجہد کے بارے میں بتایا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب قواعد میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا تو وہ کافی عرصے سے ملک سے باہر تھے۔

ہوم آفس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو درست دستاویزات رکھنے کا مشورہ دینے والی عوامی معلومات اکتوبر 2024 سے دستیاب ہیں اور ای ٹی اے کے بارے میں معلوماتی مہم 2023 سے چل رہی ہے۔‘

برطانیہ کے علاوہ اور کون سے ملک ای ٹی اے استعمال کرتے ہیں؟

برطانیہ پہلا ملک نہیں جو ای ٹی اے استعمال کر رہا ہے بلکہ کینیڈا اور امریکہ میں یہ پہلے ہی لاگو ہے۔

کینیڈا کے لیے ای ٹی اے کی فیس صرف سات ڈالر (3.78 پاؤنڈ) جبکہ امریکہ میں اس کی فیس 40.27 ڈالر (29.75 پاؤنڈ) ہے۔