چار روزہ تنازع کے بعد انڈیا اور پاکستان کے تعلقات: ’بہترین ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو‘

پاکستان اور انڈیا کے پرچم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, نامہ نگار برائے انڈیا، بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

جنوبی ایشیا کو خطرناک کشیدگی کے دہانے پر لا کھڑا کرنے والی انڈیا اور پاکستان کی چار روزہ جنگ کے ایک سال بعد، یہ خطہ ایک نازک توازن کی کیفیت میں داخل ہو چکا ہے۔

یہ بحران جو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاحوں پر جان لیوا حملے کے بعد شروع اور انڈیا کے عسکری حملوں اور پاکستان کی جوابی کارروائی پر منتج ہوا تھا، بمشکل 90 گھنٹے جاری رہا۔

مگر اس تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی دوریوں کو مزید سخت کر دیا، جس کے باعث معمولات کی بحالی کی گنجائش بھی بہت کم رہ گئی۔

باضابطہ سفارت کاری تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، سرحد بند ہے، کرکٹ تعلقات منقطع ہیں اور تجارت اور سندھ طاس معاہدہ بھی معطل ہے۔

پاکستان کے سابق سفارت کار اور انور گرگاش ڈپلومیٹک اکیڈمی اور ہڈسن انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو حسین حقانی کا کہنا ہے کہ ’تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ دونوں جانب سے نہ داخلی اور نہ ہی بین الاقوامی وجوہات کی بنا پر ایک دوسرے سے رابطہ ضروری سمجھا جا رہا ہے۔‘

’امن کے زمانے میں بھی خراب تعلقات کے ادوار رہے ہیں مگر یہ تعلقات کے انجماد کے معاملے میں سب سے طویل مدت سے ایک ہے۔‘

اس کے اثرات دونوں جوہری طاقتوں کو جدا کرنے والی لائن آف کنٹرول سے کہیں آگے تک پھیل گئے ہیں۔

جانز ہاپکنز سکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ڈینیئل مارکی کہتے ہیں کہ ’اس تنازع نے علاقائی توازن کے بارے میں بیرونی تاثر کو نمایاں طور پر بدل دیا۔‘

’مئی 2025 سے پہلے بہت سے مبصرین سمجھتے تھے کہ انڈیا کو پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے اور بہت سے انڈین شہریوں کا بھی یہی خیال تھا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پاکستان کی انڈیا کے ابتدائی حملے برداشت کرنے کی صلاحیت اس کے لیے سٹریٹجک فائدہ ثابت ہوئی، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ اگر تنازع جاری رہتا تو کیا ہوتا۔‘

An elderly man stands inside the burned-out shell of his home, leaning on a wooden walking stick and staring quietly at the debris around him. He wears a white skullcap, a grey sweater beneath a beige vest and loose traditional trousers. The room is gutted and blackened, its walls cracked.

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک شخص اپنے گھر کا جائزہ لیتے ہوئے، جو مئی 2025 کی جنگ کے دوران لائن آف کنٹرول کے قریب سرحد پار سے ہوئی گولہ باری سے متاثر ہوا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اس تنازع نے پاکستان کو وہ چیز دوبارہ دلائی، جو طویل عرصے سے وہ کھو چکا تھا یعنی کہ جغرافیائی سیاسی اہمیت اور یہ بحالی وسیع جغرافیائی سیاسی اتھل پتھل کے درمیان ہوئی۔

ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ میں اس کے بطور ثالث کردار نے بہت سوں کو حیران بھی کیا۔

سکیورٹی امور کے ماہر کرسٹوفر کلیری کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے اپنی اہمیت دوبارہ قائم کی۔‘

’پاکستانی قیادت مشرق وسطیٰ میں شٹل سفارت کاری کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ عارضی ہے یا امریکی صدر کی ذاتی ترجیحات کا نتیجہ ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروانے کا کریڈٹ لیا اور کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کی۔ ان بیانات نے دہلی کو ناراض کیا، جو طویل عرصے سے تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا آیا ہے، اور اس سے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی۔

کلیری کے مطابق ٹرمپ کی پاکستانی فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ’واضح قربت‘ نے تنازع کے بعد کے ماحول کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

کلیری کہتے ہیں کہ ’امریکی صدر کی امن کے داعی کے طور پر دیکھے جانے کی خواہش نے ان کے مئی 2025 کے تنازع کو سنبھالنے کے انداز کو متاثر کیا۔‘

A heavily damaged mosque, its roof almost entirely torn away and its steel framework twisted and exposed against a grey sky.

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فضائی حملوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والی ایک مسجد

اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ ٹرمپ بظاہر پاکستان کی جنگی کارکردگی کو ’داؤد بمقابلہ جالوت‘ جیسی کہانی کے تناظر میں دیکھتے ہیں جس سے ’عاصم منیر کے لیے ان کے تحسین پر مبنی‘ موقف کی جزوی وضاحت ہوتی ہے۔

اسی دوران پاکستان نے ایران بحران اور خلیجی کشیدگی کے دوران خود کو واشنگٹن، تہران اور عرب دارالحکومتوں کے درمیان ایک مفید ثالث کے طور پر پیش کیا۔

تاہم تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان نے جو کچھ حاصل کیا، اسے بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام آباد کی نئی اہمیت بڑی حد تک ٹرمپ کے شخصی طرزِ سفارت کاری اور ایران کے بحران کی عارضی اہمیت سے جڑی ہو سکتی ہے۔

مارکی کا کہنا ہے کہ ’یہ عاصم منیر کے لیے بھی جوا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست کی تیزی سے بدلتی صورتحال خطرناک کھیل ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنا اکثر آپ کو حیران بھی کر دیتا ہے۔‘

A man sits beside a poster showing a Pakistani military officer in full ceremonial uniform, decorated with medals and insignia, set against images of fighter jets, missiles and galloping horses.

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پوسٹر کے ساتھ بیٹھا ایک شخص

اس کے باوجود، اس تنازع نے انڈیا کے سفارتی اندازوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

کئی برس سے دہلی کو یقین تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ اس کی سٹریٹیجک شراکت داری نے علاقائی توازن بدل دیا مگر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی کھلی حمایت، بار بار ثالثی کی باتیں اور تجارتی کشیدگی نے تعلقات میں نئی غیریقینی صورتحال پیدا کر دی۔

پاکستان میں انڈیا کے سابق ہائی کمشنر اجے بساریہ کہتے ہیں ’کارگل کے بعد بحرانوں کے دوران ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر امریکہ کی ساکھ نمایاں طور پر کم ہوئی۔‘

کلیری کہتے ہیں کہ یہ بگاڑ دہلی میں وسیع تر پالیسی میں تبدیلی کے پہلے سے جاری عمل کو تیز کر گیا۔

’مئی 2025 کے بعد اور امریکہ اور انڈیا کی تجارتی کشیدگی کے بعد، انڈیا نے اپنے عالمی تعلقات کو اس طرح متوازن کیا کہ امریکہ پر انحصار کم ہو۔‘

’اس میں یورپی یونین سے قربت، چین کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں تیزی اور روس سے تعلقات منقطع کرنے کے امریکی دباؤ کو مسترد کرنا شامل ہے تاہم انڈیا کا وسیع تر تزویراتی سفر برقرار ہے۔ انڈیا بڑی طاقت ہے اور یہ عدم توازن اس کے عروج کو خطرے میں نہیں ڈال رہا۔‘

اگرچہ سفارتی نتائج پر اختلاف ہے تاہم عسکری نتائج زیادہ واضح ہیں۔

دونوں جانب کے تجزیہ کار اس تنازع کو جنوبی ایشیا کا پہلا مربوط، ڈرونز پر زیادہ انحصار کرنے والے ہائی ٹیک معرکہ قرار دیتے ہیں۔

اجے بساریہ کہتے ہیں ’ہم نے تکنیکی لحاظ سے ایک مختلف میدانِ جنگ دیکھا۔ کوئی انسانی پائلٹ والا طیارہ سرحد پار نہیں گیا۔‘

دونوں ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھائے، فوج کو جدید بنانے کا عمل تیز کیا اور غیرملکی دفاعی شراکت داروں سے تعلقات مضبوط کیے۔

تاہم کلیری کے مطابق اس تنازع نے طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کیا۔ ’اہم تنظیمی، نظریاتی اور تکنیکی تبدیلیاں آئی ہیں مگر دونوں فوجوں کی اس بنیادی سوچ میں بڑی تبدیلی نہیں آئی جو دشمن اور اپنے درمیان طاقت کے توازن سے جڑی ہے۔‘

ممکن ہے جو چیز بدلی وہ مستقبل میں کشیدگی کی حد ہو۔

اجے بساریہ کے مطابق یہ ’تزویراتی ابہام کے ساتھ نیا معمول ہے۔ ہر دہشت گردی کا واقعہ جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا اور بات اگر ایک حد سے بڑھی تو ردعمل ضرور ہو گا۔‘

A man reads a newspaper with the front-page news of ''Operation Sindoor'' in Srinagar, Jammu and Kashmir, on May 8, 2025.

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

،تصویر کا کیپشنآٹھ مئی 2025 کو سرینگر میں ایک شخص ’آپریشن سندور‘ کی شہ سرخی والا اخبار پڑھ رہا ہے

تنازع کے بعد انڈیا کے بیانات سے عندیہ ملا کہ آئندہ کارروائی صرف عسکریت پسندوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستانی فوج کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اجے بساریہ کے مطابق انڈین حکومت کا موقف یہی ہے کہ ’دہشت گرد اور ان کے سرپرست برابر سمجھے جائیں گے‘۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی اس سخت مؤقف کی ایک اور علامت ہے۔ بساریہ کا کہنا ہے کہ ’خون اور پانی ساتھ نہیں بہہ سکتے اور اس معاہدے کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔‘

پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ تنازع اس کی کشیدگی بڑھانے کی حکمت عملی پر اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔

حقانی کے مطابق تنازع کی مختصر مدت پاکستان کے لیے فائدہ مند رہی۔ ’پاکستان کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ تیزی سے کشیدگی بڑھائی جائے تاکہ جوہری جنگ کا خطرہ عالمی برادری کو مداخلت پر مجبور کرے۔‘

اسلام آباد میں مقیم تجزیہ کار عمر فاروق کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ یقین بڑھ رہا ہے کہ مستقبل میں بھی کسی بحران میں امریکہ اور خلیجی ممالک فوری مداخلت کریں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک سوچ ہے کہ امریکہ پہلے بھی انڈیا اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لا چکا اور دوبارہ بھی لا سکتا ہے۔‘

ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت ملک کی داخلی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔

’معیشت کمزور ہے، معاشرہ منقسم ہے اور مزاحمتی تحریکوں کا سامنا کر رہے ہیں اس لیے انڈیا سے تصادم نہیں ہونا چاہیے۔‘

یہی تضاد حالیہ مہینوں میں راولپنڈی سے آنے والے محتاط بیانات کی وضاحت کر سکتا ہے۔

Indian soldiers stand alert near the clock tower in Srinagar, India-administered Jammu and Kashmir, during a Tiranga rally on May 22, 2025 to celebrate the "Operation Sindoor" in which Indian forces conducted missile strikes in Pakistan in the wake of the Pahalgam attack in which 26 civilians were killed on 22 April 2025. (Photo by Faisal Khan / Middle East Images / Middle East Images via AFP) (Photo by FAISAL KHAN/Middle East Images/AFP via Getty Images)

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن22 مئی 2025 کو سرینگر میں ’ترنگا ریلی‘ کے دوران انڈین فوجی چوکنا کھڑے ہیں

پاکستانی میں بری فوج کے کور کمانڈرز نے حال ہی میں، براہِ راست انڈیا کا نام لیے بغیر، ’تحمل کے ساتھ کشیدگی سے گریز‘ پر زور دیا اور کہا کہ علاقائی استحکام ’اجتماعی ضبط، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام‘ پر منحصر ہے۔

عمر فاروق کے مطابق یہ بیان فوج میں موجود اس سوچ کو آگے بڑھاتا ہے کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں ممالک طویل عرصے تک مکمل سفارتی تعطل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

مارکی کے مطابق دونوں ممالک کی پسِ پردہ مذاکرات کی تاریخ رہی ہے اور وہ ماضی میں کشیدگی کم کرنے اور باقاعدہ مذاکرات کے انعقاد کے حوالے سے مؤثر رہے ہیں۔

اجے بساریہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بڑا حملہ نہ ہو تو ’امید کی کرن‘ موجود ہے اور پاکستان شاید مکمل بحالی نہیں بلکہ استحکام میں فائدہ دیکھے۔

کوگلمین کے مطابق اس وقت ’بہترین ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔‘

بالآخر مستقبل کا دارومدار دو افراد نریندر مودی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے فیصلوں پر ہو سکتا ہے۔

کلیری کا کہنا ہے کہ ’فیلڈ مارشل منیر اور وزیراعظم مودی اپنے اپنے ملک میں بااثر ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ان کے پاس سفارت کاری بحال کرنے کی طاقت بھی ہے۔‘

مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی اس پر تیار نظر نہیں آتا۔