’ایسا لگتا ہے جیسے سنیماٹوگرافر کام کر رہا ہو‘: ویڈیوز بنانے والا نیا چینی اے آئی ماڈل جس نے ہالی وڈ کو بھی ہلا دیا

China

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسی ڈانس 2.0 اے آئی ماڈل صرف چند تحریری ہدایات پر ساؤنڈ ایفیکٹس اور ڈائیلاگز سمیت سنیما کے معیار کی ویڈیو بنا سکتا ہے
    • مصنف, آسمنڈ چیا اور سرنجانا تیواری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ٹِک ٹاک کی مالک کمپنی کی جانب سے بنائے گئے مصنوعی ذہانت کے ایک نئے ماڈل نے رواں ہفتے ہالی وڈ میں ہلچل مچا دی ہے، وجہ یہ نہیں کہ یہ ماڈل کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے تخلیقی صنعتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی بائٹ ڈانس کی جانب سے تیار کیا گیا سی ڈانس 2.0 اے آئی ماڈل صرف چند تحریری ہدایات پر ساؤنڈ ایفیکٹس اور ڈائیلاگز سمیت سنیما کے معیار کی ویڈیو بنا سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں سی ڈانس کی مدد سے بنائی گئی بہت سی ویڈیوز، جن میں سپائیڈر مین اور ڈیڈ پول جیسے مقبول کردار موجود تھے، وائرل ہوئی تھیں۔

ڈزنی اور پیرا ماؤنٹ جیسے بڑے سٹوڈیوز نے اس کے بعد فوری طور پر بائٹ ڈانس پر کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، لیکن اس ٹیکنالوجی سے جڑے خدشات قانونی مسائل سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔

سی ڈانس کیا ہے؟

سی ڈانس کو پہلی مرتبہ جون 2025 میں متعارف کروایا گیا تھا لیکن اس کو اس وقت زیادہ توجہ نہیں ملی تھی، لیکن آٹھ ماہ بعد آنے والے اس کے دوسرے ورژن نے اس وقت بڑی ہلچل مچا رکھی ہے۔

کریٹیو سٹوڈیو ویڈیو سٹیٹ سے منسلک جان ولیم بلوم کہتے ہیں کہ ’پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اے آئی کے حساب سے یہ ویڈیوز اچھی ہیں۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ یہ بالکل اصل پروڈکشن کمپنی کی بنائی گئی ویڈیوز لگ رہی ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ مغربی اے آئی ویڈیو ماڈلز نے بھی صارف کی ہدایات کو سمجھ کر شاندار تصاویر بنانے میں ضرور پیش رفت کی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے جیسے سی ڈانس نے سب کچھ ایک جگہ جوڑ دیا ہو۔

Deadpool

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنحالیہ دنوں میں سی ڈانس کی مدد سے بنائی گئی بہت سی ویڈیوز، جن میں سپائیڈر مین اور ڈیڈ پول جیسے مقبول کردار موجود تھے، وائرل ہوئی تھیں

مڈجرنی اور اوپن اے آئی کے سورا کی طرح سی ڈانس بھی تحریری ہدایات ہر ویڈیوز بنا سکتا ہے۔ یہ اے آئی ماڈل بعض صورتوں میں صرف ایک ہی ہدایت پر اعلیٰ معیار کی ویڈیوز تیار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

اے آئی کی اخلاقیات پر تحقیق کرنے والی مارگریٹ مچل کہتی ہیں کہ یہ ماڈل بہت متاثر کُن ہے کیونکہ یہ تحریروں، تصاویروں اور آڈیوز کو ایک ساتھ یکجا کر سکتا ہے۔

سی ڈانس کے اثرات کو ایک غیر متوقع طریقے سے جانچا جا رہا ہے: یہ وِل سمتھ کی سپگیٹی کھاتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ کو کتنی اچھے طریقے سے تیار کرسکتا ہے۔

سی ڈانس نہ صرف وِل سمتھ کی سپگیٹی کھاتے ہوئے حیرت انگیز حد تک درست ویڈیو تیار کر سکتا ہے بلکہ اس نے اداکار اور ایک سپگیٹی مونسٹر کے درمیان لڑائی کی وائرل ویڈیوز بھی بنا دی ہیں، انھیں دیکھ کر ایسا لگیا ہے کہ جیسے یہ کسی بڑے بجٹ کی فلم کے مناظر ہوں۔

صنعتی ماہرین اور فلم سازوں کا ماننا ہے کہ سی ڈانس ویڈیو بنانے والی ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک نیا باب ہے۔

سنگاپور میں قائم اینیمیشن سٹوڈیو ٹائنی آئی لینڈ پروڈکشنز کے سربراہ ڈیوڈ کوک کہتے ہیں کہ سی ڈانس کی تیار کردہ پیچیدہ ایکشن سیکوئنس اس کے مقابلے کے دیگر ماڈلز کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقیقت کے قریب نظر آتے ہیں۔

’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کے ساتھ ایک سنیماٹوگرافر یا ایکشن فلموں میں مہارت رکھنے والا ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی کام کر رہا ہو۔‘

سی ڈانس کو درپیش چیلنجز

سی ڈانس کو اس وقت کاپی رائٹ کے مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، جو اے آئی کے دور میں ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے۔

دوسری جانب ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت والی کمپنیاں طاقتور ٹولز بنانے کی دوڑ میں ٹیکنالوجی کو انسانوں پر ترجیح دے رہی ہیں اور اس کام کے لیے اس ڈیٹا کا بھی استعمال کر رہی ہیں، جس کی ادائیگی نہیں کی جاتی۔

ہالی وُڈ کی بڑی تنظیموں نے سی ڈانس کی جانب سے سپائیڈر مین اور ڈارک ویڈر جیسے کاپی رائٹ شدہ کرداروں کے استعمال پر سخت اعتراض کیا ہے۔

ڈزنی اور پیرا ماؤنٹ نے ’سیز اینڈ ڈیسِسٹ‘ لیٹرز جاری کیے ہیں، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سی ڈانس فوراً ان کا مواد استعمال کرنا بند کرے۔

بعدازاں مقبول اینیمی کرداروں کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد جاپان بھی بائٹ ڈانس کے خلاف مبینہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔

China

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسی ڈانس کو اس وقت کاپی رائٹ کے مسائل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بائٹ ڈانس نے کہا ہے کہ وہ ’موجودہ حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانے‘ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف اس چینی کمپنی تک محدود نہیں ہے۔

سنہ 2023 میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ پر مقدمہ دائر کیا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اس کے مضامین کو اس کی اجازت کے بغیر اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا ہے۔

گذشتہ سال ریڈٹ نے پرفلیکسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی اور دعویٰ کیا کہ کہ اس کمپنی نے صارفین کی پوسٹس کو غیر قانونی طور پر اسکریپ کیا۔ ڈزنی نے بھی گوگل کے اے آئی پر اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

مارگریٹ مچل کہتی ہیں کہ ’عوام کو دھوکا دہی سے بچانے کے لیے مواد کی واضح لیبلنگ کرنا اور اے آئی پر عوامی اعتماد قائم کرنا ’مزید دلکش نظر آنے والی‘ ویڈیوز کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ڈویلپرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے نظام تیار کریں جو لائسنسنگ اور ادائیگیوں کا لازمی طور پر انتظام کرے اور لوگوں کے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو چیلنج کرے۔

مثال کے طور پر ڈزنی نے اوپن اے آئی کے سورا کے ساتھ ایک ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے تاکہ وہ سٹار وارز، پکسر اور مارول کے کردار استعمال کر سکے۔

میلبرن یونیورسٹی سے منسلک محقق شانان کوہنی کہتے ہیں کہ ممکن ہے سی ڈانس کے ڈویلپرز کو مغربی دانشورانہ املاک کے استعمال سے جڑے ممکنہ کاپی رائٹ مسائل کا پہلے سے علم ہو لیکن انھوں نے پھر بھی یہ خطرہ مول لیا۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ قواعد کو حکمتِ عملی کے تحت موڑنے، کچھ عرصے کے لیے ان کی خلاف ورزی کرنے اور اس کے ذریعے اے آئی ماڈل کی مارکیٹنگ میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔

کیا چین ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سب سے آگے ہے؟

سی ڈانس کے ذریعے ایک بار پھر دنیا کی توجہ چین کی طرف مبذول ہوئی ہے۔

شانان کہنی کہتے ہیں کہ ’یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کم از کم چینی ماڈلز کی اب تک دستیاب ٹیکنالوجی میں سب کا مقابلہ کر رہے ہے۔‘

China

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈزنی نے اوپن اے آئی کے سورا کے ساتھ ایک ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے

’اگر بائٹ ڈانس بظاہر اچانک ہی یہ سب تیار کر سکتا ہے تو چینی کمپنیوں کے پاس اور کس قسم کے ماڈلز محفوظ ہوں گے؟‘

گذشتہ برس ایک اور چینی اے آئی ماڈل ڈیپ سیک نے اپنے کم قیمت والے لینگویج ماڈل کے ذریعے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ اس نے بہت تیزی سے ایپل کے امریکی سٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی مفت ایپ کے طور پر چیٹ جی پی ٹی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

جب سی ڈانس 2.0 سرخیوں میں تھا، اُس وقت دیگر بڑی چینی کمپنیوں نے نئے سال کی چھٹیوں سے قبل اپنے نئے جنریٹیو اے آئی ٹولز متعارف کروائے۔

چینی امور کے تجزیہ کار بل بشاپ نے اپنے نیوز لیٹر میں لکھا کہ سپرنگ فیسٹیول تیزی سے ’اے آئی ہالی ڈے‘ بنتا جا رہا ہے کیونکہ کمپنیاں اپنی نئی مصنوعات مارکیٹ میں لانے کے لیے اسی وقت کا انتخاب کرتی ہیں تاکہ گھروں پر بیٹھے کروڑوں لوگ ان نئی ایپس کو آزما سکیں۔